Category : Chromopathy

WORLD OF KNOWLEDGE
CHROMOPATHY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 3
(SOLOR ENERGY AND ULTRA VIOLET REDIATION)

شمسی توانائی اورماوراء بنفشی شعاع بیزی
السلام واعلیکم:ورلڈآف نالج میں خوش آمد ید —-!
گزشتہ لیکچرمیں ہم نے سورج کی روشنی اور اسکی اہمیت وافادیت کا ذکرقرآن حکیم کی روشنی میں تفصیل کےساتھ بیان کیا تھا.آج کے لیکچر میں ہم یہ غور کریں گے کہ انسانی تاریخ میں شمسی توانائی کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور آج بھی کیااثرات مرتب ہورہے ییں.
شمسی توانائی کے خواص اورصحت افزاءاثرات کا انداہ زمانہ قدیم سے ہی انسانوں کو تھا اور اسی وجہ سے سورج کی پرستش کا خیال پیدا ہوا تھا یعنی شمسی توانائی کے طلسمی اثرات دیکھ کر جو کہ انسانی، حیوانی اور نباتاتی صحت و حیات پر مرتب ہورہے تھےانسان کے دل میں امتنان و تشکر کے جذبات پیدا ہوئے ہوںگے جو رفتہ رفتہ پرستش کی حد تک پہنچ گئے اور غالباً اسی وجہ سے سورج کی پرستش کا خیال پیدا ہوا تھا یعنی شمسی توانائی کے طلسمی اثرات دیکھ کر جو کہ انسانی، حیوانی اور نباتاتی صحت و حیات پر مرتب ہورہے تھے انسان کے دل میں امتنان و تشکر کے جذبات پیدا ہوئے ہوںگے جو رفتہ رفتہ پرستش کی حد تک پینچ گئے اور غا لباً اسی بنا پر قدیم مصری،ایرانی اور میکسیسکو کی اقوام میں سورج کی پرستش کا رواج بن گیا تھا حتٰی کہ مصر میں ایک مشہور تعلیمی درسگاہ نام بھی “ہلیو پولس” اس کا مطلب(سورج دیوتا) رکھا گیا تھا. سورج کی پرستش کا خیال بڑھتے بڑھتے اور پھیلتے پھیلتے بابل، امور، مسدوم اور ہندوستان تک بھی پہنچ گیا تھا.

زمانہ قدیم کے حکیم واطباء شمسی توانائی کےتابکاری اثرات اور ان کے خواص سے آگاہ تھے اور اپنے طریقہ علاج میں اسے بکثرت استعمال کرتے تھے چنانچہ مصر،ایران، اسوریا، بابل، ہندوستان اور میکسیکو کے معالجین مختلف امراض کا علاج شمسی توانائی سے کرتے تھے.
اگر آپ بقراط ، سقراط اور جالینوس کی تحریرات کا مطا لعہ کریں تو آپ کو انداذہ ہوگا کہ قدیم یونان، اٹلی اور روم کے لوگ کروموپیتھی سے مستقل علاج کرتے تھے.

تاریخ کے مطا لعے سے پتہ چلتا ہے کہ اہل مصر، یونان اور روم اپنے مکانوں میں ایک خاصہ حصہ مخصوص طریقہ سے بناتے تھے تاکہ سورج کی توانائی اور روشنی سے وہ ہر موسم میں فائدہ اٹھاسکیں اس مخصوص طرزتعمیر کو یونان میں ہسیلیا سیز اور اٹلی میں سلاریم کہا جاتا تھا.آج سے 900 برس قبل مشہور مسلمان طبیب بوعلی سینا نے بھی اپنی کتاب”القانون” میں سورج کی توانائی کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے.
“ناصرف جمادات ونبادات بلکہ حیوانات پر بھی سورج کی توانائی کے اثرات نہایت غور اور درست مشاہدہ کے بعد سمجھ میں آئے ہیں جو ہر جاندارکی نشوونما اورتندرستی کےلئے نہایت ضروری ہے”
مشہور سائنس دان آئزک نیوٹن نےانکشاف کیا تھا کہ سورج کی توانائی سے بھرپور شعائیں بہت طاقتور اور رنگوں کی حامل ہوتی ہیں. یعنی اسکی توانائی میں آکسوٹوپ بھی موجود ہوتے ییں جن سے اس جدیددور میں ہر قسم کے سرطان اور امراض قلب کا علاج کیا جارہا ہے ہم جا یعنی آکسوٹوپ کے چھوٹےچھوٹےذرات جوخوردبین سے ہی دیکھے جاسکتے ہیں بڑے پراسرار،جادواورمفید ہوتے ہیں اوریہ بالائے نبفشی شعاعوں( Ultra Violet Rays) سےمشابہت رکھتے ہیں.
جسم انسانی میں ماوراء نبفشی شعاعوں کی طاقت نفوذ بہت ہوتی ہے ماوراءنبفشی شعاعوں کو انگریزی میں( RAYS INFRA RED) کہا جاتا ہے.

فوٹان : Photon

برقاطیسی تابکاری کی مقدار جس کی سکونی کمیت صفر ہوتی ہےاوراسکی توانائی تابکاری کی فریکوئنسی اور مستقل پلانک کے برابر ہوتی ہے. فوٹان تب پیدا ہوتے ہیں جب ذرے کا برقی چارج مومنٹم میں مومنٹم میں تبدیل ہوجاتا ہے جب مرکزے( NUCLEI) یا الیکڑان میں ٹکراؤ ہوتا ہے تو ان مر کزے اور ذرے کے تنزل سے مومنٹم پیدا ہوتا ہے.فوٹان بنیادی طور پر بنیادی ذرہ ہے جس کے حلقوں سے فضا میں رنگ بنتے ہیں.

الاشعاع:(X.RAY)

اسےرونتجن شعاع بھی کہا جاتا ہے.یہ بھی برقاطیسی تابکاری سے پیدا ہونے والی روشنی ہے لیکن اس کی طول موج بہت مختصر ہوتی ہے جس مقدار(9-)10×55 میڑسے (12-)10×6 میڑتک تقریباًٰ ہوتی ہے لاشعاع جسم انسانی کےآرپاربآسانی ہوجاتی ہے جسکی وجہ سے ہڈیوں اورگوشت کے اندر کی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ دیگرطریقہ ہائے علاج میں بھی مستعمل ہے.

ماورانبفشی شعاع بیزی 🙁 ULTRA.VIOLET RADIATION)

برقاطیسی تابکاری جس کے طول موج کی وسعت تقریباً (7-)10×4 سے (9-)10×5 میڑتک ہوتی ہے.جو نظرآنے والی روشنی کی لہراورایکس ریزکے درمیان ہوتی ہے.اس توانائی کے سامنے تمام اقسام کے جراثیم کی نشوونما رک جاتی ہے اور اکثر ہلاک ہوجاتے ہیں.
اگرآپ کچھ دیر دھوپ میں کھڑے ہوجائیں تو شمسی توانائی سے عروق شعر یہ متاثر ہوتی ہے جسکی وجہ سے آپ کی جلد سرخ ہوجاتی ہے.جسم انسانی کےاندرخون کی پیدائش پر بھی ماورانبفشی شعاع کا اثر پڑتا ہے جس سے دوران خون کو تحریک و تقویت ہوتی ہے اور اس سے تازہ و صالح خون کا فی مقدار میں پیدا ہوتا ہے اسکے علاوہ خون کے اندر بیماری کے خلاف قوت مدافعت بھی بڑھ جاتی ہے.
ماورانبفشی شعاع جو ہمیں سورج سے ملتی ہے اس کے اثر سے ہمارے جسم میں وٹامن ڈی ( D) کی کمی پوری ہوجاتی ہے اور جسم میں فولاد، کیلشیم اور فاسفورس کے ا جزاء کو زسرِ نو جذب کر نے کی صلا حیت پیدا ہوجا تی ہے.
ماورانبفشی شعاعوں کا اثر انسانی جسم کے نظام غدود خاص طور پر غدہ ورقیہ اور رغدہ تنا سلیہ پر بہت اچھا پڑتا ہے. اس کے علاوہ انسانی جسم کے نظام عصبی پر بھی ماورانبفشی شعاعوں کا اثراچھا پڑتا ہے اورذہنی و جسمانی تھکن فوراً دور ہوجاتی ہے.ماورانبفشی شعاعوں کےاستعمال سے جسمانی کمذوری، لاغری، وحع المفاصل کے درد، جسم اور چہرے کی جھریاں،قوت باہ کی کمی اور دیگر جنسی امراض کا علاج باسہولت ممکن ہے.
ماورانبفشی شعاعوں سے چہرے کی بےرونقی اورزردی، جھریاں، جلدکاڈھیلاپن، خواتین میں چھاتیوں کا ڈھیلاپن، چہرے کے داغ وغیرہ جوکہ انزائمز اور ہارمونز کی کمی اور وٹامن کی کمی سے پیدا ہونے والے امراض کا علاج کیا جاسکتا ہے. اسکے علاوہ بالوں کا جھڑنا جو کہ مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہوتا ہے اسکا علاج بھی ماورانبفشی شعاعوں سے نا آسانی کیا جا سکتا ہے.

جسم انسانی اور رنگ:

واضح رہے کر جسم انسانی پر سات رنگ ہمیشہ موجود رہتے ہیں جنہیں کیرالین فوٹوگرافی کے زریعے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ بعض لوگوں کے آنکھوں میں بھی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ جسم انسانی پر موجود ہمہ اقسام کے رنگوں کو دیکھ سکتے ہیں الحمداللہ قدرت نے مجھے بھی اس عطئیے سے نوازا ہے. فی زمانہ یورپ اور امریکہ میں متعددایسےطریقہ ہائے علاج رائج ہیں جو قدرتی ہیں یعنی ان طریقوں میں دواؤں کا استعمال نہیں کروایا جاتا ہے جن کے نام یہ ہیں.
نیچروپیھتی یعنی قدرتی غذاؤں کے ذریعےعلاج
سولرتھراپی سورج کے ذریعےعلاج
ہائیڈرو تھراپی پانی کے ذریعےعلاج
ایروہائیدروپیھتی پانی اور ہوا کے ذریعےعلاج
ایموتھراپی ریت کے ذریعےعلاج
ایمیلوتھراپی انگورکے ذریعےعلاج
اینمو پیتھی علاج بزریعہ سانس
بالینو تھراپی غسل کے ذریعےعلاج
الیکڑومساج بجلی اورمالش کے ذریعےعلاج
امیکٹک مجربات کے ذریعےعلاج
فائن سن لائٹ ٹرٹیمنٹ الڑاوائلٹ کرنوں کے ذریعےعلاج
فراکیگوتھراپی سردی پہنچا کر علاج
گیلتکو پوسیا دودھ کے ذریعےعلاج
میگنٹو تھراپی مقناطیسی قوت کے ذریعےعلاج
حیمزتھراپی پھتروں کے ذریعےعلاج
میٹا لو تھراپی دھاتوں کے بیرونی استعمال کے ذریعےعلاج
میسٹو تھراپی فاقہ کرواک علاج
پیلو پیھتی گارے اور کیچڑکے ذریعےعلاج
تھرموتھراپی علاج بذریعہحرارت
مل تھراپی شہدکے ذریعےعلاج
کرومو پیھتی رنگوں کے ذریعےعلاج
اورانکے علاوہ بھی کئی اور طریقہ ہائے علاج وسیع پیمانے پر رائج ییں.اب میں سات بنیادی رنگ ان سے منسوب کواکب، دھات اور جواہرات بتا رہا ہوں ان کو اپنے پاس نوٹ کرلیں تاکہ آئندہ علاج میں دشواری نہ ہو اورآپ سمجھ جائیں کہ کونسا مرض کس سیارے سے منسوب ہے اور اس کا علاج کیا ہے.
رنگ کواکب دھات نگینہ(جواہرات)
سفید قمر چاندی حجرالقمر( MOON STONE )
سرخ مریخ لوہا حجرالدم ( BLOOD STONE)
نارنجی شمس سونا حجرالشمس( SUN STONE)
زرد(پیلا) زہ تانبہ زردپکھراج( TOPAZ )
سبز عطارد چاندی زمرد( EMERALD)
نیلا زحل سیسہ نیلم( SAPHIRE )
بنفشی مشتری ٹن یاقوت( RUBY)
عزیز طلباء طالبات آج کے لیکچر کےتمام مندرجات نہایت اہم ہیں انہیں اچھی طرح نوٹ کرلیں اسکے ساتھ ہی لیکچر کا اختتام کرتا ہوں
اس دعا کے ساتھ اجازت دیجئے کہ اللہ آپکو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے.آمین،اللہ


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat