Category : Chromopathy

WORLD OF KNOWLEDGE
CHROMOPATHY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 2
(INTRODUCTION OF CHROMOPATHY)
کروموپیتھی کا تعارف

السلام واعلیکم:ورلڈآف نالج میں خوش آمد ید —-!
ہمارا آج کا لیکچرکروموپیتھی کےبارےمیں ہےجسے عمومی طورپر رنگ وروشنی سے علاج کے نام سے جانا جاتا ہے
رنگ وروشنی سے علاج جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس طریقہ علاج میں رنگوں کا استعمال کیا جاتاہے-اس کا طریقہ کارکیا ہوتا ہےاوراسکی ادویات کسطرح تیارہوتی ہیں؟اس پرہم سیرحآصل گفتگو کریںگے.کروموپیتھی دو الفاظ یعنی کروموپیتھی کامجموعہ ہے کروموکا مطلب ہے رنگین شعائیں اور پیتھی کا مطلب ہے امراض کا علاج گویا کروموپیتھی کا مطلب ہوارنگین شعاعوں سے علاج.آج کےاس لیکچر میں کائنات میں بکھرے ہوے سینکڑوں رنگوں میں چند رنگوں کے اعجازی خواص اوران سے بیماری کا علاج اوران بیماریوں کی مختصر کیفیات مختصراً مگر جامع انداز میں پیش کررہا ہوں.مجھےامید ہے یہ لیکچرناصرف آپ کےلئے دل چسپی کا باعث ہوگا بلکہ علم میں اضافےکا سببب بنے گا. ہمارے بزرگوں کا طریقہ کاریہ تھا کہ علم کا حصول جہاں سے بھی ممکن ہوتا تھا ضرور کرتے تھے ناصرف حصول علم کے لئے سرگرداں رہتے تھے جہاں سے جتنا علم ملتا اسے تحریرکرنےکےبعداپنی تحقیقات،تجربات اور مشاہدات بھی بیان کرتے اورجوعلم جہاں سے حاصل ہوتا اس ماخذ کا حوالہ اوراس علم کو متعارف کروانے والے شخص کا نام بھی ظاہرکردیتےتھے.مگربدقسمتی سےنی زمانہ جہالت اور علمی بخل کے پیش نظرآج کے ماہرین اس احسن عمل سے گریز کرتےہیں.یہی وجہ ہےکہ آج 800 سال کا عرصہ گزرجانےکےباوجو اورعلمی اور سائنسی میدان میں مسلمانوں نے کوئی کارہائے نمایاں انجام نہیں دیا.
رنگوں اورانکی اقسام کا ذکر ہماری مقدس کتاب”قرآن مجید”میں بھی ہے مگربدقسمتی سےہم اس طرف متوجہ نہیں ہوئے.اب جبکہ اس پر تحقیقی کام امریکہ کے مہشورڈاکڑ بیٹ نے کیا اور رنگوں کو کائناتی شعاعوں سے ملا کر اس کا استعمال اور علاج بتایا تو لوگ ڈاکڑبیٹ کی اس تحقیق کو اپنے ناموں سے منسوب کرنے کی کوشش کررہے ہیں.پاکستان میں کروموپیتھی طریقہ علاج کی ترویج واشاعت میں دو نام لینا چاہوں گا جنہوں نے اس علاج کو عوام میں رائج کرنےکےلئےبےپناہ کوششوں اور کاوشوں کیں.جن میں ایک نام خواجہ شمس الدین عظیمی اوردوسرےمیرےاستاد محترم ڈاکڑ فرقان سرمد صاحب کا ہے.ڈاکڑ فرقان سرمد نے کروموپیتھی طریقہ علاج کو ناصرف جدید خطوط پر استوار کیا بلکہ بے پناہ لوگوں کو اس علم سے آگاہی دی اور آج ان کے لاتعداد شاگرداس علم کو حاصل کرکے خلق خدا کو فیض پہنچارہے ہیں.قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:”اوران چیزوں کو بھی بنایا اس طورپرکہ ان کے رنگ کئی اقسام کے ہیں اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کےلئے جو سمجھدارہیں”(سورہ نحل آیت نمبر13). یہاں رنگ کی کئی اقسام کا ذکراور چیزوں کا ذکرہے لفظ چیزوں میں گنجا ئش ہے.اس میں جواہرات یعنی پتھر،جانور،درخت،میوہ جات،پھل،سبزیاں غرض ہر چیز آجاتی ہے.پھریہ بھی دعوت دی کہ عقلمند لوگوں کے لئے اس میں بڑی ٹھوس نشانیاں ہیں.لیکن افسوس کہ ہم نے اس صریح دلیل پرتوجہ نہیں دی اور یہ کارنامہ بھی ایک غیرمسلم نے انجام دیا. قبل اس کے کہ ہم اس طریقہ کار کی تفصیل بیان کریں.سب سے پیہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ رنگ ہے کیا.؟ سائنسی نقطئہ نظر سے رنگ کی تعریف یوں کی گئی ہے”رنگ کا ادرک ہمیں ایک مخصوص طول موج (جوبرقی مقناطیسی لہروںRadiation Electro Magnatic )” کی وجہ سے انسان کے مرکزی اعصابی نظام سے آنکھوں پراثر انداز ہوتی ہے کے نتیجے میں ہوتا ہے.
یہ بات میں آپ کو پھر بتادوں کہ انسان کے جسم پر سات رنگ ہمیشہ موجود رہتے ییں ان رنگوں کو کیرالین فوٹو گرانی کے زریعے دیکھا جاسکتا ہے بعض لوگوں کی آنکھوں میں بھی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ انسان جسم پر موجود ہمہ قسام کے رنگوں کو دیکھ سکتے ییں. الحمداللہ قدرت نے مھجے بھی اس عطیئے سے نوازا ہے. نی زمانہ یورپ اور امریکا میں متعدد ایسے طریقہ ہائے علاج رائج ہیں جو قدرتی ہیں یعنی ان طریقوں میں دواؤں کا استعمال نہیں کروایا جاتا.جن میں نیچرل پیھتی، یعنی قدرتی غذاؤں کے ذریعے علاج، ہولرتھراپی یعنی سورج کی کرنوں کے ذریعے علاج، ہائیڈ رو تھراپی یعنی پانی سے علاج، ایروہائیڈرو پیھتی یعنی پانی اور ہوا اسے علاج، ایموتھراپی یعنی ریت کے ذریعے علاج، ایمپلوتھراپی یعنی انگور کے ذریعے علاج، انمیوپیتھی یعنی علاج بذریعہ سائنس، بالینوتھراپی یعنی غسل کے ذریعے علاج، الیکڑومساج اور مالش کےذریعے علاج، امیکٹک یعنی مجربات کے ذریعے علاج، فائن سن لائٹ منٹ تعنی الڑاوائیلٹ کرنوں سےعلاج فراکیگو تھراپی سردی پہنچا کرعلاج، گیلٹکو پوسیا یعنی دودھ کے ذریعےعلاج، میگنٹیوتھراپی یعنی مقناطیسی قوت کےذریعے علاج، نیسٹوتھراپی یعنی فاقہ کرواکرعلاج،پیلوپیھتی یعنی گارے کیچڑسےعلاج، تھرموتھراپی علاج بذریعہ حرارت اور کروموپیتھی یعنی علاج بذریعہ رنگ، ان کے علاوہ بھی کئی اور قدرتیطریقہ ہاے علاج وسیع پینمانے پر رائج ہیں. کروموپیتھی یعنی رنگوں کےذریعے علاج کا طریقہ حصول صحت کےلئے زمانہ قدیم سے ہی رائج ہے اور یہ مشہور ہے کہ اہل ہند اس طریقہ علاج کے موجد ہیں لیکن جیسا کہ میں نےابھی بتایا ہے کہ اس علاج کوجدید دنیا میں متعارف کروانےکاسہراامریکہ کےڈاکڑبیٹ کےسرہے اس کےعلاوہ میکسیکو کے ڈاکڑ ٹیمپوپنواس نےبھی آج سے تقریباً ساٹھ سال قبل اس طریقہ علاج پر سائنٹیفک کام کیاتھا اس کے بعد ہندوستان کےڈاکڑایم جی کالے نے بھی اس میں تھوڑی سی ترمیم کرکے اس پر کام کیا تھا اسکے علاوہ پاکستان میں ڈاکڑ فرقان سرمد نے اس طریقہ علاج کو جدید خطوط پراستوار کروانے میں نمایاں کردارادا کیا.انکے علاوہ جرمنی اور یورپ کے دیگر کئی ممالک میں بھی اس طریقہ علاج پر کافی تحقیقات ہوئی ہیں. اس فقیر نے بھی طریقہ علاج پرکافی کام کیا ہے جسے انشاءاللہ آئندہ کے لیکچروں میں پیش کرونگا. اس نادر روزگار طریقہ علاج سے تقریباَ ہر قسم کے امراض کا علاج نہایت کامیابی سے کیا جاسکتا ہے.اسکے علاوہ یہ علاج اتنا سہل اور سستا ہے کہ ہر کوئی بغیر کچھ خرچ کئے اس طریقہ علاج کو اپنی صحت کی بقاء کےلئےاپناسکتا ہے. بلاشبہ اللہ تعالٰی کا ہم پر یہ احسان ہے اس نے ہمیں سورج جیسی شے عطا کی ہے تاکہ ہم زندگئ کو ہرطرح سے مفید بناسیکں سورج کی کرنیں بلاشبہ بہت سے خطرناک جراثیم کو جلا کرراکھ کردیتی ہیں اور ہماری صحت بحآل ہوجاتی ہے.سائنسدانوں کا یہ مقولہ حقیقت سے قریب ترہے جس مقام پر سورج کی روشنی نہیں جاتی وہاں ڈاکڑ جاتاہے.سورج سے قدرت نے ہم کو بے شمار فوائد پہنچائے ہیں جن کا شمار کرنا بھی مشکل ہے اور بہت سی چیزیں ہم انسانوں نے اپنی محنت سے خود ہی تیار کرلی ییں.مثلاً دھوپ کی گھڑی،شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنا وغیرہوغیرہ.
لیکن ڈاکڑ بیٹ کا کارنامہ سب سے انوکھا ہے جو انہوں نے انسانی صحت کے فائدے کےلئےانجام دیا ہے.
آپ کو یہ بات بتادوں کہ انسانی جسم پانچ عناصر کا بنا ہوا ہے ان عناصر میں سے ہر ایک کا رنگ مختلف ہے اس ہم یہ کہہ سکتے ییں انسان ان پانچ رنگوں کا بنا ہوا ہے اور یہی دراصل اس طریقہ کار کا اصول ہے.جب یہ رنگ انسانی جسم میں اعتدال میں ہوتے ہیں تو انسان تندرست رہہتا ہے بصورت دیگر مختلف امراض و عوارضات کا شکار ہوجاتا ہے.میرا خیال ہےکہ آج کے اس لیکچر میں اتنا کافی ہے باقی گفتگو
انشاءاللہ لیکچر میں کریں گے اس دعا کے ساتھ اجازت دیجئے کہ اللہ آپکو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے.آمین،اللہ


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat