Category Archives: Astrology

Category : Astrology

Astrology With Sami
(Lecture Number 2 (Part 2
علم نجوم کاتعارف(Introduction of Astrology)
علم نجوم اور کاسمک نشریات
السلام وعلیکم
ہماراآج کا لیکچرسے متصل ہےگزشتہ لیکچر میں ہم نجوم کا جوتعارف کروایا تھا اس میں گفتگوزائچہ پرآکررک گئی تھی لہذا ہم آج کا لیکچر یہیں سے شروع کرتے ہیں کہ زائچہ کیا ہے—–؟
زائچہ بنانے کیلئے کسی بھی شخص کی پیدائش، وقت پیدائش اور مقام پیدائش کی ضرورت پیش آتی ہے ان تینوں چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک حسابی عمل کیا جاتا ہے جوکہ انشاءاللہ ہم آ گے چل کر آپ کو سلھائیں گےاس حسابی عمل کے نتیجے میں ہمیں ایک چارٹ حاصل ہوتا ہے جس میں طالع پیدائش، جس کو ہم پہلاگھر قرار دیتے ہیں اور اسی کی تریتب میں بارہ گھر حاصل ہوتے ہیں اوران گھروں میں سیاروں کی موجودگی کا پتہ چلتا ہےیعنی یوں سمجھ لیں کہ صاحب زائچہ کی پیدائش کے وقت زمیں کو مرکزمانتے ہوئے کائنات کی انک ایسی تصور کھیچ لی جاتی ہے جس میں ہماری یہ زمیں مرکز میں ہوتی ہے اور دیگر تمام سیارے 360 ڈگری کے دائرے میں اپنی اپنی جگہوں پر، اپنی اپنی درست ڈگریوں پر موجود ہوتے ہیں.اس حاصل شدہ زائچےکا تجزیہ کرکے صاحب زائچہ کے مستقبل کے بارےمیں پیشگوئیاں کی جاتی ہیں.اس بات کو میں تکنیکی طور پر دوبارہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں.علم نجوم کی تکنیکی معلومات کے مطابق علم نجوم کی بنیادی طور پر دو شاخیں ہیں پہلے میں ہم مخصوص وقت پر کواکب اور بروج کی پوشیش کا ریکارڈ حاصل کرتے ہیں،یہ تمام حسابی عمل پر مشتمل ہوتا ہے دراصل اس ریکارڈ کو زائچہ کہتے ہیں.
علم نجوم میں طلوع برج کو اہم اور بنیادی حیثیت حاصل ہے طلوع برج یا طالع برج کیا ہے زمین کی محوری گردش کے دوران ہر برج تقریباً دو گھنٹہ زمین کے مشرقی افق پر طلو ع رہتا ہے اس طلوع برج کو ہم زائچہ کے پہلے گھر کا نام دیتے ییں بقیہ بروج بالترتیب 2 سے “بارہواں گھر” قرار پاتےہیں.

بروج سے منسوب اشیاء و معاملات،رجحانات و افعال کی طرح زائچہ کے بارہ گھروں کی بھی منسوبات مقرر کی گئی ہیں جس کی روشنی میں پہلا گھر زندگی دوسرا گھر مالی حآلت،غربت،امارت،کنبہ، تیسرا گھر بہن بھائی، چوتھا گھر والدین،پانچواں گھر بچوں،چھٹا گھر بیماری،صحت،ساتواں گھر بیوی،شوہر،آٹھواں گھر موت،نواں گھر مذہب،سفر،دسواں گھر پیشہ، کاروبار،عزت،مرتبہ،گیارہواں گھر دوست،بارہواں گھر دشمنوں سے منسوب کیا گیا ہے.
کسی بھی زائچہ کا تجزیہ طالع برج کی فطرت،”گھروں” میں موجود کواکب اور ان کواکب کا مختلف گھروں سے ایک دوسرے کے ساتھ”نظری” تعلقات کی روشی میں کیا جاتا ہے. یہ علم نجوم کی دوسری شاخ کے ذیل میں آتا ہے اس حصے کو ہم تجزیاتی حصہ کہتے ہیں اس سلسلے میں ہم علم نجوم کے وسیع و قدیم تجزیاتی طریقہ کارکواپناتےہوئے اس کا سمک ریکارڈ پیغام یا راہنمائی کو موصول کرلیتےہیں.جو کہ کواکب اپنے رب کے حکم سے نشر کر رہے ہوتےہیں.
ذیل میں ہم بارہ بروج سے منسوب افراد کی خصوصی شناخت اور چیدہ چیدہ خصوصیات دے رہے ہیں جوکہ یقیناً آپ کے لئے دلچسپی کا باعث ہوںگی.
(1) برج حمل…..! ان افراد میں مینڈھے سے مشابہ عادات آپ کو ملیں گی.یہ لوگ جری،مشتعل مزاج، زندہ دل،لیڈرشپ کے حامل ہوتے ہیں،جسامت کے اعتبار سے اکثر اوسط اور قدرےمختصراً اور چھریرے بدن کے ہوتے ہیں ان کی خاص بات مغروراور خود غرض ہوتے ہیں انکی قوت فیصلہ بہت اچھی ہوتی ہے.
(2) ثور….! بل کی طرح جگالی کرنے کے شوقین ہوتےہیں یعنی خوراک مگراچھی خوراک کےشائق ہوتےانکے دھیمےانداز،خواب ناک آنکھوں، خوبصورت سیاہ بالوں اور بھاری شانوں سے آپ انکو صاف پہچان لیں گے.یہ محبت کرنے والےاور ہر وقت کرنے والے ہوتے ہیں تاہم اشتعال کی صورت میں یہ بل کی طرح ٹکر بھی ماردیتے ییں.اس برج کےآپکو بینک اور مختلف فنانس وغیرہ سے منسلک ملیں گے.
(3) جوزا….! اس کی علامت جڑواں بچےہیں.یہ لوگ زندہ دل،محفلوں کوی رونق، پرمزاح، بے حدباتونی اورذہین ہوتے ہیں.انکی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ انکے چہرے کے دونوں رخ علیحدہ تا ثر رکھتے ہیں انکا چہرہ قد لمبوترا ہوتا ہے. اکثر جرنلزم،پبلشنگ، سیلزمین، ایڈورئزمنٹ اور ڈپلومیٹک پوسٹ پر آپ کی ملاقات جوزا افراد سے ہوسکتی ہے.
(4)سرطان….! اپنی علامت کیکڑےکی طرح آپ ان کےموڈ کے بارے میں کوئی پیشیگوئی نہیں کرسکتے،موڈ میں ہوں تواچھل کود اور شرارتیں بھی کرتے نظرآئیں گے اداس ہوں تو کیکڑے کی طرح خول میں بند ہوکر بیٹھ جائیں گے،گول چہرے،صاف رنگنت، چھوٹےقد ابھرے ہوئے جسم، چھوٹے مگر متحرک بازوؤں سے انہیں پہچان سکتے ہیں. یہ ساحل سمندر اور آثار قدیمہ میں بہت دل چسپی رکھتے ہیں.اکثر لائبریری، نرسنگ،آرکیا لوجی ، ہوٹل مینجننٹ میں آپ سرطان شخصیت سے مل سکتے ہیں.
(5) اسد….! ماہرین نجوم اس برج کوشاہی برج کہتے ہیں اس برج سے منسوب افراد حآکمانہ ذہن رکھتے ییں،ضدی،اصول پسند،وضع دار،مالدار اور لیڈرشپ کے حامل ہوتے ہیں،باوقارچال،چوڑے شانوں اور بےخوف آنکھوں سے آپ اسدشخصیت کو پہچان سکتےہیں.ایگزیکٹو پوسٹ،گورنمنٹ سروسز، فوج اوربزنس وغیرہ سے وابستہ ہوتے ہیں.
(6)سنبلہ….! یہ افراد با سلیقہ،نفیس اور شرمیلے ہوتے ہیں، نفاست کو خاص طور پر پسند کرتے ہیں انکی ایک خاص پہچان یہ بھی ہے کہ ہر معاملے میں نکتہ چینی کرتے اور بال کی کھال اتارتے نظرآئیںگے یہ لمبےقد اور پتلے جسم کے خوبصورت لوگ ہوتے ہیں اکثر مصنفین اس برج کے تحت آتےہیں.نرسنگ،میڈیسن،کمپیوٹر، تصنیف و تالیف اور تعلیم کے شعبہ میں افراد آتےہیں.
(7) میزان….! میزان افراد چھریرے بدن،صاف اور قدرےسرخ رنگت،بھورے اور سنہری بالوں سے پہچانے جاتےہیں ان میں فنکارانہ صلاحیت بہت ہوتی ہے یہ افراد نہایت متوازن دل ودماغ کے مالک ہوتے ہیں.اکثر فنکار،وکلاء،پبلک ریلیشنگ آفیسر میزان میں ملیں گے.
(8) عقرب….! انکی پہچان انکی تیزاورچھبتی ہوئی نگاہیں ہوتی ہیں،یہ افراد غیر معملولی و جدان کے حامل ہوتے ہیں انکی چھٹی حس بہت تیزہوتی ہے اکثر عقربی افراد بائیں ہاتھ سے کام کرتے ملیں گے.یہ فراد عقابی شان کے مالک ہوتے ییں.سخت اصول پسند، مذہبی اور حآسد ہوتے ہیں.اکثرمیڈیسن،سرجری،قصاب،ریسلنگ اور اسٹیل کے کام ملیںگے.
(9) قوس….! یہ افراد بہت پریکٹیکل، باتونی اور قسمت کے دھنی ہوتے ہیں.ان افراد کو مجمع لگا کر تقریر کرنے کا غیر ملکی معاملات پر بے دریغ اپنی معلومات جھارنے اور فرضی غیرملکی سفروں کا حال سنا نے کا بے حد شوق ہوتا ہے،اکثر جج،وکلا،میڈیسن کے شعبے سے وابستہ اور مذہبی عالم وغیرہ بھی ہوتے ہیں.
(10)جدی….! یہ افراد خآموش تنہائی پسند،مادہ پرست،غمگین فطرت اور کا روباری زہن اور انتظآمی امور کے ماہر ہوتے ہیں.اکثر گورنمنٹ سروسز اور انتظآمی امور کی پوسٹ پرآپ جدی افراد کو دیکھ سکتے ہیں.
(11) دلو….! یہ برج خیالات، اچھوتےآئیڈیاز کا برج ہے.آج کا سائنسی دوراسی برج کے ذیل میں آتا ہے.اس برج سے منسوب افراد کو انو کھے کام کر نے کا بے حد شوق ہوتا ہے ان افراد کا مذہب انسانیت کی خدمت اور انسان سے محبت ہے.اس برج کے افراد آپ کو سائنسی تخلیقی اور تحقیقی میدانوں میں ملیں گے.
(12) حوت….! سمندر کے اندر پائی جانے والی مچھلیوں کی طرح حوت افراد بھی اپنی ذات میں بہت گہرے ہوتے ہیں.یہ آرٹ میوزک اور شوبز سے وابستہ ہونا پسند کرتے ہیں.حوت افراد لمبے قد کے ہوتےہیں.یہ افراد جذبات اور احساسات کو خفیہ رکھتے ہیں رومانٹک اور سحر انگیز شخصیت کے مالک ہوتے ہیں.Astrology سے متعلق ہماری آج کی گفتگو یہیں تمام ہوتی ہے. انشا اللہ اگلے لیکچر میں اس موضوع پر مذید بات کریں گے اور آپ کو مذید نئی نئی معلومات سے آگاہ کریں گے فی الحآل اجازت دیئجے اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانی عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی تو فیق عطا فرمائے.امین.اللہ حآفظ.


Category : Astrology

Astrology With Sami
(Lecture Number 1 (Part 01
علم نجوم کاتعارف(Introduction of Astrology)
علم نجوم اور کاسمک نشریات
السلام وعلیکم: Astrology With Sami میں خوش آمدید….!
آج ہم علم سامی کےساتھ میں آپ سے علم نجوم کے موضوع پر گفتگو کریں گے جس میں علم نجوم کا تعارف ایک نئےانداز میں آپ کے سامنے پیش کیا جائےگا.جدید سائنس کے مطابق علم نجوم اندازے کی سائنس ہےیعنی (Science of Judgement) اس بات کوایک مثال سے واضح کرتا ہوں ذراماضی میں جائیے اپنا بچپن یاد کئیجے جب ہم چھوٹے ہوا کر تے تھے اور اچا نک دن کا اجالا کالی گھٹاؤں کے آجا نے سے اندھیرے میں بدلتا تھا تو امی فوراً اوپر دوڑاتی تھیں کہ چھت پراگر کپڑے یا بستر وغیرہ ہوں تو انہیں اٹھاکر اندر کمرے میں رکھ دیا جائے تاکہ بارش سے بھیگ کر یہ خراب نہ ہوجائیں انہیں کیسے پتہ چلتا تھا کہ بارش ہونے والی ہے،مشاہدہ یا (Observation). یعنی بچپن سے ہم یہ دیکھتے آرہے ہیں کہ جب کالی گھٹائیں آتی ہیں تو بارش ہوتی ہے گوکہ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا بعض اوقات بادل چھٹ جا تے ہیں اوربارش نہیں ہوتی لیکن اکثر بارش ہوجاتی ہے اس سے ایک بات اور ثابت ہوتی ہے کہ علم نجوم کوئی غیب کا علم نہیں ہے غیب کا علم تو صرف اللہ تعالی کو ہے یا اللہ اپنی مرضی سے اپنے کسی پیغمبر کو بذریعہ وحی مستقبل کے بارے میں علم دے دے تو اسکی مرضی.بندہ اپنے علم اور مشاہدہ سے بنیاد پر جو اندازے قائم کرتا ہے وہ ہمیشہ سو فیصد نہیں ہوتے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ انداز سو فیصد درست بھی ثآبت ہوئے ہیں لہذا اپنے برسوں کے اس مشاہدے کی بنیاد پر ہم یہ اندازہ قائم کرلیتے ہیں کہ بارش ہوگی بالکل اسی طرح علمائے نجوم نے برس ہا برس کے تجربات اور مشاہدات کے بعد جو اندازےقائم کئے وہی علم نجوم کی بنیاد بنے.علمائے نجوم نے مشاہدہ کیا کہ جب زلزلےآتے ہیں یا قحط پڑتا ہے یا طوفان آتا ہے یا زندگی میں کسی بھی قسم کا کوئی خوشگوار یا نا گوارواقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے تو اس وقت سیارے مختلف بروج میں مخصوص پوزیشن پر ہوتے ہیں.مسلسل مشاہدہ کرنے کے بعد مختلف بروج میں موجودگی کے اثرات کو تحریر کیا گیا اسطرح علم نجوم وقت کے ساتھ ساتھ وسعت پاتا چلا گیا اور آج اپنی انتہائی جدید اور سائنٹیفک شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے تمہید کافی لمبی ہوگئی اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کواکب انسانی زندگی پراثر انداز ہوتے ہیں…..؟اوراگر کواکب انسانی زندگی پراثرانداز ہوتے ہیں تو ہم کسطرح انکی اثر پزیری کو انسان کی فلاح اور بہتری کے لئے استعمال کرسکتے ہیں….؟ یہ سوال اکثر دور جدید کے سلجھے ہوئےاور تعلیم یا فتہ لوگوں کے ذہنوں میں گردش کرتا ہے اس مقصد کے لئے علم نجوم کے فلسفے،مقاصد اور اسکے ماضی اور اسکی عملی تکنیک سے آگاہی ضروری ہے….؟
8000 سال قبل مسیح میں جب انسان کھلے آسمان تلے غیر یقیینی حالات میں گزاراکرتا تھا اس وقت بھی وہ اپنی زندگی پرآسمانی اثرات شدت سے محسوس کرتا تھا.سورج کی حدت،چاندکی روشنی،چاند گرہن اور سورج گرہن وغیرہ اور اسکی تمام کار گزاریاں ایک نظر نہ آنے والی آسمانی دنیا کے تا بع اور رہنمائی کے لئے آسمان کا مشاہدہ اور مطالعہ اس کا معمول تھا، یہاں سے سمانی برتری کا آہیڈیا اس کے روزوشب میں داخل ہوا.
انسان نے جب آسمان کا مشاہدہ شروع کیا تو اس وقت وہ صرف نظام شمسی کے حرکت پذیراجسام یعنی کواکب کا گرویدہ تھا اور جب اس کا علم ان کے پس منظر میں ستاروں کے جھرمٹ تک پہنچا تو اس نے ان کواکب کی گزرگاہوں کونوٹ کیااور ان کی حرکات کو اپنی زندگی میں پیش آنے والی خوش گوار اور نا گوار صورتحال سے منسوب کیا.جلد ہی اس نے زمینی معاملات کے لئے ایک نظام تیار کیا جس کے تحت وہ زمینی معاملات پر کواکب کی اثر پذیری کے طبیعاتی اثرات کو نوٹ کرتا.مثلاً سورج اورزمین پراگنے والی فصلوں کا تعلق، چاند اور مدوجذر…..! جوکہ خود چاند کی زمین پراٹھنے والےطوفان کے ساتھ ساتھ گھٹتا بڑھتا ہے، سرخ سیارے مریخ کی پوزیشن،اسے جنگ میں اپنی قسمت کا محورومرکز نظرآتی،زہرہ میں محبت اوردلکشی کی قوت دیکھتا تھا.
یہی وہ چند تصورات ہیں جنہوں نے وہ زمین ہموار کی جن پر منجمین نے اپنی فلکیاتی تنظیم کی عمارت استوار کی اور یہ عمارت آج بھی ارتقاء پذیر ہے اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ….! جس کے نتیجےمیں یہ ممکن ہو سکا کہ ہماری زمین اور ہم پربھی…..!! کواکب، شمسوقمرکےپڑنے والے بعض مخصوص طبیعاتی اثرات کو سائنسی رجحانات کے ساتھ ثابت کیا جاسکے.
علم نجوم کا تعلق ستاروں سے کچھ کم لیکن نظام شمسی کے تیرتے ہوئے کواکب سے زیادہ ہے.زمین سے نظرآنے والے کواکبی تعلقات جنہیں علم نجوم کی مخصوص اصطلاح میں نظر یعنی “Aspect” اور ستاروں کے جھرمٹ یعنی بروج سے کواکب کا گزرنا یعنی”Transition” ہی دراصل انسانی کردار کے تشخص و تعین، فردوقوم کے رجحانات، مو سمی حالات، روحآنی اقداراور قدرتی آفات کو جا نچنے کے لئے مر کزی کردارادا کرتے ہیں تا ہم تیکنیکی طور پر اس مقصد کے حصول کے لئے کواکب کی مخصوص وقت پر بالکل درست پوزیشن، انکی “فطرت” انکے باہمی”تعلقات”(Aspects) اورانکے علامات کی روشنی میں زیرغور سبجیکٹ پران کو لاگو کرتے ہیں ان علامات سے نتائج اخذ کرنے کے لئے علم نجوم کی تکنیکی معلومات اور وسیع تر مطالعہ لازمی امر ہے.
یہ ایک قدیم ترین سائنس ہے. گیارہوں صدی میں اس علم کو یورپ میں باقاعدہ اکیڈمک تنظیم میسر آئی اور یورپین یونیورسٹیز میں اس علم کی باقاعدہ تدریس کا آغازہوا.علم نجوم میں بروج اور کواکب بنیادی اہمیت رکھتے ہیں.بروج کیا ہیں…..؟ یہ کس طرح اخذ ہوئے؟ یہاں ہم آپکو اس بارے میں مختصر بتاتے ہیں. بروج دراصل آسمان پر چمکتے ہوئے ستاروں کے وہ جھرمٹ ہیں یا وہ راستے ہیں جن سے گزرتے ہوئے کواکب سورج کے گرد اپنی گردش مکمل کرتے ہیں اصل میں انکی تعداد بارہ سے زیادہ ہے تاہم12 جھرمٹ زیادہ اہمیت کے ہیں علمائے قدیم نے ان کے نام آسمان پر پھیلی ہوئی انکی ہئیت کے مطابق ترتیب دیئے ہیں مثلاً ایک جھرمٹ سے مینڈھے کی شبیہ ابھرتی ہے تو کسی دوسرے سے شیرکی.اسی صورت سے ان کےنام بالترتیب حمل،ثور،جوزا،سرطان،اسد،سنبلہ،میزان،عقرب،قوس،جدی،دلو،حوت رکھے گئے اور بارہ بروج کے سلسلےکو”دائرۃالبروج” کا نام دیا گیا.
بعینہہ ان بروج کی خصوصیات ان کی اشکال کے مطابق تحقیق کی گئیں ساتھ ساتھ شمس و قمر اور دیگر کواکب کے مخصوص اثرات،فطرت اور رجحانات کو نوٹ کیا گیا.اس سائنس کا انحصاردس ہزارسال قدیم تجربات ومشاہدات کی روشنی میں اخذکئے گئے نتائج،اصول و قواعد پر ہے.اور ان ہی نتائج کی روشنی میں انسانی کردارورحجانات،معاملات و عوامل اور موافق اور نا موافق صورتحال میں کواکب کی اثر پذیری کو منسوب کیا گیا.علم نجوم کے بارے میں چند نظریات جو غلط العام رائج ہیں یہاں ہم آپ کے لئے ان کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں عام طورپررسائل و جرائد میں دیئے گئے بارہ بروج کےا حوال اور تفصیل کو علم نجوم سمجھا جاتا ہے یہ تاثر صریحآ غلط ہے کہ ہمارے کرۃارض پر بسنے والےافراد کی تعداد اور بروج کے تناسب کے نتیجےمیں یہ بات سامنےآتی ہے کہ تقریباً45 کروڑافرادایک برج کےذیل میں آتے ہیں جبکہ45کروڑافراد کےمابین ماحول،وراث،رہن سہن کے مطابق رجحانات اوروضع قطع میں وسیع تفریق پائی جاتی ہے.لہذااسکی درستگی پر کوئی شخص کیسے یقین کرسکتا ہےیہ ماہانہ احوال دراصل آپ کے شمسی برج کا ہوتا ہے جوکہ آپ اپنی تاریخ پیدائش کے مطابق پڑھتے ہیں جبکہ علم نجوم کسی مخصوص وقت پرکواکب کی اثر پذیری سےبحث کرتاہے کہ اس وقت کسی بھی درپیش معاملے اور ظہور پذیرواقعات کے بارے میں کواکب کی علامات کیاپیغآمات نشر کررہی ہیں.”سعد”تا”نحس”…..!”پیش قدمی” یا”تاخیر”…..!”سود”یا”زیاں”….!
ان نشریات وپیغامات کو ہم ایک زائچہ بنا کر موصول کرسکتے ہیں اور علم نجوم کے قواعد کی روشنی مییں نشریات وپیغامات کو معنی پہنا سکتے ہیں اور ان سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں. میرا خیال ہے آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے گفتگوابھی ہماری مکمل نہیں ہوئی ہے انشا اللہ اگلے لیکچر میں اس موضوع کو مکمل کریں گے اور یہ بتا ئیں گے کہ زائچہ کیا ہے؟ فی الحال اجازت دیئجےاس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانی عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی تو فیق عطا فرمائے.امین.اللہ حآفظ.


Category : Astrology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Astrology With Sami
Lecture Number 3
علم نجوم میں استعمال ہونے والی اصطلاحات اور ابجد
(A B C D and TERMS USED IN ASTROLOGY)
السلام وعلیکم: Astrology With Sami میں خوش آمدید….!
عزیز طلباء اور ناظرین کرام علم نجوم پرآہمارا تیسرا لیکچر ہے جس میں ہم علم نجوم میں استعمال ہونےوالی اصطلاحات اوراختصارات بمعہ جامع اللغات پیش کریں گے.جن کا جاننا علم نجوم کےطالبعلموں کے لئےازبس ضروری ہے.
علم نجوم صرف اشیاء کی فطرت سے ہی بحث نہیں کرتا بلکہ اس کے خوابیدہ پہلوؤں سےبھی بحث کرتا ہےوہ پہلو جو ہمارے حواس خمسہ کے احاطے میں نہیں آتے ہیں.سوال یہ پیداہوتا ہے کہ علم نجوم کہاں سےآیا؟اس سوال کا جواب بہت آسان بھی ہےاوربہت مشکل بھی.تاہم یہاں طالبعلموں کو مختصراًیہ بتادینا کافی اور ضروری ہوگا کہ قدیم مصر کے بادشاہ اس علم کے امام تھے.علم نجوم ہماری علمی معلومات میں عظیم اضافہ کرتا ہے جسکی مدد سے ہم خوداپنا تجزیہ کرسکتے ہیں.علم نجوم کےامکانات اتنے ہی وسیع ہیں جتنی کہ زندگی.لیکن چونکہ یہ ایک مراسلاتی سائنس ہےجس میں ہم زورمرہ زندگی وکون ومکاں کی کاوشوں کا مطالعہ کرسکتے ہیں.زندگی کے مختلف شبعوں پر جتنا ہم اسکے صولوں کو آزمائیں گے اتنا ہی ہمیں اسکے مرتب ہونےوالےاثرات کااندازہ ہوگا.گوکہ علم نجوم کے مبتدیوں کےلئے علم ہیئت کا جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ بنیادی سائنس ہے اس لئے تمام منحجمیں کے لئے علم ہیئت کے بنیادی حقائق کا جانناازبس ضروری ہے.
میرا خیال ہے کہ جب تک اس علم کےاصطلاحات اوراختصارات کا علم مبتدیوں کونہ ہوگا.اس وقت تک وہ اس علم کو مکمل طور پر نہ سیکھ سکیں گے اور نہ ہی آئندہ اس سےاستفادہ حاصل کرسکیں گے.
علم نجوم میں استعمال ہونیوالے اصطلاحات اورایجازات کو سہل طریقے سے بیان کیا جارہے ہے.انہیں ذہن نشین کرلیں تو علم نجوم کو سیکھنے میں آپکو بڑی سہولت ہوجائے گی.
الف:یہ علم نجوم اور عربی حروف تہجی کا پہلا حرف ہے.
ایرنزراڈ:اسےایرنزبیئرڈ بھی کہتے ہیں.یہ ایک قسم کا سیارہ ہے.
انحراف:یہ لفظ علم ہیئت میں استعمال ہوتا ہے اس کا اثر سال میں تمام سیارگان پر ہوتا ہے جوایک دائرے کی شکل میں ساڑھے 40 انچ کے قطرمیں زمین کے متوازی ہوتے ہیں.
ماہر:اسےفاضل یا ہنرمند بھی کہتے ہیں.مرادایسا نجومی ہے جس نے علم نجوم کا کورس مکمل کیا ہو،
ابد:طویل مدت.
دوستی: سورج کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ تمام سیارگان سے قرابت رکھتا ہے. مریخ زہرہ سےدوستی رکھتا ہےلیکن زہرہ اورمشتری کی دوستی زیادہ قوی ہوتی ہے زہرہ اورعطاردکی بھی دوستی ہوتی ہے.
نحس اثر:سیاروں کےاورگھروں کےدرمیان نحس نظرات سےپیداہوتاہےجیسےنوین درجےکےتمام زوائیےنحس یا تربیع کہلاتےہیں.
ہوا:ہمارےکمرےمیں موجودگیسوں کو کہتے ہیں جو ہمارےماحول پراثراندازہوتی ہیں.
بادی بروج:یہ جوزا،میزان اوردلوہیں.انہیں ذہنی یادماغی برج بھی کہا جاتا ہے.یہ دائرۃالبروج کےانسانی علامات کہلاتے ہیں.مطابقت سکون اور توازن کا مثلث بناتےہیں.
کیمیا ساز: کیمیا گری بھی کہتے ہیں.فطرت کی کیمیا گری.
ایکس سیون:ایک ثابت سیارہ ہے جسکی وسعت تیسرےدرجےکی ہے..
تقویمِ:دنیا کی سب سے پہلے تقویم بطلیموس کی “المجستی” ہے.حضرت عیسٰی کی پیدائش سے ڈیڑھ ہزارسال قبل ابرخس نے بھی ایک تقویم بنائی تھی.
مسلمانوں کی سب سے پہلی تقویم عبدالرحمان بن عمرالصوفی الرازی نے 924ء میں بنائی تھی.1150ء میں سلیمان جارچس نے بھی ایک تقویم شائع کی تھی.پندرھوں صدی میں مرزاالغ بیگ گور کانی نے بھی ایک تقویم شائع کی تھی.بیسویں صدی کی مقبول ترین تقاویم رافیل اور زاوکیل کی ہیں.رافیل کی تقویم پہلی مرتبہ 1820ءمیں شائع ہوئی تھی جبکہ زاوکیل کی تقویم 1830ء میں شائع ہوئی تھی.
عربی تقویم کی طرز پر پا کستان میں پہلی مرتبہ سرمدی تقویم 1985ءمیں شائع ہوئی تھی. جو کہ مشہور معروف منجم ڈاکڑ فرقان سرمد کی علم دوستی کامنہ بولتا ثبوت ہے.پاکستان میں علم نجوم کو عام لوگوں تک پہنچانے والوں میں آپ کا نام سرفہرست ہے.
علم نجوم کی ابجد: علم نجوم کی ابجد کی علامتیں ہیں جو مکمل معنی کا اظہار کرتی ہیں جس میں آٹھ سیارے اور شمس و قمر شامل ہیں.انکے نام یہ ہیں.
شمس(ش) قمر(ر) عطارد(ط) زہرہ(ہ) نیچچون(چ)
مریخ(خ) مشتری(م) زحل(ل) یورانس(نس) پلوٹو(پ)
علم نجوم میں بارہ بروج ہیں جن کے نام اور علامات یہ ہیں.
حمل ثور جوزا سرطان
اسد سنبلہ میزان عقرب
قوس جدی دلو حوت
نظرات کے نام،درمیانی فاصلہ اور علامتیں یہ آپ کو لازمی یادہونی چاہئیں ان کو بھی نوٹ کرلیں.
تسعین (فاصلہ30درجہ) تسدیس (فاصلہ60درجہ)
تثمین (فاصلہ45درجہ) تربیع (فاصلہ90درجہ)
تثلیث (فاصلہ120درجہ) مقابلہ (فاصلہ180درجہ)
خماسی (فاصلہ135درجہ) قران (فاصلہ0 درجہ)
ارتفاع: یعنی بلندی، سیارگان کی بلندی
محیط: تمام اطراف سے گزرنا
فرشتے: سیارگان کے فرشتے یہ ہیں.
شمس(میکائیل) قمر(جبرائیل) عطارد(رافیل) زہرہ(اینائیل)
مریخ (سیمائیل) مشتری(نراکیل) زحل(کیسئیل) …………..
زاوئیے: چارمتقلب نقاط ، یعنی پہلا ، چوتھا ، ساتواں اور دسواں گھر فطری زائچے کا ، جنہیں طالع، نقطہ عروج، مغربی زاویہ اور سمت القدم بھی کہا جاتا ہے.
جبلی نفرت: دواجسام جو مختلف مقنا طیسی کشش کی وجہ سے آپس میں موافقت نہیں رکھتے ہوں.
نقطہ محور: سیارے کا نقطہ محور جو سورج سے کا فی فاصلے پرہو.
جامع کلمہ: دانش مندوں کا قول.
انتہا: کسی سیارے یا محور کا وہ مقطہ جوزمین سے بہت دوری پر ہو.
اپریل: نجومی سال کا پہلا مہینہ.
دلو: یہ دائرۃالبروج کا گیارہوں برج ہے. یہ بہت اہم اور کچھ پراسرار قسم کا برج ہےیہ انسانی جسم میں ٹانگوں، کہنیوں اور خون پر حکمران ہے.
حمل: یہ صفردرجہ سے 30 درجہ طول البلد تک ہوتا ہے دائرہ البروج کا پہلا برج ہے انسانی جسم میں سر اور چہرے سے متعلق ہے.
طالع: یہ زائچےکا پہلاگھر ہو تا ہے زائچہ کا طالع بہت باقوت نقطہ ہوتا ہے.
طالعی: وہ سیارے جو دسویں گھر سے مشرق کی جانب چوتھے گھر میں طلوع ہوئے ہوں.
نظرات: یہ دراصل درجات کے مخصوص نمبر ہوتے ہیں ہرانک اپنی ایک علامت اور صفت رکھتا ہے.دائرہ البروج360 درجات پر مشتمل ہوتا ہے اگر ہم اس دائرے کے کسی نقطے کو لے کر اس کی مخصوص طریقے سے پیمائش کریں تو نجومی نظرات کا علم ہوتا ہے.
نظرات کی فطرت کو جانچنے کے لئے ان برجوں کی فطرت کو دیکھنا پڑے گا جن سے کہ نظر بنتی ہے.
سیارچے: ایک ہزار سے اوپر ایسے اجسام ہیں جنہیں سیارچے کہا جاتا ہے جو مشتری اور مریخ کے درمیان نظر آتے ہیں.
کوکبی:مادےکی اعلٰی صفات جوطبعی زمین پراثراندازہوتی ہے.
کوکبی جسم : یہ ایک ایسا جسم ہے جو کوکبی روح رکھتا ہے یہ جذبات پراثرانداز ہوتا ہے اور آبی بروج پر حکمران ہے.
کوکبی نور: نہ نظرآنےوالےحصے جو ہماری کائنات کےگرد لٹپے ہوئے ہیں یہ جسم انسانی کے ذہنی ارتعاش اورجذبات سے منعکس ہوتے ہیں.
الصوفی: ابوالحسین عبدالرحمٰن بن عمرالصوفی الرازی کو علم ہیئت وعلم نجوم کا باپ مانا جاتا ہے.جن کی تحقیقات پر موجودہ علم نجوم وعلم ہیئت کی بنیاد ہے.
البیرونی: ابوریحآن محمد بن احمدالبیرونی الخوارزمی مشہورمسلمان منجم تھے جنہوں نےاہل ہند کونجوم کے نئےباب سے روشناس کروایاتھا.
اصطرلاب:ایک آلہ جسکی مدد سےستاروں کی بلندی کااندازہ کیا جاسکتاہے.
علم نجوم:یہ وہ سائنس ہے جس میں ملکوتی اجسام کا انسان کی سیرت پراثرات کو مطالعہ کیا جاتا ہےاورمادی دنیا میں اسکےاظہارکودیکھا جاتا ہے یہ علم،علم ہئیت کی روح ہے.
اس علم کو سات مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے.
(1).مخفی یاباطنی (2). پیدائش (3). طبی (4). وقتی (5). قومی (6).موسمی (7).روحانی
ان میں ہر ایک اپنا ایک مخصوص علم رکھتا ہے.
ہیئت دان: ایسےافرادجوستاروں کی درجہ بندی وغیرہ کرتے ہیں.
علم ہیئت : بنیادی طورپرعلم نجوم اورعلم ہیئت ایک ہی سائنس ہیں.
لیکن علم ہیئت سیارگان کے فاصلے،وسعت،کمیت،مرکبات اورحرکات وغیرہ کواجاگرکرتاہے.
ب:حروف تہجی کادوسرا حرف ہے یہ گھرکی علامت ہے.
اہل بابل: ماضی میں علم نجوم کےماہرتھے یہ علم ان کے مذہب میں شامل تھا.
بیکسن راجر: ایک فرانسیی ماہرہ تھا وہ کیمیا گری اور طاسما تی آرٹ کےاستاد کی حیثیت سے مشہورہواتھااس کا نام علم نجوم کےساتھ بھی لیاجاتا ہےاس لئے کہ شائدوہ فلسفیانہ نجوم پریقین رکھتا تھا.
بارڈیسانس:ایک عظیم نجومی تھا جس نے مشرق کےپراسرارعلوم کی پیروی کی اس نے سات سیاروں کی روح کو منسوب کیا ہےاس کی بنیاد کواونچےدرجےسےشروع کیاہےاوروہ روحانی حشرنشرکوتسیلم کرتاتھا لیکن جسم کے جی اٹھنےکامخالف تھا جیسا کہ چرچ کےپادری کہتے ہیں.
تقویم میں اس نے منطقتہ البروج کے برجوں کی پیدائشی گھنٹےمیں اہمیت ظاہرکی ہے اورباضابطہ سات سیاروں کا اعلان کیا ہے وہ شمس کوزندگی کا باپ اورقمرکوزندگی کی ماں کہتا تھا.
بانجھ بروج: جوزا. اسد اور سنبلہ بانجھ بروج کہلاتے ہیں.
بیسن ٹائن جیمر: ایک اسکاچ نجومی جو سولہویں صدی میں تھا اس نے 1562ء میں سررابرٹ میلویل کو پیشگوئی کرکے “MARY” کی موت کے بارے میں بتایا تھا.جواسکاٹ کی بدقسمت ملکہ تھی.
حیوانی بروج:حمل.ثور.اسد.قوس اور جدی ہیں.
دائرہ المشتری: کیثرتعدادمیں دھندلی پٹی یا قطعہ سطح مشتری کے متوازی نظرآتے ہیں اگراسکے موسم بادل والے ہیں تو اسکی گردش میں یہ قوت متوازی قطاریں لگاتے ہیں اس سیارے کا تاریک حصہ نسبتاً کھلی فضا میں دیکھاجاسکتا ہے.
فاہدہ مند: زہرہ اورمشتری دوفائدہ مند سیارے ہیں.
مفیدنظرات: تثلیسث،تسدیس اور تسمین ہیں.
مفیداثرات: یہ مفیدسیاروں اور نظرات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں.
محاصرہ:ایک سیارہ دونحس سیاروں کے درمیان ہوتواسےمحاصرہ کہتےہیں.یہ ہمیشہ انتہائی نحس صورت ہوتی ہےایک سیارہ مریخ اورزحل کے درمیان نحس ہوتا ہے لیکن جب زہرہ اورمشتری کے درمیان ہوتو بہت سعد ہوتا ہے.
ذوجسدین بروج: یہ جوزا.قوس اورحوت ہیں انہیں عام طور پر دوہرے جسم والے بروج بھی کہتے ہیں.
پیدائشی نشان : تمام پیدائشی نشان اورداغ جو پیدائش کے وقت جسم پر ہوتے ہیں انہیں پیدائش کےوقت سیارگان کی پوزیشن سے منسوب کردیا جاتا ہے.
پیدائشی وقت: وہ لمحہ جب شیرخواراس طبعی دنیا میں پہلی سانس لے تمام مبتدی اورعلم نجوم کےماننےوالوں کو چاہیے کہ خاندان کے تمام افرادکا پیدائش کا وقت نوٹ رکھا کریں.
ناقابل برداشت بروج: تمام آتشی بروج تلخ ہوتے ہیں.یعنی حمل،اسداورقوس.
شمالی بروج: چھ شمالی بروج حمل، ثور،جوزا،سرطان،اسداورسنبلہ ہیں.
ت: عربی حروف تہجی کا تیسرا حرف ہے.
زیروبم:ان گھروں کو کہا جاتا ہے جو زاویئے سے گر جاتےہیں یہ گھر تیسرے،چھٹے،نویں اور بارہویں ہیں.اس پوزیش کو کمزور کہا جاتا ہے وقتی زائچےمیں ان گھروں میں سیارے تاخیرکا سبب ہوتے ہیں.
قدیم شاہی نقیب کا عصائےاقتدار: یہ کائناتی،کوکبی یا ہسئیتی کہلاتا ہے.یہ روحآ نیت اور طبیعاتی علامت بھی ہے اس کی صفت تبدیلی لانا ہے بنیادی طور پر یہ تین سروں والاسانپ تھا لیکن اب یہ دو سانپوں کا جریب دوہری گولائی میں ہے اسے جریب عطارد بھی کہتے ہیں علم ہئیت کی روسے اس کے سراوردم نقطہ گرہن کو ظاہر کرتے ہیں جہاں دونوں شمس اورقمرایک دوسرے سے ملتے ہیں.
کیلنڈر: ایسارجسڑجس میں دنوں،ہفتوں،مہینوں اور سال کے بارےمیں بیان ہوتا ہے.
سرطان:دائرۃالبروج کا چوتھا برج: سورج اس برج میں 21 جون کو داخل ہوتا ہے یہ 90 درجہ اور 120 درجہ کے درمیان واقع ہوتا ہے.مجمع سرطان،جوزا اور اسد کے درمیان ہوتا ہے.اسمیں کوئی بھی سیارہ تیسرے درجے سے زیادہ با قوت نہیں ہوتا ہے سرطان ایک آبی اور منقلب برج ہے اور چھاتیوں پرحکمران ہے.
جدی: دائرۃالبروج کا دسواں برج: فطرتاً خآکی اورمنقلب ہے.یہ موسم سرما کا برج ہے.جب سورج تقریباً21 دسمبر کو یہاں داخل ہوتا ہے. Astrology سے متعلق ہماری آج کی گفتگو یہیں تمام ہوتی ہے.انشا اللہ اگلے لیکچر میں اس موضوع کو مکمل کریں گے اورآپکو مذید نئی نئی معلومات سےآگاہ کریں گےفی الحال اجازت دیئجےاس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانی عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی تو فیق عطا فرمائے.امین.اللہ حآفظ.


علم نجوم کاتعارف

Category : Astrology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Astrology With Sami
Lecture Number 4
مبادیات علم النجوم
FUNDAMENTAL OF ASTROLOGY) Part 01)
السلام وعلیکم: Astrology With Sami میں خوش آمدید….!
عزیزطلباء اور ناظرین علم نجوم کے جو بنیادی قواعدآپ لوگوں کو میں بتارہا ہوں انہیں اپنےحافطے میں اچھی طرح محفوظ کرلیں کسی بھی بات کو سمجھنےمیں دشواری محسوس ہو تومیری ویب سائٹwww.doctorsami.com پر یہ لیکچرزتحریری طور پرموجود ہیں.آپ میری ویب سائٹ وزٹ کرکےوہاں ان لیکچر کا مطالعہ کرسکتےہیں اور کسی بھی قسم کا سوال جوآپ کےذہن میں آئےپوچھ سکتے ہیں.
ہمارا آج کا لیکچرعلم نجوم کی ان بنیادی معلومات سے لبریز ہے جن پر علم نجوم کی عمارت کھڑی ہے.
منقلب نقاط : متقلب نقاط سےمرادمشرق،مغرب،شمال اور جنوب ہیں انہیں زاوئیےکا پہلا،چوتھا،ساتواں اوردسواں گھر بھی کہاجاتا ہے.
منقلب بروج: منقلب بروج چار ہیں یہ حمل،سرطان،میزان اورجدی ہیں.
استخراج زائچہ : یہ دراصل علم نجوم میں زائچہ بنانے کے ضروری حسابی عمل کو کہاجاتا ہے.
کردار: علم نجوم میں کردار ایک اہم موضوع ہے.اوربغیرکردار کےتجزئیےکہ صحیح پیش گوئی کرنامشکل ہے.اوراسی سےصاحب زائچہ کی زندگی مکمل طورپر سمجھ میں آسکتی ہے.کردارکی تشریح زمانہ ماضی سےچلی آرہی ہے اورآج تک ایسا نہیں ہواکہ کسی برج کی دوسیرتیں بنالی گئی ہوں.تمام سیارگان بھی کردار کےتجزئیےااپنا حصہ ادا کرتے ہیں.
مریخ: یہ سیارہ استحکام، توانائی اور حوصلہ کرتا ہے.
زحل: سیارہ زحل استحکام،تحمل،احتیاط ، تدبیر،سنجیدگی اور روحانی اطمینان عطا کرتا ہے.
زہرہ: سیارہ زہرہ نرمی اور محبت عطا کرتا ہے.
عطارد: کردار کے تجزیئے میں ذہانت اور دانشمندی پر حکمران ہے.
مشتری: سیارہ مشتری یقین،مذہب اور سوشل صفات پر حکمران ہے.
شمس: سیارہ شمس اخلاق،ثابت قدمی اور طرزعلم پر حکمران ہے.
قمر: سیارہ قمرحیوانیت اوروجدن پر حکمران ہے.
طالع پیدائش : طالع پیدائش عام فطرت کااظہارکرتا ہے.
اس کےعلاوہ جس برج میں سیاروں کی کثرت ہووہ بھی سیرت یا کردار پراثرات مرتب کرتا ہے.
کیمسڑی:عام کیمیائی عناصرکواکب کےماتحت ہوتےہیں ان کا تجربہ اورمطالعہ ایک الگ علم کی حیثیت سےجاناجاتا ہے جسےپراسرارکمیسڑی یا کیمیا گری کہاجاتاہے.
جدول مدت:(آثاروقت). یہ فرض کیاگیا ہےکہ قمرزندگی کےابتدائی چارسالوں پر حکمران ہےعطارددوسرےدس پراوراسی طرح دوسرےکواکب،انکی جدول بلاگ میں سے دیکھ کرنوٹ کرلیں.
کواکب مدت سالانہ مدت ماہانہ مدت
قمر 4 سال 90منٹ 7ڈگری30منٹ
عطارد 10 سال 36منٹ 3ڈگری
زہرہ 8 سال 45منٹ 3ڈگری45منٹ
شمس 19سال 19منٹ 1ڈگری35منٹ
مریخ 15سال 24منٹ 2ڈگری
مشتری 12 سال 30منٹ 2ڈگری30منٹ
زحل 30 سال 12منٹ 1ڈگری
یورانس 90 سال 4منٹ 5ڈگری20منٹ
نیچچوں 184سال 2منٹ 5ڈگری10منٹ
زندگی کا اور معلوم کرنے کے لئےزاویئے کے گھر، کامیابی کے گھراورزیروبم والے گھرلازمی معلوم ہونےچاہئیں.انکوبھی بلاگ میں سےدیکھ کراپنےپاس نوٹ کرلیں.میں زبانی طورپربتادیتا ہوں.
اس جدول کی مدد سےزندگی کادورانہیں سیارگان کی ترتیب وار پوزیش سے معلوم کرسکتےہیں.
کواکب زاویئےکےگھر کامیابی کےگھر زیروبم والےگھر
زحل 57 431/2 30
مشتری 79 57 10
مریخ 62 40 13
شمس 120 69-1/2 19
زہرہ 80 44 7
عطارد 70 48 20
قمر 108 63 24
انکواسطرح استعمال کیاجاسکتا ہے:
زحل کاایک زاویہ عام طورپر57سالوں کا ہوتا ہےاگرزیروبم سےمتاثرہورہاہوصرف30 سالوں کاہوگا لیکن پہلےان نقاط کواچھی طرح دیکھ لیں جن پرصحت اورزندگی کادارومدارہوتاہے.
دائرہ:دائرۃالبروج کامحیط جو360درجات کاہوتا ہے.
غیب دانی: غیرمعمولی بصیرت یاوجدانی آنکھوں سےدیکھنےکی صلاحیت جو کہ ابھی وقوع پذیرنہ ہوئی ہوں اس خاصیت پرعطاردحکمران ہے یعنی مستقبل کےحواس پرقابض ہے.
منتہائی مدت: علم نجوم میں ہرساتواں اورنواں سال منتہائی مدت کہلاتا ہےقمرکی بالترتیب پوزیشن کے لحاظ سےوہ ساتوں ون یا سال اپنے مقام سےتربیع کرتی ہے.اورہرنویں دن یا سال نظریثلیت بناتی ہے اوراس سے درج ذیل منتہائی مدت ملاخطہ فرمائیں.
7واں ، 9واں ، 14واں ، 18واں ، 21واں ، 27واں ، 28واں ، 35واں ، 36واں ، 42واں ، 45واں ، 49واں ، 54واں ، 56واں اور 63واں سال ہیں.
سردسیارے اور بروج: یہ سیارے قمراورزحل ہیں جبکہ سرطان اور جدی ہیں.
مجموعہ نور: یہ تعریف وقتی زائچے میں استعمال ہوتی ہے جس میں کوکب ان کواکب سے نظربنارہا ہو جو آپس میں نظرنہ بنارہےہوں.
کواکب سے منسوب رنگ: جدید جدول درج دیل ہے.
شمس(سہنرا) قمر(چاندی) مریخ(سرخ) زہرہ(آسمانی، سبز) عطارد(نارنجی)
مشتری(بنفشی) زحل(سبز ، بھورا) یورانس(گہرانیلا) نیچچوں(نیلگوں) ————-
بروج سے منسوب رنگ:
حمل: سفید،سرخ ثور: سرخ،چکوترا جوزا:سرخ،سفید سرطان: سبز اسد: سنہرا، سرخ
سنبلہ: بھورا
میزان: نیلا، قرمزی عقرب: گہرابھورا قوس:ہلکا سبز، ہلکا نیلا جدی: گہراخآکی، گہرابھورا
دلو: آسمانی حوت: چمکدارسفید
احتراق:شمس سے8درجہ 30دقیقہ کےدرمیاں کوکہتےہیں یعنی کہ ایک سیارہ شمس سےاتنا قریب ہوجائے.تمام وقتی زائچوں میں اس حالت کومدنظررکھا جاتاہے.
ارتفاع: یعنی بلندی.سیارگان.سیارگان کی بلندی
محیط: تمام اطراف سے گزرنا
عرض گردش: سیارگان کی طلوع کے وقت.زاویاتی فاصلےکےگردش
فرشتے:سیارگان کےفرشتے یہ ہیں.
شمس(میکائیل) قمر(جبرائیل) عطارد(رافیل) زہرہ(اینائیل)
مریخ(سیمائیل) مشتری(نراکیل) زحل(کیسئیل) ————
زاویئے: چارمنقلب نقاط ، یعنی پہلا چوتھا،ساتواں اوردسواں گھرفطری زائچےکاجنہیں طالع، نونقطہ عروج، مغربی زاویہ اورسمت القدم بھی کہا جاتا ہے.
جبلی نفرت:دواجسام جومختلف مقناطیسی کشش کی وجہ سےآپس میں موافقت نہ رکھتےہوں.
نقطہ محور: سیارےکانقطہ رمحورجوسورج سےکافی فاصلےپرہو.
اپریل: نجومی سال کا پہلا مہینہ
دلو: یہ دائرۃالبروج کاگیارہواں برج ہے. یہ بہت اہم اور کچھ پراسرارقسم کا برج ہے یہ انسانی جسم میں ٹانگوں، کہنیوں اور خون پر حکمران ہے.
حمل :یہ صفردرجہ سے30 درجہ طول البلد تک ہوتا ہےدائرۃالبروج کا پہلا برج ہےانسانی جسم میں سراورچہرےسےمتعلق ہے.
طالع: یہ زائچے کا پہلا گھرہوتا ہے زائچہ کاطالع بہت با قوت نقطہ ہوتا ہے.
طالعی : یہ سیارےجودسویں گھر سےمشرق کی جانب چوتھے گھرمیں طلوع ہوئے ہوں.
نظرات: یہ دراصل درجات کے مخصوص نمبر ہوتےہیں. ہرایک اپنی ایک علامت اور صفت رکھتا ہے.دائرۃالبروج360 درجات پر مشتمل ہوتا ہےاگرہم اس دائرےکےکسی نقطے کولے کراس کی مخصوص طریقےسےپیمائش کریں تو نجومی نظرات کاعلم ہوتاہے.
نظرات کی فطرت کوجانچنے کے لئےان برجوں کی فطرت کودیکھناپڑےگا جن سےکہ نظربنتی ہے.
سیارچے: ایک ہزارسےاوپرایسےاجسام ہیں جنہیں سیارچےکہاجاتا ہےجومشتری اورمریخ کےدرمیان نظرآتےہیں.
کوکبی : کسی مادےکی اعلٰی صفات جوطبعی زمین پراثراندازہوتی ہے.
کوکبی جسم: یہ ایک ایسا جسم ہے جو کوکبی روح رکھتا ہے یہ جذبات پراثرانداز ہوتا ہے اور آبی بروج پرحکمران ہے.
کوکبی نور: یہ نظرآنیوالےحصے جو ہماری کائنات کے گردپٹےہوئےہیں یہ جسم انسانی کےذہنی ارتعاش اورجذبات سے منعکس ہوتے ہیں.
علم نجوم: یہ وہ سائنس ہے جس میں ملوکتی اجسام کاانسان کی سیرت پراثرات کومطالعہ کیاجاتا ہےاورمادی دنیا میں اس کےاظہارکودیکھاجاتا ہے یہ علم،علم ہیئت کی روح ہے.
ہیئت دان: ایسےافرادجوستاروں کی درجہ بندی وغیرہ کرتےہیں.
علم ہیئت : بنیادی طورپرعلم نجوم اورعلم ہیئت ایک ہی سائنس ہیں لیکن علم ہیئت سیارگان کےفاصلے،وسعت،کمیت،مرکبات اورحراکت وغیرہ کواجاگرکرتاہے.
ب: تمام حروف تہجی کا دوسراحرف ہے،یہ گھرکی علامت ہے.
اہل بابل : ماضی میں علم نجوم کےماہرتھے یہ علم ان کے مذہب میں شامل تھا.
حیوانی بروج : حمل، ثور،اسد،قوس اور جدی ہیں.
دائرۃالمشتری : کیثرتعدادمیں دھندلی پٹی یا قطعہ سطح مشتری کےمتوازی نظرآتے ہیں اگراسکے موسم بادل والےتواسکی گردش میں یہ وقت متوازی قطارمیں لگاتےہیں اس سیارےتاریک حصہ تاریک حصہ نسبتاً کھلی فضامیں دیکھاجاسکتا ہے.
فائدہ مند : زہرہ اور مشتری دو فائدہ مند سیارےہیں.
مفید نظرات: تثلیت ، تسدیس اور تسمین ہیں.
مفیداثرات: یہ مفید سیاروں اورنظرات کی وجہ سے پیدا ہوتےہیں.
محاصرہ : ایک سیارہ دو نحس سیاروں کےدرمیان ہوتواسےمحاصرہ کہتےہیں یہ ہمیشہ انتہائی نحس صورت ہوتی ہےایک سیارہ مریخ اورزحل کے درمیان نحس ہوتا ہے لیکن جب زہرہ اور مشتری کے درمیان ہوتوبہت سعد ہوتا ہے.
ذوجسدین بروج : یہ جوزا،قوس اور حوت ہیں انہیں عام طورپردوہرےجسم والے بروج بھی کہتےہیں.
پیدائشی نشان : تمام پیدائشی اورداغ جو پیدائش کے وقت جسم پرہوتے ہیں انہیں پیدائش کے وقت سیارگان کی پوزیشن سے منسوب کردیا جاتا ہے.
پیدائشی وقت :وہ لمحہ جب شیرخواراس طبعی دنیامیں پہلی سانس لے، تمام مبتدی اور علم نجوم کےماننےوالوں کوچاہئےکہ خاندان کے تمام افرادکاپیدائش کا وقت نوٹ رکھاکریں.
ناقابل برداشت بروج : تمام آتشی بروج تلخ ہوتے ہیں.
شمالی بروج : چھ شمالی بروج حمل،ثور،جوزا،سرطان ، اسد اور سنبلہ ہیں.
ج : عربی حروف تہجی کا تیسراحرف ہے.
زیروبم : ان گھروں کوکہا جاتا ہے جوزاویئےسےگرجاتے ہیں یہ گھرتیسرے، چھٹے، نویں اور بارہویں ہیں.اس پوزیشن کو کمزور کہاجاتا ہے.وقتی زائچے میں ان گھروں میں سیارے تاخیر کا سبب ہوتے ہیں.Astrology سے متعلق ہماری آج کی گفتگو یہیں تمام ہوتی ہے. انشا اللہ اگلے لیکچر میں اس موضوع پر مذید بات کریں گے اور آپ کو مذید نئی نئی معلومات سے آگاہ کریں گے فی الحآل اجازت دیئجے اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانی عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی تو فیق عطا فرمائے.امین.اللہ حآفظ.


Category : Astrology

نجوم کاتعارف:TOPIC
‌Astrology With Sami
:SUBJECTS
00:CODE
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Astrology With Sami
Lecture Number 5
مبادیات علم النجوم
FUNDAMENTAL OF ASTROLOGY) Part 02)
السلام وعلیکم: Astrology With Sami میں خوش آمدید….!
آسڑولوجی ودھ سامی میں گذشتہ لیکچرزمیں بہت سی اہم اصطلاحات اورقوانین کاذکر کیاگیاتھااس لیکچرمیں بھی کچھ اصطلاحات اورقوانین نجوم بیان کررہا ہوں امید ہےکہ ان کوبھی آپ توجہ اورغور سےسنیں گےاورنوٹ کرلیں گے تاکہ آپ کی ابتدائی معلومات عمدہ اوروسیع ہوجائے.
درجہ طلوع : دائرۃالبروج کےبرج کا وہ صحیح درجہ جو پیدائش کےوقت آسمان کےافق پرطلوع ہوتا ہےیہ کسی شخص کی زندگی کانہایت اہم حصہ ہوتا ہےاسکی اہمیت کومکمل طورپرجاننااورتحقیق کرناچاہئیےاس لئےکہ یہ مخصوص رنگ اورعددرکھتا ہے اوریہ اپنی مخصوص ارتعاش سے مطابقت رکھتا ہےاوراس مخصوص آوازکاجس سےیہ متعلق ہوتا ہےجواب دیتا ہے.
کردارنگاری : زائچہ پیدائش کو پڑھنا جس سے صاحب زائچہ کےبارےمیں فیصلہ کیا جاسکےیااس شخص کی زندگی کوپڑھناجاسکے.
وصف : بروج جوطلوع ہوتےہیں وہ کسی شخص کےخدوخال بتاتےہیں.یعنی طالع پیدائش کا تعلق خاص تعلق جسمانی ساخت سے ہوتا ہے.
اب میں آپکوطالع پیدائش کےحوالےسےمختلف بروج سےوابستہ افرادکےکچھ نہایت معتبروصف بیان کرتا ہوں .
برج حمل : اس برج سےوابستہ افراد مضبوط جسم والے اوردرمیانےسے کچھ زیادہ قدوقامت والے ہوتے ہیں انکے بازواورٹانگیں مضبوط ہوتی ہیں ہڈیاں لمبی ہوتی ہیں چہرہ بھی لمبا ہوتا ہے ان کی بھنویں گھنی اور نظر تیز ہوتی ہے. گردن لمبی اور بکھرےہوئے گھنگھریا لے بال جو عام .طورپربھورے ہوتے ہیں مونچھیں سرخی مائل، سیاہی مائل حلیہ اور کندھے موٹے ہوتے ہیں
برج ثور : موٹی بناوٹ کے جسم کے ساتھ میانہ قدوقامت، کشادہ پیشانی، بڑاچہرہ اورعمدہ آنکھیں جو سیاہ یا نیلی ہوتی ہیں، گردن تنگ ہوتی ہے، ہونٹ اور ناک موٹے ہوتے ہیں اورعام طور پر لمبے یا چوڑے ہوتے ہیں. بناوٹ سیاہی مائل، بال گہرے سیاہ اکثر سامنے سے بڑے ہوتے ہیں. مختصر، موٹےاور کشادہ ہاتھ، بھوک بڑھی ہوئی ہوتی ہے.
برج سرطان : مناسب قدوقامت عام طورپراوپرکادھڑسےلمبا ہوتا ہے.چہرابڑااورگول،ناک چھوٹی اور گول، بال اورداڑھی اکثر ہلکےسیاہ ہوتےہیں.آنکھیں گول اور عمدہ ہوتی ہیں اورقدم جمے ہوئےاورشاہاہ ہوتے ہیں.
برج سنبلہ : اس برج کےلوگ درمیانے قامت کے ہوتےہیں.صآف اور متناسب اعضاء ، مکمل چہرہ ، گہری رنگت ، سیاہ بال ، سیکھنےکےشائق ہوتےہیں.
برج میزان : طویل قامت ، حسین اوردبلے پتلے ، آخری چنددرجے والےپستہ قد ہوتے ہیں، بھورےاورچمکدار ، کبھی سیاہ بھی ہوتےہیں چہرہ گول اور حسین ، عام طورپربےحدخوبصورت ہوتےہیں، بال بھورےاورچمکدار،کبھی سیاہ بھی ہوتےہیں چہرہ گول اورحسین، عام طورپربےحدخوبصورت ہوتےہیں ، سرخی مائل سفیدرنگت ، آنکھیں نیلی یا بھوری ، موسیقی اور فائن آرٹ کےشائق ہوتےہیں.
برج عقرب : درمیانےقامت کےمتناسب الاعضاء اور تندرست لوگ جوقدرےموٹےہوتےہیں مضبوط اورسمجھدار، چہرہ بڑایا چوکور، گہری رنگت، گہرےسیاہ بال، موٹی گردن، ٹانگیں کھردری اور بعض اوقات کمان کی طرح.ان افراد کادماغ بہت ہی تیزہوتاہے.
برج قوس : اس برج کےکوگ طویل القامت اورمتناسب الاعضاء ہوتےہیں خاص کرزانو، لمبا بیضوی چہرہ ، بلند پیشانی ، عمدہ صاف نیلی یا بھوری آنکھیں ، سرخ و سپیدرنگت ، ہلکےبھورےبال. یہ لوگ گھوڑوں اور کھیلوں کےشائق ہوتے ہیں.
برج جدی : عام طورپر پتلےدبلےاور بیمارنظرآتےہیں.لمبےپتلےچہرے.پتلی داڑھی ، لمبی گردن ، بال سیاہ ، چھاتی اور ٹھوڑی تنگ ہوتی ہےاورٹخنےکمزورہوتےہیں.
برج دلو : درمیانہ قامت، ظاہراً خوبصورت ، قوی ، مضبوط اور صحت مند ، لمباچہرہ ، رنگ صاف ، نیلی آنکھیں ، خوبصورت بال ، ذہین ہوتےہیں.
برج حوت : یہ میانےیا پستہ قامت کےلوگ ہوتےہیں جسم فربا ، ٹیڑھےاورگول کندھے ، بھورےبال ، لمبا چہرہ ، بڑی خوبصورت اور خواب آلودآنکھیں ، گول ہونٹ ، بازواورٹانگیں چھوٹی.
تمنا : جذبات جو کسی کےمتعلق ہوپس خواہشیں یا تمنا وہ چیز ہے جوقوت ارادی کی مخالفت کرے. فطرت کی تمام سچی خواہشیں شمس کےتحت ہیں لیکن مریخ حواس پر حکمران ہے.
تقدیر : انجام جس سے تمام قوتیں ہیں وہ حصہ جو ہم ارتقائی منصوبے کے لئےانجام دیتےہیں.
تجریبی قوت : مریخ اگرزہرہ کےعناصرمیں تبدیل نہ ہوتوبالآخر برباد ہوجاتاہےاورقوت بہت بڑھ جاتی ہے. جس میں یہ مشمتل ہوتا ہے.کیمیا گردھات کو تبدیل کرناچاہتےہیں مریخ کا دھات لوہا ہےاور اس کی قیمت اس وقت بہت بڑھ جاتی ہے جب اسے عمدہ اسٹیل میں تبدیل کردیا جاتا ہے.
فیصلہ : جب سیارہ مخالف برج یا گھرمیں داخل ہوتا ہےتووہ فیصلہ کن اثرات مرتب کرتا ہے ایسی صورت میں سیاہ کو کمزورمانا گیا ہے.
فیصلہ کن : ثابت بروج مثبت مطالب اورفیصلہ کن اثرات کےحآمل ہوتےہیں.
شیطان : مریخ کو شیطانی قوتوں کاحامل سیارہ کہاجاتاہے.علم نجوم میں زحل کو شیطان کا چیلا اورمریخ کوشیطان گرداناجاتا ہے.یہ عظیم اصول اس لئےبنایا گیا ہےکہ یہ دونوں سیارےمنفی کےمالک ہوتےہیں. ان کی وجہ سےہم علم نجوم میں جہنم اورشیطان کےتصورسےواقف ہوتے ہیں.
اہم نظرات : وہ نظرات جو بروج کی مخالف ترتیب سےبنتےہیں.
مراتب : کواکب کے مراتب سے مراد یہ ہےکہ ان کی قوت لازمی ہے یاطالعی یا وہ دونوں طرح کی صلاحیت رکھتےہیں ایک سیارےکولازمی مرتبہ اسےاپنےگھرمیں یا شرف میں حاصل ہوتا ہے.اورجب یہ کسی مخصوص زاوئیےپرہوتواس کامرتبہ طالعی ہوتا ہےجب وہ اپنےمرتبے سےمخالف پوزیشن میں ہوتا ہے.
مستقیم : جب سیارہ سیدھا چل رہا ہواوررجعت میں نہ ہوتواسےمستقیم کہتےہیں یعنی وہ بالترتیب برج حمل سے حوت کی طرف سفرکررہا ہو.
جوانب : پیدائش کے بعد بچےکےلئےجوحساب کیاجاتا ہے.تاکہ اہم واقعات کےاوقات کومعلوم کیا جاسکےاسےغیبی نجوم کہاجاتا ہےاس لئےکہ اس کا تعلق بچےکے مستقبل سے ہوتا ہے جوانب کو دو حصوں میں تقسیم کیاجاتا ہےایک کوابتدائی سمت اوردوسرےکوثانوی کہاجاتاہے.
ابتدائی سمت سے ہم گھنٹوں تک کےواقعات کومعلوم کرتےہیں جبکہ ثانوی سمت سے بالکل صیحح وقت کااندازہ ہوتا ہے.سمت یا جوانب معلوم کرنے کے بہت سےحسابی طریقےہیں جن کاانحصارطالب علموں کی پسندپرہوتاہےان میں سےاکثرکو ہم مختلف عنوانات کےتحت بتائیں گے.طالب علموں کی ایک بہت بڑی تعدادجانب معلوم کرنےمیں ایک مشترکہ غلطی کرتی ہےاورجسکی وجہ سےبنیادی قوت وکمزوری کااندازہ کرنےمیں ناکام ہوتےہیں جوانب کےمتعلق تمام اندازےاورفیصلےصاحب زائچہ کی صفات سےلگائےجاتےہیں.ایک عام ترجمہ جوتمام سمت کےلئےلازمی طورپراستعمال ہوتاہےاس سے بہت سی غلطیاں ابتدائی طورپرفیصلہ کرنےمیں واقع ہوتی ہیں.
جوانب کےسلسلےمیں دسواں گھر، طالع پیدائش ، شمس اور قمرنہایت اہم مقامات ہیں اورجب اس پر کام کیاجاتاہےتوابتدائی جوانب میں کسی زائچےمیں یہ مقامات بہت صحیح اندازہ فراہم کرتے ہیں. ان کوصفردرجہ حمل سےصحیح طریقے سےناپاجاسکتا ہے عام طورپر مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے.
کواکب ، عرض البلد ، مخالف گھر ، طالع پیدائش ، دسواں گھر ، نصف کرے کی پوزیشن ان کی مکمل وضاحت آئندہ بیان ہوگی.پیدائش کےوقت کواکب کی پوزیشن پوری زندگی میں ساکن ہوتی ہے انکےاثرات جوپیدائش کےلمحےپراثراندازہوتےہیں.
سمت کےکرےکومعلوم کرنےکےلئےجیساکہ نیان کیا گیاہے.یہ مقامات اس وقت تک حرکت کرتےہیں جب تک کہ وہ کوئی نظرنہ بنائیں فرض کیئجے کہ دسواں گھر14 درجہ 22 دقیقہ برج ثورہوتوصحیح طلوع41 درجہ53 دقیقہ ہوگااوریورانس برج جوزاکے11 درجہ24 دقیقہ پرہوتو صحیح طلوع69 درجہ51دقیقہ ہوگا.سمت کوکرےکومعلوم کرنے کےلئےچھوٹے طلوع سے نفی کردیتےہیں.
جیسے صحیح طلوع یورانس 69ڈگری51منٹ
جیسے صحیح طلوع دسواں گھر 41ڈگری53منٹ
27ڈگری53منٹ
اعمل سےدائرۃالبروج کی سمت میں دسویں گھراوریورانس کی نظرقرآن ہمیں ملتی ہے.
یہ بات یادرکھیں کےزندگی کا ہرسال ایک درجے کے برابر ہےاور ہرمہینہ5منٹ کے برابرہے.پس دسویں گھراوریورانس کے درمیان نظرتقریباً28 درجے کی ہے جس سے یہ چلتاہےکہ زندگی کے28 سال میں یہ نظرواقع ہوگی.
حسابی عمل کوآگےپیھچےکیاجاسکتاہے جسےبراہ راست حرکت کہا جاتا ہے.
بہت مقبول ، یقینی اور آسان طریقہ سمت معلوم کرنےکا وہ ہے جسمیں شمس و قمراہم کرداراداکرتےہیں،اس طریقےمیں زندگی کے ہردن کوایک سال کے برابرتسلیم کیاگیا ہے.
شمس کی پیدائش کےبعدروزانہ حرکت ، دسویں گھراورطالع کےاہم مقامات سےنظرات بناتا ہے جسےابتدائی نظرات کہا جاتا ہے.قمردائرۃالبروج میں اپنی گردش سےانتدائی نظرات بناتا ہےانکو حرکت میں صحیح طریقے سے ترتیب دیا جا ئے تو ثانوی نظرات بن جا تے ہیں ان کے ساتھ اگر کواکب کی اہم پوزیشن سے حرکت کو بھی شامل کرلیاجائے تو باہمی نظرات بنتےہیں یہ باہمی نظرات سےنظر بنائےاس وقت کا پتہ چلتا ہے جب واقع ہونےوالاہو.
آسان ترین طریقہ سمت معلوم کرنےکا یوں ہے پیدائش کے بعددنوں کو گن لیں تو وہ اتنےسال ہوں گے جو گزرچکے ہوںگےاور دومیں سے ہرایک کو ساکن نقشے اور کواکب کی پوزیشن میں شامل کرلیں پیدائش کےوقت اس دن شمس و قمرکی پوزیشن کو نوٹ کرلیں یااس پوزیش کو الگ نوٹ کرلیں کیکن ساکن اور حرکت پذیر پوزیشن کے درمیان نظرات کو معلوم کریں جیسا کہ ان کی پیدائش کے وقت ضرروت ہو.قمرکی حرکت دائرہ البروج میں ایک درجہ 5 منٹ فی ماہ کے حساب سے ہوتی ہے یا 13 درجہ فی سال کے برابر ہے.
سرمدی تقویم استعمال کرکے ہرماہ کی درست پوزیشن معلوم کی جاسکتی ہے.
اختلافی نظرات : وہ تمام نظرات جو آتشی اورآبی بروج کے درمیان واقع ہوتے ہیں. اختلافی نظرات کہلاتےہیں.یہی صورت خاکی اور بادی بروج کے درمیان بھی ہوتی ہے.ان بروج کے درمیان بننےوالی نظرتربیع نہایت قابل رحم اختلافی نظرہوتی ہے.مندرجہ ذیل نظرات کم و بیش اختلافی ہوتی ہیں. Semi Square تربیع Sesquiquerdatea اورمقابلہ اور قرآن کی پوزیشن بھی اختلافی ہوتی ہے جو دو مختلف المزاج کوکب کے درمیان واقع ہو. یہاں ہم اپنا آج کا لیکچراختتام کرتےہیں نئے لیکچر کے ساتھ انشاء اللہ دوبارہ آپ سے ملاقات کرنیگے فی الحآل اجازت دیئجے اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانی عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی تو فیق عطا فرمائے.امین.اللہ حآفظ.


SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat