Category : AStrology

Astrology With Sami
(Lecture Number 1 (Part 01
علم نجوم کاتعارف(Introduction of Astrology)
علم نجوم اور کاسمک نشریات
السلام وعلیکم: Astrology With Sami میں خوش آمدید….!
آج ہم علم سامی کےساتھ میں آپ سے علم نجوم کے موضوع پر گفتگو کریں گے جس میں علم نجوم کا تعارف ایک نئےانداز میں آپ کے سامنے پیش کیا جائےگا.جدید سائنس کے مطابق علم نجوم اندازے کی سائنس ہےیعنی (Science of Judgement) اس بات کوایک مثال سے واضح کرتا ہوں ذراماضی میں جائیے اپنا بچپن یاد کئیجے جب ہم چھوٹے ہوا کر تے تھے اور اچا نک دن کا اجالا کالی گھٹاؤں کے آجا نے سے اندھیرے میں بدلتا تھا تو امی فوراً اوپر دوڑاتی تھیں کہ چھت پراگر کپڑے یا بستر وغیرہ ہوں تو انہیں اٹھاکر اندر کمرے میں رکھ دیا جائے تاکہ بارش سے بھیگ کر یہ خراب نہ ہوجائیں انہیں کیسے پتہ چلتا تھا کہ بارش ہونے والی ہے،مشاہدہ یا (Observation). یعنی بچپن سے ہم یہ دیکھتے آرہے ہیں کہ جب کالی گھٹائیں آتی ہیں تو بارش ہوتی ہے گوکہ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا بعض اوقات بادل چھٹ جا تے ہیں اوربارش نہیں ہوتی لیکن اکثر بارش ہوجاتی ہے اس سے ایک بات اور ثابت ہوتی ہے کہ علم نجوم کوئی غیب کا علم نہیں ہے غیب کا علم تو صرف اللہ تعالی کو ہے یا اللہ اپنی مرضی سے اپنے کسی پیغمبر کو بذریعہ وحی مستقبل کے بارے میں علم دے دے تو اسکی مرضی.بندہ اپنے علم اور مشاہدہ سے بنیاد پر جو اندازے قائم کرتا ہے وہ ہمیشہ سو فیصد نہیں ہوتے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ انداز سو فیصد درست بھی ثآبت ہوئے ہیں لہذا اپنے برسوں کے اس مشاہدے کی بنیاد پر ہم یہ اندازہ قائم کرلیتے ہیں کہ بارش ہوگی بالکل اسی طرح علمائے نجوم نے برس ہا برس کے تجربات اور مشاہدات کے بعد جو اندازےقائم کئے وہی علم نجوم کی بنیاد بنے.علمائے نجوم نے مشاہدہ کیا کہ جب زلزلےآتے ہیں یا قحط پڑتا ہے یا طوفان آتا ہے یا زندگی میں کسی بھی قسم کا کوئی خوشگوار یا نا گوارواقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے تو اس وقت سیارے مختلف بروج میں مخصوص پوزیشن پر ہوتے ہیں.مسلسل مشاہدہ کرنے کے بعد مختلف بروج میں موجودگی کے اثرات کو تحریر کیا گیا اسطرح علم نجوم وقت کے ساتھ ساتھ وسعت پاتا چلا گیا اور آج اپنی انتہائی جدید اور سائنٹیفک شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے تمہید کافی لمبی ہوگئی اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کواکب انسانی زندگی پراثر انداز ہوتے ہیں…..؟اوراگر کواکب انسانی زندگی پراثرانداز ہوتے ہیں تو ہم کسطرح انکی اثر پزیری کو انسان کی فلاح اور بہتری کے لئے استعمال کرسکتے ہیں….؟ یہ سوال اکثر دور جدید کے سلجھے ہوئےاور تعلیم یا فتہ لوگوں کے ذہنوں میں گردش کرتا ہے اس مقصد کے لئے علم نجوم کے فلسفے،مقاصد اور اسکے ماضی اور اسکی عملی تکنیک سے آگاہی ضروری ہے….؟
8000 سال قبل مسیح میں جب انسان کھلے آسمان تلے غیر یقیینی حالات میں گزاراکرتا تھا اس وقت بھی وہ اپنی زندگی پرآسمانی اثرات شدت سے محسوس کرتا تھا.سورج کی حدت،چاندکی روشنی،چاند گرہن اور سورج گرہن وغیرہ اور اسکی تمام کار گزاریاں ایک نظر نہ آنے والی آسمانی دنیا کے تا بع اور رہنمائی کے لئے آسمان کا مشاہدہ اور مطالعہ اس کا معمول تھا، یہاں سے سمانی برتری کا آہیڈیا اس کے روزوشب میں داخل ہوا.
انسان نے جب آسمان کا مشاہدہ شروع کیا تو اس وقت وہ صرف نظام شمسی کے حرکت پذیراجسام یعنی کواکب کا گرویدہ تھا اور جب اس کا علم ان کے پس منظر میں ستاروں کے جھرمٹ تک پہنچا تو اس نے ان کواکب کی گزرگاہوں کونوٹ کیااور ان کی حرکات کو اپنی زندگی میں پیش آنے والی خوش گوار اور نا گوار صورتحال سے منسوب کیا.جلد ہی اس نے زمینی معاملات کے لئے ایک نظام تیار کیا جس کے تحت وہ زمینی معاملات پر کواکب کی اثر پذیری کے طبیعاتی اثرات کو نوٹ کرتا.مثلاً سورج اورزمین پراگنے والی فصلوں کا تعلق، چاند اور مدوجذر…..! جوکہ خود چاند کی زمین پراٹھنے والےطوفان کے ساتھ ساتھ گھٹتا بڑھتا ہے، سرخ سیارے مریخ کی پوزیشن،اسے جنگ میں اپنی قسمت کا محورومرکز نظرآتی،زہرہ میں محبت اوردلکشی کی قوت دیکھتا تھا.
یہی وہ چند تصورات ہیں جنہوں نے وہ زمین ہموار کی جن پر منجمین نے اپنی فلکیاتی تنظیم کی عمارت استوار کی اور یہ عمارت آج بھی ارتقاء پذیر ہے اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ….! جس کے نتیجےمیں یہ ممکن ہو سکا کہ ہماری زمین اور ہم پربھی…..!! کواکب، شمسوقمرکےپڑنے والے بعض مخصوص طبیعاتی اثرات کو سائنسی رجحانات کے ساتھ ثابت کیا جاسکے.
علم نجوم کا تعلق ستاروں سے کچھ کم لیکن نظام شمسی کے تیرتے ہوئے کواکب سے زیادہ ہے.زمین سے نظرآنے والے کواکبی تعلقات جنہیں علم نجوم کی مخصوص اصطلاح میں نظر یعنی “Aspect” اور ستاروں کے جھرمٹ یعنی بروج سے کواکب کا گزرنا یعنی”Transition” ہی دراصل انسانی کردار کے تشخص و تعین، فردوقوم کے رجحانات، مو سمی حالات، روحآنی اقداراور قدرتی آفات کو جا نچنے کے لئے مر کزی کردارادا کرتے ہیں تا ہم تیکنیکی طور پر اس مقصد کے حصول کے لئے کواکب کی مخصوص وقت پر بالکل درست پوزیشن، انکی “فطرت” انکے باہمی”تعلقات”(Aspects) اورانکے علامات کی روشنی میں زیرغور سبجیکٹ پران کو لاگو کرتے ہیں ان علامات سے نتائج اخذ کرنے کے لئے علم نجوم کی تکنیکی معلومات اور وسیع تر مطالعہ لازمی امر ہے.
یہ ایک قدیم ترین سائنس ہے. گیارہوں صدی میں اس علم کو یورپ میں باقاعدہ اکیڈمک تنظیم میسر آئی اور یورپین یونیورسٹیز میں اس علم کی باقاعدہ تدریس کا آغازہوا.علم نجوم میں بروج اور کواکب بنیادی اہمیت رکھتے ہیں.بروج کیا ہیں…..؟ یہ کس طرح اخذ ہوئے؟ یہاں ہم آپکو اس بارے میں مختصر بتاتے ہیں. بروج دراصل آسمان پر چمکتے ہوئے ستاروں کے وہ جھرمٹ ہیں یا وہ راستے ہیں جن سے گزرتے ہوئے کواکب سورج کے گرد اپنی گردش مکمل کرتے ہیں اصل میں انکی تعداد بارہ سے زیادہ ہے تاہم12 جھرمٹ زیادہ اہمیت کے ہیں علمائے قدیم نے ان کے نام آسمان پر پھیلی ہوئی انکی ہئیت کے مطابق ترتیب دیئے ہیں مثلاً ایک جھرمٹ سے مینڈھے کی شبیہ ابھرتی ہے تو کسی دوسرے سے شیرکی.اسی صورت سے ان کےنام بالترتیب حمل،ثور،جوزا،سرطان،اسد،سنبلہ،میزان،عقرب،قوس،جدی،دلو،حوت رکھے گئے اور بارہ بروج کے سلسلےکو”دائرۃالبروج” کا نام دیا گیا.
بعینہہ ان بروج کی خصوصیات ان کی اشکال کے مطابق تحقیق کی گئیں ساتھ ساتھ شمس و قمر اور دیگر کواکب کے مخصوص اثرات،فطرت اور رجحانات کو نوٹ کیا گیا.اس سائنس کا انحصاردس ہزارسال قدیم تجربات ومشاہدات کی روشنی میں اخذکئے گئے نتائج،اصول و قواعد پر ہے.اور ان ہی نتائج کی روشنی میں انسانی کردارورحجانات،معاملات و عوامل اور موافق اور نا موافق صورتحال میں کواکب کی اثر پذیری کو منسوب کیا گیا.علم نجوم کے بارے میں چند نظریات جو غلط العام رائج ہیں یہاں ہم آپ کے لئے ان کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں عام طورپررسائل و جرائد میں دیئے گئے بارہ بروج کےا حوال اور تفصیل کو علم نجوم سمجھا جاتا ہے یہ تاثر صریحآ غلط ہے کہ ہمارے کرۃارض پر بسنے والےافراد کی تعداد اور بروج کے تناسب کے نتیجےمیں یہ بات سامنےآتی ہے کہ تقریباً45 کروڑافرادایک برج کےذیل میں آتے ہیں جبکہ45کروڑافراد کےمابین ماحول،وراث،رہن سہن کے مطابق رجحانات اوروضع قطع میں وسیع تفریق پائی جاتی ہے.لہذااسکی درستگی پر کوئی شخص کیسے یقین کرسکتا ہےیہ ماہانہ احوال دراصل آپ کے شمسی برج کا ہوتا ہے جوکہ آپ اپنی تاریخ پیدائش کے مطابق پڑھتے ہیں جبکہ علم نجوم کسی مخصوص وقت پرکواکب کی اثر پذیری سےبحث کرتاہے کہ اس وقت کسی بھی درپیش معاملے اور ظہور پذیرواقعات کے بارے میں کواکب کی علامات کیاپیغآمات نشر کررہی ہیں.”سعد”تا”نحس”…..!”پیش قدمی” یا”تاخیر”…..!”سود”یا”زیاں”….!
ان نشریات وپیغامات کو ہم ایک زائچہ بنا کر موصول کرسکتے ہیں اور علم نجوم کے قواعد کی روشنی مییں نشریات وپیغامات کو معنی پہنا سکتے ہیں اور ان سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں. میرا خیال ہے آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے گفتگوابھی ہماری مکمل نہیں ہوئی ہے انشا اللہ اگلے لیکچر میں اس موضوع کو مکمل کریں گے اور یہ بتا ئیں گے کہ زائچہ کیا ہے؟ فی الحال اجازت دیئجےاس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانی عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی تو فیق عطا فرمائے.امین.اللہ حآفظ.


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat