Author Archives: 13127137381980

Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 01
السلام وعلیکم:PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
اکثرہم لوگروحانی علاج روحانیت روحانی علوم وغیرہ کا تذکرہ سنتےہیں یاجو لوگ ان سےوابستہ ہیں وہ ضروراسکےبارےمیں تھوڑا بہت جانتےہیں اور جن لوگوں کااپنی عمومی زندگی میں ان چیزوں سے کوئی واسطہ نہیں پڑتا وہ جاننےکی کوشش بھی نہیں کرتے آج جب کہ ہم PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI کےنام سےایک نئے یوٹیوب چینل کاآغاز کررہےہیں تومیں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ روحانیت کیا ہے؟ پہلےاس پر کچھ بات کرلی جائے.لیکن درحقیقت روحانیت پر گفتگو کرنےسےپہلے روح کیا ہے؟ اس پر بات کی جائے گی. گوکہ اس حوالے سےلاتعداد کتابیں موجودہیں جن کا میں نےمطالعہ کیا لیکن اس موضوع پرجتننا شاندارموادمجھےانڑنیٹ پر پروفیسرعقیل کےبلاگ سے ملاوہ لاجواب ہے پروفیسرعقیل نے جتنےعام فہم اندازمیں نہایت خوبصورتی کےساتھ اس موضوع کوسمیٹا ہےوہ انکا ہی کمال ہےانکابلاگ پڑھ کرانداز ہوتاہےکہ آپ نےروحانیت کا تعارف بیان کرنے کےلئےناصرف وسیع تر مطالعہ کیا بلکہ اللہ کی عطاکردہ غیرمعمولی ذہانت کوبھی بروئےکارلائے.جسکے نتیجےمیں یہ انتہائی شاندارتحریرمنشائےشہودپرآئی.میں جب روحانیت کےتعارف کےحوالےسےلیکچرتیارکررہاتھاتو پروفیسرعقیل کی تحریرنےگویامیرےپاؤں پکڑلئےاورچاہتےہوئےبھی میں ٹس سےمس نہ ہوسکا لٰہذا میں نے اس لیکچرکی تیاری میں پروفیسرعقیل کی تحریرسےبھرپورفائدہ اٹھایا ہےمیری دعاہےکہ اللہ تعالی ان کےقلم کواورطاقت عطا فرمائے،آمین.اب ہم اصل موضوع کی طرف آتےہیں اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب قرآن مجیدمیں لفظ روح دومعنوں میں استعمال ہواہےایک جگہ روح کالفظ حضرت جبرائیل امئین کےلئےاستعمال ہوا ہے.فی الحال ہم اس روح کےبارےمیں کوئی بات نہیں کررہےجس سےمرادحضرت جبرائیل امیئن کےلئےاستعمال ہواہے.فی الحال ہم اس روح کے بارےمیں کوئی بات نہیں کررہےجس سےمرادحضرت جبرائیل ہیں دوسری جگہ روح کےلغوی معٰنی پھونک ، سکون ، راحت اورقرار کےہیں.یہیں سے یہ لفظ روحانیت نکلا ہےیعنی وہ عمل جس سے راحت اور سکون حاصل کیا جائے.قرآن پاک میں سورۃ الحجرکی آیت نمبر 129 اور سورۃ ص آیت نمبر 72 میں پھونک والےمہفوم کاذکران الفاظ میں ہوا ہے. ترجمہ :جب میں اسےدرست کرچکوں اوراس میں اپنی روح(پھونک) پھونک دوں تو تم اس کےسامنے سجدےمیں گرجانا. اس آیت میں اللہ تعالی فرشتوں سے خطاب کرتے ہوئےکہہ رہا ہے کہ میں کھنکھناتی مٹی سےایک بشرپیداکرنےلگا ہوں جب میں اسکی نوک پلک درست کرکےاس میں اپنی پھونک دوں توتم اسی وقت اسکےسامنےسجدہ ریزہوجانا.اب سوچنےکی بات یہ ہےکہ اس روح سےکیامراد ہے اس علماءکریم نے بہت کچھ تحریرکیا ہےاورروح کی ماہیت کو سمجھنےاورطے کرنےکی کوشش کی ہے. کچھ لوگوں نے کہاکہ یہ نوریزدانی ہے ، جس سےانسان اورحیوان میں فرق پیدا ہوتا ہے. کچھ لوگوں نےکہا کہ یہ اللہ کی صفات کا عکس ہے یعنی اللہ تعالی نے اپنی روح پھونک کر حضرت انسان میں اپنی صفات منتقل کی ہیں. کچھ لوگوں نےروح سے مراد صرف زندگی کی انرجی کولیا دوسری طرف کچھ صوفیاءکرام نے یہیں سے اپنے نظریات اخذ کئےکہ روح پھونک کراللہ تعالی انسان میں حلول کر گیا یا انسان اور ایک ہی ہیں اور یہاں سے وحدت الوجود کی بنیادیں تلاش کی گئیں. روح کی اصل حقیقت اللہ تعالی ہی بہتر جا نتے ہیں لیکن چند چیزیں اپنے طور پر مطالعہ قرآن سے حاصل کرسکتےہیں. پہلی بات سیدھی سی ہے کہ روح کے بغیرانسان نا مکمل ہے اسلئےاللہ تعالی نے فرشتوں کو سجدے کاحکم اس وقت دیا جب روح پھونک دی گئی. دوسری بات یہ ہے کہ روح پھونکنے سےقبل اللہ تعالی نےانسان کا جسم کھنکھناتی ہوئی مٹی اور گارے سے بنالیا تھا مٹی مادے کی علامت ہے جبکہ روح کی نسبت اللہ نےاپنی طرف کی ہے یعنی جب میں اپنی روح یا پھونک ، پھونک دوں تو سب آدم کو سجدہ کرنا اس لئے روح سے مراد مادی عناصر اور روح سے مراد غیر مادی عناصر ہیں. اوپر کی تمام گفتگو سے آپکو یہ انداز ہوگیا ہوگا کہ روح کے لغوی معنی پھونک اوراصطلاحی معنی سکون ، راحت اور لطافت کے بنتےہیں یہ روح اللہ کی قربت کی علامت ہے.کیونکہ روح کو اللہ تعالی نےاپنی جانب براہ راست نسبت دی ہے گوکہ ہم نسبت کی نوعیت سے واقف نہیں ہیں لیکن اتنا ضرورجانتےہیں کہ اللہ نے اپنی روح(پھونک) انسان میں پھونکی. اس بات کو سمجھنے کے لئےاگر ہم دم کو لےلیں تو شاید بات کچھ واضح ہوجائے ہمارے یہاں جسطرح بچوں پر یا کسی بیمارپر دم کیا جاتا ہے تو پھونک ماری جاتی ہے یہ دم کرنا دراصل اپنی جانب سے کچھ قرآنی آیات کو پڑھ کرایک خاص روحآنی تاثیرکواس بچے یا بیمار میں منتقل کیا جاتا ہے. خدا کے روح پھونکنے کی حقیقت کو تو اللہ تعالی ہی بہتر جانتے ہیں البتہ ہم دم کرنے کی مثال سے کسی حدتک اس عمل کوسمجھ سکتےہیں اوراس کے مقاصد جان سکتےہیں.اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ اس پھونک یا روح کی ضرورت کیوں پیدا ہوئی. جبکہ انسان کاایک ظاہری اور مادی وجود موجود تھا، اس پھونک یا روح کا جو مطلب سمجھ میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ جسطرح اللہ تعالی نےانسان کاظاہری وجود مادے یعنی مٹی سے تخلیق کیا اسی طرح اپنی پھونک یا روح کےذریعےانسان کاایک باطنی وجود بھی تخلیق کردیا باطنی وجود کا فنکشن مادی وجود کے فنکشن سے مختلف تھا باطنی وجود کا کام غیرمادی امور کو طے کرنا تھا مادی اور روحآنی وجودمیں ایک اور نمایاں فرق یہ ہے مادی وجود مادی دنیا یعنی عالم ناسوت اور غیرمادی وجود یعنی روح غیرمادی دنیا یعنی عالم لاہوت کے لئے مخصوص ہے.یہ بات واضح رہے کہ لاہوت غیرمادی عالم کےلئے بولاجاتا ہےجسمیں فرشتے، عرش ، لوح محفوظ اورامور تکونیی وغیرہ شامل ہیں. اگرہم مادی وجودعالم کےاعضاء کے تعین کرناچاہیں تو باآسانی کرسکتےہیں کیونکہ یہ یاتھ ، پاؤں ، چہرہ ، جسم ، دل، گردے ، پھیپھڑے ، جگراوراعضاء پر مشتمل ہے. جن میں ہرایک کا اپنااپنا کام ہے. اب اگر ہم اپنے باطنی وجود کو دیکھیں تو ایک الگ دنیا انسان کےاندر نظرآتی ہے یہاں جذبات ، احساسات ، خوشی ، غمی ، بےچینی ،سکون اوراس طرح کی دیگر کیفیات ہیں. جنہیں ہم محسوس کرسکتےہیں جن کا اظہار کرسکتےہیں لیکن کسی کودکھا نہیں سکتے یعنی اگر ہم باطنی وجود کےاعضاء کاتعین مادی طور پرہاتھ پاؤں اور چہرےوغیرہ کی طرح کرنا چاہیں تو ناکام ہوجاتےہیں اس لئے باطنی کیفیات کےلئے قرآن پاک جواصطلاح استعمال کرتا ہے وہ بھی ظاہری اعضاء سےمستعارلی ہوئی ہے. جیسے قرآن نے باربارباطنی کیفیات کا مرکزدل ٹیڑھےہوگئے، دلوں کو زنگ لگ گیا، دل اندھےہوتےہیں، دلوں پر مہرلگ جاتی ہے وغیرہ وغیرہ.اور کبھی اس باطنی وجود کےایک مظہر یعنی عقل کو بیان کرنے کے لیے قرآن یہ بیان کرتا ہے جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتےوہ بدترین جانورہیں اسی طرح باطنی وجود کے سننے اور سمجھنےکو سماعت اور بصارت سے تعبیر کرتا ہے غور کریں تو عقل بھی نظر نہیں آتی ہے باطنی وجود کے چند مظاہرکو قرآن پاک ایمان ، یقین ، خشوع ، خضوع وغیرہ سے تعبیرکرتا ہے.اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جسطرح انسان کا ظاہری وجود ہے اسی طرح باطنی وجود بھی ہے باطنی وجود کو صرف محسوس کیا جاتا ہے اسے دیکھایا چھوانہیں جاسکتااس کے باوجود یہ ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے. یہ وہی باطنی وجود ہے جسے اللہ رب العالمین نے اپنی روح کے دریعے یعنی اپنی پھونک کےذریعےانسان میں پیدا کردیا اسطرح سے دیکھا جائےتوانسان دو عناصرکا مجموعہ ہے، ایک مادی عنصریعنی جسمانی وجوداور دوسرا غیرمادی عنصریا روحانی وجود ، مادی وجود کو اللہ نے کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیداکیا اور غیرمادی وجود کو روح سےانسانی نفس دراصل مکمل شخصیت کا نام ہے جواس ظآہری اور باطنی اور غیرمادی وجودوں کا مجموعہ ہے.یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ جسطرح ظاہری وجود کا مذہب سے براہ راست تعلق نہیں ایسے ہی باطنی وجود کا بھی مذہب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں. جس طرح فزکس یا بیالوجی کے قوانین ایک عیسائی ، ہندو ، یہودی ، ملحد سب کے لئے برابرہیں اسی طرح روحانیت یا یفسی علوم کے معاملات بھی ایک بدھ مت ، چین مت یا مسلمان سب کےلئے برابر ہیں. جسطرح ظاہری وجود کواستعمال کرنے کے قوانین مذہب سے ماوراہیں اسی طرح باطنی وجود کے استعمال کرنے کے قوانین بھی یونیورسل ہیں، مذیب ان اصولوں کا درست استعمال سکھاتا ہے.
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ روحآنیت سے کیا مراد ہے یا روحآنیت بذات خودکیا چیزہے؟ اس بات کوسمجھنے کےلئے ہمیں روحانیت کوتین الگ الگ زاویوں یا پہلوؤں سے سمجھناہوگا. روحانیت کا پہلا پہلواپنی ذات کی معرفت ہے، دوسرا پہلو خارج یا خدا کی معرفت ہے اور تیسرا پہلو اس معرفت کے نتائج کو عملی شکل میں ڈھال کر شخصیت کی تعمیرکرنا ہے.ابتدائی دو پہلو علمی اور تیسراپہلوعلمی ہے.پہلا پہلواپنی ذات کا پہچا ننایااپنی ذات کی معرفت حاصل کرنا ہے. یہاں روحانیت اپنے باطنی وجود سے رجوع کرنےکانام ہے. یہ اسے جاننےاسے سمجھنےاسے قابو کرنےاور درست طور پراستعمال کرنےکانام ہے یہاں ایک انسان اپنےجذبات ، احساسات ، شہوات ، رغبات ، رجحانات اپنی شخص کمزوریاں اوراپنی اچھائیاں جاننے کی کوشش کرتا ہےوہ جتنا جانتا چلا جاتا ہے اتنی ہی زیادہ معرفت حاصل کرتا چلا جاتا ہے. روحانیت ایک پہلو تو جیسا کہ میں نے اپنی باطنی شخصیت سے تعلق پیدا کرنااورمراقبہ کرنا ہے. اسکا دوسرا پہلو یا مقصد آفاق یعنی خارج کی معرفت ہے. یہ معرفت مختلف مذاہب میں مختلف اندازمیں پیدا کرنےکی کوشش کی گئی ہےاگرہم اسلام کاجائزہ لیں تو سب سے پہلے اللہ پر ایمان اور یقین کے زریعےاس یعلق کو پیدا کیاگیا ہے. یعنی اللہ کو مانے بنا کوئی اسلام میں داخل ہی نہیں ہوتا اسے کے بعد اللہ اور بندوں کے درمیان ایک دوسرااہم یعلق یعنی فرشتوں پرایمان کے زریعےاس کمیونیکیشن چین کو جوڑا گیا جو اللہ اور بندے کے درمیان منسلک تھی. یعنی ایسا نہیں ہوا کہ انسان براہ راست اللہ سے وحی لے، اکثر پیغمبروں سے اللہ تعالی نے فرشتوں کے ذریعے ہی رابط کیا ہے اللہ اورفرشتے غیب میں ہیں یعنی ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے.اسے ہم عالم بالا کہہ سکتے ہیں اس کے بعد پیغمبروں اورکتابوں پرایمان لانے کو کہا گیا ان پیغمبروں یا کتابوں کا چونکہ مادی وجود ہے اس لئے ہم انہیں عالم زیریںں کہہ سکتے ہیں اور اس عالم کا رابط عالم لاہوت سے ہوتا ہے.
روحانیت کا تیسرا اورآخری پہلو اپنی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے جب انسان نے اپنے باطنی وجود کی معرفت حاصل کرلی اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی مطلوبہ معرفت بھی حاصل کرلی اور اپنی زندگی کا مقصد واضح کرلیا تو اب اس کی ذمہ داری ایک ایسی شخصیت کو تعمیر کرنا ہے تو ان تمام کثافتوں سے پاک ہو جو اسے اپنے رب کی بارگاہ میں نامقبول بنا دے. چنانچہ تعمیرشخصیت کے لئے عبادات اور اخلاقیات کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں علم و عمل ساتھ ساتھ چلتے ہیں. عبادات میں نماز روزہ ، زکوۃ اور حج وغیرہ کے ذریعےانسان اپنی شخصیت کو اللہ کی طرف جوڑتا ہے تو دوسری طرف اخلاقیات کی جانب یعنی مخلوق سےاچھے تعلقات کی جانب توجہ مبذول کرائی جاتی ہے. کیونکہ مخلوق میں شامل نہیں بلکہ باطنی وجود بھی بھرپور طور پر شامل ہے بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ اصل تحریک بھی وہیں سےاٹھتی ہے. تو اگر اب ہم روحانیت کی تعریف کریں تو یوں بنتی ہے کہ روحانیت سے مراداپنی ظاہری اور باطنی شخصیت کو جاننااپنے خالق کی معرفت حاصل کرنا اور اس علم کی بنیاد پر اپنی شخصیت کا تذکیہ کرنا ہے. میرا خیال میں آج کی نشست میں انتا کافی ہے انشاءاللہ اگلے لیکچرمیں اس موضوع کو مکمل کردوں گا. تب تک کے لئےاجازت دیں.اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ آپکو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنےکی توفیق عطا فرمائے. آمین.اللہ حافظ


Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 02
السلام وعلیکم:PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
گزشتہ لیکچرمیں ہم نےروحانیت کی مکمل تعریف بیان کی تھی ہماری آج کی گفتگو گزشتہ لیکچرکا تسلسل ہے یہ سمجھ لینے کےبعد کہ روحآنیت سےمراداپنی ظاہری اور باطنی شخصیت کو جاننااپنےخالق کی معرفت حاصل کرنا اور اس علم کی بنیادپراپنی شخصیت کا تذکیہ کرنا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روحانیت کو حاصل کرنے کے لئے تصوف کی راہ اختیار کرنا ضروری ہے.اس سوال کا جواب دینے سے پہلےمیں ضروری سمجھتا ہوں کہ پچھلےلیکچرمیں بیان کئے گئے تینوں پہلوؤں کاایک بار پھرجائزہ لیں. روحانیت کواختیار کرنے کےلئے جیسا کہ میں بتایاکہ تین اہم پہلو ہیں. ایک پہلواپنی ذات کی معرفت اوراس کا کنڑول حاصل کرنےکاعمل ہے. اس باطنی وجود سے رابط کا تعلق ایک تیکنیکی معاملہ ہے اوراس میں کسی مذہب کی مددبھی لی جا سکتا ہےاس رابطہ کا پہلاطریقہ غوروفکر ہے.اس میں تمام نفسیاتی علوم آجاتےہیں. یہ طریقہ عام لوگ استعمال کرتےہیں لیکن یہ محدود طریقہ ہے. اس کا دوسراطریقہ وحی سے مدد لینا ہے کہ وحی نےکسطرح انسان کے داخلی وجودکوبیان کیا ہے. یہ بہت مستند ذریعہ ہے. اس کاایک اور طریقہ وجدان اور نفسیاتی علوم کے ذریعےاپنی شخصیت کو جاننا ہے مراقبہ کے ذریعےایک انسان عمومی نہیں بلکہ ضصوصی باتیں بھی جان سکتا ہے کہ اس کی باطنی شخصیت اصل میں ہے کیا لیکن اس طریقےکی محدویت یہ ہےکہ ہرانسان کےوجدان کی پروازمختلف ہوتی ہے دوسرایہ کہ اس طریقہ کار میں زیادہ ترباتیں خواب اور تمثیل کی صورت میں ہوتی ہیں جنہیں سمجھنے کےلئےکسی نہ کسی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے. روحانیت کا دوسرا پہلواللہ اور بندے کے روحانی تعلق کو بیان کرتا ہے. یہ پہلو ہر صورت میں مذہب کا محتاج ہے. ہرمذہب اللہ کی کوئی نہ کوئی معرفت بیان کرتا ہے. اس معرفت کے صحیح ہونےمیں دو چیزیں اہم ہیں. ایک تووہ مذہب جو یہ تعلیمات بیان کررہا ہےاگر مذہب کی تعلیمات مستند نہیں تو حاصل ہونےوالی معلومات بھی ناقص ہوگی اگر کسی نے یہ تعلیمات غلط سمجھیں تو معرفت کا حصول بھی غلط ہی ہوگا. روحانیت کا تیسراپہلو ذاتی معرفت اورخدائی معرفت سے حاصل ہو نےوالے علم کوحاصل کرنااوراسےعمل کی صورت میں ڈھالنا ہے.چونکہ اس عمل کا اظہارہماری شخصیت ہی سے ہوتا ہےاسلئےاسے تعمیرشخصیت کہا جاتاہے.یعنی ایک ایسی شخصیت جوظاہروباطن کو جانتی ہو. خداکی معرفت رکھتی ہواوراسکے مطابق درست عمل کرکےاپنی شخصیت کو خداکےمطلوبہ سانچےمیں ڈھال لتیی ہو. تعمیرشخصیت کے بعض پہلو چونکہ مادی دنیا سے تعلق رکھتےہیں اسلئے ان پہلوؤں کے لئےمذہب اوروحی کا سہارالے.اب ہم دوبارہ اپنے سوال کی طرف آتےہیں کہ روحانیت کے حصول کےلئے تصوف اختیار کرنا ضروری ہےکہ نہیں؟ پہلی بات تویہ ہےکہ تصوف صرف اسلام کا خاصہ نہیں بلکہ یہ دیگر مذاہب میں بھی موجودرہاہے.تصوف روحانیت کے حصول کےلئےایک مکمل پیکج دیتا ہےاورروحانیت کےان تینوں پہلوؤں کوایڈریس کرتاہےجن کاہم نےاوپرذکرکیا.البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کی تمام تعلیمات درست ہوں اس کا پہلا کام انسان کی معرفت کا حصول ہے. یہ انسان کےباطن کے بارےمیں مکمل علم فراہم کرتا ہے. کہ وہ کن کن احساسات ، رغبات ، شہوات ، میلانات وغیرہ کا مرقع ہے. یہاں تصوف وہی کام کرتا ہے جو کسی حد تک علم نفسیات کرتا ہے. تصوف میں ایک استاد جسے مرشد کہتے ہیں وہ انسان کو سب سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی تعلیم دیتا ہے. اس کا دوسراپہلو یہ ہے کہ یہ اللہ کی معرفت کی کچھ تھیوریزدیتا ہے یہاں تصوف مذہب کو بائی پاس کرکے اپنی تھیولوجی پیش کرتا ہے عام طور پر تصوف اللہ اور کائنات کی جو توجیہات پیش کرتا ہے ان میں تین سرفہرست ہیں. ایک نظریئہ وحیدۃ الوجود ، دوسرا وحیدۃ الشہود اور تیسرا حلول کا نطریہ ہے وحیدۃ الوجود کا کلمہ لاموجودالااللہ، یعنی اللہ کے سوا کوئی موجود نہیں، وحیدۃ الوجود کا مقصد فنانی اللہ ہے. وحیدۃالشہود میں کائنات کی تشریح اللہ کے سائے کے طور پر کی جاتی ہے. جب کہ نظریئہ حلول میں اللہ انساتوں کی شکل میں زمین پر اوتاریا کسی اور صورت میں آجاتا ہے. یہ تینوں نظریات خلاف عقل بھی ہیں اور اسلام کی تعلیمات کے خلاف بھی ہیں. نیز مذہب کی وضاحت کے بعد ان تشریحات کی کوتی ضرورت محسوس نہیں ہوتیل مذیب واضح طور پر اللہ اور بندےکا تعارف بیان کرتا ہے. اوراس کا مقصد واضح کردیتا ہے. تصوف کا تیسرا کام مندرجہ بالا نظریات کی روشنی میں تعمیر شخصیت کرناہے. اس کےلئے مراقبے، چلے، ضربیں ، نفسی کشی، وظائف ، عملیات ، تصورشیخ اور رہبا ینت وغیرہ کی مشقیں کروائی جاتی ہیں. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تصوف کے تعمیر شخصیت کے پیکج میں جو مشویں کرائی جاتی ہیں وہ جائز ہیں یانا جائز. اسمیں کچھ مشقیں تواپنی اصل صورت ہی میں اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں. تو ان کےجواز کا کوئی امکان ہی نہیں جیسے رہبانیت وغیرہ. اس کے علاوہ باقی مشقوں کو اگر دین کا حصہ نہ سمجھا جائے اوران میں کوئی اخلاقی یا شرعی قباحت نہیں ہوتو ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے.
اب اگروحئی الٰہی یعنی قرآن مجید سےرجوع کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آیا کیا قرآن روحانیت کا کوئی تصوردیتا ہےاگردیتاہے توکیا؟ جناب ! قرآن کا تواصل موضوع ہی تذکیئہ نفس ہے یعنی ایسی شخصیت پیدا کرنا جو جنت کی حقدارہوسکے. قرآن کا مرکزی خیال انسان ہی نہیں بلکہ انسان کی فلاح بھی ہے. یہ فلاح دنیا اورآخرت دونوں کےلئےہے.چنانچہ اگرہم روحانیت کے تینوں پہلوؤں کودیکھیں توقرآن حیرت انگیزطورپرتینوں پہلوؤں کوکور کرتاہےاورایک واضح پلان پیش کرتاہے.سب سے پہلا پہلواپنےنفس کو جانناہے یعنی انسان کوجاننا، قرآن آدم وابلیس، ابراہیم ونمرود، لوط اورقوم لوط ، موسٰی اور فرعون، یوسف اور برادران یوسف ، طالوت وجالوت ، محمدصلیاللہ علیہ وسلم اورابولہب ، یہودومومنین اورصحابہ اورکفارکیس اسٹڈی کےذریعے جگہ جگہ یہ بتاتا ہےکہ اچھےاوربرےانسان کی کیا کیا خصوصیات ہوتی ہیں. کونسی خصلتیں اللہ تعالی کو پسندہیں اور کون لوگ اسے ناپسند ہیں. کسطرح تعصب حق کو ماننےسے روکتا ہے، کیسے حسدعداوت پر مجبور کرتاہے کسطرح مذہبی پیشوائیت مادی مفادات کا تحفظ کرتی ہے. دوسری جانت حق پرستوں کی کیس اسٹڈی بیان کی گئی ہے کہ کسطرح لوگ اپنی شخصیت کی کمزوریوں پر قابو پاکر قربانیاں دیتےاوردنیا وآخرت میں سرخروہوتےہیں. قرآن روحانیت کا دوسرا پہلو بھی بہت شانداراندازمیں ڈسکس کرتا ہے اور اللہ اوربندے کے درمیان تعلق کو عملی اور فلسفیانہ سطح پرواضح کرتا ہے. وہ بتاتاہےکہ اللہ تنہا ہے اکیلا ہے ناوہ کسی کا باپ ہے نہ بیٹا، وہ بادشاہ ہےوہ رحمٰن اوررحیم ہے وہ رب ہے علم وحکمت کا مالک ہے وہ پیدا کرتا ہے اور وہی مارتا ہے. وہی طاقت کا منبع ہے. اللہ کی صفات کی صورت میں وہ خوبصورت تعارف قرآن میں پیش کردیتا ہے کہ اس کے بعد صرف اس کو سمجھا تو جاسکتا ہے کوئی اضافہ نہیں کیا جا سکتا. قرآن روحآنیت کا تیسرا پہلو یعنی تعمیر شخصیت بھی موضوع بحث بناتا ہے چنانچہ عبادات کی شکل میں نماز ، روزہ ، حج، زکوۃ پیش کرتا ہے معاشرت کے لئے نکاح کو پسند کرتا ہے اور اس کی بنیاد پردجود میں آنے والوں رشتوں کو تقدس عطا کرتا ہے معیشت کی بنیادظلم وعدو سے پاک کرنے کی ہدایت کرتا ہے. اخلاقیات میں اصل الاصول خیرخواہی کو قراردیتا ہے خلاصہ یہ ہے کہ قرآن روحانیت کے تینوں پہلوؤں پر جامع لیکن اصولی ہدایات دیتا ہے جسکی روشنی میں کوئی بھی فرداپنے لئے لائحئہ عمل طے کرسکتا ہے.
بس ثابت ہوا کہ قرآن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ قرآن کا مطالعہ ترجمے کے ساتھ کرنے کی عادت اپنالی جائے، مسلسل قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے قرآن خود بندے پر کھلنا شروع ہوجاتا ہے اور بندہ قرآن کی روشنی میں نا صرف اپنی معرفت حاصل کرتا ہے بلکہ اللہ کی معرفت بھی حاصل ہوجاتی ہے. ترجمہ قرآن پڑھنے سے بندے کو پیغام ربانی سمجھ میں آنے لگتا ہے اور قرآن کی روشنی میں وہ اپنی شخصیت کو بہتر سے بہتر اندازمیں تعمیر کرتا ہے اور اپنے مقصد کے حصول میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے. الحمداللہ ہمارا آج کا یہ موضوع مکمل ہوا انشاءاللہ پھرملیں گے اب اجازت چاہتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے امین.


PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI

Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 04
السلام وعلیکم:PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
عزیزطالباتءوطالبات روحانی عملیات کےحوالےسےحوالےسےبازارمیں سینکڑوں کتابیں دستیاب ہیں مگرشایدایک آدھ کے سواکسی بھی کتاب میں ان علوم کےبنیادی اصولوں اور جن قواعداورشرائط کی بنیاد پران علوم کی عمارت استوار ہوتی ہےان کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سےآپکی محنت ضائع ہوجاتی ہے اور سوفیصد علمیات غلط ہوجاتےہیں یا لوگوں کاایمان خراب ہوتا ہے. میں جوآپکوروحانی علمیات علم القرآن کی روشنی میں سکھاؤں گا انکو سیکھنےکےلئے، سمجھنےکےلئےاوران سےفائدہ اٹھانےکےلئےجن بنیادی باتوں سےواقفیت ضروری ہےان کا تذکرہ اختصآرمگرجامعیت کےساتھ کررہا ہوں تاکہ آپکو کسی قسم کی دشواری کا سامنانہ کرنا پڑے. اگراس کے باوجود کوئی بات سمجھ میں نہ آئےتو مجھ سےرابط کریں اپنی بات کا آغازکرنےسے قبل اپنےاستادمحترم کاذکرکرنا چاہوں گا جنکی بدولت آج میں یہاں آپ سے مخاطب ہوں. میرےاستادپاکستان کےمایہ نازایسڑولوجراورماہرروحانیت جناب ڈاکڑفرقان سرمد صاحب ہیں.آپ علم کا دریاہیں، پیراساہیکلوجی ، ایسڑلوجی اور علم القرآن پرآپ کو مکمل دسترس حاصل ہےاوراپنےشاگردوں کوعلوم سکھانےمیں آپ نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا÷ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھےآپکی شاگردی میسرآئی. ڈاکڑصاحب آج کل علم القرآن پر کام کررہےہیں اورجس اندار میں قرآن کی تفسیرپیش کررہےہیں وہ آپ ہی کا طرۃ امتیاز ہے.آج کے دورمیں جب کہ قرآن کی تفاسیر کی تعداد بہت زیادہ ہے اسکے باوجودڈاکڑصاحب کی تفسیرجیسی کوئی تفسیر نہیں کیونکہ اس میں ڈاکڑصاحب نے بےحدریسرچ ورک کیا ہے ڈاکڑصاحب کی تفسیر “تفسیرسرمدی” کے نام سےمارکیٹ میں دستیاب ہے. میں دعاگوہوں کہ اللہ تعالی ڈاکڑصاحب کو خیرکثیر عطافرمائےاورانکو لمبی عمر عطا فرمائے آمین.
خیراب اپنےاصل موضوع کی طرف آتےہیں. میں ترتیب واروہ تمام بنیادی بایتں بیان کروں گا جو کہ روحانیت کے مبتدیوں کےلئے ضروری ہیں.
1- قلم : نقوش اور تعوایزت لکھنے کے لئےسرکنڈے کا قلم سب سے عمدہ سمجھا جاتا ہے اس کےعلاوہ کاتب حضرات جوقلم استعمال کرتےہیں اسےبھی استعمال کیا جاسکتا ہے. اس کے علاوہ فاؤنٹین پین ، بال پین اور مار کروغیرہ بھی استعمال کرسکتےہیں. اس بات کا خاص طور پر خیال رکھیں کہ سعد اعمال کےلئے علیحدہ قلم رکھیں اور نحس اعمال کےلئے علیحدہ قلم رکھیں. قلم استعمال کرنے سے پہلے تین مرتبہ درودشریف پڑھ کر قلم پردم کردیں.
2- وقت اورکام : حدیث نبوی ہے کہ ترجمہ : “ہرکام کےلئےایک وقت مقرر کیاگیا ہے” گویا اللہ تعالی کے مقرر کردہ وقت میں ہی کام کرنا بہتر نتائج کا حامل ہوتا ہے، سیارگان سے منسوب سعداورنحس ساعات کو مد نظررکھتےہوئے عمل کیا جائے تو نتائج عمدہ آئیں گے. اگرسعداورنحس ساعات آپ کومعلوم کرنا نہیں آتااورآپ سیکھنا چاہتے ہیں تو اسکےلئے علم الساعات کےلیکچر نمبر2 کوسنیں اسمیں پوراطریقہ بتایا گیاہے.


Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
(LECTURE NUMBER 03 (Part 01
روحانیت کے بنیادی اصولوں(Fundamental of Spirituality)
السلام وعلیکم:PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
عزیزطالباتءوطالبات روحانی عملیات کےحوالےسےحوالےسےبازارمیں سینکڑوں کتابیں دستیاب ہیں مگرشایدایک آدھ کے سواکسی بھی کتاب میں ان علوم کےبنیادی اصولوں اور جن قواعداورشرائط کی بنیاد پران علوم کی عمارت استوار ہوتی ہےان کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سےآپکی محنت ضائع ہوجاتی ہے اور سوفیصد علمیات غلط ہوجاتےہیں یا لوگوں کاایمان خراب ہوتا ہے. میں جوآپکوروحانی علمیات علم القرآن کی روشنی میں سکھاؤں گا انکو سیکھنےکےلئے، سمجھنےکےلئےاوران سےفائدہ اٹھانےکےلئےجن بنیادی باتوں سےواقفیت ضروری ہےان کا تذکرہ اختصآرمگرجامعیت کےساتھ کررہا ہوں تاکہ آپکو کسی قسم کی دشواری کا سامنانہ کرنا پڑے. اگراس کے باوجود کوئی بات سمجھ میں نہ آئےتو مجھ سےرابط کریں اپنی بات کا آغازکرنےسے قبل اپنےاستادمحترم کاذکرکرنا چاہوں گا جنکی بدولت آج میں یہاں آپ سے مخاطب ہوں. میرےاستادپاکستان کےمایہ نازایسڑولوجراورماہرروحانیت جناب ڈاکڑفرقان سرمد صاحب ہیں.آپ علم کا دریاہیں، پیراساہیکلوجی ، ایسڑلوجی اور علم القرآن پرآپ کو مکمل دسترس حاصل ہےاوراپنےشاگردوں کوعلوم سکھانےمیں آپ نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا÷ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھےآپکی شاگردی میسرآئی. ڈاکڑصاحب آج کل علم القرآن پر کام کررہےہیں اورجس اندار میں قرآن کی تفسیرپیش کررہےہیں وہ آپ ہی کا طرۃ امتیاز ہے.آج کے دورمیں جب کہ قرآن کی تفاسیر کی تعداد بہت زیادہ ہے اسکے باوجودڈاکڑصاحب کی تفسیرجیسی کوئی تفسیر نہیں کیونکہ اس میں ڈاکڑصاحب نے بےحدریسرچ ورک کیا ہے ڈاکڑصاحب کی تفسیر “تفسیرسرمدی” کے نام سےمارکیٹ میں دستیاب ہے. میں دعاگوہوں کہ اللہ تعالی ڈاکڑصاحب کو خیرکثیر عطافرمائےاورانکو لمبی عمر عطا فرمائے آمین.
خیراب اپنےاصل موضوع کی طرف آتےہیں. میں ترتیب واروہ تمام بنیادی بایتں بیان کروں گا جو کہ روحانیت کے مبتدیوں کےلئے ضروری ہیں.
1- قلم : نقوش اور تعوایزت لکھنے کے لئےسرکنڈے کا قلم سب سے عمدہ سمجھا جاتا ہے اس کےعلاوہ کاتب حضرات جوقلم استعمال کرتےہیں اسےبھی استعمال کیا جاسکتا ہے. اس کے علاوہ فاؤنٹین پین ، بال پین اور مار کروغیرہ بھی استعمال کرسکتےہیں. اس بات کا خاص طور پر خیال رکھیں کہ سعد اعمال کےلئے علیحدہ قلم رکھیں اور نحس اعمال کےلئے علیحدہ قلم رکھیں. قلم استعمال کرنے سے پہلے تین مرتبہ درودشریف پڑھ کر قلم پردم کردیں.
2- وقت اورکام : حدیث نبوی ہے کہ ترجمہ : “ہرکام کےلئےایک وقت مقرر کیاگیا ہے” گویا اللہ تعالی کے مقرر کردہ وقت میں ہی کام کرنا بہتر نتائج کا حامل ہوتا ہے، سیارگان سے منسوب سعداورنحس ساعات کو مد نظررکھتےہوئے عمل کیا جائے تو نتائج عمدہ آئیں گے. سیاروں سے منسوب سعداور نحس بیان کررہا ہوں ان کو خاص طور پر نوٹ کرلیں. طلوع آفتاب تک اور پھرغروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک کے اوقات کو 12 سے تقسیم کرلیں اسطرح آپ کے پاس طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی اور غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک 12،12 ساعاتیں حاصل ہوجائیں گی. جن سے آپ استفادہ حاصل کریں گے. ساعت نکالنے میں اگردشواری محسوس ہوتو میرے
“Youtube Channel “World of knowledge پر علم الساعات کے لیکچرموجود ہیں وہاں آپکو مکمل طریقہ کار سمجھا دیا گیا ہے. اب سیارگان سے منسوب سعد اور نحس ساعت بیان کررہا ہوں ان کو نوٹ کرلیں.
“اوقات روزوشب”

ساعات ساعات ساعات ساعات ساعات ساعات ساعات
1 2 3 4 5 6 7
8 9 10 11 12 13 14
15 16 17 18 19 20 21
22 23 24 – – – –
ہفتہ زحل مشتری مریخ شمس زہرہ عطارد قمر
اتوار شمس زہرہ عطارد قمر زحل مشتری مریخ
پیر قمر زحل مشتری مریخ شمس زہرہ عطارد
منگل مریخ شمس زہرہ عطارد قمر زحل مشتری
بدھ عطارد قمر زحل مشتری مریخ شمس زہرہ
جمعرات مشتری مریخ شمس زہرہ عطارد قمر زحل
جمعہ زہرہ عطارد قمر زحل مشتری مریخ شمس
ہفتہ : سعدساعات : 1,2,4,5,6,9,11,12,13,15,18,20,21,22
نحس ساعات : 3,7,8,10,14,16,17,19,23,24
اتوار : سعدساعات: 1,6,8,9,11,13,14,15,17,18,20,22,24
نحس ساعات : 2,3,4,5,7,10,12,16,19,21,23
پیر : سعدساعات : 1,2,3,5,8,10,12,15,16,19,21,23
نحس ساعات :4,6,7,9,11,13,14,17,18,20,22,24
منگل : سعدساعات:1,3,4,7,9,11,13,16,18,19,20,22,23
نحس ساعات : 2,5,6,8,10,12,14,15,17,21,24
بدھ : سعدساعات: 1,4,6,7,8,10,11,13,15,16,17,18,20,21,22,23
نحس ساعات : 2,3,5,9,12,14,19,24
جمعرات : سعدساعات: 1,3,4,5,6,8,9,10,11,13,16,17,18,19,20,21,24
نحس ساعات : 2,7,12,14,15,22,23
جمعہ : سعدساعات: 1,4,5,6,7,8,9,12,13,14,16,17,21,22,23,24
نحس ساعات : 2,3,10,11,15,18,19,20
4 – سیاروں کی موافق غذا۔
علم روحانیت کے طالبعلموں کو یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ کچھ عملیات ایسے ہوتے ہیں جن میں سیارگان کے موافق کچھ غذا صدقہ کرنا ضروری ہوتا ہے اس کی تصفیل اسلئے دے رہا ہوں تاکہ کوئی چیز رہنانہ جائے اور ٓپ لوگوں کو دشواری نہ ہو۔
شمس : شیرینی ، عطر ، شہد خالص ، کشمش، ناشپاتی ، انگور ، الو ، خوبانی ، چنے کی دال ، مسور کی دال اور گلاب۔
قمر : شکرسفید ، دودھ ، چاول ، دہی ، کیوڑہ ، مونگ ، کیل ، گندم ، تربور ، شنتالو ، ناریل اور سیب۔
مریخ : گوشت ، کباب ، ساگ ، سرسوں کا تیل ، خمیری روٹی ، سرخ مرچ ، مسور کی دال ، چقندر ، گاجر ، زرد آلو، بوئے تندوتیز اور رترش وتیز میوہ۔
عطارد : چار مغز ، پستہ سبز ، انگور ، انار ، پراٹھا ، روٹی ، مونگ کی دال ، کٹہل ، آملہ، بوئے خوش گوار۔
زہرہ : مغزیات ، چنےکی دال ، برنج شیر ، شہدخالص ، لذید حلوہ ، عطر سہاگ ، انجیر ، انگور ، ککڑی ، سفید مولی ، جو۔
زحل : تل سیاہ ، بیگن ، آلوبخاارا ، منقہ ، جامن ، دال ماش ، ساگ ، بارنجان ، عطر گل۔
5- نشست کا طریقہ :
روحانی عملیات میں کسی عمل کو کرنے کے دوران نشست کے تین طریقے مروج ہیں۔
1- طلب حاجات ، جذب قلوب ، بلندی مرتبہ ، انکشافات اسرار ، مستحجاب الدعواۃ ، حصول علم وغیرہ کے لئے اسطرح بیٹھتے ہیں جیسے نماز میں بیٹھتے ہیں۔
2- دفع سحر کے اعمال ، تسخیرامراء ، خواتین ، عشق و محبت ، وحشت دور کرنے ، حصول خوشی ، حکام کے نزدیک مقبولیت وغیرہ کے لئے مربع کے شکل میں یعنی آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہیں.
3- دشمن کی تباہی ،حضومت ، طلاق ، تفرقہ ، بانجھ پن اور جنگ وجدل وغیرہ کےاعمال میں اسطرح بیٹھتےہیں جیسے عورتیں نمازمیں بیٹھتی ہیں.
6- روشنائی : روشنائی کئی طرح کی ہوتی ہےجو تعویذلکھنے کے کام آتی ہے سعداعمال یا نقوش کےلئےسبز ، سرخ ، زعفرانی ، رغوانی ، پیلا ، گلابی ، زرد ، فیروزی ، بنفشی وغیرہ رنگ کی روشنائی استعمال کریں.
7- حروف صفات : روحانی عملیات میں حروف تہجی یعنی ابجد کو تین صفات میں تقسیم کی گیاہے. یعنی جلالی ، جمالی اورمشترک. ان کی تفصیل یہ ہے.
جلالی : ا، ب ، ذ ، ش ، ط ، ف ، م ، و، ہ
جمالی : ح ، خ ، د ، ر ، ع ، غ ، ل ، ن ،ی
مشترک : ت، ث ، ج ، ز ، س ، ص ، ض ، ظ ، ق ، ک
ہمارا یہ موضوع ابھی جاری ہےانشاء اللہ اگلےلیکچر میں اس کومکمل کریں گے تب کےلئے اس دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو آسانی عطا فرما ئےاور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطافرمائے ، آمین . اللہ حافظ.


Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 06
Breathing Science(علم النفس)
السلام وعلیکم : PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
عزیزطلباء وطالبات ہم جب بھی کسی روحانی علم کےحاصل کرنےکےلئےکسی استاد کے پاس جاتےہیں تواستادسےپہلےاپنےشاگرد کو سانس کی اہمیت کے بارےمیں بتاتےہیں کہ سانس کی مشقیں روحانی علوم کے حصول کےلئے کیوں ضروری ہوتی ہیں.
ماورائی علوم سیھکنے کےلئے مضبوط اعصاب اور طاقتوردماغ کی ضرورت ہوتی ہے. اعصاب میں لچک پیدا کرنے ، دماغ کومتحرک رکھنےاورقوت کارکردگی بڑھانےکےلئےسانس کی مشقیں بےحد مفید اور کارآمدہیں.ماورائی علوم کا طالب علم جب سانس کی مشقوں پرکنڑول حاصل کرلیتا ہے تودماغ کےاندرریشوں اور خلیوں کی حرکات اور عمل میں اضافہ ہوجاتا ہےانرمیں سانس روکنےسےدماغ کےخلیات چارج ہوتےہیں جوانسان کی خفیہ صلاحیتوں کوبیدارہونے ، ابھرنے اور پھلنےپھولنے کے بہترین مواقع فراہم کرتےہیں. ماہرین روحانیت نے سانس کی مشقوں کے قاعدےاورطریقےبنائےہیں. اگران طریقوں پرعمل کیاجائےتو بہت سارےروحانی اورجسمانی فوائد حاصل ہوتےہیں.
یہ بات واضح ہےکہ زندگی کا دارومدارسانس کےاوپرہےانسانی زندگی میں وہم ، خیال ، تصورادراک اوراحساس سب اس وقت تک موجود ہیں جب تک سانس کا سلسلہ جاری ہے. سانس کے ذریعہ ہی آدمی کے اندر صحت بخش لہریں داخل ہورہی ہیں اورجسم میں جذب ہورہی ہیں سانس کی مخصوص مشقیں دراصل دوران خون کو تیزکرتی ہیں ، دماغی صلاحیتوں کواجاگرکرتی ہیں اور برانگیختہ جذبات کو ٹھنڈا کرتی ہیں اور کسی عمدہ مصفی خون دواکی طرح خون کوصاف کرتی ہیں. سانس کی مشقوں سےآدمی تقریباًاپنی ہربیماری کا علاج کرسکتاہے. مثلاً نسیان کامرض ، پیٹ کے جملہ امراض ، معدے اور آنتوں میں السر، قبض ، نزلہ ، زکام ، سردرد ، مرگی اوردوسرےقسم کےدماغی دورے ، بینائی کی کمزوری وغیرہ وغیرہ. سانس کی مشقوں کوعلاج قاعدوں کے مطابق اگر پابندی وقت کےساتھ انجام دیاجائے تو سینہ ، گلےاور ناک وغیرہ کےامراض بھی ازخود ختم ہوجاتےہیں. یہ بھی دیکھا گیا ہےکہ ساٹھ سترسال کے بوڑھے لوگ جہنوں نے سانس کی کسی منتخب مشق کواپنا معمول بنالیا ہے وہ نوجوانوں کی طرح ہشاش بشاش اور تروتازہ زندگی گزارتےہیں. آخری وقت میں انکی کھال جھریوں سے محفوظ رہتی ہے. ثپرمردگی اورافسردگی ان کے قریب نہیں پھٹکتی. جوحضرات روحانی استاد کی نگرانی میں سانس کی مشق پابندی وقت کےساتھ کرتے ہیں ان کے اندر انتقال خیال یا ٹیلی پیتھی کی ایسی قوت پیدا ہوجاتی ہے کہ پھتراوراینٹ کی دیواریں باریک کاغذ کی طرح نظرآتی ہیں.دورپرے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں. شخص سامنے آتا ہے اسکی سوچ اوراس کے خیالات ذہین کی اسکرین پر منتقل ہوجاتےہیں.
سانس کی مشقوں کے دوران بڑے عجیب تجربات ہوتےہیں جو شخص صورت سے پرہیزگار نظرآتا ہے اسکے خیالات کی کثافت سے دماغ متعفن ہوجاتاہے اور جوشخص شکل وصورت کےاعتبار سےزاہداورمتقی نہیں ہوتا ہےاس کے خیالات کی روسبک ، ہلکی اور معطر محسوس ہوتی ہے. لیکن ان تمام کیفیات کے حصول کے کئے ضروری ہے کہ ان مشقوں کوکسی استاد کی نگرانی میں کیاجائےاور مستقل اور باقاعدگی بہتر نتائج کے حصول کے لئے لازمی ہے.
جنگل میں پہاڑکی چوٹیوں پر دھونی رمائےجوگی بیٹھےرہتےہیں. سخت گرم کوکے تھپیڑےان کا بال بیکا نہیں کرسکتے، سردی ، گرمی ، چاند ، سورج کےسائےتلےزندگی گزارتےجاتےہیں. ننگابدن ، بھبھوت میں آلودہ موسم کی سختی برداشت کرتا ہے ، سردی میں پانی جم کر برف بن جاتا ہےایسے وقت میں یہ لوگ کوئی جائے پناہ تلاش نہیں کرتے اور مزے سے دھونی رمائے بیٹھےرہتےہیں.
علم سرزمانہ قدیم سے جوگیوں اور سادھوؤں میں مقبول ہے ان کے پاس کوئی شخص سوال پوچھنے جائے توفوراً سردیکھ کرجواب دیتے ہیں لوگ سمجھتےہیں عامل ہیں. ہمزادقابوکررکھاہےیاکسی مہمان دیوی کاپجاری ہے جو ہربات درست بتادیتاہے.مگراصل بات یہ ہے کہ یہ عامل سروں کے ماہرہوتےہیں اوران کوسروں کےعلم پرعبورحاصل ہوتا ہے. ناک کےسیدھے نتھنےکوسورج سر سےمنسوب کیا جاتا ہےاوربائیں کوچندرسرکہاجاتاہے.ناک کےسامنے ہتھیلی رکھیں تومحسوس ہوگا کہ ایک نتھنا بندہےاوردوسراجاری. یہ باری باری تبدیل ہوتےہیں. ہرگھنٹےبعد سر بدلتا ہے.طلوع آفتاب کے وقت سورج سرڈھائی گھڑی چلتاہے.جدھرکانتھنا جاری ہواسےچلتا سر کہتےہیں.
سیدھےاورالٹےنتھنےسےسانس جاری ہواسے سکھمناسر کہتےہیں.جس وقت یہ سرجاری ہودنیا کا کوئی کام نہیں کرناچاہیئے. یہ عبادت کا وقت ہے. عبادت کرتےوقت بعض دفعہ بڑالطف آتا ہے. مقامات کھلتےہیں اورو رحجابات کے پردےدور ہوجاتےہیں. دوزانوں بیٹھ کرذکرکیا جائےاورودونوں نتھنے برابرہوں توعمل جلدی اثرکرتاہےقلب جاری ہوجاتاہے.رگ وپےمیں ذکرسرایت کرتا ہے اور عامل ہی اس کا لطف جان سکتا ہے “صلی اللہ علیک یا محمدٌ” سانس کے ساتھ پڑھا جائے اور مداومت کی جائے تو عمل کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے یہ خدا کا خاص فضل ہے.
سورج سرمیں سفر کرنا نیک شگون ہے کسی بڑےافسر سے کا ہواور وہ نہ کرتا ہوتو آپ سورج سرمیں اس سے ملاقات کریں. آپ طبیب ہیں تواس سرمیں بیمارکودوادیں خاص اثرکرےگی. کسی بلند جگہ چڑھیں تو سورج سرمیں تاکہ کوئی نقصان نہ ہو. کوئی بھی علم حاصل کرنا چاہیں. کیمیاء ہویا سیمیاء ہوتو آپ اس سرمیں مطالعہ کریں فائدہ ہوگا. دشمن سے مقابلہ ہوتو سورج سرمیں دوبدوہوں.
چندرسریعنی بایاں سرچلتے وقت دھیان رکھیں. کھیتی باڑی کریں.باغ لگائیں ، پودے لگائیں ، مکان کی بنیاد کھودتے وقت چندرسرجاری ہوتومکان ہرآفت سےمامون رہتا ہے. کوئی جانورخریدیں تووہ بھی مفید ثابت ہوگا. شادی بیاہ کرنا ، رشتہ طے کرنا اسی سرمیں اچھےہوتےہیں. دکان صبح سویرےاسی سرمیں کھولی جائے تو بکری زیادہ ہوتی ہےتجارت کاارادہ ہواورچندرسرمیں شروع ہوتوکاروبارمیں چارچاند لگ جاتےہیں.دشمنوں کامنہ کالاہوتاہے.زیور ، روپیہ اسی گھڑی میں محفوظ کریں تو چوروں سے محفوظ رہتا ہے. زیورنیا بنوائیں اور چندر سر ہوتوزیورپہننےوالا ہمیشہ خوش رہےگااورسونےمیں اضافہ ہوتاچلاجائےگا.
علماء روحانیت کا کہنا ہےکہ بیماری سے بچنا اور طویل عمرپانا چاہتےہو، ہرزہرسے محفوظ رہنا چاہتےہوتو کھانا جب بھی کھاؤ تو سورج سرمیں اورپانی پیوتو چندسرمیں. دن کے وقت چندرسرجاری رکھا جائے تو ایسا شخص لمبی اور تندرست زندگی پاتا ہے.
ان سروں میں عجیت وغریب اثرات پہناں ہیں. اپنی مرضی سے اولاد پیدا کرسکتےہیں . جسم کے روگ دور کرسکتےہیں بڑےبڑے پہلوان سے مقابلہ کیا جائے تو سر کی وجہ سے غالب آسکتےہیں. سردی اور گرمی سے پیدا ہونےوالی بیماریوں کا علاج ہوسکتا ہے. سردی کی بیماری ہوتو سورج سرجاری رکھا جائے. چندروزکی مداومت سے مرض ختم ہوجاتا ہے. گرمی کی بیماری چندرسرسے ٹھیک ہوجاتی ہے. اسی طرح کچھ لوگ ٹھنڈی گرم چیزوں سےالرجک ہوتےہیں. اپنی بیماری کا پتہ کرکے گرم چیزوں کا استعمال چندسرمیں کیا جائےاور سرد چیزیں سورج سرمیں کھائی جائیں تو کبھی نقصان نہیں ہوتا.
سر کی تبدیلی کئی طریقےسے ہوتی ہےاگرسورج سر چلانا چاہیں تو بائیں کروٹ لیٹ جائیں، سر جاری ہوجائےگا، چندسرکےلئےسیدھی کروٹ لیٹیں یا نتھنےمیں روئی لگالیں.اس سے بھی سر بدل جاتا ہے اور آپ حسب میشاء کام لےسکتےہیں.
سروں کاایک بھیداورہے جوسرپانچ گھڑی ہےاس میں پانچ تتودورہ کرتےہیں ایک تتو ایک گھڑی رہتا ہے کوئی آکرسوال کرے اور کچھ پوچھنا چاہےتودیکھیں کون سے تتواورسرکادورہ ہےاور پھر جواب دیں جع صحیح ثآبت ہوگا.
پانچ تتوہیں اوران کے پانچ رنگ سامنے رہتےہیں عامل اسی طرح جواب دیتے ہیں ناک پرہاتھ رکھا سر معلوم کیا…… تتوکادورہ دیکھا……. اور بتادیا . وایو، اگنی ، جل ، آکاش ان کے نام ہیں. پہلے دیکھا کون سا سر جاری ہے ناک سے کتنے انگل کے فاصلے پرآتا ہے ایک انگل کے فاصلہ پرہوتو اگنی تتو ہے آٹھ انگل پروایو ، بارہ انگل پر تھوی اور سولہ انگل پرجل تتو ہوتا ہے. آکاش کا رنگ روشن ، وایو کا رنگ سبز ، گنی کا سرخ ، جل کا سفید ، تھوی کا سبز رنگ ہے جو باری باری دورہ کرتےہیں.
سر تین طرح کے ہوتےہیں……. بائیں نتھنے سے سانس آئے تو ایڑا کہتےہیں ، دایاں نتھنا جاری ہوتو نگلا کہتےہیں . دونوں نتھنے جاری ہو تو سکھمنا بولتےہیں.
صبح اٹھ کردیکھیں کونسا سر چلتا ہے، جدھر کا سر چلے یتن باراللہ کا نام ایک سانس میں پڑھ کے اس طرف کے ہاتھ کی ہتھیلی کا بوسہ لے، تمام دن امن وامان سے گزرےگا.
کہیں کام سے جانا ہوتو دیکھئے کونسا سر جاری ہےاگر کسی دوسرے شہر جانا ہواور کامیابی کی نیت ہوتو سورج سر میں گھرسے قدم باہر نکالے فتح ہوگی. سکھمنا سر میں کسی کے پاس کام سے نہ جائیں کام نہیں ہوگا. افسران بالا توجہ نہیں دیں گے،. تھوڑا سا تو قف کرے اور جب تک سکھمنا سرجاری رہے پاک صاف ہو کر عبادت میں مصروف رہے اور دوسرا سر جاری ہونےکےگھر سے نکلے.
کسی جگہ ضروری جاناہو، وقت مقرر ہوتو دیکھئے چند سرہے یا سورج سر. جس طرف کا سروہی قدم اٹھائے اور سات قدم چلے مقصد میں کامیابی ہوگی. جو اس علم کے عامل ہیں وہی اسکی حقیقت سے آگاہ ہیں.
کوئی دوااثرنہ کرتی ہواور دن بدن حالت خراب ہو. الٹا سانس چلتے وقت دواکھلایئں، مریض کی گرتی حالت سنبھل جائے گی. کام کرنےسے تھکن ہو ، کوئی غم واندوہ ہو غشی ہو ، دل ڈوبنے لگے تو فوراً قمری سانس جاری کرلیں. انجکشن کی طرح فوری فائدہ ہوگا، دل ٹھہر جائےگا اور قوت حیات دوبارہ آتی معلوم ہوگی.
جہاز ، زیل ، کشتی میں سوار ہوتے وقت سیدھا نتھنا جاری کرلیں سارا سفر بخریت گزرے گا خون خراب ہوگیا ہو ، پھوڑے پھنسیاں نکلتی ہوں یا مہاسے ہوں ، سورج نکلتے وقت اونچی جگہ کھلی ہوا میں کھڑے ہوجایئں زبان کی نوک اوپروالے دانتوں کی جڑ میں دبالیں ، تتھنوں سے ہوا اندر کی طرف پوری طاقت سے کھینچیں، پھر آہستگی سے باہر نکال دیں.روزانہ صبح پندرہ منٹ اسطرح کریں شام کو سورج غروب ہوتے وقت یہ مشق دہرائیں، چند روزمیں خون صآف ہوجائے گا اور پھوڑے پھنسیاں ٹھیک ہوجائیں گے. چہرےپرداغ دھبے جھائیاں ختم ہوجائیں گی. امید ہےکہ علم النفس کی یہ معلومات آپ کو پسندآئی ہونگی انشاءاللہ زندگی رہی تو اس موضوع پر مذید بات کریں گے تب تک کے لئےاس دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو آسانی عطا فرما ئےاور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطافرمائے ، آمین . اللہ حافظ.


SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat