Author Archives: Dr SAHS

Category : Homeopathy

بسم اللہ الحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 10 General information of Homeopathy
!معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
Homeopathy With Sami میں خوش آمدید
ہومیو پیتھی ایک ایسا طریقہ علاج ہے جو ڈھائ سو سالوں سے استعمال ہو رہا ہے جو ”مثل کا علاج بالمثل سے کیجئے” کے صول پر عمل کرتا ہے یعنی بیماری کا علاج ایسے مادے سے کیا جاتا ہے جو صحت مند افراد میں اسی طرح کی علامات پیدا کرتا ہے چونکہ ہومیوپیتھک ادویات بہت قلیل مقدار میں استعمال کرائ جاتی ہیں اس لئے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کوئ مضر اثرات پیدا نہیں کرتیں
ہومیوپیتھک معالج کیا چاہتا ہے؟2
ایک ہومیوپیتھ صرف آپ کی بیماری کے بارے میں نہیں پوچھے گا بلکہ یہ بھی پوچھے گا کہ آپ اپنے اردگرد موجود عوامل سے کس طرح متاثر ہوتے ہیں جیسے کہ درجہ حرارت اور موسم ،کس قسم کی غذا کھانا پسند یا نا پسند کرتے ہیں ،آپ کا مزاج اور احساسات اس کے ساتھ ساتھ آپ کی پورس میڈیکل ہسٹری جوکہ آپ کی بیماری کی پوری تصویر ایک فرد کے طور پر نمایاں کرتی ہے یہ سب آپ کی موجودہ علامات کے ساتھ مل کر درست دوا تجویز کرنے اور دوا کی درست طاقت منتخب کرنے میں مدد گار ہوتے ہیں جب کہ ایلوپیتھک میڈیکل پریکٹس میں مختلف افراد جو ایک جیسی صورتحال یا بیماری میں مبتلا ہوں انہیں ایک ہی دوا دی جاتی ہے
ہر انفرادی شخص ماحول سے مختلف چیزوں کو حاصل کرتا ہے اور مختلف عوامل کے 3 تحت مختلف رد عمل ظاہر کرتا ہے ہومیوپیتھی میں دوا کے انتخاب کے لئے اس بات کو مانا جاتا ہے اور اسی کے تحت دوا استعمال کرائ جاتی ہے کوئ شخص نئے گھر میں،نئے خاندان میں یا کام کی جگہ یا کسی نئے ماحول میں جاتا ہے تو وہاں کے ماحول میں اس کا رد عمل کیا ہوتا ہے اس کے ماضی اور حال کے تجربات اور اس کی عمومی ذہنی کیفیت یہ تمام عوامل مریض کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور اس کے علاج میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں
ہومیوپیتھی کے تحت دماغ اور جسم کے درمیان بہت گہرا رابطہ ہوتا ہے جسمانی بیماریوں کوکو سمجھے بغیر متاثر کن شفاء نہیں دی Constitution مریض کے کردار اور اس کے کے معنی ایک فرد کی صحت مندانہ حالت ہے جس میں constitution جاسکتی ہومیوپیتھی اس کا مزاج اور کسی بھی قسم کے وراثتی رحجان اور اس اے حاصل کردہ خصوصیات ہیں Constitution ہومیوپیتھی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اگر آپ کا صحت مند ہے تو آپ کسی انفیکشن سے زیر نہیں ہونگے مثلاً بیکٹریا اور وائرس سے آپ کی حساسیت کم ہوتو وہ آپ پر اثر انداز نہیں ہوسکتے یہ ہومیوپیتھی اور ایلوپیتھی کے درمیان بنیادی فرق ہے ایلوپیتھس اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فرد انفیکشن ( بیکٹریا اور وائرس ) کی وجہ سے بیمار ہوتا ہے اس لئے ان کے علاج کا مقصد انفیکشن کو ختم کرنا ہوتا ہے اس لئے وہ بہت طاقتور ادویات استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے فرد کی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے اور مریض مزید کمزور ہوجاتا ہے اور بار بار بیمار رہنے لگتا ہے ہومیوپیتھ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ پہلے آپ کا حساس یا کمزور ہو جاتا ہے اور پھر آپ انفیکشن کو قبول کرلیتے ہیں بیکٹریا اور وائرس بیماری کا سبب نہیں ہوتے بلکہ بیماری کا نتیجہ ہوتے ہیں بیکٹریا اور وائرس ہر جگہ موجود ہوتے ہیں وہ اس وقت تک آپ پر اثر انداز نہیں ہوتے جب تک آپ کی قوت مدافعت طاقتور ہوتی ہے
ایلوپیتھی کے بر خلاف، ہومیوپیتھی ایک انفرادی شخص کے ریڈی میڈ سوٹ کے بجائے ٹیلر میڈ سوٹ کی طرح ہے اس لئے ہومیوپیتھک دوا مختلف افراد کو خواہ وہ ایک ہی بیماری مبتلا ہوں ایک جیسی دوا تجویز نہیں کرتی ایک دوا عمومی جسمانی بے قاعدگیوں کے لئے تجویز کی جاسکتی ہے اور دوسری اسی وقت خاص اور حادعلامات کے تحت استعمال کرائ جاسکتی ہے اگر دوسری نشت پر دوا مریض کی حالت کے پیش نظر تبدیل کی جاسکتی ہے
دوا کی پوٹینسی تجویز کرنا دوا تجویز کرنے کی طرح ایک اہم کام ہے تجویز کردہ دوا کی طاقت کا انتخاب کرتے ہوئے مختلف عوامل کو مد نظر رکھا جاتا ہے مریض کی حالت مریض کی قوت،مریض کی عمر اور اس کا ماحول ،نا صرف مناسب دوا کا استعمال اہم ہے بلکہ انفرادی شخص کے حوالے سے دوا کی طاقت کا انتخاب بھی اہم ہے
عموماً درست طور پر منتخب کی ہوئ ہومیوپیتھک دوا لینے کے بعد مریض جسمانی ،ذہنی اور جذباتی غرض ہرطرح سے اپنے آپ کو بہتر محسوس کرتا ہے بعض اوقات ہومیوپیتھک دوا لینے کے بعد مریض کی علامات معمولی سی بڑھ سکتی ہیں یہ اچھی علامت ہے کیونکہ جسم کی قدرتی صحت مندانہ توانائیاں بیماری کو باہر نکالنے کے لئے بیدار ہوجاتی ہیں اور اس کے بعد علامات ختم ہونے لگتی ہیں کیونکہ آپ صحت مند ہوجاتے ہیں
عمومی طور پر لوگوں میں یہ غلط فہمی پائ جاتی ہے کہ ہومیوپیتھی پہلے بیماری کو بڑھاتی ہے اور پھر اس میں افاقہ ہوتا ہے یہ مفروضہ ہے یہ تمام کیسز میں ہمیشہ نہیں ہوتا اگر متخب شدہ دوا مریض کی ضرورت کے مطابق ہو لیکن اگر مریض کی ضرورت سے زائد دفعہ دوا کو دوہرایا جائے تو اکثر علامات بڑھ جاتی ہیں لیکن جیسے ہی دوا کا استعمال روکا جاتا ہے یہ علامات خودبخود ختم ہوجاتی ہیں اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ بیماری بڑھ گئ ہے
ہومیوپیتھک ادویات کیسے لی جائیں ؟یہ جاننا ہر اس شخص کے لئے ضروری ہے جو ہومیوپیتھک علاج کرارہا ہو دوا لینے سے آدھا گھنٹا پہلے یا بعد میں کوئ چیز نہیں رکھیں کیونکہ ہومیوپیتھک ادویات جلد کی اندرونی تہہ میں جذب ہوتی ہے کہ جب ہومہوپیتھک ادویات لی جائیں تو کافی اور پودینہ جیسے تیز مادوں سے مکمل پرہیز کیا جائے کیونکہ یہ منتخب شدہ دوا کے اثر کو زائل کرسکتی ہیں گھر میں استعمال ہونے والے تیز کلیز اور دوسرے کیمیائ مادے حقیقتاً جسم پر زہریلے اثرات مرتب کرتے ہیں
ہومیوپیتھک ادویات کو ہاتھ لگانے سے ان کا اثر ختم ہوجاتا ہے اس لئے دوا کو ہاتھ لگانے سے گریز کرنا چاہیئے بہتر طریقہ یہ کہ گولیوں کو ڈھکن میں ڈال کر براہ راست منہ میں ڈال دیا جائے اگر گولیا گرجائیں یا چھوٹ جائیں تو دوبارہ بوتل میں نہ ڈالیں ورنہ آپ کی دوا اپنا اثر کھودے گی ادویات کو تیز روشنی نیز حرارت یا تبدیل ہونے والے درجہ حرارت اور تیز بو سے دور اور محفوظ رکھنا چاہیئے
اکثر لوگ معلوم کرتے ہیں کہ کیا ہومیوپیتھک ادویات،ایلوپیتھک ادویات کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہیں؟اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ ہومیوپیتھک ادویات دوسری ایلوپیتھک ادویات کے ساتھ جیسے بلڈپریشر کی ادویات،ذیابطیس کی ادویات کے ساتھ باحفاظت استعمال کرائ جاسکتی ہیں آپ کی روز مرہ کی ایلوپیتھک ادویات کچھ وقت تک نہیں روکی جاتیں آپ کا ہومیوپیتھک ڈاکٹر آپ کی دوسری ادویات کو کم کرسکتا ہے جب آپ ہومیوپیتھک دوا کے اثر سے بہتر ہونے لگیں
MD اپنے وقت کے جرمن ایلوپیتھک ڈاکٹرہومیوپیتھی کے بانی ڈاکٹر سیموئیل،کرسچن مین تھے وہ اپنے پیشے سے دل برداشتہ ہوگئے تھے انہوں نے ایلوپیتھک میڈیسن سے اپنا کیریئر چھوڑ کر متبادل علاج کی ریسرچ شروع کی انہوں نے اپنے مریضوں کا علاج مثل کا علاج بالمثل سے کیجئے کے اصول پر شروع کیا انہوں نے اپنے نئے نظام علاج کا نام ہومیوپیتھی رکھا جوکہ ایک لفظ ہے ہومیو کا مطلب ” بالمثل اور پیتھوز” کا مطلب بیماری ہے پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 5 سالہ ڈگری کورس کا اجزاء کیا ہے اس کے علاوہ چارسالہ کورس بھی رائج ہے اس کے امتحانات نیشنل کونسل فارہومیوپیتھی پاکستان لیتی ہے یہ کورس کرنے کے بعد میڈیل پریکٹس کرنے کی اجازت ہوتی ہے
پاکستان کے تین صوبوں میں ہومیوپیتھک ڈائریکٹریٹ قائم ہیں جن میں صوبہ سندھ ،صوبہ خیبر اور پنجاب شامل ہیں کراچی میں ایک ہومیوپیتھک ہسپتال قائم ہے جہاں ڈاکٹرز کو گریڈ 17 دیا جاتا ہے
کیا ہومیوپیتھک ادویات آہستہ آہستہ اثر کرتی ہیں؟ہومیوپیتھی آہستہ اثر کرتی یہ مفروضہ مشہور ہے کہ کیونکر اکثر افراد ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے پاس پرانے امراض کی لمبی ہسٹری لے کر آتے ہیں اس لئے علاج میں وقت لگتا ہے ان بیماریوں میں ہومیوپیتھی ایلوپیتھی کے مقابلے میں بہت بہترین متبادل ہے اور اسی وجہ سے یہ تصور ہوتا ہے کہ ہومیوپیتھی آہستہ اثر کرتی ہے حقیقتاً حاد امراض میں ہومیوپیتھی تیز اور بہتر کام کرتی ہے
ہومیوپیتھک ادویات کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں؟ ہومیوپیتھک ادویات سے اثر پزیری اور13 قوت آگہی پوری دنیا میں ڈھائ سو سالوں کے کامیاب استعمال کے بعد ثابت ہوچکا ہے ایک بہترین اور بعض اوقات مختلف بیماریوں میں متبادل ہوتا ہے ہومیوپیتھی قابل علاج مرض کو شفایاب کرتا ہے اور لاعلاج مریض میں عارضی افاقہ دیتی ہے ہومیوپیتھی ناصرف ایک تھراپی ہے جوکہ ھاد اور مزمن امراض میں متاثر کن سفاء دیتی ہے بلکہ یہ مدافعتی نظام کو متحرک کرتی ہے اور مریض کی بناوٹ،طبعیت اور مزاج کو متوازن کرتی ہے
ہومیوپیتھی میں دی گئ سفید گولیاں‌کس طرح مؤثر ہوسکتی ہیں؟ ہماری اکثر ادویات 14 الکوحل میں تیار کی جاتی ہیں شوگر کی سفید گولیاں جسم میں دوا پہنچانے کا صرف ایک ذریعہ یا ہیں یہ شبہ ان لوگوں میں پایا جاتا ہے جو پہلی مرتبہ ہومیوپیتھک دوا کا استعمال کرتے ہیں مائع حال میں ادویات ہوتی ہیں جوکہ مریض پر اثر انداز ہوتی ہیں
کیا ہومیوپیتھک ادویات کوئ ضررساں اثر پیدا کرتی ہیں ؟نہیں! ہومیوپیتھک ادویات کوئ 15 ضررساں اثر پیدا نہیں رکھتیں کیونکہ وہ قلیل مقدار میں استعمال کرائ جاتی ہیں اور جسم پر کوئ کیمیائ یا مکینیکل اثر نہیں کرتیں دوا کے سائیڈ ایفیکٹ کی اصطلاح جدید فارماسیوٹیکل سے آئ ہے یہ ادویات جسم کے ایک حصے پر اثر انداز ہوتی ہیں جیسے کہ دل اور شریانوں کا نظام،آنت،گردے،وغیرہ حالانکہ یہ عمل کا ابتدائ حصہ ہیں لیکن جسم کے دوسرے حصوں کو بھی متاثر کرتی ہیں اگر یہ دوسرے اثرات غیر ضروری ہوں تو یہ ہے ہومیوپیتھک ادویات کسی ایک مخصوص حصے،عضو کے خلاف استعمال نہیں کی جاتیں ہومیوپیتھک دوا ممکنہ حد تک مریض کی مجموعی علامات سے قریبی مماثلت کی بنیاد پر تجویز کی جاتی ہیں ضرررساں اثرات جیسے ٹشوز کی تباہی ہومیوپیتھی میں نہیں ہے
ہومیوپیتھک ادویات کس طرح بنتی ہیں؟16
ہومیوپیتھک ادویات مختلف قسم کے قدرتی اجزاء سے حاصل کی جاتی ہیں اور حکومت سے تصدیق شدہ لیبارٹریز میں مکمل طور پر قائم رکھتے ہوئے تیار کی جاتی ہیں یہ گولیوں اور مائع شکل میں استعمال کرائ جاسکتی ہیں اور مختلف لیکن بہت ہی میں دستیاب ہوتی ہیں جو پوٹینسی کہلاتی ہے
ہومیوپیتھک ادویات کی میعاد کیا ہے؟اگر درست طریقہ سے ذخیرہ کی جائیں تو 17 ہومیوپیتھک ادویات سالوں معیاد میں خرابی کے بغیر استعمال کی جاسکتی ہیں ذخیرہ کرنے کی رہنمائ ادویات کمرے کے درجہ حرارت پر اچھی ڈھکن بند کرکے ٹھنڈی،خشک جگہ،مٹی سے محفوظ ماحول میں براہ راست سورج کی روشنی سے بچا کر رکھی جائیں
کیا ہومیوپیتھی بچوں اور حاملہ خواتین کے لئے محفوظ ہے؟ جی ہاں ! ہومیو پیتھی بچوں 18 کے لئے مکمل محفوظ ہے اور حاملہ خواتین کو بھی با حفاظت استعمال کرائ جاسکتی ہیں
19 کیا ذیابطیس کے مریض میٹھی گولیاں جو ہومیوپیتھی میں دی جاسکتی ہیں کھاسکتے ہیں؟ہومیوادویات میں بھی استعمال کرائ جاسکتی ہیں (تو اس طرح گولیوں سے بچا جاسکتا ہے)
کیا ہومیو ادویات ایمرجنسی میں استعمال کرائ جاسکتی ہیں اور یہ تیزی سے اثر کرتی 20 ہیں؟ جی ہاں ! ہومیوپیتھی ایمرجنسی اور حاد حالتوں میں مؤثر فائدہ مند ہے درست دوا اور درست پوٹینسی اور درست مقدار ھاد اور مزین امراض میں حیرت انگیز اثر کرتی ہیں
ہومیوپیتھی کے ساتھ دوسری کونسی ایسی چیزیں ہیں جو صحت کو جلد قائم کرتی ہیں ؟ 21 تمام ہومیو ادویات کے ساتھ توازن غذا،یوگا،تناؤ سے پاک ماحول اور جذباتی اور ذہنی حالت جو جسم کے نظام کو متوازن کرتی ہیں
22 وہ کونسے بگاڑ ہیں جن میں ہومیوپیتھی فائدہ مند ہے؟ عموماً یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ہومیو پیتھی صرف مزمن امراض جیسے جوڑوں کا درد،جلدی بیماریاں ،آدھے سر کا درد،حیض کی خرابیاں ،بواسیر،معدہ کی بیماریاں ،الرجی ،کینسر،جگر،دل،گردے،اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا ہی علاج کرتی ہے جبکہ یہ حاد امراض میں بھی بہت مؤثر ہے جیسے ٹانسلز کی سوزش، حلق کی سوزش،وائرس کی وجہ سے ہونے واقلے بخار سے،دست،پیچش،دمہ، برانکاٹس،قبض،چوٹ،بچوں کی بیماریوں وغیرہ کے لئے بہت مؤثر ہے بعض اوقات یہ بیماری کے دورانیہ کو کم کردیتی ہے اور اکثر کیسز میں مروجہ علاج کے مقابلے میں تیزی سے شفاء دیتی ہے اور ضرررساں اثرات بھی پیدا کرتی
23 کیا ایلوپیتھک علاج کے ساتھ ہومیوپیتھک علاج کرایاجاسکتاہے؟ یہ اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ بیماری کیا ہے اور کونسی ہومیوپیتھک دوا استعمال کی جارہی ہے یہ مسئلہ آپکا ہومیوپیتھک معالج ہی اچھی طرح جان سکتا ہے
24 کیا یہ درست ہے کہ ہومیو ادویات صحت مند انسانوں پر آزمائ جاتی ہیں؟ جی ہاں ! یہ حقیقت ہے کہ ہومیوپیتھک ادویات پہلے دونوں جنس کے ہر عمر کے صحت مند انسانوں پر آزمائ جاتی ہیں ان پر اثرات ریکازڈ کئے جاتے ہیں اور علامات اور نشانیوں کا خلاصہ تیار کیا جاتا ہے ان علامات مجموعہ کو استعمال کرتے ہوئے ہومیو معالج مریض کو دینے سے پہلے دوا تجویز کرتے ہیں
25 ہومیو علاج کے لئے لیبارٹری تشخیص کہاں تک مددگار ہوتی ہے؟ یہ صرف یہ جاننے کے لئے استعمال ہوتی ہے کہ کیس ہومیوپیتھک ادویات کو ردعمل دے گا یا نہیں اور یہ طے کرنے کے لئے کہ کہاں تک شفا یابی ممکن ہے جو کہ صرف محنت طلب کیس ریکارڈ کے بعد ہی ممکن ہے یہ کیس میں بہتری جانچنے کے لئے بھی اہم ہے
26 کیا ہومیو ادویات پالتو جانوروں کو بھی استعمال کرواسکتے ہیں؟ ہومیوپیتھک ادویات کا بہت بہترین فائدہ یہ بھی ہے کہ جانوروں کو بھی با آسانی استعمال کروائ جاسکتی ہیں ان کے لئے یہ ضروری نہیں کہ گولیوں کو زبردستی حلق سے اتارا جائے
ہمیشہ کی طرح اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین اللہ حافظ


Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 12 PSORA,SYPHLIS,PSYCHOSIS
Therapeutics علم العلاج
!معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
ہماراآج کا لیکچر پچھلے لیکچر سے متصل ہے ،ہم سورا،سفلس،اور سائیکوسس پر بات کر رہے تھے ہنیمن ان میازموں کے بارے میں آرکینن میں لکھتے ہیں دفعہ 79:اس وقت صرف سفلس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مزمن امراض پیدا کرتا ہے اگر یہ میازم صحیح نہ ہوتو زندگی کے ساتھ ہی جاتا ہے سائیکوسس ایسا میازم ہے جس کو قوت حیات بغیر علاج کے دور نہیں کرسکتی لوگ اسے خاص قسم کا میازم نہیں سمجھتے حالانکہ یہ یقیناً ایک میازم ہے جب جلد کی خرابی دور ہوجاتی ہے تو ڈاکٹر یہ خیال کرتا ہے کہ یہ میازم بھی دور ہوچکا ہے لیکن یہ پوشیدہ رہنے والا میازم موجود رہتا ہے اور ڈاکٹر کے ذہن سے نکل جاتا ہے
دفعہ 80: درج بالا دونوں میازموں سفلا اور سائیکوسس سے بڑھ کر وہ میازم ہے جسے سورا کہتے ہیں وہ دونوں میازم اپنی موجودگی کو یوں ظاہر کرتے ہیں ایک میں تو آتشک کا مادہ نمودار ہوتا ہے اور دوسرے میں مسے وغیرہ نکلتے ہیں لیکن سورا کے میازم میں ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ جسم میں اپنا پورا اثر کر لیتا ہے تو اپنی موجودگی کا اظہار خاص قسم کی کھجلی والے دانوں کے ذریعے کرتا ہے جو جلد پر نکلتے ہیں نیز یہ مزمن میازم سینکڑوں قسم کے دیگر امراض کا باعث ہوتا ہے جنہیں اعصابی کمزوری،ہسٹریا، خبط،مالیخولیا،دیوانگی،مرگی،بواسیر،استسقا،حیض کی کمی،بانجھ پن، نامردی اور ہزاروں قسم کے دردوں وغیرہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے
دفعہ81:اس لئے یہ پرانی چھوت والا میازم سورا آہستہ آہستہ نوع انسانی کی سینکڑوں پشتوں میں سرایت کر گیا ہے اور بے شمار انسانوں کے جسموں کو اپنا شکار بنالیا اور ان پر غلبہ حاصل کیا اس لئے یہ اندازہ بالکل صحیح معلوم ہوتا ہے کہ نسل انسانی میں بے شمار امراض اسی میازم کے سبب پیدا ہوتے ہیں اور یہ بات ہمیں اس وقت سمجھ آتی ہے جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ انسان کی مختلف قسم کی دماغی اور طبعی خرابیوں کے علاوہ اور کتنے بیرونی اسباب ایسے ہوتے ہیں جو مختلف امراض پیدا کرتے ہیں
ان میازموں کو دور کرنے کے لئے چند ادویات کی فہرست دے رہا ہوں ان کو نوٹ کرلیں
دافع سورا ادویات:
1 الیومینا 2 اگریگس 3 امونیم کارب 4 امونیم میور
5 سلفر 6 کاسٹیکم 7 کالوسنتھ 8 آئیوڈیم
9 سلفیورک ایسڈ 10 لائیکوپوڈیم 11 آرسینک البم 12 آرم میٹیلیکم
13کاربواینی میلس 14 کاربوویج 15 کونیم 16 کیوپرم
17 میگنیشیا کارب 18 میگنیشیا میور 19 فاسفورک ایسڈ 20 سارسا پریلا
21 یوریکس 22 ہیپر سلفر 23 سیلشیا 24 سیپیا
25 پلا ٹینا 26 گریفائٹس 27 ڈلکمارا 28 سورنیم

دافع سلفس ادویات:
1 آرسینک البم 2 آرم میٹیلیکم 3 بیڈیاگا 4 بینزویک ایسڈ
5 ہیپر سلفر 6 تھوجا 7 فائیٹولیکا 8 کاربواینی میلس
9 کاربوویج 10 فلورک ایسڈ 11 سارسا پریلا 12 لا ئیکو پوڈیم
13 مرکیورس سال 14 فاسفورک ایسڈ 15 فاسفورس 16 پٹرولیم ٹائٹرک ایسڈ
17 کروٹیلس 18 سینا بیرکس 19 کالی بائیکرومیکم 20 کالی آئیوڈائیڈ
21 مرکیورس کار 22 مرکیورس 23 آئیوڈائیڈ 24 سیفیلینم

دافع سائیکوسس ادویات:
1 اینٹم کروڈ 2 اینٹم ٹاٹ 3 ایپس میلیفیکا 4 کیموملا
5 ارجنٹم میٹیلیکم 6 سینا بیرس 7 برائینیا 8 کاربو اینی میسس
9 کاربوویج 10 ڈلکمارا 11 فیرم سلفیورک ایسڈ 12 گریفائیٹس
13 ہیپر سلفر 14 پیٹرولیم 15 فائیٹولیکا 16 سلفر
17 لائیکوپوڈیم 18 مرکیورس 19 ٹیٹرم سلف 20 ٹائیٹک ایسڈ
21 کونیم 22 سیپیا 23 سیکیل 24 تھوجا
25 کاسٹیکم 26 میڈھورائینم 27 آئیوڈیم
اس فہرست کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں تاکہ دوران پریکٹس میازموں کی شناخت کرسکیں اور میازم کے مطابق صحیح دوا کا چناؤ ممکن ہوسکے آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے اب آپ سے اجازت چاہتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ آپ کوآسانیاں عطا فرمائیں اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین اللہ حافظ


Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
(Lecture Number 1 (General
! معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
عزیز دوستوں :آج ہمارا دوسرا لیکچر ہے لیکن درحقیقت ہومیوپیتھی کے حوالے سے ہمارا آج پہلا لیکچر ہے کیونکہ پہلے لیکچر میں صرف چینل کا تعارف کرایاگیا تھا جبکہ آج سے ہم با قاعدہ ہومیوپیتھی کے علم کا آغاز کر رہے ہیں ہومیوپیتھی ایک ایسا علم ہے جو بڑے بڑے حکماء اور فلسفی کا سرمایہ ہے میری مراد ان اطبائے یونان مثلاً بقراط، ارسطو اور جالینوس وغیرہ سے ہے انہیں حکیم یا بقراط اس لئے کہا جاتاہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حکمت یا فلسفہ کو سب سے پہلے اپنایا حکمت یا فلسفہ سے کیا مراد یے؟
اس بارے میں ایک جملہ مشہور ہے کہ ”موجودات کے حالات کا انسانی طاقت کے مطابق جاننا اور اس پر عمل کرنا” یہی حکمت یا فلسفہ ہے غور طلب بات یہ ہے کہ عمل کو حکمت کے معنوں میں شامل کیا گیاہے حکماء اسلام نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے بہت سے دلائل دیئے ہیں جن میں سے سب سے موزوں یہ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کلام پاک میں فرماتا ہے (ترجمہ):” جسے حکمت دی گئ اسے خیر کثیر عطا ہوئ” خیرکثیر سے مراد چاہے دنیاوی مال و دولت دی جائے یا جنت الفردوس دونوں کے لئے عمل درکار ہے لہٰذا حکمت سے مراد صرف موجودات کا علم نہیں بلکہ عمل بھی لفظ کی وسعت معنی میں داخل ہے
لہٰذا طبائے قدیم نے جہاں دیگر علوم میں کمال و مرتبہ حاصل کیا وہاں طب کی دنیا میں بھی ان کا نام تا قیامت زندہ و جاوید رہے گا بقراط نے علم طب کو اس قدر عروج دیا کہ ابوالطب اور پیتھوس کی ترکیب سے بنا ہے ہومیوس کے معنی بالمثل کے ہیں اور (Homoeos) پیتھوس کے معنی ہیں طریقہ علاج یعنی ہومیوپیتھی سے مراد وہ طریقہ علاج ہے جس میں بالمثل ادویات سے شفا حاصل کی جاتی ہے یعنی جس میں امراض کے بالمثل ادویات استعمال کی جاتی ہیں یعنی مرض کو دور کرنے کیلئے ایسی دوا دی جاتی ہے جس کی علامت تندرست انسان کے اس دوا کے کھانے سے پیدا شدہ علامات مرض کی علامات سے مشابہ ہوں اس نظریہ کو لاطینی زبان کے مشہور جملے سمی لیا سمی لیبس کیورینٹر سے ظاہر کیا جاتا ہے جس کا انگریزی ترجمہ:
ہے اور اردو میں علاج المثل بالمثل کہا جاتا ہے (Let Likes Be Treated By Likes) جوکہ مخفف ہو کر علاج بالمثل رہ گیا ہے علاج با لمثل کا خیال انسان کے دل میں پہلی مرتبہ کب پیدا ہوا اس کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے مگر اتنا پتہ چلتا ہے کہ بقراط نے اس نظریہ کا کچھ یوں کیا تھا کہ کھانسی کا علاج اس دوا سے ہوسکتا ہے جو کہ کھانسی پیدا کرتی ہے یہ الگ بات ہے کہ اس امام طب نے اس طریقہ علاج کو یا اس نظریہ کو عملی جامہ پہنا کر رواج نہ دیا مگر اس کے باوجود اس قانون قدرت کا بانی بقراط ہی کو ماننا پڑتا (Samuel ہےعلاج بالمثل یعنی ہومیوپیتھی کو رائج کرنے والے ایک جرمن ڈاکٹرسیموئیل ہنیمن Hahnemman) تھے
ان کی سوانح حیات انشاء رحمتہ اللہ اگلے لیکچر میں بتاوَ نگا تب تک کے لئے اجازت دیجئے اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
(Lecture Number 2 (General
(Life of Hahnemman) ہینیمن کی زندگی کے مختصر حالات
!معززنا ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
ڈاکڑسیموئیل ہنیمن سن 1755ء میں جرمنی کے ایک علاقے سیکسنی میں پیدا ہوئے آپ کے والدین نہایت غریب تھے معاشی حالات خراب ہونے کی وجہ سے زیادہ تر گھر پر علم طلب کا مطالعہ کرتے تھے اور گزر بسر کے لئے لڑکوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتے تھے سن 1779ء میں یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی مگر اس وقت موجود طریقہ علاج یعٰنی علاج بالضد (ایلوپیتھی) کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے لہٰذا آپ نے پریکٹس چھوڑدی اور گزربسر کے لئے میڈیکل کی کتابوں کے ترجمے کرنے شروع کردیئے یہ 1790ء کی بات ہے جبکہ وہ ایک اسکاچ پروفیسر ڈاکٹر کیولن کی میڑ یا میڑیکا با جرمنی میں ترجمہ کر رہے تھے دوران ترجمہ جب وہ سن کو نا بارک کے خواص کی بحث تک پہنچے تو یہ پڑھ کر تجسس کا شکار ہوگئے کہ سن کونابارک ملیریا بخار کو دور کرتی ہے ان کو خیال آیا کہ سن کونابارک ملیریا بخار کو کیسے دور کرتی ہے آپ نے سن کونابارک خریدی اور حالت صحت میں کھانا شروع کردی سن کونابارک کے استعمال سے ہنیمن کو سردی لگ کر بخار چڑھ گیا جس سے انہیں یہ معلوم ہوا کہ جب تندرست انسان سن کونابارک کھالیتا ہے تو ملیریا بخار جیسی علامات پیدا ہوجاتی ہیں اسی طرح دیگر ادویات کے بارے میں بھی ہنیمن کو یہ خیال گزرا کہ ممکن ہے جو دوائیں کسی مرض کے لئے مفید ہوں وہ تندرست انسان میں اسی مرض کی علامات پیدا کرسکیں با الفاط دیگر ہنیمن نے یہ سوچا کہ جو ادویات کسی مرض کی علامات پیدا کرسکتی ہیں وہی اس کے علاج میں مفید ثابت ہوسکتی ہیں چنانچہ مشاہدات اور تجربات ہنیمن کے اس نظریئے کی حقانیت کے شاہد ہیں
ہنیمن نے ادویات کے خواص کو تجربات کی مدد سے نوٹ کرنا شروع کیا آپ کا طریقہ کار یہ تھا کہ اپنے شاگردوں کو انفرادی طور پر دوائیں کھلاتے اور ساتھ ہی یہ ہدایت کرتے کہ ہر شخص ان کے اثر کو اپنے اوپر غور کرکے تحریر کرتا جائے اس طرح ہنیمن اپنے شاگردوں کے تجربات کو اکٹھا کر کے اپنے ذاتی تجربے سے مقابلہ کرتے اور جو علامات سب کے تجربات میں یکساں نظر آتیں انہیں دواوَں کے خواص میں درج کرلیتے
جب ہنیمن کو تحقیقات میں زیادہ تقویت ہوئ تو 1806ء میں ہوفیلڈ کے ایک رسالے میڈیسن آف ایکسپیریئنس میں ایک مضمون شائع کیا جس میں اپنی نئ ریسرچ پر روشنی ڈالی 1810ء میں ایک کتاب آرگینن شائع کی اس کتاب میں ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس کے قوانین دفعہ دار بیان کئے گئے اس میں کل 292 دفعات ہیں بعد میں آپ نے خواص الادویہ (Materia Medica Pura) کے حوالے سے دو جلدیں مٹریا میڈیکا پیورا کے نام سے شائع کیں اور ایک رسالہ کرانک ڈیسیز پرانے امراض کے بارے میں تحریر کیا
ہنیمن نے ان تکالیف کو نظرانداز کرتے ہوئے جو انہیں ہومیوپیتھک طریقہ علاج کے پھیلانے میں پہنچائ گئیں بڑی جانفشانی اور استقلال کے ساتھ اپنی تمام تر قوت کو تا حیات ہومیوپیتھک طریقہ علاج کی اشاعت میں صرف کیا ہنیمن نے سن 1843ء میں وفات پائ آپ کی وفات کے بعد آپ کے شاگردوں اور ماہرین فن نے تجربات سے کئ ایک اہم نتائج اخذ کئے مگر یہ سب موجد ہومیوپیتھی ڈاکٹر سیموئیل ہنیمن کے انکشاف کے مرہون منت ہیں اس دعا کے ساتھ آج کے لیکچر کا اختتام کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 3 (General)
قوت حیات (Vital Force)
!معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
مرض کے بارے میں ڈاکٹر سیموئیل ہنیمن نے یہ تھیوری پیش کی ہے کہ ” مرض قوت حیات کی کمزوری یا خرابی کا نام ہے” اس نطریئے کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ قوت حیات کیا ہے؟ قوت حیات کے بارے میں ڈاکٹر سیموئ ہنیمن کا نظریہ یہ ہے کہ فضا میں مسموم برقی قوت موجود ہے انسان کے جسم میں جب کبھی اس مسموم برقی قوت کے لئے مادہ قبولیت پیدا ہوجاتا ہے تو یہ جسم میں گھر کرنا چاہتی ہے قوت حیات اس کا مقابلہ کرتی ہے اور اگر یہ مسموم برقی قوت پر غالب آجائے تو مرض کی علامات ظاہر نہیں ہونگی اور اگر یہ مغلوب ہوجائے تو برقی مسموم قوت انسانی جسم میں قیام کرکے اعضاء کے فعال اور ساخت میں خرابی پیدا کردیتی ہے اور بیماری کی علامات ظاہر ہوجاتی ہیں دراصل قوت حیات وہ چیز ہے جے عربی میں طبعیت مدبرہ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ صحت بدن کی تدبیر کرتی ہے اور اگر کوئ نقص موجود ہو تو اسے دور کرکے صحت کو بحال کرتی ہے
اب دیکھنا یہ کہ ہومیوپیتھک دوا سے وائٹل فورس کو کیونکر تقویت پہنچتی ہے اور مرض کیسے شفا پاتا ہے اس کے متعلق ہنیمن نے ایک نیا فلسفہ پیش کیا ہے
دوا کے عمل کا فلسفہ
چونکہ ہومیوپیتھک دوا مرض کی علامات کے ہم مثل ہوتی ہے اس لئے یہ وائٹل فورس کا ساتھ دینے کی بجائے مسموم برقی قوت کا ساتھ دے گی اور اس قوت میں اضافہ کرے گی لہٰذا وائٹل فورس اول الذکر کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی طاقت کو اکٹھا کرےگی مگر یہ یادرکھنا چاہیئے کہ دوا کا اثر عارضی ہوتا ہے اس لئے جب دوا کا اثر زائل ہوجاتا ہے تو برقی مسموم قوت اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتی ہے مگر وائٹل فورس جس کی طاقت ہنوز بڑھی ہوئ ہے اس پر غلبہ پالیتی ہے اور اس سے پیدا شدہ نقائص کو دور کرکے بدن میں صحت بحال کرتی ہے چنانچہ ہنیمن کے نزدیک مرض وائٹل فورس کی کمزوری کا نام ہے اور اس کا سبب برقی مسموم قوت ہے ہنیمن کے اس نظریہ پر ماہرین فن نے کئ ایک اعتراضات بھی کئے ہیں مثلاً
اعتراض: لندن کے ایک ڈاکٹر جے گرے گلوور- ایم ڈی کا اعتراض ہے
ہنیمن تھیوریوں سے بہت جلد مغلوب ہوجاتے تھے اور استدلال میں اتنا زیادہ مضبوط نہ تھے بلکہ ان کا تمام دستورالعمل جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں اس خیال پر مبنی تھا کہ مرض کے اسباب نا قابل لمس، غیرمادی ،روحانی اور برقی ہوتے ہیں اور اسباب کے متعلق یہ تعین برباد ہوچکا ہے طب جدید بڑی کامیابی سے یہ بات ثابت کررہی ہےکہ اکثر اور عام امراض کے مادہَ علت کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور اس مادے کا ابھی تک ثبوت نہیں ملا وہاں بھی ایسا قیاس کیا جاسکتا ہے اکثر امراض کا سبب حیوانی جرثومہ یا ذرہ دیکھا گیا ہے
مندرجہ ذیل اعتراض کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ قابل دید جراثیم یا مادے برقی مسموم قوت کے لئے ہتھیار یا مادہَ قبولیت کا کام سر انجام دیتے ہیں اور امراض کا اصل سبب بقول ہنیمن ”صرف یہی مسموم قوت ہے جو بالکل نا قابل لمس غیر مادی روحانی اور برقی ہے”
آئندہ لیکچر تک کے لئے اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF