Author Archives: Dr SAHS

Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
(Lecture Number9 (General
!معززناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
کائنات کیوں وجود میں‌آئ،بیماریاں کب اور کیسے پیدا ہوتی ہیں،علاج کب اور کیسے شروع ہوئے؟
یہ تمام استعجاب اور استفسار اتنے ہی قدیم ہیں جتنا کہ انسان اور شعور انسانی یہ وہ سوالات ہیں کہ علم عرفان ،عقل و آگہی اور فلسفہ و سائنس اپنے انتہائ وسائل بروئے کار لانے کے باوجود ان کے جوابات حاصل کرنے میں کسی فیصلہ کن مرحلے پر نہیں پہنچ پائے ہیں اور ان سوالات کے جوابات اب تک ہم قطیعت کے ساتھ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ سائنسی کلیئے بھی اختلافات کی بھینٹ چڑھ کر تبدیل ہوتے رہتے ہیں ہر عہد کے اپنے اپنے مختلف عقائد جنم لیتے ہیں اور پھر وہ روایت کی حیثیت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں انہی روایات سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے کائنات سے ہی ہمارے اسلاف تخلیق کائنات، امراض کے وجود اور ان کے علاج کے بارے میں سوچتے رہے ہیں انہوں نے دقیق نکتوں سے وضاحت کرتے ہوئے اہم نظریات بھی قائم کئے لیکن وہ سب اپنے اپنے زمانے کے ماحول ، ذہنی کیفیات اور مشاہدات کے مطابق ہی پیش کرتے رہے ان کی روایات ، فکر اور نظریات میں ایک دنیا سمٹی ہوئ دکھائ دیتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہمارے اس عہد سے کہیں زیادہ سنجیدہ اور ٹھوس نظریات کے حامل تھے آج ہم تسلیم کریں یا نہیں کریں لیکن اس حقیقت میں ہمارے لئے تازیانہ عبرت ہے کہ ہم آج بھی انہیں قدیم نظریات و عقائد سے متاثر ہوکر اپنی ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں جو بھی اس ڈگر سے ہٹے گرداب ابتلا میں محصور ہوئے فرق صرف اتنا ہے کہ ہم اپنے اذہان کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا کم کردیا ہے اور اپنے مقاصد کے لئے نئے نئے پیمانے ایجاد کر لئے ہیں جن کے اظہار نتائج ہی پر علاج کی سمت کا تعین کرتے ہیں
ماضی میں انسان کی صحت قابل رشک تھی بیماریاں محدود تھیں جن کا دورانیہ بھی مختصر ہوتا تھا حکیم، ڈاکٹر، وید سب متحد، نہ کسی میں کوئ حسد، نہ ایک دوسرے کو رد کرنا، ہر ایک خاص کے ساتھ اپنے کام سے کام رکھتا لیکن اب وقت نے کروٹ لی اور معالج ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں نہ وہ خلوص رہا نہ محبت ، راتوں رات لکھپتی بننے کی ہوس میں ہر طرف موت کے سائے منڈلا رہے ہیں اسر انسانیت سسک رہی ہے زندہ انسان مردوں سے بدتر ہے سسک سسک کر دنیا سے رخصت ہونے کے دن گن رہا ہے یہ مقام عبرت نہیں تو اور کیا ہے ماضی کی اچھائیاں نیکیاں اور خلوص و محبت کو یکسر فراموش کر کے ہم کیا تھے اور کیا ہوتے جارہے ہیں پہلے ہم زندگی کو برتتے تھے اب زندگی ہمیں برتتی ہے اپنی مرضی اور اپنی خواہش سے جیسا اس کا دل چاہتا ہے سلوک کرتی ہے کوی پوچھنے والا نہیں ہے ،بچ گئے تو طبیب کا کمال ، چل بسے تو اللہ کی رضا
سارے طریقہَ علاج سرکش امراض کے سامنے ہتھیار ڈال کے بیٹھے ہیں اور آپس میں باہم دست وگریباں ہیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں ایسے میں ہومیوپیتھس کو چاہیئے کہ وہ آگے بڑھیں اور یہ نہ دیکھیں کہ کون کس کو کیا کہہ رہا ہے اور نہ ہی خود کسی طریقہَ علاج کی ندمت کریں بلکہ صرف اپنی بات کریں اپنے طریقہَ علاج یعنی ہومیوپیتھی پر توجہ دیں انسان کی دماغی اور جسمانی صحت کو قائم کرنے پر توجہ دیں میں حلفیہ یہ بات کہتا ہوں میں کسی طریقہَ علاج کا مخالف نہیں ہوں بیمار انسان کو صحت کی منزل سے ہمکنار کرنے والی ہر جہت اچھی لگتی ہے اور ہر طریقہَ علاج کا ماہر یہی چاہتا ہے کہ اس کے آس پاس آنے والا مریض جلد از جلد تندرست ہوجائے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے 35 سالہ تجربے کی بنیاد پر یہ کتاب تحریر کر رہا ہوں آج جتنے بھی طریقہَ علاج رائج ہیں ان سب کا مقصد صرف ایک ہی ہے یعنی مریض کو صحت سے ہمکنار کرنا اس میں خلوص، محبت اور توجہ بھی اگر شامل ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ضرور شفاء دیتا ہے آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی پسماندہ بستیوں میں غیر سائنٹیفک طریقہَ علاج رائج ہیں‌ لیکن چونکہ وہ صحیح سمت کا تعین نہیں کرتے اس لئے میں نے اس کتاب میں آلٹرنیٹو طریقہَ علاج کا ذکر کرتے ہوئے ہومیوپیتھک طریقہَ علاج پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے آئندہ لیکچر تک کے لئے ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو ہمیشہ خوش رکھے اور خوشیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 1 (General)
! معززناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
(Alternative Theropy) مختلف طریقہ ہائے علاج
Homeopathy With Sami میں خوش آمدید
علاج بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب قرآن مجید دنیا میں سب سے بڑا اور قابل بھروسہ ڈاکٹرہے اس میں ہر خشک و تر چیز کے ساتھ بیماری اور اس کا علاج بھی ہے قرآن پاک صرف پڑھنے اور سمجھنے کی بات ہے جس نے جس قدر زیادہ توجہ اور استغراق کے ساتھ قرآن پاک کو سمجھنے کی کوشش کی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو اس پر اتنا ہی زیادہ کھول دیا سورہَ قمر میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ”ترجمہ اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا تو کوئ ہے کہ سوچے سمجھے ” اب یہ ہم پر منحصرہے کہ ہم قرآن کو سمجھنے کی کس حد تک کوشش کرتے ہیں مختلف طریقہَ علاج کی دوا بے کار ہوجاتی ہیں لیکن مرض الموت نہ ہو تو قرآن کی آیات لازمی شفاء دیتی ہیں میں اس مسئلے میں اپنی کو تاہ علمی کا معترف ہوں لیکن اس علاج میں جو روشنی نظر آتی ہے اس سے یقین ہے کہ لوگوں کو لاعلاج امراض میں بھی قرآنی آیات سے فائدہ ہوتا ہے قرآن پاک کی ایک آیت سے واضح ہے کہ قرآن میں دنیا کی ہر شے کا ذکر موجود ہے گویا مرض کا ذکر بھی ہے اور اس کے علاج کا بھی امراض روحانی ہوں یا جسمانی سب آیات کے ورد سے دور ہوسکتے ہیں قرآن کے احکامات میں کھانے پینے کی اشیاء اور ممنوعہ چیزوں سے پرہیز کیا جائے تو بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے بیماری کی صورت میں متعلقہ واضح آیت کی تلاوت کرنے سے اگر مرض الموت نہیں تو انشاء اللہ شفا ضرور ہوگی ہمارے دوسرے چینل پیرا سائیکلوجی ودھ سامی میں علاج بالقرآن کی مکمل تفصیلات موجود ہیں
چینی طریقہَ علاج
چینی طریقہَ علاج سے زیادہ روایتی کسی دوسرے طریقہَ علاج میں نہیں یہ دوائیں کم و بیش 3 ہزار سال پرانی ہیں ان ادویات کا استعمال چین کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی کیا جاتا ہے ورلڈمیڈیسن نامی کتاب میں دنیا میں رائج تمام طریقہَ علاجوں میں اس طریقہَ علاج کی خاص طور پر تعریف کی گئ ہے
آیورویدک طریقہَ علاج
اس طریقہَ علاج میں انسان کی لمبی زندگی کا علم ہندووَں کے ایک دیوتا اندرا کے حوالے سے ہے ایوروک کے لغوی معنی یہ ہیں کہ وہ علم جس میں زندگی کی بقاء کے لئے مفید اور غیر مفید غذاوَں سے تشخیص و علاج کیا جائے یہ طریقہَ علاج جس کا تعلق جڑی بوٹیوں کے ساتھ ہندوستان میں پانچویں صدی قبل مسیح سے رائج ہے اس طریقہَ علاج کا انحصار خلطوں اور مزاح پر ہوتا ہے تین خلطوں میں دات ، پت اورکف کی کمی یا زیادتی سے امراض سر اٹھاتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی مماثلت طب یونانی ہی سے ہے
طب یونانی یا حکمت
طب یونانی ایک انتہائ قدیم طریقہَ علاج ہے طب کے عظیم محقیقین میں بقراط ، جالینوس اور ارسطو شامل ہیں طب یونانی کو انتہائ عروج عطا کرنے والوں میں جابربن حیان،ابن طبری، ابوالنصر فارابی، بوعلی سینا، وغیرہ کے نام معتبر اور انتہای اہم ہیں طب یونانی کے بنیادی اصولوں میں انسانی جسم میں چار خلطیں ہیں خون ،بلغم، سودا اور صفرا انہی کی کمی یا زیادتی سے بیشتر بیماریاں ظہور پذیر ہوتی ہیں قوت حیات ہی سے جسم حرکت کرتا ہے اور قوت امراض کی مدافعت کرتی ہے ہر دوا کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ قوت حیات کوامداد فراہم کرے مرض کی تشخیص کرنے میں چاروں خلطوں کی علامات کو سامنے رکھا جاتا ہے لیکن ادویات کا استعمال اصول نالضد کے تحت کیا جاتا ہی گویا قوت حیات کی اہمیت تو ہے لیکن عملاً اسے اس کا مقام نہیں دیا گیا اور تمام تر توجہ چاروں خلطوں پر ہی رہی اس پر غور ہی نہیں کیا جاتا کہ یہ چاروں اخلاط غیر منظم کیوں ہوتے ہیں قدیم طریقہَ علاج ہونے کے باوجود ظاہری اسباب مادیت کے گرد ہی گھومتا ہےجو بھی ہو حکمت بہر حال ایک کامیاب علاج تھا اور ہے
طب انگریزی یا ایلوپیتھی
اس طریقہَ علاج کا کوئ قدیم نام نہیں طب یونانی سے تعلق رکھنے والے حکماء تو اب بھی اسے طب یونانی کی ہی جدید شکل کہتے ہیں جدید ایلوپیتھی کی عمر 200 سال سے زیادہ نہیں اس طریقہ علاج میں بھی یونانی علاج کی طرح بالضد کے نضر یئے کو اپنایا گیا ہے ہومیو پیتھک ڈاکٹر سیموئیل ہنیمن ہی نے جو کہ پہلے ایلوپیتھک طریقہ علاج کے ماہر تھے اسے ایلوپیتھی کا نام دیا تاکہ ہومیوپیتھی سے تفریق کی جاسکے بہرحال یہ طریقہعلاج بالضد کے نام سے ساری دنیا میں رائج ہے ایلو پیتھک طریقہ علاج میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال سب سے زیادہ ہے اس طریقہ علاج میں خاصی تعداد میں ادویات موجود ہیں اور مہلک جراثیم ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں لیکن ابھی شاید ریسرج مکمل نہیں اکثروبیشتر دوائیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں ایک فائدہ دیتی ہوئی دوا نقصان دینا شروع کر دیتی ہے اور اسے مارکیٹ سے ہٹا دیا جاتا ہے یہ ضرور ہے کہ آلات اور جدید ترین لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے یہ جسم کے اندرونی نقائص تلاش کر لیتے ہیں
Natureo pathy نیچروپیتھی قدرتی طریقہ علاج
نیچروپیتھی کی تاریخ کوئی بہت زیادہ پرانی بات نہیں ہے صرف سوڈیڑھ سوسال پہلے کی بات ہے اس طریقہ علاج کورائج کرنے والے اور اسے فرغ دینے والے جرمنی کے ہی ایک ڈاکٹر لوئیس کو ہنی تھے جب وہ بیمار ہوئے اور تمام مروجہ طریقہ علاجوں سے فائدہ نہیں پاسکے تو اس نتیجے پو پہنچے کہ ہماری تہذیب و تمدن اور جملہ ادویات انسان کی صحت کے اصل دشمن ہیں لہٰذا ان سے چھٹکارا حاصل کر کے ہمیں فطرت کی طرف لوٹنا چاہیے اس فطری عمل کی حد بندی میں صحت کے اصول کو نیچروپیتھی کانام دیاگیا یعنی فطرت کے عین مطابق اور سادہ غزائیں ،پھل،کھلی دھوپ،اور ورزش ہی اصل صحت کے اصول ہیں جبکہ شراب ،تمباکو،گوشت، مصالحہ جات، کثرت جماع ، زیادہ دماغی محنت اور بے شمار ادویہ کا استعمال وہ غیرفطری اشیاء ہیں جو انسان کو مریض بنا دیتی ہیں فطری غذا کھانے پینے سےاور غیر فطری غذا سے پرہیز بغیردوا کے صحت کی ضمانت دیتے ہیں علاج بالماء کا طریقہ بھی ڈاکٹر لوئیس کوہنی نے ہی بتایاتھا
بائیوکیمک طریقہ علاج
اس طریقہ علاج کے موجد بھی جرمنی کے ایک ڈاکٹر شسلرہیں پہلے وہ ہومیوپیتھک معالج تھے بعد میں اپنے تجربات کے ذریعے انہوں نے ثابت کیا کہ انسان کے جسم میں بارہ نمکیات ہیں جن کے اعتدال میں ہونے سے جسم کا پورا نظام قائم رہتا ہے جب ان میں سے کوئی نمک کم یا زیادہ ہوجائے تو انسانی جسم کے اندر تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں ،وہی امرض کی مختلف شکلیں ہیں جس نمک کی کمی ہواس کی مقدار اگر مریض کو پہنچادی جائے تو مرض دور ہوجائے گا
Homeo Pahthy ہومیوپیتھی علاج
ہومیو پیتھی طریقہ علاج ڈاکٹر سیموئیل ہنیمن کی دریافت ہے ڈاکٹر ہنیمن نے ایلو پیتھک طریقہ علاج چھوڑ کر اپنے تجربات کی روشنی میں ایک نیا نظریہ پیش کیا جسے ہومیوپیتھی کے نام سے متعارف کرایا گیا یہ واحد طریقہ علاج ہے جس میں کوئی ابہام نہیں اس نظریئے کے مطابق انسان کے جسم میں قوت مافعت ہے جو باہر کے جراثیم یا مرض پیدا کرنے کے اسباب کا مقابلہ کرتی ہے قوت حیات ہی کی بدولت جسم میں حرکت ہے اور اعصاب کے ذریعے قوت حیات ہی کی حکمرانی ہے اس لئے قوت حیات کا مضبوط رہنا ضروری ہے آج ہر طریقے علاج والے اس بات پر متفق ہیں کہ جسم انسانی کی اصل حقیقت قوت حیات ہے اور یہی فلسفہ ہومیوپیتھی کی بنیاد ہے آئندہ لیکچر تک کیلئے اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہیے ہیں کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانیاں عطافرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Category : Homeopathy

Honeopathy With Sam
Lecture Number 4 General
Pathology تشخیص الامراض
! معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء طالبات السلام وعلیکم
میں خوش آمدید Homeopathy with Sami
ہمارا آج کا موضوع تشخیص الامراض ہےتشخیص الامراض میں امراض کی نوعیت اور اسباب پر بحث کی جاتی ہے پیتھا لوجی لفظی معنٰی مرض پر بحث کرنا ہے اسلئے علاج الامراض کے علم کو بھی پیتھالوجی میں شامل کیا جاسکتا ہے مگر عام طور پر اس سے مراد تشخیص الامراض یعٰنی مرض کا اچھی طرح سے پہچاننا لیا جا تا ہے ایک ڈاکٹر کے لئے جو کہ امراض سے نبردآزماہواس علم پر عبور ہونا لازم ہے مرض کیا ہے اس کی پہچان کیونکر ہوسکتی ہے ہومیوپیتھک نظریہ کے مطابق مرض کی پہچان علامات ہوتی ہے کیونکہ بغیر کسی علامت کے مرض کا وجود تقریباّّ نا ممکن ہے علامت کی بڑی بڑی تین اقسام ہیں
1 فاعلی علامات Subjective Symptoms
2 مفعولی علامات Objective Symptoms
3 دماغی علامات Mental Symptoms
فاعلی علامات:
فاعلی علامات وہ علامات ہے جن کا حساس مریض کو بخوبی ہوتامثلاّّ ناسوروغیرہ ناسور وغیرہ میں طبیب کو مرض کی تشخیص کرنے میں کوئی وقت پیش نہیں آتی خواہ مریض کے حواس ہوں یا بے ہوشی ہو مگر در ووغیرہ سے متعلق علامات کا علم اسی وقت ہوسکتا ہے جب مریض کے حواس بحال ہوں
مفعولی علامات:
یہ وہ علامات ہوتی ہیں جن کو طبیب معائنے کے ذریعے دیکھ سکتا ہے اس میں جسم کی حرارت،نبض،تنفس،جسم میں پیدا ہونے والے خراب مادے،جراثیم اور تمام نتائج شامل ہیں جو لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے دریافت کئے جاسکتے ہیں
دماغی علامات:
یہ وہ علامات ہیں جن کا تعلق صرف دماغی کیفیات سے ہوتاہے مسلاّّ غصہ، خوشی،غم،مایوسی،خوف،حیرت وغیرہ
یہ علامات فاعلی علامات کی ہی ایک قسم کہی جاتی ہے اور ادویہ کیلئے ان ولامات کا مطالعہ نہایت ضروری سمجھا جاتاہے ان تینوں قسم کی علامات کو تشخیص امراض کے لیکچروں میں ہر ایک مرض کے بارے میں علیحدہ علیحدہ بیان کیا جائے گا فلسفہ کی اکثر کتابوں میں روحانی امراض انکے اسباب اور ان کے علاج پر بحثیں کی گئی ہیں دور قدیم کے اطباء کا تویہ دستور رہا ہے کہ وہ طب جسمانی کے ساتھ ساتھ طب روحانی میں بھی خاصی مہارت حاصل کرتے تھے بلکہ فن تشخیص میں ان کے کمال کا سبب یہی فلسفہ ہے جسے آج کا طبیب یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتا ہے کہ طب کے ساتھ فلسفہ کی آمیزش کسی طور پر مناسب نہیں ہے یہ ایک قدیم رسم ہے جس کی آج کے دور میں پیروی کرنا جرم عظیم ہے میرے خیال میں وہ یہ نہیں سوچتا کہ میڈیکل سائنس کا نظری حصہ ہمیشہ فلسلے کامر ہون منت رہا ہے چنانچہ ہمیں اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ علم اخلاق سے واقف ہونا ایک طبیب کے لئے کس حد تک مفید ہے کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح بالکل واضح ہے کہ دورجدید کے اطباء اس سےلاعلمی اختیار کرنے کے باعث کس قدر پیچھےہیں
میرے اس لیکچر سے یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ جن ہومیوپیتھک ادویات کے خواص کو تندرست اشخاص پر آزمایا گیا ہے کہ وہ فلاں قسم کی دماغی علامات پیدا کرتی ہیں کیا وہ ایسی دماغی علامات کو دورنہیں کریں کی دماغی علامات کو ہم اس وقت روحانی امراض کہیں گے جب یہ امراض کسی مریض میں مستقل طور پر پائے جانے لگیں اور اگران کا وجودعارضی ہو مثلاّّ کسی فاسد غذا کے استعمال یاکسی جسمانی مرض کے سبب خوف وپریشانی طاری ہوتو اس فاسد اثر کے زائل ہونے یا اس جسمانی مرض سے صحت پانے پر یہ علامات خودبخود دور ہوجائیں گی میری مرادان امراض سے ہے جنہیں میں آگے چل کر طب روحآنی کے عنوان کے تحت بیان کروں گا آئندہ لیکچر تک کیلئے اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمیں


Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 6 General
Spiritualism طب روحانی
! معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام وعلیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
ہمارا آج کا لیکچر طب رو حانی سے متعلق ہے یہ وہ لیکچر ہے جو میرے مرحوم والد صاحب کی ڈائری میں درج نوٹس کی مدد سے میں نے تیار کیا ہے اس میں اردو کا فی ہے جس کے لئے معزرت خواہ ہوں میں نے اپنے طور پر پوری کو شش کی ہے آسان الفاظ میں تمام لیکچر کو تحریر کر سکوں پھر بھی اگر کوئی بات سمجھ نہیں آئے تو مجھ سے رابطہ کیا جاسکتا ہے اب ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں ہمارا آج کا موضوع ہے طب روحانی ،لیکن اس سے پہلے کہ ہم طب روحانی پر بات کریں پہلے یہ جان لیں کہ روح کیا ہے یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کی تلاش ازل سے انسان کررہا ہے اور یہ تلاش آج بھی جاری ہے روح کی حقیقت انسان سے پوشیدہ رکھی گئی ہے بڑے بڑے حکیم اور فلسفے کی ماہراس کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں بعض فلاسفر نے اسے خون اور ہوا کی آمیزش سمجھا بعض نے اسے جسم کے اندر قرار دیا اور کسی نے روح کو جسم کا محل قرار دیا
امام غزالی رح نے ان سب کی نفی کی اور فرمایا کہ روح نہ جسم کا محل ہے نہ جسم کے اندر ہے اور نہ باہر بعض نے روح اور جسم مثال یوں دی ہے کہ روح جسم میں اس طرح ہے جسے کوئلے میں آگ بہر حال میں اس تمام بحث کو سمیٹتے ہوئے صرف اس قرآنی آیت پر اکتفا کر تا ہوں ترجمہ اے محمد صہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دیجئے کہ روح امرربی ہے
روح کچھ بھی ہو اس کے وجود اور مظاہر سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا مظاہر احساسات ، خواہشات اور حافظہ وغیرہ کو کہتے ہیں قدیم فلسفیوں نے ان مظاہر کو ایک سادہ وجود نفس شخصی سے منسوب کر کے اس کی قوتوں اور استعدادوں کے مظاہر قراردیا ہے مثال کے طور پر نفس سے کبھی قوت حافظہ کا اظہار ہوتا ہے اور کبھی قوت استدلال کا ، کبھی خواہش کا ہم صرف ایک اور آسان طریقہ اختیار کرینگے وہ یہ کہ نفس انسانی کی دو قوتیں ہیں قوت ادراک جو اشیاء کی حقیقت کو معلوم کرتی ہے قوت تحریک جو اعضاء بدن کو افعال پر ابھارتے ہیں پھر ان دونوں قسموں کی مزید دو دو قسمیں ہیں قوت ادراک کی عقل نظری اور عقل عملی اور قوت تحریک کی قوت غضبی اور قوت شہوی اقسام ہیں
عقل نظری نفس کی وہ قوت ہے جو کائنات سے عملی صورتوں کو قبول کرتی ہے اور قوت 1 کی تہذیب کسی قوت کے اعتدال سے کام کرنے کا نام تہذیب ہے سے حکمت پیدا ہوتی ہے
عقل عملی نفس کی اس قوت کو کہتے ہیں جو غور فکر کے بعد بدن کو کا موں کے لئے 2 حرکت دینے کا موجب بنتی ہے اس قوت کی تہذیب کا نام عدالت ہے
قوت کو غضبی نفس کی اس قوت کو کہتے ہیں جو نا ملائم امورکو غلبہ کے طور پر دور 3 کرتی ہے اس کی تہذیب شجاعت کہلاتی ہے
مندرجہ بالا چاروں فضیلتیں حکمت، عدالت ، شجاعت اور عفت فضائل اربعہ کے نام سے مشہور ہیں اور ان چاروں کا اکتساب نفس کی صحت ہے ان فجائل سے انحراف ہمیں رذائل کی طرف لے جاتاہے جو روحانی امراض کا باعث بنتے ہیں پر ایک قوت میں اعتدال سے انحراف افرط کی طرف ہوگا یا تقریط کی طرف اس لئے ہر فضیلت کے مقابلہ میں دو رذالتیں ہوئیں اور کل رذالتیں آٹھ ہیں 1 سفر 2 ملبہ 3 ظلم 4 انظلام 5 تہور 6 جبن 7 شرہ 8 خمود
سفر عقل نظری یا قوت نظری کا غیر ضروری کاموں میں لگانے یا ضروری کاموں میں حداعتدال سے زیادہ خرچ کرنا ہے
ملبہ عقل نظری یا قوت نظری کا ضروری کا موں میں کم خرچ کرنا یا بالکل خرچ نہ کرنا ہے
ظلم دوسرے کے مال پر زبردستی قبضہ کرنا ہے اور یہ قوت عملی عقل عملی کی افراط ہے
انظلام مظالم کو ظلم پر قادر کرنا ، یہ قوت عملی کی تفریط ہے
تہور ان خطرناک کاموں میں بلاخوف و خطر ہاتھ ڈالنا جنہیں عقل مستحسن نہ سمجھے یہ قوت غضبی کی افراط ہے
جبن ایسے معمولی کاموں سے ڈرنا نہ چاہئے یہ قوت غضبی کی تفریط ہے
شرہ نفس کا اعتدال سے زیادہ شہوت کی مائل ہونا یہ قوت شہوی کی افراط ہے
خمود نفس کا اراتاٌ جا ئرلزت سے باز رہنا یہ قوت شہوی کی تفریط ہے
ان رذائل کو اختیار کرنے سے جو روحانی امرض پیدا ہوتے اگلے لیکچروں میں بیان کرونگا آئندہ لیکچر تک کیلئے اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیا ں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 7 General
روحانی یا نفسیا تی امراض اور ان کا علاج
فلسفہ اخلاق کی کتابوں میں قوت نظری اور قوت عملی کے امراض علیحدہ علیحدہ نہیں بتائے گئے بلکہ دونوں قوتوں کے امراض مشترکہ طور پر بتائے گئے ہیں ان امراض کو قوت ناطقہ اور قوت تمیز کے امراض کہاجاتاہے بعض حکماء نے قوائے انسانی چارکے بجائے تین بتائے ہیں اول،قوت تمیز،دوئم،قوت غضبی اور سوئم قوت شہوی اسلئے تمام امراض تینوں قویٰ سے منسوب کئے جاتے ہیں گوکہ نفسیاتی امراض تو بہت ہیں مگر میں یہاں چند بڑے امراض کاذکر کروںگا
قوت تمیز کی امراض
حیرت : اس میں انسان کسی چیز کے بارے میں صحیح اور غلط کا فیصلہ نہیں کرپاتا اس کی وجہ قوت تمیز کا ضروری امور میں حد سے زیادہ لگائے رکھناہے اس کے علاج کے لئے مریض کو اس بات کا احساس کرانا چاہیے کہ دو متضاد چیزوں کا یکجا ہونا محال ہے اسلئے مسئلے کے استدلال پر نظر ڈال کر صحیح اور غلط میں تمیز کرے اور فیصلہ کرنے کے بعد ہر قسم کے شک و شہبے سے دور رہے
جہل بسیط : یہ مرض قوت تمیز کو ضروری کاموں میں خرچ کرنے یابالکل نہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے اس میں علم کا فقدان ہوتا ہے مگر مریض اپنے آپ کو عالم تصور نہیں کرتا جہل بسیط کا مریض جاہل کہلاتا ہے زمانہ تعلیم میں یہ مرض اتنا برانہیں مگر ہمیشہ کیلئے نہایت مضر ہوتا ہے جاہل کو عالموں،فاصلوں کی مجلسوں میں جانا چاہیئے اور اپنے متعلق سوچنا چاہیے اگر میں بھی عالم ہوتا تو کیا ہی اچھا ہوتا
جہل مرکب : یہ قوت تمیز کی خرابی سے پیدا ہوتا ہے مثلا مریض اپنی قوت تمیز کو ایسے علم کے حصول کیلئے استعمال کرتا ہے جوحقیقت سے کوسوں دور ہوجسے شعبدہ بازی وغیرہ جہل مرکب نہایت خطرناک مرض ہے اس کی علامت یہ ہیں مریض لاعلم ہونے کے باوجود اپنے آپ کوعالم سمجھتا ہے اس کے مریض کو احمق کہتے ہیں کیونکہ مریض کو اپنے مرض کا احساس نہیں ہوتا اسلئے وہ اس علاج کی کوشش بھی نہیں کرتا
قوت غضبی کے امراض : یہ بڑا خطرناک مرض ہے اس کا اثر جسم کے اعضاء پر نمایاں طور پر ہوتا ہے چنانچہ غضب کے وقت چہرہ اور آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں اس کا سبب قوت غضبی کی افراط ہے مریض کی خواہش ہوتی ہے کہ مغضوب پر غلبہ حاصل کرے
اس تحریک کا باعث مندرجہ ذیل اسباب ہوتے ہیں
عجب خودبینی، افتخار فخر کرنا، مراء ولجاج لڑائی جھگڑا کرنا ، مزاح مذاق کرنا، تکبر ، عزر بیوفائی یا خیانت ، ضیم نقصان کرنا ، مناسفت نفیس چیزوں کی طرف زیادہ رغبت کرنا
عجب : اگر غضب کا باعث ہو تو مریض کو اپنے عیوب پور نظر ڈالنی چاہیے عجب اپنے متعلق ایسے کمال کا اعتقاد رکھنے کو کہیں گے جو حقیقت میں موجود نہ ہوں
افتخار : افتخار کے اسباب ہیں مال جمال نسب اور کسب مریض کو یہ بات سمجھی چاہیے کہ مال اور جمال ہمیشہ رہنے والی چیزیں نہیں ہیں نسب کی بابت یہ سوچنا چاہیے کہ جب تک وہ خود اپنی ذات میں کوئی خوبی پیدا نہیں کرے گا تو اس صورت میں خاندانی فضیلت ہمیشہ بے سود ثابت ہوگی اور اگر کسب جاہ جلال اور مرتبہ کے سبب اگر اپنے آپ پر فخر پے تو یہ بھی کوئی ہمیشہ رہنے والی چیزیں نہیں ہیں کیونکہ عزت صرف مرتبہ کی وجہ سے ہے اسلئے جب یہ مرتبہ نہیں ہواتو پھر عزت بھی نہیں رہے گی لٰہذا فخر کا مستحق اپنے آپ کو نہیں بلکہ صرف اپنے مرتبے کو سمجھنا چاہئے اس طرح افتخار کے ان اسباب کو دور کرنے سے پہلے افتخار اور پھر غضب کا خودبخود علاج ہوجائے گا
مراء ولجاج : لڑائی جھگڑا اگر غضب کا سبب لڑائی جھگڑا ہے تو ان خرابیوں سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہیے جو فساد پیدا کریں
مزاح : اعتدال میں محمود ہے اس کی افراط تمسخر کہلاتی ہے اعتدال زیادہ تمسخر کر نے سے انسان دوسروں کی نظروں میں ذلیل ہوجاتا ہے اور پھر تفریط سے چڑچڑ اہٹ پیدا ہو تی ہے نتیجناٌ انسان ہر وقت مغموم رہتا ہے اور یہ صورتحال انسان میں بیماریوں کا باعچ بنتی ہے اس لئے انسان کو مزاح میں اعتدال برتناچاہئے
تکبر : دوسروں کے سامنے اپنے کمال کا دعویٰ کرنا اگرچہ خود اس کا اعتقاد نہ ہو تکبر کے زمرے میں آتا ہے حضرت علیْ فرماتے ہیں کہ انسان کو تکبر کس طرح زیبا ہوسکتا ہے کہ اول کثیف نطفہ ہوتا ہے اور آخر میں بدبودار مردہ اور درمیان میں بدبودار نجاست کو اٹھائے پھرتا ہے لٰہذ تکبر کر نے والے کے حصے میں ذلت ہی آتی ہے اس لئے اس عمل سے بچنا چاہئے
عذر: بے وفائی یا خیانت ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ بے وفائی اور خیانت کے نتائج ندامت اور خجالت کی صورت میں لازمی ملتے ہیں نتیجتاٌ انسان کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ جاتی ہے
ضیم : نقصان کرنا کسی کو بھی اس کے معمولی سے جرم پر بڑی بڑی سزائیں دینے کی شریعت میں کی جگہ جگہ مذمت کی گئ ہے کیونکہ انتقام برابر کا ہونا چاہئے لٰہذا معاف کر دینا ہی زیادہ بہتر ہے
مناسفت : نفیس چیزوں کی طرف زیادہ راغب ہونا نفیس چیزوں کے کھوجانے سے جورنج ہوتا ہے وہ ان کے حصول کی ضوشی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اس لئے ان سے پرہیز ہی کرنا چاہیے
غضب کے ان اسباب کے علاوہ اس کے لواحق کو مد نظر رکھتے ہوئے حتی الوسعٰ اس سے اجتناب کرنا چاہئے غضب کے لواحق ندامت ، دوستوں کا دشمن بن جانادشمنوں کا خوش ہونا وغیرہ وغیرہ ہیں
قوت غضبی کا دوسرا مرض بزدلی ہے یہ تفریط سے پیدا ہوتا ہے نیز بے جاراحت ،ناجائز طمع اور ظالم کو ظلم پر قدرت دینے سے یہ مرض لاحق ہوجاتا ہے اس کا بہتر علاج ہے کہ مریض غضب کو اختیار کرے بزدلی کے علاج کیلئے غضب کو اختیار کرنا مزموم نہیں ہے
خوف : یہ بزدلی کی کیفیت سے پیدا ہوتا ہے انسان اپنی زندگی میں کبھی کچھ ایسے جام کر بیٹھتا ہے جن کا نتیجہ برا ہوتا ہے ،اس کا علاج یہ ہےکہ اپنی بداعمالی سے توبہ کرے اور جو فعل سرز د ہوگیا ہے اس کے برے نتیجہ کا خیال چھوڑ دے کیونکہ جو نتیجہ ظاہر ہونا ہے اس کے خیال سے ٹلنے کا نہیں ،اگر اس کا ہونا یقینی نہیں تو بے جا خوف سے اپنے ہی جسم اور جان کوروگ لگائے گا
قوت شہوی کے امراض : افراط شہوت،یہ مرض قوت شہوی کے استعمال کے باعث ہوتا افراط شہوت دو طرح سے ہوتی ہے کھانے ہینے کی چیزوں میں ، شہوت رانی میں علاج اگر مریض کو طرح طر‌ح کی غذائوں کے کھانے کا ہر وقت شوق رہتا ہے تو اسے بیماری کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے مریض پر شہوت کا غلبہ ہے تو اسے نکاح کرنا چاہئے مگر شادی میں بھی شہوت کو اعتدال میں رہ کر ہی خرچ کرنا چاہئے ورنہ جسم کی کمزوری اور عقل کا فساد پیدا ہونا لازمی ہوتا ہے
بطالت : اس کی علامت ترک شہوت اور جائز لذات سے بھاگنا ہے شہوت کے اعتدال سے کم یا بالکل خرچ نہ کرنے سے یہ مرض لاحق ہوتا ہے جائز خواہشات پیدا کرنی چاہئے
حسد : حسد کا مرض قوت شہوت کی کیفیت کے بگڑے سے پیدا ہے اس میں مریض دوسروں کے زوال کا طالب ہوتا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ اہل مرتبت کو دیکھ کر جلنا نہیں چاہئے بلکہ ان کے مرتبے کے زوال کی خواہش کے بغیر ہی ان تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے
حزن : قوت شہوی کے بے موقع اور بے جا استعمال سے یہ مرض لاحق ہوتا ہے نیز مال و جان کی بے حد محب بھی اس مرض کا باعث بنتی ہے اس کا علاج یہ کہ شہوت کا جائز استعمال کرے اور دل ودماغ سے مال و جان کی زیادہ محب کو ختم کر دے
عشق : شہوت کے امراض کی ایک قسم عشق کو بھی کہا جاتا ہے عشق یہ ہے کہ مطلوب کی طلب میں اپنی تمام تر قوت کو مصروف کا ررکھا جائے عشق کی دو اقسام ہیں عشق الٰہی ، عشق نفسانی
عشق بہیمی : بہیم چوپائے کو کہتے ہیں اس عشق میں شہوت رانی کا دخل ہوتا ہے نفس کثافت کی طرف راغب رہتا ہے مریض کا جسم گھل کر لاغر ہوجا تا ہے عقل میں فتور پیدا ہوتا ہے اس کے علاج کے طور پر مریض کے خیالات کو اس سمت سے پھیر کر دقیق امور میں مشغول کرنا چاہئے
عشق نفسانی : عشق کی یہ قسم محمور مانی گئی اگر کوئی شخص حسن سے ایسا لطف حاصل کرے جسے سبزہ یا آب رواں وغیرہ کےدیکھنے سے ہو تو یہ عشق نفسانی کہلائے گا اس سے روح کو لطافت حاصل ہوتی ہے عشق نفسانی میں نفس حرکات و سکنات و کلمات گفتار طرف مائل ہوتا ہے چند ایک روحانی مرض مختصر طور پر بیان کر دیئے گئے ہیں مریض کا علاج کرتے وقت طبیب کو ان کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہوان کا علاج روحانی طریقے سے ہی کرے روحانی امراض یا دماغی علامات کا اثر ہمارے بدن کے نظام پر بھی پڑتا ہے اور خوف و ہر اس یا دماغی فعلیت کے وقت خون کا دورہ سر کی طرف تیز ہوجاتا ہے علاوہ ازیں سائنس نے یہ بھی چابت کر دیا ہے کہ جذبات اور احساسات کا اثر معدہ پر بہت زیادہ پڑتا ہے تحقیقات بتاتی ہیں کہ جس وقت شرم وحیا سے انسان کے چہرے پر سرخی آتی ہے تو معدہ کا رنگ بھی سرخ ہوجاتا ہے فکرو تشویش کے سبب معدہ کا فعل بہت تیز ہوجاتاہے اس سے زخم معدہ اور ہاضمہ کی بہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیں غم واند وہ کی حالت میں معدے کی رطوبت کی پیدائش میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور غذا اچھی طرح ہضم ہو کر جزو بدن نہیں بنتی جبکہ غصہ اور تشویش کے باعث یہ رطوبت معدہ بہت زیادہ پیدا ہو جاتی ہے جو ترش ہونے کے باعث معدہ کی جھلی پر خراش پیدا کرتی ہے ہمارے آج کے اس تمام لیکچر کا حآصل یہ بتانا ہے کہ ایک اچھے طبیب کو جسمانی امراض کے ساتھ ساتھ روحانی امراض کے علاج کا بھی ماہر ہونا چاہیے آئندہ لیکچر تک کیلئے اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF