Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
(LECTURE NUMBER 03 (Part 01
روحانیت کے بنیادی اصولوں(Fundamental of Spirituality)
السلام وعلیکم:PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
عزیزطالباتءوطالبات روحانی عملیات کےحوالےسےحوالےسےبازارمیں سینکڑوں کتابیں دستیاب ہیں مگرشایدایک آدھ کے سواکسی بھی کتاب میں ان علوم کےبنیادی اصولوں اور جن قواعداورشرائط کی بنیاد پران علوم کی عمارت استوار ہوتی ہےان کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سےآپکی محنت ضائع ہوجاتی ہے اور سوفیصد علمیات غلط ہوجاتےہیں یا لوگوں کاایمان خراب ہوتا ہے. میں جوآپکوروحانی علمیات علم القرآن کی روشنی میں سکھاؤں گا انکو سیکھنےکےلئے، سمجھنےکےلئےاوران سےفائدہ اٹھانےکےلئےجن بنیادی باتوں سےواقفیت ضروری ہےان کا تذکرہ اختصآرمگرجامعیت کےساتھ کررہا ہوں تاکہ آپکو کسی قسم کی دشواری کا سامنانہ کرنا پڑے. اگراس کے باوجود کوئی بات سمجھ میں نہ آئےتو مجھ سےرابط کریں اپنی بات کا آغازکرنےسے قبل اپنےاستادمحترم کاذکرکرنا چاہوں گا جنکی بدولت آج میں یہاں آپ سے مخاطب ہوں. میرےاستادپاکستان کےمایہ نازایسڑولوجراورماہرروحانیت جناب ڈاکڑفرقان سرمد صاحب ہیں.آپ علم کا دریاہیں، پیراساہیکلوجی ، ایسڑلوجی اور علم القرآن پرآپ کو مکمل دسترس حاصل ہےاوراپنےشاگردوں کوعلوم سکھانےمیں آپ نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا÷ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھےآپکی شاگردی میسرآئی. ڈاکڑصاحب آج کل علم القرآن پر کام کررہےہیں اورجس اندار میں قرآن کی تفسیرپیش کررہےہیں وہ آپ ہی کا طرۃ امتیاز ہے.آج کے دورمیں جب کہ قرآن کی تفاسیر کی تعداد بہت زیادہ ہے اسکے باوجودڈاکڑصاحب کی تفسیرجیسی کوئی تفسیر نہیں کیونکہ اس میں ڈاکڑصاحب نے بےحدریسرچ ورک کیا ہے ڈاکڑصاحب کی تفسیر “تفسیرسرمدی” کے نام سےمارکیٹ میں دستیاب ہے. میں دعاگوہوں کہ اللہ تعالی ڈاکڑصاحب کو خیرکثیر عطافرمائےاورانکو لمبی عمر عطا فرمائے آمین.
خیراب اپنےاصل موضوع کی طرف آتےہیں. میں ترتیب واروہ تمام بنیادی بایتں بیان کروں گا جو کہ روحانیت کے مبتدیوں کےلئے ضروری ہیں.
1- قلم : نقوش اور تعوایزت لکھنے کے لئےسرکنڈے کا قلم سب سے عمدہ سمجھا جاتا ہے اس کےعلاوہ کاتب حضرات جوقلم استعمال کرتےہیں اسےبھی استعمال کیا جاسکتا ہے. اس کے علاوہ فاؤنٹین پین ، بال پین اور مار کروغیرہ بھی استعمال کرسکتےہیں. اس بات کا خاص طور پر خیال رکھیں کہ سعد اعمال کےلئے علیحدہ قلم رکھیں اور نحس اعمال کےلئے علیحدہ قلم رکھیں. قلم استعمال کرنے سے پہلے تین مرتبہ درودشریف پڑھ کر قلم پردم کردیں.
2- وقت اورکام : حدیث نبوی ہے کہ ترجمہ : “ہرکام کےلئےایک وقت مقرر کیاگیا ہے” گویا اللہ تعالی کے مقرر کردہ وقت میں ہی کام کرنا بہتر نتائج کا حامل ہوتا ہے، سیارگان سے منسوب سعداورنحس ساعات کو مد نظررکھتےہوئے عمل کیا جائے تو نتائج عمدہ آئیں گے. سیاروں سے منسوب سعداور نحس بیان کررہا ہوں ان کو خاص طور پر نوٹ کرلیں. طلوع آفتاب تک اور پھرغروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک کے اوقات کو 12 سے تقسیم کرلیں اسطرح آپ کے پاس طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی اور غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک 12،12 ساعاتیں حاصل ہوجائیں گی. جن سے آپ استفادہ حاصل کریں گے. ساعت نکالنے میں اگردشواری محسوس ہوتو میرے
“Youtube Channel “World of knowledge پر علم الساعات کے لیکچرموجود ہیں وہاں آپکو مکمل طریقہ کار سمجھا دیا گیا ہے. اب سیارگان سے منسوب سعد اور نحس ساعت بیان کررہا ہوں ان کو نوٹ کرلیں.
“اوقات روزوشب”

ساعات ساعات ساعات ساعات ساعات ساعات ساعات
1 2 3 4 5 6 7
8 9 10 11 12 13 14
15 16 17 18 19 20 21
22 23 24 – – – –
ہفتہ زحل مشتری مریخ شمس زہرہ عطارد قمر
اتوار شمس زہرہ عطارد قمر زحل مشتری مریخ
پیر قمر زحل مشتری مریخ شمس زہرہ عطارد
منگل مریخ شمس زہرہ عطارد قمر زحل مشتری
بدھ عطارد قمر زحل مشتری مریخ شمس زہرہ
جمعرات مشتری مریخ شمس زہرہ عطارد قمر زحل
جمعہ زہرہ عطارد قمر زحل مشتری مریخ شمس
ہفتہ : سعدساعات : 1,2,4,5,6,9,11,12,13,15,18,20,21,22
نحس ساعات : 3,7,8,10,14,16,17,19,23,24
اتوار : سعدساعات: 1,6,8,9,11,13,14,15,17,18,20,22,24
نحس ساعات : 2,3,4,5,7,10,12,16,19,21,23
پیر : سعدساعات : 1,2,3,5,8,10,12,15,16,19,21,23
نحس ساعات :4,6,7,9,11,13,14,17,18,20,22,24
منگل : سعدساعات:1,3,4,7,9,11,13,16,18,19,20,22,23
نحس ساعات : 2,5,6,8,10,12,14,15,17,21,24
بدھ : سعدساعات: 1,4,6,7,8,10,11,13,15,16,17,18,20,21,22,23
نحس ساعات : 2,3,5,9,12,14,19,24
جمعرات : سعدساعات: 1,3,4,5,6,8,9,10,11,13,16,17,18,19,20,21,24
نحس ساعات : 2,7,12,14,15,22,23
جمعہ : سعدساعات: 1,4,5,6,7,8,9,12,13,14,16,17,21,22,23,24
نحس ساعات : 2,3,10,11,15,18,19,20
4 – سیاروں کی موافق غذا۔
علم روحانیت کے طالبعلموں کو یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ کچھ عملیات ایسے ہوتے ہیں جن میں سیارگان کے موافق کچھ غذا صدقہ کرنا ضروری ہوتا ہے اس کی تصفیل اسلئے دے رہا ہوں تاکہ کوئی چیز رہنانہ جائے اور ٓپ لوگوں کو دشواری نہ ہو۔
شمس : شیرینی ، عطر ، شہد خالص ، کشمش، ناشپاتی ، انگور ، الو ، خوبانی ، چنے کی دال ، مسور کی دال اور گلاب۔
قمر : شکرسفید ، دودھ ، چاول ، دہی ، کیوڑہ ، مونگ ، کیل ، گندم ، تربور ، شنتالو ، ناریل اور سیب۔
مریخ : گوشت ، کباب ، ساگ ، سرسوں کا تیل ، خمیری روٹی ، سرخ مرچ ، مسور کی دال ، چقندر ، گاجر ، زرد آلو، بوئے تندوتیز اور رترش وتیز میوہ۔
عطارد : چار مغز ، پستہ سبز ، انگور ، انار ، پراٹھا ، روٹی ، مونگ کی دال ، کٹہل ، آملہ، بوئے خوش گوار۔
زہرہ : مغزیات ، چنےکی دال ، برنج شیر ، شہدخالص ، لذید حلوہ ، عطر سہاگ ، انجیر ، انگور ، ککڑی ، سفید مولی ، جو۔
زحل : تل سیاہ ، بیگن ، آلوبخاارا ، منقہ ، جامن ، دال ماش ، ساگ ، بارنجان ، عطر گل۔
5- نشست کا طریقہ :
روحانی عملیات میں کسی عمل کو کرنے کے دوران نشست کے تین طریقے مروج ہیں۔
1- طلب حاجات ، جذب قلوب ، بلندی مرتبہ ، انکشافات اسرار ، مستحجاب الدعواۃ ، حصول علم وغیرہ کے لئے اسطرح بیٹھتے ہیں جیسے نماز میں بیٹھتے ہیں۔
2- دفع سحر کے اعمال ، تسخیرامراء ، خواتین ، عشق و محبت ، وحشت دور کرنے ، حصول خوشی ، حکام کے نزدیک مقبولیت وغیرہ کے لئے مربع کے شکل میں یعنی آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہیں.
3- دشمن کی تباہی ،حضومت ، طلاق ، تفرقہ ، بانجھ پن اور جنگ وجدل وغیرہ کےاعمال میں اسطرح بیٹھتےہیں جیسے عورتیں نمازمیں بیٹھتی ہیں.
6- روشنائی : روشنائی کئی طرح کی ہوتی ہےجو تعویذلکھنے کے کام آتی ہے سعداعمال یا نقوش کےلئےسبز ، سرخ ، زعفرانی ، رغوانی ، پیلا ، گلابی ، زرد ، فیروزی ، بنفشی وغیرہ رنگ کی روشنائی استعمال کریں.
7- حروف صفات : روحانی عملیات میں حروف تہجی یعنی ابجد کو تین صفات میں تقسیم کی گیاہے. یعنی جلالی ، جمالی اورمشترک. ان کی تفصیل یہ ہے.
جلالی : ا، ب ، ذ ، ش ، ط ، ف ، م ، و، ہ
جمالی : ح ، خ ، د ، ر ، ع ، غ ، ل ، ن ،ی
مشترک : ت، ث ، ج ، ز ، س ، ص ، ض ، ظ ، ق ، ک
ہمارا یہ موضوع ابھی جاری ہےانشاء اللہ اگلےلیکچر میں اس کومکمل کریں گے تب کےلئے اس دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو آسانی عطا فرما ئےاور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطافرمائے ، آمین . اللہ حافظ.


Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 06
Breathing Science(علم النفس)
السلام وعلیکم : PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
عزیزطلباء وطالبات ہم جب بھی کسی روحانی علم کےحاصل کرنےکےلئےکسی استاد کے پاس جاتےہیں تواستادسےپہلےاپنےشاگرد کو سانس کی اہمیت کے بارےمیں بتاتےہیں کہ سانس کی مشقیں روحانی علوم کے حصول کےلئے کیوں ضروری ہوتی ہیں.
ماورائی علوم سیھکنے کےلئے مضبوط اعصاب اور طاقتوردماغ کی ضرورت ہوتی ہے. اعصاب میں لچک پیدا کرنے ، دماغ کومتحرک رکھنےاورقوت کارکردگی بڑھانےکےلئےسانس کی مشقیں بےحد مفید اور کارآمدہیں.ماورائی علوم کا طالب علم جب سانس کی مشقوں پرکنڑول حاصل کرلیتا ہے تودماغ کےاندرریشوں اور خلیوں کی حرکات اور عمل میں اضافہ ہوجاتا ہےانرمیں سانس روکنےسےدماغ کےخلیات چارج ہوتےہیں جوانسان کی خفیہ صلاحیتوں کوبیدارہونے ، ابھرنے اور پھلنےپھولنے کے بہترین مواقع فراہم کرتےہیں. ماہرین روحانیت نے سانس کی مشقوں کے قاعدےاورطریقےبنائےہیں. اگران طریقوں پرعمل کیاجائےتو بہت سارےروحانی اورجسمانی فوائد حاصل ہوتےہیں.
یہ بات واضح ہےکہ زندگی کا دارومدارسانس کےاوپرہےانسانی زندگی میں وہم ، خیال ، تصورادراک اوراحساس سب اس وقت تک موجود ہیں جب تک سانس کا سلسلہ جاری ہے. سانس کے ذریعہ ہی آدمی کے اندر صحت بخش لہریں داخل ہورہی ہیں اورجسم میں جذب ہورہی ہیں سانس کی مخصوص مشقیں دراصل دوران خون کو تیزکرتی ہیں ، دماغی صلاحیتوں کواجاگرکرتی ہیں اور برانگیختہ جذبات کو ٹھنڈا کرتی ہیں اور کسی عمدہ مصفی خون دواکی طرح خون کوصاف کرتی ہیں. سانس کی مشقوں سےآدمی تقریباًاپنی ہربیماری کا علاج کرسکتاہے. مثلاً نسیان کامرض ، پیٹ کے جملہ امراض ، معدے اور آنتوں میں السر، قبض ، نزلہ ، زکام ، سردرد ، مرگی اوردوسرےقسم کےدماغی دورے ، بینائی کی کمزوری وغیرہ وغیرہ. سانس کی مشقوں کوعلاج قاعدوں کے مطابق اگر پابندی وقت کےساتھ انجام دیاجائے تو سینہ ، گلےاور ناک وغیرہ کےامراض بھی ازخود ختم ہوجاتےہیں. یہ بھی دیکھا گیا ہےکہ ساٹھ سترسال کے بوڑھے لوگ جہنوں نے سانس کی کسی منتخب مشق کواپنا معمول بنالیا ہے وہ نوجوانوں کی طرح ہشاش بشاش اور تروتازہ زندگی گزارتےہیں. آخری وقت میں انکی کھال جھریوں سے محفوظ رہتی ہے. ثپرمردگی اورافسردگی ان کے قریب نہیں پھٹکتی. جوحضرات روحانی استاد کی نگرانی میں سانس کی مشق پابندی وقت کےساتھ کرتے ہیں ان کے اندر انتقال خیال یا ٹیلی پیتھی کی ایسی قوت پیدا ہوجاتی ہے کہ پھتراوراینٹ کی دیواریں باریک کاغذ کی طرح نظرآتی ہیں.دورپرے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں. شخص سامنے آتا ہے اسکی سوچ اوراس کے خیالات ذہین کی اسکرین پر منتقل ہوجاتےہیں.
سانس کی مشقوں کے دوران بڑے عجیب تجربات ہوتےہیں جو شخص صورت سے پرہیزگار نظرآتا ہے اسکے خیالات کی کثافت سے دماغ متعفن ہوجاتاہے اور جوشخص شکل وصورت کےاعتبار سےزاہداورمتقی نہیں ہوتا ہےاس کے خیالات کی روسبک ، ہلکی اور معطر محسوس ہوتی ہے. لیکن ان تمام کیفیات کے حصول کے کئے ضروری ہے کہ ان مشقوں کوکسی استاد کی نگرانی میں کیاجائےاور مستقل اور باقاعدگی بہتر نتائج کے حصول کے لئے لازمی ہے.
جنگل میں پہاڑکی چوٹیوں پر دھونی رمائےجوگی بیٹھےرہتےہیں. سخت گرم کوکے تھپیڑےان کا بال بیکا نہیں کرسکتے، سردی ، گرمی ، چاند ، سورج کےسائےتلےزندگی گزارتےجاتےہیں. ننگابدن ، بھبھوت میں آلودہ موسم کی سختی برداشت کرتا ہے ، سردی میں پانی جم کر برف بن جاتا ہےایسے وقت میں یہ لوگ کوئی جائے پناہ تلاش نہیں کرتے اور مزے سے دھونی رمائے بیٹھےرہتےہیں.
علم سرزمانہ قدیم سے جوگیوں اور سادھوؤں میں مقبول ہے ان کے پاس کوئی شخص سوال پوچھنے جائے توفوراً سردیکھ کرجواب دیتے ہیں لوگ سمجھتےہیں عامل ہیں. ہمزادقابوکررکھاہےیاکسی مہمان دیوی کاپجاری ہے جو ہربات درست بتادیتاہے.مگراصل بات یہ ہے کہ یہ عامل سروں کے ماہرہوتےہیں اوران کوسروں کےعلم پرعبورحاصل ہوتا ہے. ناک کےسیدھے نتھنےکوسورج سر سےمنسوب کیا جاتا ہےاوربائیں کوچندرسرکہاجاتاہے.ناک کےسامنے ہتھیلی رکھیں تومحسوس ہوگا کہ ایک نتھنا بندہےاوردوسراجاری. یہ باری باری تبدیل ہوتےہیں. ہرگھنٹےبعد سر بدلتا ہے.طلوع آفتاب کے وقت سورج سرڈھائی گھڑی چلتاہے.جدھرکانتھنا جاری ہواسےچلتا سر کہتےہیں.
سیدھےاورالٹےنتھنےسےسانس جاری ہواسے سکھمناسر کہتےہیں.جس وقت یہ سرجاری ہودنیا کا کوئی کام نہیں کرناچاہیئے. یہ عبادت کا وقت ہے. عبادت کرتےوقت بعض دفعہ بڑالطف آتا ہے. مقامات کھلتےہیں اورو رحجابات کے پردےدور ہوجاتےہیں. دوزانوں بیٹھ کرذکرکیا جائےاورودونوں نتھنے برابرہوں توعمل جلدی اثرکرتاہےقلب جاری ہوجاتاہے.رگ وپےمیں ذکرسرایت کرتا ہے اور عامل ہی اس کا لطف جان سکتا ہے “صلی اللہ علیک یا محمدٌ” سانس کے ساتھ پڑھا جائے اور مداومت کی جائے تو عمل کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے یہ خدا کا خاص فضل ہے.
سورج سرمیں سفر کرنا نیک شگون ہے کسی بڑےافسر سے کا ہواور وہ نہ کرتا ہوتو آپ سورج سرمیں اس سے ملاقات کریں. آپ طبیب ہیں تواس سرمیں بیمارکودوادیں خاص اثرکرےگی. کسی بلند جگہ چڑھیں تو سورج سرمیں تاکہ کوئی نقصان نہ ہو. کوئی بھی علم حاصل کرنا چاہیں. کیمیاء ہویا سیمیاء ہوتو آپ اس سرمیں مطالعہ کریں فائدہ ہوگا. دشمن سے مقابلہ ہوتو سورج سرمیں دوبدوہوں.
چندرسریعنی بایاں سرچلتے وقت دھیان رکھیں. کھیتی باڑی کریں.باغ لگائیں ، پودے لگائیں ، مکان کی بنیاد کھودتے وقت چندرسرجاری ہوتومکان ہرآفت سےمامون رہتا ہے. کوئی جانورخریدیں تووہ بھی مفید ثابت ہوگا. شادی بیاہ کرنا ، رشتہ طے کرنا اسی سرمیں اچھےہوتےہیں. دکان صبح سویرےاسی سرمیں کھولی جائے تو بکری زیادہ ہوتی ہےتجارت کاارادہ ہواورچندرسرمیں شروع ہوتوکاروبارمیں چارچاند لگ جاتےہیں.دشمنوں کامنہ کالاہوتاہے.زیور ، روپیہ اسی گھڑی میں محفوظ کریں تو چوروں سے محفوظ رہتا ہے. زیورنیا بنوائیں اور چندر سر ہوتوزیورپہننےوالا ہمیشہ خوش رہےگااورسونےمیں اضافہ ہوتاچلاجائےگا.
علماء روحانیت کا کہنا ہےکہ بیماری سے بچنا اور طویل عمرپانا چاہتےہو، ہرزہرسے محفوظ رہنا چاہتےہوتو کھانا جب بھی کھاؤ تو سورج سرمیں اورپانی پیوتو چندسرمیں. دن کے وقت چندرسرجاری رکھا جائے تو ایسا شخص لمبی اور تندرست زندگی پاتا ہے.
ان سروں میں عجیت وغریب اثرات پہناں ہیں. اپنی مرضی سے اولاد پیدا کرسکتےہیں . جسم کے روگ دور کرسکتےہیں بڑےبڑے پہلوان سے مقابلہ کیا جائے تو سر کی وجہ سے غالب آسکتےہیں. سردی اور گرمی سے پیدا ہونےوالی بیماریوں کا علاج ہوسکتا ہے. سردی کی بیماری ہوتو سورج سرجاری رکھا جائے. چندروزکی مداومت سے مرض ختم ہوجاتا ہے. گرمی کی بیماری چندرسرسے ٹھیک ہوجاتی ہے. اسی طرح کچھ لوگ ٹھنڈی گرم چیزوں سےالرجک ہوتےہیں. اپنی بیماری کا پتہ کرکے گرم چیزوں کا استعمال چندسرمیں کیا جائےاور سرد چیزیں سورج سرمیں کھائی جائیں تو کبھی نقصان نہیں ہوتا.
سر کی تبدیلی کئی طریقےسے ہوتی ہےاگرسورج سر چلانا چاہیں تو بائیں کروٹ لیٹ جائیں، سر جاری ہوجائےگا، چندسرکےلئےسیدھی کروٹ لیٹیں یا نتھنےمیں روئی لگالیں.اس سے بھی سر بدل جاتا ہے اور آپ حسب میشاء کام لےسکتےہیں.
سروں کاایک بھیداورہے جوسرپانچ گھڑی ہےاس میں پانچ تتودورہ کرتےہیں ایک تتو ایک گھڑی رہتا ہے کوئی آکرسوال کرے اور کچھ پوچھنا چاہےتودیکھیں کون سے تتواورسرکادورہ ہےاور پھر جواب دیں جع صحیح ثآبت ہوگا.
پانچ تتوہیں اوران کے پانچ رنگ سامنے رہتےہیں عامل اسی طرح جواب دیتے ہیں ناک پرہاتھ رکھا سر معلوم کیا…… تتوکادورہ دیکھا……. اور بتادیا . وایو، اگنی ، جل ، آکاش ان کے نام ہیں. پہلے دیکھا کون سا سر جاری ہے ناک سے کتنے انگل کے فاصلے پرآتا ہے ایک انگل کے فاصلہ پرہوتو اگنی تتو ہے آٹھ انگل پروایو ، بارہ انگل پر تھوی اور سولہ انگل پرجل تتو ہوتا ہے. آکاش کا رنگ روشن ، وایو کا رنگ سبز ، گنی کا سرخ ، جل کا سفید ، تھوی کا سبز رنگ ہے جو باری باری دورہ کرتےہیں.
سر تین طرح کے ہوتےہیں……. بائیں نتھنے سے سانس آئے تو ایڑا کہتےہیں ، دایاں نتھنا جاری ہوتو نگلا کہتےہیں . دونوں نتھنے جاری ہو تو سکھمنا بولتےہیں.
صبح اٹھ کردیکھیں کونسا سر چلتا ہے، جدھر کا سر چلے یتن باراللہ کا نام ایک سانس میں پڑھ کے اس طرف کے ہاتھ کی ہتھیلی کا بوسہ لے، تمام دن امن وامان سے گزرےگا.
کہیں کام سے جانا ہوتو دیکھئے کونسا سر جاری ہےاگر کسی دوسرے شہر جانا ہواور کامیابی کی نیت ہوتو سورج سر میں گھرسے قدم باہر نکالے فتح ہوگی. سکھمنا سر میں کسی کے پاس کام سے نہ جائیں کام نہیں ہوگا. افسران بالا توجہ نہیں دیں گے،. تھوڑا سا تو قف کرے اور جب تک سکھمنا سرجاری رہے پاک صاف ہو کر عبادت میں مصروف رہے اور دوسرا سر جاری ہونےکےگھر سے نکلے.
کسی جگہ ضروری جاناہو، وقت مقرر ہوتو دیکھئے چند سرہے یا سورج سر. جس طرف کا سروہی قدم اٹھائے اور سات قدم چلے مقصد میں کامیابی ہوگی. جو اس علم کے عامل ہیں وہی اسکی حقیقت سے آگاہ ہیں.
کوئی دوااثرنہ کرتی ہواور دن بدن حالت خراب ہو. الٹا سانس چلتے وقت دواکھلایئں، مریض کی گرتی حالت سنبھل جائے گی. کام کرنےسے تھکن ہو ، کوئی غم واندوہ ہو غشی ہو ، دل ڈوبنے لگے تو فوراً قمری سانس جاری کرلیں. انجکشن کی طرح فوری فائدہ ہوگا، دل ٹھہر جائےگا اور قوت حیات دوبارہ آتی معلوم ہوگی.
جہاز ، زیل ، کشتی میں سوار ہوتے وقت سیدھا نتھنا جاری کرلیں سارا سفر بخریت گزرے گا خون خراب ہوگیا ہو ، پھوڑے پھنسیاں نکلتی ہوں یا مہاسے ہوں ، سورج نکلتے وقت اونچی جگہ کھلی ہوا میں کھڑے ہوجایئں زبان کی نوک اوپروالے دانتوں کی جڑ میں دبالیں ، تتھنوں سے ہوا اندر کی طرف پوری طاقت سے کھینچیں، پھر آہستگی سے باہر نکال دیں.روزانہ صبح پندرہ منٹ اسطرح کریں شام کو سورج غروب ہوتے وقت یہ مشق دہرائیں، چند روزمیں خون صآف ہوجائے گا اور پھوڑے پھنسیاں ٹھیک ہوجائیں گے. چہرےپرداغ دھبے جھائیاں ختم ہوجائیں گی. امید ہےکہ علم النفس کی یہ معلومات آپ کو پسندآئی ہونگی انشاءاللہ زندگی رہی تو اس موضوع پر مذید بات کریں گے تب تک کے لئےاس دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو آسانی عطا فرما ئےاور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطافرمائے ، آمین . اللہ حافظ.


Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
(LECTURE NUMBER 03 (Part 02
روحانیت کے بنیادی اصولوں (Fundamental of Spirituality)
السلام وعلیکم : PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
ہمارا گزشتہ لیکچرروحانیت کے بنیادی اصولوں سے متعلق تھا چونکہ پچھلےلیکچرمیں بات نامکمل رہ گئی تھی لٰہذا آج کے لیکچرکا آغاز وہیں سےکرتےہیں جہاں سے پچھلے لیکچرکا اختتام کیاتھا. روحانیت کے بنیادی اصولوں میں میں نے سات پوائنٹ لکھوادیئے تھے اب آٹھویں پوائنٹ سےآج کا لیکچر شروع کرتےہیں.
8- حروف اور منازل قمر :‌ علمائے روحانیت وعملیات نےعربی حروف کو قمرکی اٹھائیس منزلوں پر تقسیم کیا ہےان کی بھی ضرورت ہوگی.تفصیل بیان کررہا ہوں. اس کونوٹ کرلیئجےاگر چارٹ دیکھنا ہو تو بلاگ میں جا کر دیکھ لیں وہاں آپ کو مکمل چارٹ بنا ہوا مل جائےگا.
1 2 3 4 5 6 7 8 9
شرطین بطین ثریا دیران ھقعہ نہفہ ذراعہ نثرہ طرفہ
ا ب ج د ہ و ز ح ط
10 11 12 13 14
حیتہ زہرہ صرفہ عوا سماک
ی ک ل م ن
15 16 17 18 19 20 21 22 23
غفرہ زبانا اکلیل قلب شور نعام بلدہ ذابع بلعہ
س ع ف ص ق ر ش ت ث
24 25 26 27 28
سعود رخبیہ مقدم موخہ رشا
خ ذ ض ظ غ
حروف نوارنی : عربی ابجد میں 14 حروف نوارنی ہیں اور قراں کی 29 سورتوں کی ابتدامیں جو حروف مقطعات ہیں وہ بھی نوارنی ہیں جن لوگوں پران چودہ حروف کےاسرارمنکشف ہوجاتےہیں وہ علم الدنی کے حامل ہوتےہیں.
14 حروف نورانی یہ ہیں . ا،ح ، ر ، س ، ص، ط ، ع ، ق ، ک ، ل ، م ،ن ، ہ ، ی
10 – حروف ظلمانی : عربی حروف تہجی میں حروف ظامانی بھی چودہ ہی ہیں اوران کے بھی بےشماراسرارہیں قرآن پاک میں یہ حروف بھی کثرت سےآئےہیں ان حروف سے بھی علم کی بہت سی شعاعیں پھوٹتی ہیں جنکی تفصیل پھرکبھی بتاؤں گا.
حروف ظلمانی یہ ہیں : ب ، ت ، ث ، ج ، خ ، د ، ذ ،ز ، ش ، ض ، ظ ، ع ، ف ،و.
11- زکوٰۃ حروف تہجی : قواعد عربی کے 28 حروف تہجی علمیات کی دنیا میں مشہور ہیں علماء روحانیات نے ہرحروف کے ساتھ ایک مؤکل منسوب کیا ہے اس لئے عامل کو چاہیئےکہ کسی اسم یا آیت کی زکوٰۃ سے پہلے حروف تہجی کی زکوٰۃ ادا کرے جیسا کہ آپ کے علم میں ہے زکوٰۃ کے گیارہ طریقےہیں لیکن دوزیادہ مشہورہیں یعنی زکوٰۃ اکبر اورزکوٰۃ اصغر. حروف تہجی کی زکوٰۃ اصغر کا طریقہ یہ ہےکہ ایک نشست میں ایک حروف کی زکوٰۃ کےلئے5995 مرتبہ اس زکوٰۃ کوبامؤکل پڑھیں اورزکوٰۃ اکبر کےلئےایک حروف کو اٹھائیس دن تک 5995 مرتبہ پڑھیں. منازل قمری سے منسوب حروف ابھی بتا چکاہوں اب حروف سے منسوب مؤکلات بتارہاہوں ان کو نوٹ کرلیں اگر چارٹ دیکھناچاہیں تو بلاگ میں جا کردیکھ لیں.
ا ب ج د ہ و ز
اسرافیل جبرائیل کلکائیل دردائیل دورائیل رفتمائیل شرفائیل
ح ط ی ک ل م ن
تنکفیل اسمائیل سرکتیائیل حروزائیل طاطائیل رومائیل حولائیل
س ع ف ص ق ر ش
ھمواکیل لومائیل سرحمائیل اھجمائیل عطرائیل امواکیل ہمرائیل
ت ث خ ذ ض ظ غ
عزرائیل میکائیل مہکائیل اھرائیل عطکائیل تورائیل لوفائیل
طریقہ : جس حروف کی زکوٰۃ دینی ہو اس حرف کو اس وقت ادا کریں جب قمراس منزل میں ہو . مثلاً حروف الف کا مؤکل اسرافیل ہے تو زکوٰۃ ے لئے یوں پڑھیں. اجب یااسرافیل سجق یا الف
(12) تعویذ لکھنے کےاصول :
(1) عامل غسل کرکےپاک صاف ہو ، باوضو ہو اور خوشبو لگائے.
(2) تعویذ کا خاکہ اور دیواریں تیارکرے. قولہ ، الحق ، ولہ ، الملک سے اوپر بسم اللہ لکھے پھر چاروں مؤکل جبرائیل ، عزرائیل، میکائیل ، اسرافیل لکھے ، دائیں طرف کٰھٰیعص اوپر المص بائیں طرف حمعسق اور نیچے طس لکھے ، پھر چاروں شمکا ئیل ، شقفیائیل ، لوبیا ئیل ، نقطشائیل لکھے
(3) بیماری یا سحر کے علاج کے لئے علاج تعویذ لکھنا ہوتوخوشی ونرمی سے لکھے.
(4) اگر مرد عورت سے دوستی کا خواہاں ہو تو مردکاناہ پہلے لکھے.
(5) ناپاک مقام پر جاتے وقت تعویذ اتار دینا افضل ہے ورنہ اوپر غلاف ہویا موم جامہ ہو.
(6) جس تعویذ یا عمل میں خدا کا نام نہ ہوسے نہ لکھے نہ پڑھے اگر حدیث نبویٌ سے ثابت ہو تو مضائقہ نہیں.
(7) ہروہ عزیمت پڑھنا جائز ہے جس میں دیوی ، دیوتاؤں یا پری وغیرہ کا نام م نہ ہو.
(8) کسی پر سحر یا سفلی عمل ہرگزنہ کریں.
(9) عمل یا تعویذ کا ہدیہ لینا جائز ہے ، حدیث نبویٌ سے ثآبت ہے.
(10) اگر کسی نے عامل سے کام نہ کروایا ہو یا ہدیہ نہ دیا تو حسب توفیق خیرات کردے.
(11) تعویذ لکھتے وقت کسی سے بات نہ کریں ینہا مقام پر بیٹھیں.
قوائد نقوش :
(11) عمل حب اور تمام سعداعمال میں نقوش کے لئےمربع ، مسدس ، شمن ، عشر یا اثناء عشراستعمال میں لائیں.
(12)عمل بغض اور تمام نحس اعمال میں مثلث ، مخمس ، مسبع ، مستع احد عشراستعمال میں لائیں.
(13) ایمان مجمل : (ترجمہ) میں ایمان لایا اللہ پر جیسا کہ وہ اپنے ناموں اور اپنی صفتوں کے ساتھ ہے اور میں نے اس کے سارے احکام قبول کئےزنان سے اور دل سے یقین ہے.
(14) ایمان مفصل : (ترجمہ) میں ایمان لایا اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر.
(15) شعورانسان کی حالت بیداری میں کام کرتا ہے اس پر زمان ومکان کی پابندیاں مسلط رہتی ہیں جبکہ لاشعور ، حالت خواب میں یا حالت نماز میں (اگر صحیح معنوں میں نمازی ہو تو) کام کرتا ہے اس پر زمان ومکان کی قید نہیں ہوتی ان باتوں کا تذکرہ قرآن حمید میں بارہاکیا گیا ہے صرف سمجھنے والے ذہن کی ضرورت ہے.
(16) قوت خیال : انسان دنیا میں نیک و بد جو بھی کام کرتا ہے وہ قوت خیال کے ذریعے ہی کرتا ہے ثابت ہوا کہ انسان میں قوت خیال کا جو ہرسب سے زیادہ ہے خدائے بزرگ و برترے خیالات کا میدان انسان کے لئے بہت وسیع کردیا ہے تاکہ انسان چشم زدن میں کڑوروں مختلف منازل کی مسافت طے کرکے مقام اصل پرواپس آسکے. لیکن یادرکھئے قوت خیال کی کامیاب کا زینہ قوت ارادی ہے قوت خیال کی طاقت بڑی پرتاثیر اور سریع الاثر ہے.
(17) خواہشات سے انحراف : جو لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے دل میں علم الہی کا ظرف ہونے کی صلاحیت پیدا ہو تو چاہیئے کہ اللہ تعالی کے احکام و افعال کا احترام کرتے ہوئے اپنی خواہشات و لذت کو فنا کردیں. جب یہ کیفیت ہوجائے گی تو قلب مطمئن ہوگا. سینہ فراخ ہوگا چہرہ پرنور ہوگا ، اور اللہ تعالی خود علم سکھائے گا. توحید قلب و دماغ میں راسخ ہوجائےگی. اور قرب الہی نصیب ہوگا.
(18) مشرکانہ عقائد : یہ وہ عقائد ہیں جن میں اللہ تعالی کے ساتھ شرک کیا جاتا ہے اور اللہ کی صفات کسی اور میں ڈھونڈی جاتی ہیں. اللہ تعالی وحدہ لاشریک ہے اس کا علم تمام چیزوں پر محیط ہے. اللہ تعالی فرماتا ہے میں ہر گناہ معاف کروں گا مگر شرک معاف نہیں کروں گا لہٰذا بحیثیت مسلمان ہمیں ہرحال میں شرک سے بچنا چاہیئے اور اللہ تعالی پرایمان کامل ہونا چاہیئے.
(19) مجاہدہ : جب روحانی طالب علم کسی مرشد کامل کا دامن تھامتا ہے تو مرشد سب سے پہلے توبہ کرواتا ہے کیونکہ مجاہدہ کی ابتداء توبہ سے ہوتی ہے، قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے (ترجمہ) “اور جس نے ہماری راہ میں مجاہدہ کیا توہم اس کو اپنی راۃ دکھائیں گے اور بلاشبہ اللہ ان کے ساتھ ہے جو احسان کی راہ چلتےہیں”. ایک اور جگہ ارشاد باری تعالی ہے (ترجمہ) “اےانسان ! تجھے اپنے رب تک پہنچنےمیں کوشش کرنی چاہیئے، پوری طرح جان توڑ کوشش پھرتو اس سے جاملے گا” اسی وعدہ زبانی پر طالبان حق مجاہدہ کرتےہیں اور مراد کو پہنچنتےہیں.
(20) تزکیئہ نفس : توبہ کرنے کے بعد نفس کی اصلاح ضروری ہے جسےعرف عام میں تزکیئہ نفس کہا جاتا ہے. نفس کی بڑی بڑی خرابیاں ، سفا کی ، غرور ، کینہ ، ریاکاری ، شہرت پسندی ، بے وقوفی ، بد تمیزی ، چھچھوراپن وغیرہ سے ہرممکن طرح سے چھٹکاراحاصل کرنا چاہیئے اور نفس کی شرارتوں کا ہمت اور استقامت سےمقابلہ کرنا چاہیئے.
(21) ذکرلسانی : ذکرلسانی سے مراد نماز ، استغفار ، استعانت ، کلمات طیبہ ، آیات قرآنی تسبیح اور تلاوت کلام مجیدہیں ان اذکارکی مداومت ہرکسی پر لازم ہے انہیں کسی حال میں ترک نہ کیاجائے قرآن مجید تو ہمیشہ مسلسل اور ترتیب سے پڑھنا افضل ہے لچھ لوگ چند سورتوں کو مخصوص کرکےروزانہ پڑھتےہیں اور کلام الٰہی کے دوسرےحصوں کو نظرانداز کردیتےہئں اور کوشش کریں کہ قرآن پاک کی تلاوت جب بھی کریں ساتھ میں اسکا ترجمہ بھی پڑھیں. انشاءاللہ مسلسل اس عمل سے قرآن آپ پر کھلنا شروع ہوجائے گا. ایک اور جگہ اللہ تعالی قرآن پاک کو سمجھانے کی دمہ داری اپنے اوپر لیتا ہے بس اخلاص شرط ہے . میرا خیال ہے کہ آج کے اس لیکچرکو یہیں پر ختم کرتے ہیں ، روحانیت کےبنیادی اصول اب بھی مکمل نہیں ہو پائے. انشاءاللہ کوشش کروں گا کہ اگلےلیکچر میں روحانیت کے بنیادی اصول مکمل کردیئے جائیںگے. بہرحال اب اس دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو آسانی عطا فرما ئےاور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطافرمائے ، آمین . اللہ حافظ.


Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
(Lecture Number 1 (General
! معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
عزیز دوستوں :آج ہمارا دوسرا لیکچر ہے لیکن درحقیقت ہومیوپیتھی کے حوالے سے ہمارا آج پہلا لیکچر ہے کیونکہ پہلے لیکچر میں صرف چینل کا تعارف کرایاگیا تھا جبکہ آج سے ہم با قاعدہ ہومیوپیتھی کے علم کا آغاز کر رہے ہیں ہومیوپیتھی ایک ایسا علم ہے جو بڑے بڑے حکماء اور فلسفی کا سرمایہ ہے میری مراد ان اطبائے یونان مثلاً بقراط، ارسطو اور جالینوس وغیرہ سے ہے انہیں حکیم یا بقراط اس لئے کہا جاتاہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حکمت یا فلسفہ کو سب سے پہلے اپنایا حکمت یا فلسفہ سے کیا مراد یے؟
اس بارے میں ایک جملہ مشہور ہے کہ ”موجودات کے حالات کا انسانی طاقت کے مطابق جاننا اور اس پر عمل کرنا” یہی حکمت یا فلسفہ ہے غور طلب بات یہ ہے کہ عمل کو حکمت کے معنوں میں شامل کیا گیاہے حکماء اسلام نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے بہت سے دلائل دیئے ہیں جن میں سے سب سے موزوں یہ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کلام پاک میں فرماتا ہے (ترجمہ):” جسے حکمت دی گئ اسے خیر کثیر عطا ہوئ” خیرکثیر سے مراد چاہے دنیاوی مال و دولت دی جائے یا جنت الفردوس دونوں کے لئے عمل درکار ہے لہٰذا حکمت سے مراد صرف موجودات کا علم نہیں بلکہ عمل بھی لفظ کی وسعت معنی میں داخل ہے
لہٰذا طبائے قدیم نے جہاں دیگر علوم میں کمال و مرتبہ حاصل کیا وہاں طب کی دنیا میں بھی ان کا نام تا قیامت زندہ و جاوید رہے گا بقراط نے علم طب کو اس قدر عروج دیا کہ ابوالطب اور پیتھوس کی ترکیب سے بنا ہے ہومیوس کے معنی بالمثل کے ہیں اور (Homoeos) پیتھوس کے معنی ہیں طریقہ علاج یعنی ہومیوپیتھی سے مراد وہ طریقہ علاج ہے جس میں بالمثل ادویات سے شفا حاصل کی جاتی ہے یعنی جس میں امراض کے بالمثل ادویات استعمال کی جاتی ہیں یعنی مرض کو دور کرنے کیلئے ایسی دوا دی جاتی ہے جس کی علامت تندرست انسان کے اس دوا کے کھانے سے پیدا شدہ علامات مرض کی علامات سے مشابہ ہوں اس نظریہ کو لاطینی زبان کے مشہور جملے سمی لیا سمی لیبس کیورینٹر سے ظاہر کیا جاتا ہے جس کا انگریزی ترجمہ:
ہے اور اردو میں علاج المثل بالمثل کہا جاتا ہے (Let Likes Be Treated By Likes) جوکہ مخفف ہو کر علاج بالمثل رہ گیا ہے علاج با لمثل کا خیال انسان کے دل میں پہلی مرتبہ کب پیدا ہوا اس کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے مگر اتنا پتہ چلتا ہے کہ بقراط نے اس نظریہ کا کچھ یوں کیا تھا کہ کھانسی کا علاج اس دوا سے ہوسکتا ہے جو کہ کھانسی پیدا کرتی ہے یہ الگ بات ہے کہ اس امام طب نے اس طریقہ علاج کو یا اس نظریہ کو عملی جامہ پہنا کر رواج نہ دیا مگر اس کے باوجود اس قانون قدرت کا بانی بقراط ہی کو ماننا پڑتا (Samuel ہےعلاج بالمثل یعنی ہومیوپیتھی کو رائج کرنے والے ایک جرمن ڈاکٹرسیموئیل ہنیمن Hahnemman) تھے
ان کی سوانح حیات انشاء رحمتہ اللہ اگلے لیکچر میں بتاوَ نگا تب تک کے لئے اجازت دیجئے اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
(Lecture Number 2 (General
(Life of Hahnemman) ہینیمن کی زندگی کے مختصر حالات
!معززنا ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
ڈاکڑسیموئیل ہنیمن سن 1755ء میں جرمنی کے ایک علاقے سیکسنی میں پیدا ہوئے آپ کے والدین نہایت غریب تھے معاشی حالات خراب ہونے کی وجہ سے زیادہ تر گھر پر علم طلب کا مطالعہ کرتے تھے اور گزر بسر کے لئے لڑکوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتے تھے سن 1779ء میں یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی مگر اس وقت موجود طریقہ علاج یعٰنی علاج بالضد (ایلوپیتھی) کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے لہٰذا آپ نے پریکٹس چھوڑدی اور گزربسر کے لئے میڈیکل کی کتابوں کے ترجمے کرنے شروع کردیئے یہ 1790ء کی بات ہے جبکہ وہ ایک اسکاچ پروفیسر ڈاکٹر کیولن کی میڑ یا میڑیکا با جرمنی میں ترجمہ کر رہے تھے دوران ترجمہ جب وہ سن کو نا بارک کے خواص کی بحث تک پہنچے تو یہ پڑھ کر تجسس کا شکار ہوگئے کہ سن کونابارک ملیریا بخار کو دور کرتی ہے ان کو خیال آیا کہ سن کونابارک ملیریا بخار کو کیسے دور کرتی ہے آپ نے سن کونابارک خریدی اور حالت صحت میں کھانا شروع کردی سن کونابارک کے استعمال سے ہنیمن کو سردی لگ کر بخار چڑھ گیا جس سے انہیں یہ معلوم ہوا کہ جب تندرست انسان سن کونابارک کھالیتا ہے تو ملیریا بخار جیسی علامات پیدا ہوجاتی ہیں اسی طرح دیگر ادویات کے بارے میں بھی ہنیمن کو یہ خیال گزرا کہ ممکن ہے جو دوائیں کسی مرض کے لئے مفید ہوں وہ تندرست انسان میں اسی مرض کی علامات پیدا کرسکیں با الفاط دیگر ہنیمن نے یہ سوچا کہ جو ادویات کسی مرض کی علامات پیدا کرسکتی ہیں وہی اس کے علاج میں مفید ثابت ہوسکتی ہیں چنانچہ مشاہدات اور تجربات ہنیمن کے اس نظریئے کی حقانیت کے شاہد ہیں
ہنیمن نے ادویات کے خواص کو تجربات کی مدد سے نوٹ کرنا شروع کیا آپ کا طریقہ کار یہ تھا کہ اپنے شاگردوں کو انفرادی طور پر دوائیں کھلاتے اور ساتھ ہی یہ ہدایت کرتے کہ ہر شخص ان کے اثر کو اپنے اوپر غور کرکے تحریر کرتا جائے اس طرح ہنیمن اپنے شاگردوں کے تجربات کو اکٹھا کر کے اپنے ذاتی تجربے سے مقابلہ کرتے اور جو علامات سب کے تجربات میں یکساں نظر آتیں انہیں دواوَں کے خواص میں درج کرلیتے
جب ہنیمن کو تحقیقات میں زیادہ تقویت ہوئ تو 1806ء میں ہوفیلڈ کے ایک رسالے میڈیسن آف ایکسپیریئنس میں ایک مضمون شائع کیا جس میں اپنی نئ ریسرچ پر روشنی ڈالی 1810ء میں ایک کتاب آرگینن شائع کی اس کتاب میں ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس کے قوانین دفعہ دار بیان کئے گئے اس میں کل 292 دفعات ہیں بعد میں آپ نے خواص الادویہ (Materia Medica Pura) کے حوالے سے دو جلدیں مٹریا میڈیکا پیورا کے نام سے شائع کیں اور ایک رسالہ کرانک ڈیسیز پرانے امراض کے بارے میں تحریر کیا
ہنیمن نے ان تکالیف کو نظرانداز کرتے ہوئے جو انہیں ہومیوپیتھک طریقہ علاج کے پھیلانے میں پہنچائ گئیں بڑی جانفشانی اور استقلال کے ساتھ اپنی تمام تر قوت کو تا حیات ہومیوپیتھک طریقہ علاج کی اشاعت میں صرف کیا ہنیمن نے سن 1843ء میں وفات پائ آپ کی وفات کے بعد آپ کے شاگردوں اور ماہرین فن نے تجربات سے کئ ایک اہم نتائج اخذ کئے مگر یہ سب موجد ہومیوپیتھی ڈاکٹر سیموئیل ہنیمن کے انکشاف کے مرہون منت ہیں اس دعا کے ساتھ آج کے لیکچر کا اختتام کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat