Category : Homeopathy

بسم اللہ الحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 10 General information of Homeopathy
!معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
Homeopathy With Sami میں خوش آمدید
ہومیو پیتھی ایک ایسا طریقہ علاج ہے جو ڈھائ سو سالوں سے استعمال ہو رہا ہے جو ”مثل کا علاج بالمثل سے کیجئے” کے صول پر عمل کرتا ہے یعنی بیماری کا علاج ایسے مادے سے کیا جاتا ہے جو صحت مند افراد میں اسی طرح کی علامات پیدا کرتا ہے چونکہ ہومیوپیتھک ادویات بہت قلیل مقدار میں استعمال کرائ جاتی ہیں اس لئے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کوئ مضر اثرات پیدا نہیں کرتیں
ہومیوپیتھک معالج کیا چاہتا ہے؟2
ایک ہومیوپیتھ صرف آپ کی بیماری کے بارے میں نہیں پوچھے گا بلکہ یہ بھی پوچھے گا کہ آپ اپنے اردگرد موجود عوامل سے کس طرح متاثر ہوتے ہیں جیسے کہ درجہ حرارت اور موسم ،کس قسم کی غذا کھانا پسند یا نا پسند کرتے ہیں ،آپ کا مزاج اور احساسات اس کے ساتھ ساتھ آپ کی پورس میڈیکل ہسٹری جوکہ آپ کی بیماری کی پوری تصویر ایک فرد کے طور پر نمایاں کرتی ہے یہ سب آپ کی موجودہ علامات کے ساتھ مل کر درست دوا تجویز کرنے اور دوا کی درست طاقت منتخب کرنے میں مدد گار ہوتے ہیں جب کہ ایلوپیتھک میڈیکل پریکٹس میں مختلف افراد جو ایک جیسی صورتحال یا بیماری میں مبتلا ہوں انہیں ایک ہی دوا دی جاتی ہے
ہر انفرادی شخص ماحول سے مختلف چیزوں کو حاصل کرتا ہے اور مختلف عوامل کے 3 تحت مختلف رد عمل ظاہر کرتا ہے ہومیوپیتھی میں دوا کے انتخاب کے لئے اس بات کو مانا جاتا ہے اور اسی کے تحت دوا استعمال کرائ جاتی ہے کوئ شخص نئے گھر میں،نئے خاندان میں یا کام کی جگہ یا کسی نئے ماحول میں جاتا ہے تو وہاں کے ماحول میں اس کا رد عمل کیا ہوتا ہے اس کے ماضی اور حال کے تجربات اور اس کی عمومی ذہنی کیفیت یہ تمام عوامل مریض کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور اس کے علاج میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں
ہومیوپیتھی کے تحت دماغ اور جسم کے درمیان بہت گہرا رابطہ ہوتا ہے جسمانی بیماریوں کوکو سمجھے بغیر متاثر کن شفاء نہیں دی Constitution مریض کے کردار اور اس کے کے معنی ایک فرد کی صحت مندانہ حالت ہے جس میں constitution جاسکتی ہومیوپیتھی اس کا مزاج اور کسی بھی قسم کے وراثتی رحجان اور اس اے حاصل کردہ خصوصیات ہیں Constitution ہومیوپیتھی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اگر آپ کا صحت مند ہے تو آپ کسی انفیکشن سے زیر نہیں ہونگے مثلاً بیکٹریا اور وائرس سے آپ کی حساسیت کم ہوتو وہ آپ پر اثر انداز نہیں ہوسکتے یہ ہومیوپیتھی اور ایلوپیتھی کے درمیان بنیادی فرق ہے ایلوپیتھس اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فرد انفیکشن ( بیکٹریا اور وائرس ) کی وجہ سے بیمار ہوتا ہے اس لئے ان کے علاج کا مقصد انفیکشن کو ختم کرنا ہوتا ہے اس لئے وہ بہت طاقتور ادویات استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے فرد کی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے اور مریض مزید کمزور ہوجاتا ہے اور بار بار بیمار رہنے لگتا ہے ہومیوپیتھ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ پہلے آپ کا حساس یا کمزور ہو جاتا ہے اور پھر آپ انفیکشن کو قبول کرلیتے ہیں بیکٹریا اور وائرس بیماری کا سبب نہیں ہوتے بلکہ بیماری کا نتیجہ ہوتے ہیں بیکٹریا اور وائرس ہر جگہ موجود ہوتے ہیں وہ اس وقت تک آپ پر اثر انداز نہیں ہوتے جب تک آپ کی قوت مدافعت طاقتور ہوتی ہے
ایلوپیتھی کے بر خلاف، ہومیوپیتھی ایک انفرادی شخص کے ریڈی میڈ سوٹ کے بجائے ٹیلر میڈ سوٹ کی طرح ہے اس لئے ہومیوپیتھک دوا مختلف افراد کو خواہ وہ ایک ہی بیماری مبتلا ہوں ایک جیسی دوا تجویز نہیں کرتی ایک دوا عمومی جسمانی بے قاعدگیوں کے لئے تجویز کی جاسکتی ہے اور دوسری اسی وقت خاص اور حادعلامات کے تحت استعمال کرائ جاسکتی ہے اگر دوسری نشت پر دوا مریض کی حالت کے پیش نظر تبدیل کی جاسکتی ہے
دوا کی پوٹینسی تجویز کرنا دوا تجویز کرنے کی طرح ایک اہم کام ہے تجویز کردہ دوا کی طاقت کا انتخاب کرتے ہوئے مختلف عوامل کو مد نظر رکھا جاتا ہے مریض کی حالت مریض کی قوت،مریض کی عمر اور اس کا ماحول ،نا صرف مناسب دوا کا استعمال اہم ہے بلکہ انفرادی شخص کے حوالے سے دوا کی طاقت کا انتخاب بھی اہم ہے
عموماً درست طور پر منتخب کی ہوئ ہومیوپیتھک دوا لینے کے بعد مریض جسمانی ،ذہنی اور جذباتی غرض ہرطرح سے اپنے آپ کو بہتر محسوس کرتا ہے بعض اوقات ہومیوپیتھک دوا لینے کے بعد مریض کی علامات معمولی سی بڑھ سکتی ہیں یہ اچھی علامت ہے کیونکہ جسم کی قدرتی صحت مندانہ توانائیاں بیماری کو باہر نکالنے کے لئے بیدار ہوجاتی ہیں اور اس کے بعد علامات ختم ہونے لگتی ہیں کیونکہ آپ صحت مند ہوجاتے ہیں
عمومی طور پر لوگوں میں یہ غلط فہمی پائ جاتی ہے کہ ہومیوپیتھی پہلے بیماری کو بڑھاتی ہے اور پھر اس میں افاقہ ہوتا ہے یہ مفروضہ ہے یہ تمام کیسز میں ہمیشہ نہیں ہوتا اگر متخب شدہ دوا مریض کی ضرورت کے مطابق ہو لیکن اگر مریض کی ضرورت سے زائد دفعہ دوا کو دوہرایا جائے تو اکثر علامات بڑھ جاتی ہیں لیکن جیسے ہی دوا کا استعمال روکا جاتا ہے یہ علامات خودبخود ختم ہوجاتی ہیں اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ بیماری بڑھ گئ ہے
ہومیوپیتھک ادویات کیسے لی جائیں ؟یہ جاننا ہر اس شخص کے لئے ضروری ہے جو ہومیوپیتھک علاج کرارہا ہو دوا لینے سے آدھا گھنٹا پہلے یا بعد میں کوئ چیز نہیں رکھیں کیونکہ ہومیوپیتھک ادویات جلد کی اندرونی تہہ میں جذب ہوتی ہے کہ جب ہومہوپیتھک ادویات لی جائیں تو کافی اور پودینہ جیسے تیز مادوں سے مکمل پرہیز کیا جائے کیونکہ یہ منتخب شدہ دوا کے اثر کو زائل کرسکتی ہیں گھر میں استعمال ہونے والے تیز کلیز اور دوسرے کیمیائ مادے حقیقتاً جسم پر زہریلے اثرات مرتب کرتے ہیں
ہومیوپیتھک ادویات کو ہاتھ لگانے سے ان کا اثر ختم ہوجاتا ہے اس لئے دوا کو ہاتھ لگانے سے گریز کرنا چاہیئے بہتر طریقہ یہ کہ گولیوں کو ڈھکن میں ڈال کر براہ راست منہ میں ڈال دیا جائے اگر گولیا گرجائیں یا چھوٹ جائیں تو دوبارہ بوتل میں نہ ڈالیں ورنہ آپ کی دوا اپنا اثر کھودے گی ادویات کو تیز روشنی نیز حرارت یا تبدیل ہونے والے درجہ حرارت اور تیز بو سے دور اور محفوظ رکھنا چاہیئے
اکثر لوگ معلوم کرتے ہیں کہ کیا ہومیوپیتھک ادویات،ایلوپیتھک ادویات کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہیں؟اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ ہومیوپیتھک ادویات دوسری ایلوپیتھک ادویات کے ساتھ جیسے بلڈپریشر کی ادویات،ذیابطیس کی ادویات کے ساتھ باحفاظت استعمال کرائ جاسکتی ہیں آپ کی روز مرہ کی ایلوپیتھک ادویات کچھ وقت تک نہیں روکی جاتیں آپ کا ہومیوپیتھک ڈاکٹر آپ کی دوسری ادویات کو کم کرسکتا ہے جب آپ ہومیوپیتھک دوا کے اثر سے بہتر ہونے لگیں
MD اپنے وقت کے جرمن ایلوپیتھک ڈاکٹرہومیوپیتھی کے بانی ڈاکٹر سیموئیل،کرسچن مین تھے وہ اپنے پیشے سے دل برداشتہ ہوگئے تھے انہوں نے ایلوپیتھک میڈیسن سے اپنا کیریئر چھوڑ کر متبادل علاج کی ریسرچ شروع کی انہوں نے اپنے مریضوں کا علاج مثل کا علاج بالمثل سے کیجئے کے اصول پر شروع کیا انہوں نے اپنے نئے نظام علاج کا نام ہومیوپیتھی رکھا جوکہ ایک لفظ ہے ہومیو کا مطلب ” بالمثل اور پیتھوز” کا مطلب بیماری ہے پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 5 سالہ ڈگری کورس کا اجزاء کیا ہے اس کے علاوہ چارسالہ کورس بھی رائج ہے اس کے امتحانات نیشنل کونسل فارہومیوپیتھی پاکستان لیتی ہے یہ کورس کرنے کے بعد میڈیل پریکٹس کرنے کی اجازت ہوتی ہے
پاکستان کے تین صوبوں میں ہومیوپیتھک ڈائریکٹریٹ قائم ہیں جن میں صوبہ سندھ ،صوبہ خیبر اور پنجاب شامل ہیں کراچی میں ایک ہومیوپیتھک ہسپتال قائم ہے جہاں ڈاکٹرز کو گریڈ 17 دیا جاتا ہے
کیا ہومیوپیتھک ادویات آہستہ آہستہ اثر کرتی ہیں؟ہومیوپیتھی آہستہ اثر کرتی یہ مفروضہ مشہور ہے کہ کیونکر اکثر افراد ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے پاس پرانے امراض کی لمبی ہسٹری لے کر آتے ہیں اس لئے علاج میں وقت لگتا ہے ان بیماریوں میں ہومیوپیتھی ایلوپیتھی کے مقابلے میں بہت بہترین متبادل ہے اور اسی وجہ سے یہ تصور ہوتا ہے کہ ہومیوپیتھی آہستہ اثر کرتی ہے حقیقتاً حاد امراض میں ہومیوپیتھی تیز اور بہتر کام کرتی ہے
ہومیوپیتھک ادویات کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں؟ ہومیوپیتھک ادویات سے اثر پزیری اور13 قوت آگہی پوری دنیا میں ڈھائ سو سالوں کے کامیاب استعمال کے بعد ثابت ہوچکا ہے ایک بہترین اور بعض اوقات مختلف بیماریوں میں متبادل ہوتا ہے ہومیوپیتھی قابل علاج مرض کو شفایاب کرتا ہے اور لاعلاج مریض میں عارضی افاقہ دیتی ہے ہومیوپیتھی ناصرف ایک تھراپی ہے جوکہ ھاد اور مزمن امراض میں متاثر کن سفاء دیتی ہے بلکہ یہ مدافعتی نظام کو متحرک کرتی ہے اور مریض کی بناوٹ،طبعیت اور مزاج کو متوازن کرتی ہے
ہومیوپیتھی میں دی گئ سفید گولیاں‌کس طرح مؤثر ہوسکتی ہیں؟ ہماری اکثر ادویات 14 الکوحل میں تیار کی جاتی ہیں شوگر کی سفید گولیاں جسم میں دوا پہنچانے کا صرف ایک ذریعہ یا ہیں یہ شبہ ان لوگوں میں پایا جاتا ہے جو پہلی مرتبہ ہومیوپیتھک دوا کا استعمال کرتے ہیں مائع حال میں ادویات ہوتی ہیں جوکہ مریض پر اثر انداز ہوتی ہیں
کیا ہومیوپیتھک ادویات کوئ ضررساں اثر پیدا کرتی ہیں ؟نہیں! ہومیوپیتھک ادویات کوئ 15 ضررساں اثر پیدا نہیں رکھتیں کیونکہ وہ قلیل مقدار میں استعمال کرائ جاتی ہیں اور جسم پر کوئ کیمیائ یا مکینیکل اثر نہیں کرتیں دوا کے سائیڈ ایفیکٹ کی اصطلاح جدید فارماسیوٹیکل سے آئ ہے یہ ادویات جسم کے ایک حصے پر اثر انداز ہوتی ہیں جیسے کہ دل اور شریانوں کا نظام،آنت،گردے،وغیرہ حالانکہ یہ عمل کا ابتدائ حصہ ہیں لیکن جسم کے دوسرے حصوں کو بھی متاثر کرتی ہیں اگر یہ دوسرے اثرات غیر ضروری ہوں تو یہ ہے ہومیوپیتھک ادویات کسی ایک مخصوص حصے،عضو کے خلاف استعمال نہیں کی جاتیں ہومیوپیتھک دوا ممکنہ حد تک مریض کی مجموعی علامات سے قریبی مماثلت کی بنیاد پر تجویز کی جاتی ہیں ضرررساں اثرات جیسے ٹشوز کی تباہی ہومیوپیتھی میں نہیں ہے
ہومیوپیتھک ادویات کس طرح بنتی ہیں؟16
ہومیوپیتھک ادویات مختلف قسم کے قدرتی اجزاء سے حاصل کی جاتی ہیں اور حکومت سے تصدیق شدہ لیبارٹریز میں مکمل طور پر قائم رکھتے ہوئے تیار کی جاتی ہیں یہ گولیوں اور مائع شکل میں استعمال کرائ جاسکتی ہیں اور مختلف لیکن بہت ہی میں دستیاب ہوتی ہیں جو پوٹینسی کہلاتی ہے
ہومیوپیتھک ادویات کی میعاد کیا ہے؟اگر درست طریقہ سے ذخیرہ کی جائیں تو 17 ہومیوپیتھک ادویات سالوں معیاد میں خرابی کے بغیر استعمال کی جاسکتی ہیں ذخیرہ کرنے کی رہنمائ ادویات کمرے کے درجہ حرارت پر اچھی ڈھکن بند کرکے ٹھنڈی،خشک جگہ،مٹی سے محفوظ ماحول میں براہ راست سورج کی روشنی سے بچا کر رکھی جائیں
کیا ہومیوپیتھی بچوں اور حاملہ خواتین کے لئے محفوظ ہے؟ جی ہاں ! ہومیو پیتھی بچوں 18 کے لئے مکمل محفوظ ہے اور حاملہ خواتین کو بھی با حفاظت استعمال کرائ جاسکتی ہیں
19 کیا ذیابطیس کے مریض میٹھی گولیاں جو ہومیوپیتھی میں دی جاسکتی ہیں کھاسکتے ہیں؟ہومیوادویات میں بھی استعمال کرائ جاسکتی ہیں (تو اس طرح گولیوں سے بچا جاسکتا ہے)
کیا ہومیو ادویات ایمرجنسی میں استعمال کرائ جاسکتی ہیں اور یہ تیزی سے اثر کرتی 20 ہیں؟ جی ہاں ! ہومیوپیتھی ایمرجنسی اور حاد حالتوں میں مؤثر فائدہ مند ہے درست دوا اور درست پوٹینسی اور درست مقدار ھاد اور مزین امراض میں حیرت انگیز اثر کرتی ہیں
ہومیوپیتھی کے ساتھ دوسری کونسی ایسی چیزیں ہیں جو صحت کو جلد قائم کرتی ہیں ؟ 21 تمام ہومیو ادویات کے ساتھ توازن غذا،یوگا،تناؤ سے پاک ماحول اور جذباتی اور ذہنی حالت جو جسم کے نظام کو متوازن کرتی ہیں
22 وہ کونسے بگاڑ ہیں جن میں ہومیوپیتھی فائدہ مند ہے؟ عموماً یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ہومیو پیتھی صرف مزمن امراض جیسے جوڑوں کا درد،جلدی بیماریاں ،آدھے سر کا درد،حیض کی خرابیاں ،بواسیر،معدہ کی بیماریاں ،الرجی ،کینسر،جگر،دل،گردے،اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا ہی علاج کرتی ہے جبکہ یہ حاد امراض میں بھی بہت مؤثر ہے جیسے ٹانسلز کی سوزش، حلق کی سوزش،وائرس کی وجہ سے ہونے واقلے بخار سے،دست،پیچش،دمہ، برانکاٹس،قبض،چوٹ،بچوں کی بیماریوں وغیرہ کے لئے بہت مؤثر ہے بعض اوقات یہ بیماری کے دورانیہ کو کم کردیتی ہے اور اکثر کیسز میں مروجہ علاج کے مقابلے میں تیزی سے شفاء دیتی ہے اور ضرررساں اثرات بھی پیدا کرتی
23 کیا ایلوپیتھک علاج کے ساتھ ہومیوپیتھک علاج کرایاجاسکتاہے؟ یہ اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ بیماری کیا ہے اور کونسی ہومیوپیتھک دوا استعمال کی جارہی ہے یہ مسئلہ آپکا ہومیوپیتھک معالج ہی اچھی طرح جان سکتا ہے
24 کیا یہ درست ہے کہ ہومیو ادویات صحت مند انسانوں پر آزمائ جاتی ہیں؟ جی ہاں ! یہ حقیقت ہے کہ ہومیوپیتھک ادویات پہلے دونوں جنس کے ہر عمر کے صحت مند انسانوں پر آزمائ جاتی ہیں ان پر اثرات ریکازڈ کئے جاتے ہیں اور علامات اور نشانیوں کا خلاصہ تیار کیا جاتا ہے ان علامات مجموعہ کو استعمال کرتے ہوئے ہومیو معالج مریض کو دینے سے پہلے دوا تجویز کرتے ہیں
25 ہومیو علاج کے لئے لیبارٹری تشخیص کہاں تک مددگار ہوتی ہے؟ یہ صرف یہ جاننے کے لئے استعمال ہوتی ہے کہ کیس ہومیوپیتھک ادویات کو ردعمل دے گا یا نہیں اور یہ طے کرنے کے لئے کہ کہاں تک شفا یابی ممکن ہے جو کہ صرف محنت طلب کیس ریکارڈ کے بعد ہی ممکن ہے یہ کیس میں بہتری جانچنے کے لئے بھی اہم ہے
26 کیا ہومیو ادویات پالتو جانوروں کو بھی استعمال کرواسکتے ہیں؟ ہومیوپیتھک ادویات کا بہت بہترین فائدہ یہ بھی ہے کہ جانوروں کو بھی با آسانی استعمال کروائ جاسکتی ہیں ان کے لئے یہ ضروری نہیں کہ گولیوں کو زبردستی حلق سے اتارا جائے
ہمیشہ کی طرح اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین اللہ حافظ


Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 12 PSORA,SYPHLIS,PSYCHOSIS
Therapeutics علم العلاج
!معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
ہماراآج کا لیکچر پچھلے لیکچر سے متصل ہے ،ہم سورا،سفلس،اور سائیکوسس پر بات کر رہے تھے ہنیمن ان میازموں کے بارے میں آرکینن میں لکھتے ہیں دفعہ 79:اس وقت صرف سفلس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مزمن امراض پیدا کرتا ہے اگر یہ میازم صحیح نہ ہوتو زندگی کے ساتھ ہی جاتا ہے سائیکوسس ایسا میازم ہے جس کو قوت حیات بغیر علاج کے دور نہیں کرسکتی لوگ اسے خاص قسم کا میازم نہیں سمجھتے حالانکہ یہ یقیناً ایک میازم ہے جب جلد کی خرابی دور ہوجاتی ہے تو ڈاکٹر یہ خیال کرتا ہے کہ یہ میازم بھی دور ہوچکا ہے لیکن یہ پوشیدہ رہنے والا میازم موجود رہتا ہے اور ڈاکٹر کے ذہن سے نکل جاتا ہے
دفعہ 80: درج بالا دونوں میازموں سفلا اور سائیکوسس سے بڑھ کر وہ میازم ہے جسے سورا کہتے ہیں وہ دونوں میازم اپنی موجودگی کو یوں ظاہر کرتے ہیں ایک میں تو آتشک کا مادہ نمودار ہوتا ہے اور دوسرے میں مسے وغیرہ نکلتے ہیں لیکن سورا کے میازم میں ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ جسم میں اپنا پورا اثر کر لیتا ہے تو اپنی موجودگی کا اظہار خاص قسم کی کھجلی والے دانوں کے ذریعے کرتا ہے جو جلد پر نکلتے ہیں نیز یہ مزمن میازم سینکڑوں قسم کے دیگر امراض کا باعث ہوتا ہے جنہیں اعصابی کمزوری،ہسٹریا، خبط،مالیخولیا،دیوانگی،مرگی،بواسیر،استسقا،حیض کی کمی،بانجھ پن، نامردی اور ہزاروں قسم کے دردوں وغیرہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے
دفعہ81:اس لئے یہ پرانی چھوت والا میازم سورا آہستہ آہستہ نوع انسانی کی سینکڑوں پشتوں میں سرایت کر گیا ہے اور بے شمار انسانوں کے جسموں کو اپنا شکار بنالیا اور ان پر غلبہ حاصل کیا اس لئے یہ اندازہ بالکل صحیح معلوم ہوتا ہے کہ نسل انسانی میں بے شمار امراض اسی میازم کے سبب پیدا ہوتے ہیں اور یہ بات ہمیں اس وقت سمجھ آتی ہے جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ انسان کی مختلف قسم کی دماغی اور طبعی خرابیوں کے علاوہ اور کتنے بیرونی اسباب ایسے ہوتے ہیں جو مختلف امراض پیدا کرتے ہیں
ان میازموں کو دور کرنے کے لئے چند ادویات کی فہرست دے رہا ہوں ان کو نوٹ کرلیں
دافع سورا ادویات:
1 الیومینا 2 اگریگس 3 امونیم کارب 4 امونیم میور
5 سلفر 6 کاسٹیکم 7 کالوسنتھ 8 آئیوڈیم
9 سلفیورک ایسڈ 10 لائیکوپوڈیم 11 آرسینک البم 12 آرم میٹیلیکم
13کاربواینی میلس 14 کاربوویج 15 کونیم 16 کیوپرم
17 میگنیشیا کارب 18 میگنیشیا میور 19 فاسفورک ایسڈ 20 سارسا پریلا
21 یوریکس 22 ہیپر سلفر 23 سیلشیا 24 سیپیا
25 پلا ٹینا 26 گریفائٹس 27 ڈلکمارا 28 سورنیم

دافع سلفس ادویات:
1 آرسینک البم 2 آرم میٹیلیکم 3 بیڈیاگا 4 بینزویک ایسڈ
5 ہیپر سلفر 6 تھوجا 7 فائیٹولیکا 8 کاربواینی میلس
9 کاربوویج 10 فلورک ایسڈ 11 سارسا پریلا 12 لا ئیکو پوڈیم
13 مرکیورس سال 14 فاسفورک ایسڈ 15 فاسفورس 16 پٹرولیم ٹائٹرک ایسڈ
17 کروٹیلس 18 سینا بیرکس 19 کالی بائیکرومیکم 20 کالی آئیوڈائیڈ
21 مرکیورس کار 22 مرکیورس 23 آئیوڈائیڈ 24 سیفیلینم

دافع سائیکوسس ادویات:
1 اینٹم کروڈ 2 اینٹم ٹاٹ 3 ایپس میلیفیکا 4 کیموملا
5 ارجنٹم میٹیلیکم 6 سینا بیرس 7 برائینیا 8 کاربو اینی میسس
9 کاربوویج 10 ڈلکمارا 11 فیرم سلفیورک ایسڈ 12 گریفائیٹس
13 ہیپر سلفر 14 پیٹرولیم 15 فائیٹولیکا 16 سلفر
17 لائیکوپوڈیم 18 مرکیورس 19 ٹیٹرم سلف 20 ٹائیٹک ایسڈ
21 کونیم 22 سیپیا 23 سیکیل 24 تھوجا
25 کاسٹیکم 26 میڈھورائینم 27 آئیوڈیم
اس فہرست کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں تاکہ دوران پریکٹس میازموں کی شناخت کرسکیں اور میازم کے مطابق صحیح دوا کا چناؤ ممکن ہوسکے آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے اب آپ سے اجازت چاہتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ آپ کوآسانیاں عطا فرمائیں اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین اللہ حافظ


Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 01
السلام وعلیکم:PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
اکثرہم لوگروحانی علاج روحانیت روحانی علوم وغیرہ کا تذکرہ سنتےہیں یاجو لوگ ان سےوابستہ ہیں وہ ضروراسکےبارےمیں تھوڑا بہت جانتےہیں اور جن لوگوں کااپنی عمومی زندگی میں ان چیزوں سے کوئی واسطہ نہیں پڑتا وہ جاننےکی کوشش بھی نہیں کرتے آج جب کہ ہم PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI کےنام سےایک نئے یوٹیوب چینل کاآغاز کررہےہیں تومیں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ روحانیت کیا ہے؟ پہلےاس پر کچھ بات کرلی جائے.لیکن درحقیقت روحانیت پر گفتگو کرنےسےپہلے روح کیا ہے؟ اس پر بات کی جائے گی. گوکہ اس حوالے سےلاتعداد کتابیں موجودہیں جن کا میں نےمطالعہ کیا لیکن اس موضوع پرجتننا شاندارموادمجھےانڑنیٹ پر پروفیسرعقیل کےبلاگ سے ملاوہ لاجواب ہے پروفیسرعقیل نے جتنےعام فہم اندازمیں نہایت خوبصورتی کےساتھ اس موضوع کوسمیٹا ہےوہ انکا ہی کمال ہےانکابلاگ پڑھ کرانداز ہوتاہےکہ آپ نےروحانیت کا تعارف بیان کرنے کےلئےناصرف وسیع تر مطالعہ کیا بلکہ اللہ کی عطاکردہ غیرمعمولی ذہانت کوبھی بروئےکارلائے.جسکے نتیجےمیں یہ انتہائی شاندارتحریرمنشائےشہودپرآئی.میں جب روحانیت کےتعارف کےحوالےسےلیکچرتیارکررہاتھاتو پروفیسرعقیل کی تحریرنےگویامیرےپاؤں پکڑلئےاورچاہتےہوئےبھی میں ٹس سےمس نہ ہوسکا لٰہذا میں نے اس لیکچرکی تیاری میں پروفیسرعقیل کی تحریرسےبھرپورفائدہ اٹھایا ہےمیری دعاہےکہ اللہ تعالی ان کےقلم کواورطاقت عطا فرمائے،آمین.اب ہم اصل موضوع کی طرف آتےہیں اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب قرآن مجیدمیں لفظ روح دومعنوں میں استعمال ہواہےایک جگہ روح کالفظ حضرت جبرائیل امئین کےلئےاستعمال ہوا ہے.فی الحال ہم اس روح کےبارےمیں کوئی بات نہیں کررہےجس سےمرادحضرت جبرائیل امیئن کےلئےاستعمال ہواہے.فی الحال ہم اس روح کے بارےمیں کوئی بات نہیں کررہےجس سےمرادحضرت جبرائیل ہیں دوسری جگہ روح کےلغوی معٰنی پھونک ، سکون ، راحت اورقرار کےہیں.یہیں سے یہ لفظ روحانیت نکلا ہےیعنی وہ عمل جس سے راحت اور سکون حاصل کیا جائے.قرآن پاک میں سورۃ الحجرکی آیت نمبر 129 اور سورۃ ص آیت نمبر 72 میں پھونک والےمہفوم کاذکران الفاظ میں ہوا ہے. ترجمہ :جب میں اسےدرست کرچکوں اوراس میں اپنی روح(پھونک) پھونک دوں تو تم اس کےسامنے سجدےمیں گرجانا. اس آیت میں اللہ تعالی فرشتوں سے خطاب کرتے ہوئےکہہ رہا ہے کہ میں کھنکھناتی مٹی سےایک بشرپیداکرنےلگا ہوں جب میں اسکی نوک پلک درست کرکےاس میں اپنی پھونک دوں توتم اسی وقت اسکےسامنےسجدہ ریزہوجانا.اب سوچنےکی بات یہ ہےکہ اس روح سےکیامراد ہے اس علماءکریم نے بہت کچھ تحریرکیا ہےاورروح کی ماہیت کو سمجھنےاورطے کرنےکی کوشش کی ہے. کچھ لوگوں نے کہاکہ یہ نوریزدانی ہے ، جس سےانسان اورحیوان میں فرق پیدا ہوتا ہے. کچھ لوگوں نےکہا کہ یہ اللہ کی صفات کا عکس ہے یعنی اللہ تعالی نے اپنی روح پھونک کر حضرت انسان میں اپنی صفات منتقل کی ہیں. کچھ لوگوں نےروح سے مراد صرف زندگی کی انرجی کولیا دوسری طرف کچھ صوفیاءکرام نے یہیں سے اپنے نظریات اخذ کئےکہ روح پھونک کراللہ تعالی انسان میں حلول کر گیا یا انسان اور ایک ہی ہیں اور یہاں سے وحدت الوجود کی بنیادیں تلاش کی گئیں. روح کی اصل حقیقت اللہ تعالی ہی بہتر جا نتے ہیں لیکن چند چیزیں اپنے طور پر مطالعہ قرآن سے حاصل کرسکتےہیں. پہلی بات سیدھی سی ہے کہ روح کے بغیرانسان نا مکمل ہے اسلئےاللہ تعالی نے فرشتوں کو سجدے کاحکم اس وقت دیا جب روح پھونک دی گئی. دوسری بات یہ ہے کہ روح پھونکنے سےقبل اللہ تعالی نےانسان کا جسم کھنکھناتی ہوئی مٹی اور گارے سے بنالیا تھا مٹی مادے کی علامت ہے جبکہ روح کی نسبت اللہ نےاپنی طرف کی ہے یعنی جب میں اپنی روح یا پھونک ، پھونک دوں تو سب آدم کو سجدہ کرنا اس لئے روح سے مراد مادی عناصر اور روح سے مراد غیر مادی عناصر ہیں. اوپر کی تمام گفتگو سے آپکو یہ انداز ہوگیا ہوگا کہ روح کے لغوی معنی پھونک اوراصطلاحی معنی سکون ، راحت اور لطافت کے بنتےہیں یہ روح اللہ کی قربت کی علامت ہے.کیونکہ روح کو اللہ تعالی نےاپنی جانب براہ راست نسبت دی ہے گوکہ ہم نسبت کی نوعیت سے واقف نہیں ہیں لیکن اتنا ضرورجانتےہیں کہ اللہ نے اپنی روح(پھونک) انسان میں پھونکی. اس بات کو سمجھنے کے لئےاگر ہم دم کو لےلیں تو شاید بات کچھ واضح ہوجائے ہمارے یہاں جسطرح بچوں پر یا کسی بیمارپر دم کیا جاتا ہے تو پھونک ماری جاتی ہے یہ دم کرنا دراصل اپنی جانب سے کچھ قرآنی آیات کو پڑھ کرایک خاص روحآنی تاثیرکواس بچے یا بیمار میں منتقل کیا جاتا ہے. خدا کے روح پھونکنے کی حقیقت کو تو اللہ تعالی ہی بہتر جانتے ہیں البتہ ہم دم کرنے کی مثال سے کسی حدتک اس عمل کوسمجھ سکتےہیں اوراس کے مقاصد جان سکتےہیں.اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ اس پھونک یا روح کی ضرورت کیوں پیدا ہوئی. جبکہ انسان کاایک ظاہری اور مادی وجود موجود تھا، اس پھونک یا روح کا جو مطلب سمجھ میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ جسطرح اللہ تعالی نےانسان کاظاہری وجود مادے یعنی مٹی سے تخلیق کیا اسی طرح اپنی پھونک یا روح کےذریعےانسان کاایک باطنی وجود بھی تخلیق کردیا باطنی وجود کا فنکشن مادی وجود کے فنکشن سے مختلف تھا باطنی وجود کا کام غیرمادی امور کو طے کرنا تھا مادی اور روحآنی وجودمیں ایک اور نمایاں فرق یہ ہے مادی وجود مادی دنیا یعنی عالم ناسوت اور غیرمادی وجود یعنی روح غیرمادی دنیا یعنی عالم لاہوت کے لئے مخصوص ہے.یہ بات واضح رہے کہ لاہوت غیرمادی عالم کےلئے بولاجاتا ہےجسمیں فرشتے، عرش ، لوح محفوظ اورامور تکونیی وغیرہ شامل ہیں. اگرہم مادی وجودعالم کےاعضاء کے تعین کرناچاہیں تو باآسانی کرسکتےہیں کیونکہ یہ یاتھ ، پاؤں ، چہرہ ، جسم ، دل، گردے ، پھیپھڑے ، جگراوراعضاء پر مشتمل ہے. جن میں ہرایک کا اپنااپنا کام ہے. اب اگر ہم اپنے باطنی وجود کو دیکھیں تو ایک الگ دنیا انسان کےاندر نظرآتی ہے یہاں جذبات ، احساسات ، خوشی ، غمی ، بےچینی ،سکون اوراس طرح کی دیگر کیفیات ہیں. جنہیں ہم محسوس کرسکتےہیں جن کا اظہار کرسکتےہیں لیکن کسی کودکھا نہیں سکتے یعنی اگر ہم باطنی وجود کےاعضاء کاتعین مادی طور پرہاتھ پاؤں اور چہرےوغیرہ کی طرح کرنا چاہیں تو ناکام ہوجاتےہیں اس لئے باطنی کیفیات کےلئے قرآن پاک جواصطلاح استعمال کرتا ہے وہ بھی ظاہری اعضاء سےمستعارلی ہوئی ہے. جیسے قرآن نے باربارباطنی کیفیات کا مرکزدل ٹیڑھےہوگئے، دلوں کو زنگ لگ گیا، دل اندھےہوتےہیں، دلوں پر مہرلگ جاتی ہے وغیرہ وغیرہ.اور کبھی اس باطنی وجود کےایک مظہر یعنی عقل کو بیان کرنے کے لیے قرآن یہ بیان کرتا ہے جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتےوہ بدترین جانورہیں اسی طرح باطنی وجود کے سننے اور سمجھنےکو سماعت اور بصارت سے تعبیر کرتا ہے غور کریں تو عقل بھی نظر نہیں آتی ہے باطنی وجود کے چند مظاہرکو قرآن پاک ایمان ، یقین ، خشوع ، خضوع وغیرہ سے تعبیرکرتا ہے.اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جسطرح انسان کا ظاہری وجود ہے اسی طرح باطنی وجود بھی ہے باطنی وجود کو صرف محسوس کیا جاتا ہے اسے دیکھایا چھوانہیں جاسکتااس کے باوجود یہ ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے. یہ وہی باطنی وجود ہے جسے اللہ رب العالمین نے اپنی روح کے دریعے یعنی اپنی پھونک کےذریعےانسان میں پیدا کردیا اسطرح سے دیکھا جائےتوانسان دو عناصرکا مجموعہ ہے، ایک مادی عنصریعنی جسمانی وجوداور دوسرا غیرمادی عنصریا روحانی وجود ، مادی وجود کو اللہ نے کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیداکیا اور غیرمادی وجود کو روح سےانسانی نفس دراصل مکمل شخصیت کا نام ہے جواس ظآہری اور باطنی اور غیرمادی وجودوں کا مجموعہ ہے.یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ جسطرح ظاہری وجود کا مذہب سے براہ راست تعلق نہیں ایسے ہی باطنی وجود کا بھی مذہب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں. جس طرح فزکس یا بیالوجی کے قوانین ایک عیسائی ، ہندو ، یہودی ، ملحد سب کے لئے برابرہیں اسی طرح روحانیت یا یفسی علوم کے معاملات بھی ایک بدھ مت ، چین مت یا مسلمان سب کےلئے برابر ہیں. جسطرح ظاہری وجود کواستعمال کرنے کے قوانین مذہب سے ماوراہیں اسی طرح باطنی وجود کے استعمال کرنے کے قوانین بھی یونیورسل ہیں، مذیب ان اصولوں کا درست استعمال سکھاتا ہے.
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ روحآنیت سے کیا مراد ہے یا روحآنیت بذات خودکیا چیزہے؟ اس بات کوسمجھنے کےلئے ہمیں روحانیت کوتین الگ الگ زاویوں یا پہلوؤں سے سمجھناہوگا. روحانیت کا پہلا پہلواپنی ذات کی معرفت ہے، دوسرا پہلو خارج یا خدا کی معرفت ہے اور تیسرا پہلو اس معرفت کے نتائج کو عملی شکل میں ڈھال کر شخصیت کی تعمیرکرنا ہے.ابتدائی دو پہلو علمی اور تیسراپہلوعلمی ہے.پہلا پہلواپنی ذات کا پہچا ننایااپنی ذات کی معرفت حاصل کرنا ہے. یہاں روحانیت اپنے باطنی وجود سے رجوع کرنےکانام ہے. یہ اسے جاننےاسے سمجھنےاسے قابو کرنےاور درست طور پراستعمال کرنےکانام ہے یہاں ایک انسان اپنےجذبات ، احساسات ، شہوات ، رغبات ، رجحانات اپنی شخص کمزوریاں اوراپنی اچھائیاں جاننے کی کوشش کرتا ہےوہ جتنا جانتا چلا جاتا ہے اتنی ہی زیادہ معرفت حاصل کرتا چلا جاتا ہے. روحانیت ایک پہلو تو جیسا کہ میں نے اپنی باطنی شخصیت سے تعلق پیدا کرنااورمراقبہ کرنا ہے. اسکا دوسرا پہلو یا مقصد آفاق یعنی خارج کی معرفت ہے. یہ معرفت مختلف مذاہب میں مختلف اندازمیں پیدا کرنےکی کوشش کی گئی ہےاگرہم اسلام کاجائزہ لیں تو سب سے پہلے اللہ پر ایمان اور یقین کے زریعےاس یعلق کو پیدا کیاگیا ہے. یعنی اللہ کو مانے بنا کوئی اسلام میں داخل ہی نہیں ہوتا اسے کے بعد اللہ اور بندوں کے درمیان ایک دوسرااہم یعلق یعنی فرشتوں پرایمان کے زریعےاس کمیونیکیشن چین کو جوڑا گیا جو اللہ اور بندے کے درمیان منسلک تھی. یعنی ایسا نہیں ہوا کہ انسان براہ راست اللہ سے وحی لے، اکثر پیغمبروں سے اللہ تعالی نے فرشتوں کے ذریعے ہی رابط کیا ہے اللہ اورفرشتے غیب میں ہیں یعنی ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے.اسے ہم عالم بالا کہہ سکتے ہیں اس کے بعد پیغمبروں اورکتابوں پرایمان لانے کو کہا گیا ان پیغمبروں یا کتابوں کا چونکہ مادی وجود ہے اس لئے ہم انہیں عالم زیریںں کہہ سکتے ہیں اور اس عالم کا رابط عالم لاہوت سے ہوتا ہے.
روحانیت کا تیسرا اورآخری پہلو اپنی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے جب انسان نے اپنے باطنی وجود کی معرفت حاصل کرلی اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی مطلوبہ معرفت بھی حاصل کرلی اور اپنی زندگی کا مقصد واضح کرلیا تو اب اس کی ذمہ داری ایک ایسی شخصیت کو تعمیر کرنا ہے تو ان تمام کثافتوں سے پاک ہو جو اسے اپنے رب کی بارگاہ میں نامقبول بنا دے. چنانچہ تعمیرشخصیت کے لئے عبادات اور اخلاقیات کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں علم و عمل ساتھ ساتھ چلتے ہیں. عبادات میں نماز روزہ ، زکوۃ اور حج وغیرہ کے ذریعےانسان اپنی شخصیت کو اللہ کی طرف جوڑتا ہے تو دوسری طرف اخلاقیات کی جانب یعنی مخلوق سےاچھے تعلقات کی جانب توجہ مبذول کرائی جاتی ہے. کیونکہ مخلوق میں شامل نہیں بلکہ باطنی وجود بھی بھرپور طور پر شامل ہے بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ اصل تحریک بھی وہیں سےاٹھتی ہے. تو اگر اب ہم روحانیت کی تعریف کریں تو یوں بنتی ہے کہ روحانیت سے مراداپنی ظاہری اور باطنی شخصیت کو جاننااپنے خالق کی معرفت حاصل کرنا اور اس علم کی بنیاد پر اپنی شخصیت کا تذکیہ کرنا ہے. میرا خیال میں آج کی نشست میں انتا کافی ہے انشاءاللہ اگلے لیکچرمیں اس موضوع کو مکمل کردوں گا. تب تک کے لئےاجازت دیں.اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ آپکو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنےکی توفیق عطا فرمائے. آمین.اللہ حافظ


Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 02
السلام وعلیکم:PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
گزشتہ لیکچرمیں ہم نےروحانیت کی مکمل تعریف بیان کی تھی ہماری آج کی گفتگو گزشتہ لیکچرکا تسلسل ہے یہ سمجھ لینے کےبعد کہ روحآنیت سےمراداپنی ظاہری اور باطنی شخصیت کو جاننااپنےخالق کی معرفت حاصل کرنا اور اس علم کی بنیادپراپنی شخصیت کا تذکیہ کرنا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روحانیت کو حاصل کرنے کے لئے تصوف کی راہ اختیار کرنا ضروری ہے.اس سوال کا جواب دینے سے پہلےمیں ضروری سمجھتا ہوں کہ پچھلےلیکچرمیں بیان کئے گئے تینوں پہلوؤں کاایک بار پھرجائزہ لیں. روحانیت کواختیار کرنے کےلئے جیسا کہ میں بتایاکہ تین اہم پہلو ہیں. ایک پہلواپنی ذات کی معرفت اوراس کا کنڑول حاصل کرنےکاعمل ہے. اس باطنی وجود سے رابط کا تعلق ایک تیکنیکی معاملہ ہے اوراس میں کسی مذہب کی مددبھی لی جا سکتا ہےاس رابطہ کا پہلاطریقہ غوروفکر ہے.اس میں تمام نفسیاتی علوم آجاتےہیں. یہ طریقہ عام لوگ استعمال کرتےہیں لیکن یہ محدود طریقہ ہے. اس کا دوسراطریقہ وحی سے مدد لینا ہے کہ وحی نےکسطرح انسان کے داخلی وجودکوبیان کیا ہے. یہ بہت مستند ذریعہ ہے. اس کاایک اور طریقہ وجدان اور نفسیاتی علوم کے ذریعےاپنی شخصیت کو جاننا ہے مراقبہ کے ذریعےایک انسان عمومی نہیں بلکہ ضصوصی باتیں بھی جان سکتا ہے کہ اس کی باطنی شخصیت اصل میں ہے کیا لیکن اس طریقےکی محدویت یہ ہےکہ ہرانسان کےوجدان کی پروازمختلف ہوتی ہے دوسرایہ کہ اس طریقہ کار میں زیادہ ترباتیں خواب اور تمثیل کی صورت میں ہوتی ہیں جنہیں سمجھنے کےلئےکسی نہ کسی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے. روحانیت کا دوسرا پہلواللہ اور بندے کے روحانی تعلق کو بیان کرتا ہے. یہ پہلو ہر صورت میں مذہب کا محتاج ہے. ہرمذہب اللہ کی کوئی نہ کوئی معرفت بیان کرتا ہے. اس معرفت کے صحیح ہونےمیں دو چیزیں اہم ہیں. ایک تووہ مذہب جو یہ تعلیمات بیان کررہا ہےاگر مذہب کی تعلیمات مستند نہیں تو حاصل ہونےوالی معلومات بھی ناقص ہوگی اگر کسی نے یہ تعلیمات غلط سمجھیں تو معرفت کا حصول بھی غلط ہی ہوگا. روحانیت کا تیسراپہلو ذاتی معرفت اورخدائی معرفت سے حاصل ہو نےوالے علم کوحاصل کرنااوراسےعمل کی صورت میں ڈھالنا ہے.چونکہ اس عمل کا اظہارہماری شخصیت ہی سے ہوتا ہےاسلئےاسے تعمیرشخصیت کہا جاتاہے.یعنی ایک ایسی شخصیت جوظاہروباطن کو جانتی ہو. خداکی معرفت رکھتی ہواوراسکے مطابق درست عمل کرکےاپنی شخصیت کو خداکےمطلوبہ سانچےمیں ڈھال لتیی ہو. تعمیرشخصیت کے بعض پہلو چونکہ مادی دنیا سے تعلق رکھتےہیں اسلئے ان پہلوؤں کے لئےمذہب اوروحی کا سہارالے.اب ہم دوبارہ اپنے سوال کی طرف آتےہیں کہ روحانیت کے حصول کےلئے تصوف اختیار کرنا ضروری ہےکہ نہیں؟ پہلی بات تویہ ہےکہ تصوف صرف اسلام کا خاصہ نہیں بلکہ یہ دیگر مذاہب میں بھی موجودرہاہے.تصوف روحانیت کے حصول کےلئےایک مکمل پیکج دیتا ہےاورروحانیت کےان تینوں پہلوؤں کوایڈریس کرتاہےجن کاہم نےاوپرذکرکیا.البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کی تمام تعلیمات درست ہوں اس کا پہلا کام انسان کی معرفت کا حصول ہے. یہ انسان کےباطن کے بارےمیں مکمل علم فراہم کرتا ہے. کہ وہ کن کن احساسات ، رغبات ، شہوات ، میلانات وغیرہ کا مرقع ہے. یہاں تصوف وہی کام کرتا ہے جو کسی حد تک علم نفسیات کرتا ہے. تصوف میں ایک استاد جسے مرشد کہتے ہیں وہ انسان کو سب سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی تعلیم دیتا ہے. اس کا دوسراپہلو یہ ہے کہ یہ اللہ کی معرفت کی کچھ تھیوریزدیتا ہے یہاں تصوف مذہب کو بائی پاس کرکے اپنی تھیولوجی پیش کرتا ہے عام طور پر تصوف اللہ اور کائنات کی جو توجیہات پیش کرتا ہے ان میں تین سرفہرست ہیں. ایک نظریئہ وحیدۃ الوجود ، دوسرا وحیدۃ الشہود اور تیسرا حلول کا نطریہ ہے وحیدۃ الوجود کا کلمہ لاموجودالااللہ، یعنی اللہ کے سوا کوئی موجود نہیں، وحیدۃ الوجود کا مقصد فنانی اللہ ہے. وحیدۃالشہود میں کائنات کی تشریح اللہ کے سائے کے طور پر کی جاتی ہے. جب کہ نظریئہ حلول میں اللہ انساتوں کی شکل میں زمین پر اوتاریا کسی اور صورت میں آجاتا ہے. یہ تینوں نظریات خلاف عقل بھی ہیں اور اسلام کی تعلیمات کے خلاف بھی ہیں. نیز مذہب کی وضاحت کے بعد ان تشریحات کی کوتی ضرورت محسوس نہیں ہوتیل مذیب واضح طور پر اللہ اور بندےکا تعارف بیان کرتا ہے. اوراس کا مقصد واضح کردیتا ہے. تصوف کا تیسرا کام مندرجہ بالا نظریات کی روشنی میں تعمیر شخصیت کرناہے. اس کےلئے مراقبے، چلے، ضربیں ، نفسی کشی، وظائف ، عملیات ، تصورشیخ اور رہبا ینت وغیرہ کی مشقیں کروائی جاتی ہیں. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تصوف کے تعمیر شخصیت کے پیکج میں جو مشویں کرائی جاتی ہیں وہ جائز ہیں یانا جائز. اسمیں کچھ مشقیں تواپنی اصل صورت ہی میں اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں. تو ان کےجواز کا کوئی امکان ہی نہیں جیسے رہبانیت وغیرہ. اس کے علاوہ باقی مشقوں کو اگر دین کا حصہ نہ سمجھا جائے اوران میں کوئی اخلاقی یا شرعی قباحت نہیں ہوتو ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے.
اب اگروحئی الٰہی یعنی قرآن مجید سےرجوع کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آیا کیا قرآن روحانیت کا کوئی تصوردیتا ہےاگردیتاہے توکیا؟ جناب ! قرآن کا تواصل موضوع ہی تذکیئہ نفس ہے یعنی ایسی شخصیت پیدا کرنا جو جنت کی حقدارہوسکے. قرآن کا مرکزی خیال انسان ہی نہیں بلکہ انسان کی فلاح بھی ہے. یہ فلاح دنیا اورآخرت دونوں کےلئےہے.چنانچہ اگرہم روحانیت کے تینوں پہلوؤں کودیکھیں توقرآن حیرت انگیزطورپرتینوں پہلوؤں کوکور کرتاہےاورایک واضح پلان پیش کرتاہے.سب سے پہلا پہلواپنےنفس کو جانناہے یعنی انسان کوجاننا، قرآن آدم وابلیس، ابراہیم ونمرود، لوط اورقوم لوط ، موسٰی اور فرعون، یوسف اور برادران یوسف ، طالوت وجالوت ، محمدصلیاللہ علیہ وسلم اورابولہب ، یہودومومنین اورصحابہ اورکفارکیس اسٹڈی کےذریعے جگہ جگہ یہ بتاتا ہےکہ اچھےاوربرےانسان کی کیا کیا خصوصیات ہوتی ہیں. کونسی خصلتیں اللہ تعالی کو پسندہیں اور کون لوگ اسے ناپسند ہیں. کسطرح تعصب حق کو ماننےسے روکتا ہے، کیسے حسدعداوت پر مجبور کرتاہے کسطرح مذہبی پیشوائیت مادی مفادات کا تحفظ کرتی ہے. دوسری جانت حق پرستوں کی کیس اسٹڈی بیان کی گئی ہے کہ کسطرح لوگ اپنی شخصیت کی کمزوریوں پر قابو پاکر قربانیاں دیتےاوردنیا وآخرت میں سرخروہوتےہیں. قرآن روحانیت کا دوسرا پہلو بھی بہت شانداراندازمیں ڈسکس کرتا ہے اور اللہ اوربندے کے درمیان تعلق کو عملی اور فلسفیانہ سطح پرواضح کرتا ہے. وہ بتاتاہےکہ اللہ تنہا ہے اکیلا ہے ناوہ کسی کا باپ ہے نہ بیٹا، وہ بادشاہ ہےوہ رحمٰن اوررحیم ہے وہ رب ہے علم وحکمت کا مالک ہے وہ پیدا کرتا ہے اور وہی مارتا ہے. وہی طاقت کا منبع ہے. اللہ کی صفات کی صورت میں وہ خوبصورت تعارف قرآن میں پیش کردیتا ہے کہ اس کے بعد صرف اس کو سمجھا تو جاسکتا ہے کوئی اضافہ نہیں کیا جا سکتا. قرآن روحآنیت کا تیسرا پہلو یعنی تعمیر شخصیت بھی موضوع بحث بناتا ہے چنانچہ عبادات کی شکل میں نماز ، روزہ ، حج، زکوۃ پیش کرتا ہے معاشرت کے لئے نکاح کو پسند کرتا ہے اور اس کی بنیاد پردجود میں آنے والوں رشتوں کو تقدس عطا کرتا ہے معیشت کی بنیادظلم وعدو سے پاک کرنے کی ہدایت کرتا ہے. اخلاقیات میں اصل الاصول خیرخواہی کو قراردیتا ہے خلاصہ یہ ہے کہ قرآن روحانیت کے تینوں پہلوؤں پر جامع لیکن اصولی ہدایات دیتا ہے جسکی روشنی میں کوئی بھی فرداپنے لئے لائحئہ عمل طے کرسکتا ہے.
بس ثابت ہوا کہ قرآن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ قرآن کا مطالعہ ترجمے کے ساتھ کرنے کی عادت اپنالی جائے، مسلسل قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے قرآن خود بندے پر کھلنا شروع ہوجاتا ہے اور بندہ قرآن کی روشنی میں نا صرف اپنی معرفت حاصل کرتا ہے بلکہ اللہ کی معرفت بھی حاصل ہوجاتی ہے. ترجمہ قرآن پڑھنے سے بندے کو پیغام ربانی سمجھ میں آنے لگتا ہے اور قرآن کی روشنی میں وہ اپنی شخصیت کو بہتر سے بہتر اندازمیں تعمیر کرتا ہے اور اپنے مقصد کے حصول میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے. الحمداللہ ہمارا آج کا یہ موضوع مکمل ہوا انشاءاللہ پھرملیں گے اب اجازت چاہتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے امین.


PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI

Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 04
السلام وعلیکم:PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
عزیزطالباتءوطالبات روحانی عملیات کےحوالےسےحوالےسےبازارمیں سینکڑوں کتابیں دستیاب ہیں مگرشایدایک آدھ کے سواکسی بھی کتاب میں ان علوم کےبنیادی اصولوں اور جن قواعداورشرائط کی بنیاد پران علوم کی عمارت استوار ہوتی ہےان کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سےآپکی محنت ضائع ہوجاتی ہے اور سوفیصد علمیات غلط ہوجاتےہیں یا لوگوں کاایمان خراب ہوتا ہے. میں جوآپکوروحانی علمیات علم القرآن کی روشنی میں سکھاؤں گا انکو سیکھنےکےلئے، سمجھنےکےلئےاوران سےفائدہ اٹھانےکےلئےجن بنیادی باتوں سےواقفیت ضروری ہےان کا تذکرہ اختصآرمگرجامعیت کےساتھ کررہا ہوں تاکہ آپکو کسی قسم کی دشواری کا سامنانہ کرنا پڑے. اگراس کے باوجود کوئی بات سمجھ میں نہ آئےتو مجھ سےرابط کریں اپنی بات کا آغازکرنےسے قبل اپنےاستادمحترم کاذکرکرنا چاہوں گا جنکی بدولت آج میں یہاں آپ سے مخاطب ہوں. میرےاستادپاکستان کےمایہ نازایسڑولوجراورماہرروحانیت جناب ڈاکڑفرقان سرمد صاحب ہیں.آپ علم کا دریاہیں، پیراساہیکلوجی ، ایسڑلوجی اور علم القرآن پرآپ کو مکمل دسترس حاصل ہےاوراپنےشاگردوں کوعلوم سکھانےمیں آپ نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا÷ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھےآپکی شاگردی میسرآئی. ڈاکڑصاحب آج کل علم القرآن پر کام کررہےہیں اورجس اندار میں قرآن کی تفسیرپیش کررہےہیں وہ آپ ہی کا طرۃ امتیاز ہے.آج کے دورمیں جب کہ قرآن کی تفاسیر کی تعداد بہت زیادہ ہے اسکے باوجودڈاکڑصاحب کی تفسیرجیسی کوئی تفسیر نہیں کیونکہ اس میں ڈاکڑصاحب نے بےحدریسرچ ورک کیا ہے ڈاکڑصاحب کی تفسیر “تفسیرسرمدی” کے نام سےمارکیٹ میں دستیاب ہے. میں دعاگوہوں کہ اللہ تعالی ڈاکڑصاحب کو خیرکثیر عطافرمائےاورانکو لمبی عمر عطا فرمائے آمین.
خیراب اپنےاصل موضوع کی طرف آتےہیں. میں ترتیب واروہ تمام بنیادی بایتں بیان کروں گا جو کہ روحانیت کے مبتدیوں کےلئے ضروری ہیں.
1- قلم : نقوش اور تعوایزت لکھنے کے لئےسرکنڈے کا قلم سب سے عمدہ سمجھا جاتا ہے اس کےعلاوہ کاتب حضرات جوقلم استعمال کرتےہیں اسےبھی استعمال کیا جاسکتا ہے. اس کے علاوہ فاؤنٹین پین ، بال پین اور مار کروغیرہ بھی استعمال کرسکتےہیں. اس بات کا خاص طور پر خیال رکھیں کہ سعد اعمال کےلئے علیحدہ قلم رکھیں اور نحس اعمال کےلئے علیحدہ قلم رکھیں. قلم استعمال کرنے سے پہلے تین مرتبہ درودشریف پڑھ کر قلم پردم کردیں.
2- وقت اورکام : حدیث نبوی ہے کہ ترجمہ : “ہرکام کےلئےایک وقت مقرر کیاگیا ہے” گویا اللہ تعالی کے مقرر کردہ وقت میں ہی کام کرنا بہتر نتائج کا حامل ہوتا ہے، سیارگان سے منسوب سعداورنحس ساعات کو مد نظررکھتےہوئے عمل کیا جائے تو نتائج عمدہ آئیں گے. اگرسعداورنحس ساعات آپ کومعلوم کرنا نہیں آتااورآپ سیکھنا چاہتے ہیں تو اسکےلئے علم الساعات کےلیکچر نمبر2 کوسنیں اسمیں پوراطریقہ بتایا گیاہے.


SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF