Category Archives: Chromopathy

Category : Chromopathy

WORLD OF KNOWLEDGE
CHROMOPATHY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 2
CHROMOPATHIC PHARMACY

رنگوں سے دواؤں کی تیاری
السلام واعلیکم:ورلڈآف نالج میں خوش آمد ید —-!
عزیز طلباءوطالبات پہلے لیکچر میں نے کروموپیتھی کا تعارف بیان کیا تھا آج ہم یہ بتائیں گے کہ کروموپیتھی میں رنگ کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے اور کون کون سے رنگ کون کون سی بیماریوں میں کارمد ییں نیز رنگوں سےدواؤں کی تیاری کیسے کی جا تی ہے.طبی نقطہ نظرسے یہ معلوم کرنے کےلئے کہ انسان کے جسم میں کسں رنگ کی کمی یا بیشی واقع ہوئی ہے اس شخص کی آنکھوں کا سفید حصہ، ناخنوں کا رنگ، پیشاب کا رنگ اور اجابت کے رنگ کا جائزہ لینا چا ہئے.اب یہاں پہلے میں آپ کو سات بنیادی رنگ اور ان سے منسوب کواکب بتاتا ہوں تا کہ آئندہ علاج میں دشواری نہ ہواورآپ سمجھ جائیں کہ کونسا مرض کس کوکب یعنی سیارے سے منسوب ہے.
رنگ کوکب انگریزی نام
سفید قمر WHITE
سرخ مریخ RED
نارنجی شمس ORANGE
زرد(پیلا) زہرہ YELLOW
سبز عطارد GREEN
نیلا زحل BLUE
بنفشی(جامنی) مشتری VIOLET
کسی رنگ کی انسانی جسم میں کمی یا بیشی سے پیدا ہونے اثرات کی تفصیلات یہاں مکمل بیان کرنا تو مشکل ہے لیکن میں مختصراً آپ کو بتاتا ہوں کہ کسی رنگ کی کمی بیشی سے انسانی جسم میں کیا اثرات پیدا ہوں سکتے ہیں.
سفید رنگ: مرض ایڈز، کینسر، خون کی کمی،مرگی، دمہ ، قولنج، نسوانی بیماریاں، غشی، ہیموگلوبین کی کمی، امراض قلب، گردےکی پتھری، جسم کا بایاں حصہ، حیض کی شکایات، دماغی خلل، پتہ کی پتھری، رنگ ورم،جلدی امراض،چیچک، بےخوابی، سوجن، متلی،قے وغیرہ.

سرخ رنگ: اسقاط حمل، حآدثات، بخار، درد دل، اخراج خون، جلنا، کارنبکل، ہیضہ، کھانسی، ذیابیطس، اسہال،گیسڑک، ہرنیا، ہسڑیا، سوجن، خآرش، امراض مردانہ، صدمہ، یرقان وغیرہ وغیرہ.
نارنجی رنگ: سانس کی تکا لیف، دوران خون کے امراض، سردی لگنا، خناق، امراض قلب، حیات کی کمی، پاگل پن، مہاسے، لولگنا وغیرہ.
زرد(پیلا) رنگ: اٹھرہ، سینہ کی جلن، دبلا پن، امراض الات پوشیدہ، کوتاہ قامتی، آنت اور گردہ کی تکا لیف وغیرہ وغیرہ.
سبز رنگ: اعصابی شکایات، اندھاپن، امراض تنفس، رعشہ، حافظہ کی خرابی.درد.، جلن،پھوڑا، چہرے کا اعصابی درد، نظر کی کمزوری،منہ کے امراض، کام کی زیادتی سے ہونے والے امراض، فالج، نقرس، جوڑوں کا درد، بے خوابی، لکنت عام کمزوری وغیرہ.
نیلا رنگ: عرق النساء، جوڑوں کا درد، چھاتی کا کینسر، نقاہت، صفرا، تشنج، بہراپن، برص، بھینگاپن، بواسیر، مہاسے، طاعون، زہرکےاثرات بد وغیرہ.

نبفشی رنگ: البومن،دردکمر، بھوک کی زیادتی، موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر،گردن کے عوارضآت، ذات الجنب، لو بلڈ پریشر، خون کا پانی ہونا وغیرہ وغیرہ. اس طریقہ علاج کے مندرجہ ذیل طریقہ سے آپ علاج کرسکتے ہیں.
1- جس رنگ کی کمی ہو گئی ہو اس رنگ کی بوتل بازار سے لے کر اس میں پانی یا شوگر آف ملک کی گولیاں بھر کر کم از کم چار گھنٹے روزانہ دھوپ میں رکھیں جب بوتل کے اندرخالی حصہ پر کچھ بوندیں نظر آنے لگیں تو سمجھیں کہ پا نی تیار ہے ایک شیشی کی قریب دوسری قرشیشی نہ رکھیں. گردوٍغبار سے بچائیں،شوگر آف ملک کی جگہ مصری بھی رکھ سکتے ہیں.

2- مختلف رنگ کے شیشوں سے لیمپ تیار کر لیں اور اندر بلب روشن کر کے جسم کے مخصوص مقامات پر ڈالیں تو علاج شافی ہوجائے گا.

3-مختلف رنگ کی بوتلوں میں السی کا تیل رکھ کر تیار کر لیں اور پھر انہیں استعمال کریں سرسوں کا تیل بھی تیار کرسکتے ہیں کوئی بھی سفید تیل سے تیاری کرسکتے ہیں.

4- پتھروں(نگینوں) کے ذریعہ بھی علاج کیا جاتا ہے جس رنگ کی ضرورت ہو اس رنگ کا نگینہ مریض یا مر یضہ کو پہنا دیں.

5-سبع کواکب سے منسوب دھاتوں سے بھی علاج کیا جا سکتا ہے.

یہ لیکچر کافی طویل ہوگیا لٰہذااسے یہیں ختم کرتا ہوں آئندہ لیکچر میں جسم انسانی کے ان 45 مقامات کی نشاندہی نقشوں کی مدد سے اور کواکب سے منسوب نگینے اوردھات کاذکر بھی کروںگا اور ان کے ساتھ ساتھ مزید کچھ حیرت انگیز انکشافات بھی.امید ہے کہ یہ تحقیقی اور معلوماتی سلسلہ آپ کو پسند آئے گا.اگر آپ بھی خدانخوستہ کسی بیماری میں مبتلا ہوں جس کا علاج نہیں ہورہا ہو تو آپ بھی پورے اعتماد کے ساتھ رابطہ کریں انشا اللہ چند یوم میں آپ کو شفاء کلی ہوجائے گی.
اس دعا کے ساتھ اجازت دیجئے کہ اللہ آپکو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے.آمین،اللہ


Category : Chromopathy

WORLD OF KNOWLEDGE
CHROMOPATHY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 3
(SOLOR ENERGY AND ULTRA VIOLET REDIATION)

شمسی توانائی اورماوراء بنفشی شعاع بیزی
السلام واعلیکم:ورلڈآف نالج میں خوش آمد ید —-!
گزشتہ لیکچرمیں ہم نے سورج کی روشنی اور اسکی اہمیت وافادیت کا ذکرقرآن حکیم کی روشنی میں تفصیل کےساتھ بیان کیا تھا.آج کے لیکچر میں ہم یہ غور کریں گے کہ انسانی تاریخ میں شمسی توانائی کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور آج بھی کیااثرات مرتب ہورہے ییں.
شمسی توانائی کے خواص اورصحت افزاءاثرات کا انداہ زمانہ قدیم سے ہی انسانوں کو تھا اور اسی وجہ سے سورج کی پرستش کا خیال پیدا ہوا تھا یعنی شمسی توانائی کے طلسمی اثرات دیکھ کر جو کہ انسانی، حیوانی اور نباتاتی صحت و حیات پر مرتب ہورہے تھےانسان کے دل میں امتنان و تشکر کے جذبات پیدا ہوئے ہوںگے جو رفتہ رفتہ پرستش کی حد تک پہنچ گئے اور غالباً اسی وجہ سے سورج کی پرستش کا خیال پیدا ہوا تھا یعنی شمسی توانائی کے طلسمی اثرات دیکھ کر جو کہ انسانی، حیوانی اور نباتاتی صحت و حیات پر مرتب ہورہے تھے انسان کے دل میں امتنان و تشکر کے جذبات پیدا ہوئے ہوںگے جو رفتہ رفتہ پرستش کی حد تک پینچ گئے اور غا لباً اسی بنا پر قدیم مصری،ایرانی اور میکسیسکو کی اقوام میں سورج کی پرستش کا رواج بن گیا تھا حتٰی کہ مصر میں ایک مشہور تعلیمی درسگاہ نام بھی “ہلیو پولس” اس کا مطلب(سورج دیوتا) رکھا گیا تھا. سورج کی پرستش کا خیال بڑھتے بڑھتے اور پھیلتے پھیلتے بابل، امور، مسدوم اور ہندوستان تک بھی پہنچ گیا تھا.

زمانہ قدیم کے حکیم واطباء شمسی توانائی کےتابکاری اثرات اور ان کے خواص سے آگاہ تھے اور اپنے طریقہ علاج میں اسے بکثرت استعمال کرتے تھے چنانچہ مصر،ایران، اسوریا، بابل، ہندوستان اور میکسیکو کے معالجین مختلف امراض کا علاج شمسی توانائی سے کرتے تھے.
اگر آپ بقراط ، سقراط اور جالینوس کی تحریرات کا مطا لعہ کریں تو آپ کو انداذہ ہوگا کہ قدیم یونان، اٹلی اور روم کے لوگ کروموپیتھی سے مستقل علاج کرتے تھے.

تاریخ کے مطا لعے سے پتہ چلتا ہے کہ اہل مصر، یونان اور روم اپنے مکانوں میں ایک خاصہ حصہ مخصوص طریقہ سے بناتے تھے تاکہ سورج کی توانائی اور روشنی سے وہ ہر موسم میں فائدہ اٹھاسکیں اس مخصوص طرزتعمیر کو یونان میں ہسیلیا سیز اور اٹلی میں سلاریم کہا جاتا تھا.آج سے 900 برس قبل مشہور مسلمان طبیب بوعلی سینا نے بھی اپنی کتاب”القانون” میں سورج کی توانائی کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے.
“ناصرف جمادات ونبادات بلکہ حیوانات پر بھی سورج کی توانائی کے اثرات نہایت غور اور درست مشاہدہ کے بعد سمجھ میں آئے ہیں جو ہر جاندارکی نشوونما اورتندرستی کےلئے نہایت ضروری ہے”
مشہور سائنس دان آئزک نیوٹن نےانکشاف کیا تھا کہ سورج کی توانائی سے بھرپور شعائیں بہت طاقتور اور رنگوں کی حامل ہوتی ہیں. یعنی اسکی توانائی میں آکسوٹوپ بھی موجود ہوتے ییں جن سے اس جدیددور میں ہر قسم کے سرطان اور امراض قلب کا علاج کیا جارہا ہے ہم جا یعنی آکسوٹوپ کے چھوٹےچھوٹےذرات جوخوردبین سے ہی دیکھے جاسکتے ہیں بڑے پراسرار،جادواورمفید ہوتے ہیں اوریہ بالائے نبفشی شعاعوں( Ultra Violet Rays) سےمشابہت رکھتے ہیں.
جسم انسانی میں ماوراء نبفشی شعاعوں کی طاقت نفوذ بہت ہوتی ہے ماوراءنبفشی شعاعوں کو انگریزی میں( RAYS INFRA RED) کہا جاتا ہے.

فوٹان : Photon

برقاطیسی تابکاری کی مقدار جس کی سکونی کمیت صفر ہوتی ہےاوراسکی توانائی تابکاری کی فریکوئنسی اور مستقل پلانک کے برابر ہوتی ہے. فوٹان تب پیدا ہوتے ہیں جب ذرے کا برقی چارج مومنٹم میں مومنٹم میں تبدیل ہوجاتا ہے جب مرکزے( NUCLEI) یا الیکڑان میں ٹکراؤ ہوتا ہے تو ان مر کزے اور ذرے کے تنزل سے مومنٹم پیدا ہوتا ہے.فوٹان بنیادی طور پر بنیادی ذرہ ہے جس کے حلقوں سے فضا میں رنگ بنتے ہیں.

الاشعاع:(X.RAY)

اسےرونتجن شعاع بھی کہا جاتا ہے.یہ بھی برقاطیسی تابکاری سے پیدا ہونے والی روشنی ہے لیکن اس کی طول موج بہت مختصر ہوتی ہے جس مقدار(9-)10×55 میڑسے (12-)10×6 میڑتک تقریباًٰ ہوتی ہے لاشعاع جسم انسانی کےآرپاربآسانی ہوجاتی ہے جسکی وجہ سے ہڈیوں اورگوشت کے اندر کی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ دیگرطریقہ ہائے علاج میں بھی مستعمل ہے.

ماورانبفشی شعاع بیزی 🙁 ULTRA.VIOLET RADIATION)

برقاطیسی تابکاری جس کے طول موج کی وسعت تقریباً (7-)10×4 سے (9-)10×5 میڑتک ہوتی ہے.جو نظرآنے والی روشنی کی لہراورایکس ریزکے درمیان ہوتی ہے.اس توانائی کے سامنے تمام اقسام کے جراثیم کی نشوونما رک جاتی ہے اور اکثر ہلاک ہوجاتے ہیں.
اگرآپ کچھ دیر دھوپ میں کھڑے ہوجائیں تو شمسی توانائی سے عروق شعر یہ متاثر ہوتی ہے جسکی وجہ سے آپ کی جلد سرخ ہوجاتی ہے.جسم انسانی کےاندرخون کی پیدائش پر بھی ماورانبفشی شعاع کا اثر پڑتا ہے جس سے دوران خون کو تحریک و تقویت ہوتی ہے اور اس سے تازہ و صالح خون کا فی مقدار میں پیدا ہوتا ہے اسکے علاوہ خون کے اندر بیماری کے خلاف قوت مدافعت بھی بڑھ جاتی ہے.
ماورانبفشی شعاع جو ہمیں سورج سے ملتی ہے اس کے اثر سے ہمارے جسم میں وٹامن ڈی ( D) کی کمی پوری ہوجاتی ہے اور جسم میں فولاد، کیلشیم اور فاسفورس کے ا جزاء کو زسرِ نو جذب کر نے کی صلا حیت پیدا ہوجا تی ہے.
ماورانبفشی شعاعوں کا اثر انسانی جسم کے نظام غدود خاص طور پر غدہ ورقیہ اور رغدہ تنا سلیہ پر بہت اچھا پڑتا ہے. اس کے علاوہ انسانی جسم کے نظام عصبی پر بھی ماورانبفشی شعاعوں کا اثراچھا پڑتا ہے اورذہنی و جسمانی تھکن فوراً دور ہوجاتی ہے.ماورانبفشی شعاعوں کےاستعمال سے جسمانی کمذوری، لاغری، وحع المفاصل کے درد، جسم اور چہرے کی جھریاں،قوت باہ کی کمی اور دیگر جنسی امراض کا علاج باسہولت ممکن ہے.
ماورانبفشی شعاعوں سے چہرے کی بےرونقی اورزردی، جھریاں، جلدکاڈھیلاپن، خواتین میں چھاتیوں کا ڈھیلاپن، چہرے کے داغ وغیرہ جوکہ انزائمز اور ہارمونز کی کمی اور وٹامن کی کمی سے پیدا ہونے والے امراض کا علاج کیا جاسکتا ہے. اسکے علاوہ بالوں کا جھڑنا جو کہ مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہوتا ہے اسکا علاج بھی ماورانبفشی شعاعوں سے نا آسانی کیا جا سکتا ہے.

جسم انسانی اور رنگ:

واضح رہے کر جسم انسانی پر سات رنگ ہمیشہ موجود رہتے ہیں جنہیں کیرالین فوٹوگرافی کے زریعے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ بعض لوگوں کے آنکھوں میں بھی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ جسم انسانی پر موجود ہمہ اقسام کے رنگوں کو دیکھ سکتے ہیں الحمداللہ قدرت نے مجھے بھی اس عطئیے سے نوازا ہے. فی زمانہ یورپ اور امریکہ میں متعددایسےطریقہ ہائے علاج رائج ہیں جو قدرتی ہیں یعنی ان طریقوں میں دواؤں کا استعمال نہیں کروایا جاتا ہے جن کے نام یہ ہیں.
نیچروپیھتی یعنی قدرتی غذاؤں کے ذریعےعلاج
سولرتھراپی سورج کے ذریعےعلاج
ہائیڈرو تھراپی پانی کے ذریعےعلاج
ایروہائیدروپیھتی پانی اور ہوا کے ذریعےعلاج
ایموتھراپی ریت کے ذریعےعلاج
ایمیلوتھراپی انگورکے ذریعےعلاج
اینمو پیتھی علاج بزریعہ سانس
بالینو تھراپی غسل کے ذریعےعلاج
الیکڑومساج بجلی اورمالش کے ذریعےعلاج
امیکٹک مجربات کے ذریعےعلاج
فائن سن لائٹ ٹرٹیمنٹ الڑاوائلٹ کرنوں کے ذریعےعلاج
فراکیگوتھراپی سردی پہنچا کر علاج
گیلتکو پوسیا دودھ کے ذریعےعلاج
میگنٹو تھراپی مقناطیسی قوت کے ذریعےعلاج
حیمزتھراپی پھتروں کے ذریعےعلاج
میٹا لو تھراپی دھاتوں کے بیرونی استعمال کے ذریعےعلاج
میسٹو تھراپی فاقہ کرواک علاج
پیلو پیھتی گارے اور کیچڑکے ذریعےعلاج
تھرموتھراپی علاج بذریعہحرارت
مل تھراپی شہدکے ذریعےعلاج
کرومو پیھتی رنگوں کے ذریعےعلاج
اورانکے علاوہ بھی کئی اور طریقہ ہائے علاج وسیع پیمانے پر رائج ییں.اب میں سات بنیادی رنگ ان سے منسوب کواکب، دھات اور جواہرات بتا رہا ہوں ان کو اپنے پاس نوٹ کرلیں تاکہ آئندہ علاج میں دشواری نہ ہو اورآپ سمجھ جائیں کہ کونسا مرض کس سیارے سے منسوب ہے اور اس کا علاج کیا ہے.
رنگ کواکب دھات نگینہ(جواہرات)
سفید قمر چاندی حجرالقمر( MOON STONE )
سرخ مریخ لوہا حجرالدم ( BLOOD STONE)
نارنجی شمس سونا حجرالشمس( SUN STONE)
زرد(پیلا) زہ تانبہ زردپکھراج( TOPAZ )
سبز عطارد چاندی زمرد( EMERALD)
نیلا زحل سیسہ نیلم( SAPHIRE )
بنفشی مشتری ٹن یاقوت( RUBY)
عزیز طلباء طالبات آج کے لیکچر کےتمام مندرجات نہایت اہم ہیں انہیں اچھی طرح نوٹ کرلیں اسکے ساتھ ہی لیکچر کا اختتام کرتا ہوں
اس دعا کے ساتھ اجازت دیجئے کہ اللہ آپکو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے.آمین،اللہ


Category : Chromopathy

WORLD OF KNOWLEDGE
CHROMOPATHY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 2
(INTRODUCTION OF CHROMOPATHY)
کروموپیتھی کا تعارف

السلام واعلیکم:ورلڈآف نالج میں خوش آمد ید —-!
ہمارا آج کا لیکچرکروموپیتھی کےبارےمیں ہےجسے عمومی طورپر رنگ وروشنی سے علاج کے نام سے جانا جاتا ہے
رنگ وروشنی سے علاج جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس طریقہ علاج میں رنگوں کا استعمال کیا جاتاہے-اس کا طریقہ کارکیا ہوتا ہےاوراسکی ادویات کسطرح تیارہوتی ہیں؟اس پرہم سیرحآصل گفتگو کریںگے.کروموپیتھی دو الفاظ یعنی کروموپیتھی کامجموعہ ہے کروموکا مطلب ہے رنگین شعائیں اور پیتھی کا مطلب ہے امراض کا علاج گویا کروموپیتھی کا مطلب ہوارنگین شعاعوں سے علاج.آج کےاس لیکچر میں کائنات میں بکھرے ہوے سینکڑوں رنگوں میں چند رنگوں کے اعجازی خواص اوران سے بیماری کا علاج اوران بیماریوں کی مختصر کیفیات مختصراً مگر جامع انداز میں پیش کررہا ہوں.مجھےامید ہے یہ لیکچرناصرف آپ کےلئے دل چسپی کا باعث ہوگا بلکہ علم میں اضافےکا سببب بنے گا. ہمارے بزرگوں کا طریقہ کاریہ تھا کہ علم کا حصول جہاں سے بھی ممکن ہوتا تھا ضرور کرتے تھے ناصرف حصول علم کے لئے سرگرداں رہتے تھے جہاں سے جتنا علم ملتا اسے تحریرکرنےکےبعداپنی تحقیقات،تجربات اور مشاہدات بھی بیان کرتے اورجوعلم جہاں سے حاصل ہوتا اس ماخذ کا حوالہ اوراس علم کو متعارف کروانے والے شخص کا نام بھی ظاہرکردیتےتھے.مگربدقسمتی سےنی زمانہ جہالت اور علمی بخل کے پیش نظرآج کے ماہرین اس احسن عمل سے گریز کرتےہیں.یہی وجہ ہےکہ آج 800 سال کا عرصہ گزرجانےکےباوجو اورعلمی اور سائنسی میدان میں مسلمانوں نے کوئی کارہائے نمایاں انجام نہیں دیا.
رنگوں اورانکی اقسام کا ذکر ہماری مقدس کتاب”قرآن مجید”میں بھی ہے مگربدقسمتی سےہم اس طرف متوجہ نہیں ہوئے.اب جبکہ اس پر تحقیقی کام امریکہ کے مہشورڈاکڑ بیٹ نے کیا اور رنگوں کو کائناتی شعاعوں سے ملا کر اس کا استعمال اور علاج بتایا تو لوگ ڈاکڑبیٹ کی اس تحقیق کو اپنے ناموں سے منسوب کرنے کی کوشش کررہے ہیں.پاکستان میں کروموپیتھی طریقہ علاج کی ترویج واشاعت میں دو نام لینا چاہوں گا جنہوں نے اس علاج کو عوام میں رائج کرنےکےلئےبےپناہ کوششوں اور کاوشوں کیں.جن میں ایک نام خواجہ شمس الدین عظیمی اوردوسرےمیرےاستاد محترم ڈاکڑ فرقان سرمد صاحب کا ہے.ڈاکڑ فرقان سرمد نے کروموپیتھی طریقہ علاج کو ناصرف جدید خطوط پر استوار کیا بلکہ بے پناہ لوگوں کو اس علم سے آگاہی دی اور آج ان کے لاتعداد شاگرداس علم کو حاصل کرکے خلق خدا کو فیض پہنچارہے ہیں.قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:”اوران چیزوں کو بھی بنایا اس طورپرکہ ان کے رنگ کئی اقسام کے ہیں اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کےلئے جو سمجھدارہیں”(سورہ نحل آیت نمبر13). یہاں رنگ کی کئی اقسام کا ذکراور چیزوں کا ذکرہے لفظ چیزوں میں گنجا ئش ہے.اس میں جواہرات یعنی پتھر،جانور،درخت،میوہ جات،پھل،سبزیاں غرض ہر چیز آجاتی ہے.پھریہ بھی دعوت دی کہ عقلمند لوگوں کے لئے اس میں بڑی ٹھوس نشانیاں ہیں.لیکن افسوس کہ ہم نے اس صریح دلیل پرتوجہ نہیں دی اور یہ کارنامہ بھی ایک غیرمسلم نے انجام دیا. قبل اس کے کہ ہم اس طریقہ کار کی تفصیل بیان کریں.سب سے پیہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ رنگ ہے کیا.؟ سائنسی نقطئہ نظر سے رنگ کی تعریف یوں کی گئی ہے”رنگ کا ادرک ہمیں ایک مخصوص طول موج (جوبرقی مقناطیسی لہروںRadiation Electro Magnatic )” کی وجہ سے انسان کے مرکزی اعصابی نظام سے آنکھوں پراثر انداز ہوتی ہے کے نتیجے میں ہوتا ہے.
یہ بات میں آپ کو پھر بتادوں کہ انسان کے جسم پر سات رنگ ہمیشہ موجود رہتے ییں ان رنگوں کو کیرالین فوٹو گرانی کے زریعے دیکھا جاسکتا ہے بعض لوگوں کی آنکھوں میں بھی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ انسان جسم پر موجود ہمہ قسام کے رنگوں کو دیکھ سکتے ییں. الحمداللہ قدرت نے مھجے بھی اس عطیئے سے نوازا ہے. نی زمانہ یورپ اور امریکا میں متعدد ایسے طریقہ ہائے علاج رائج ہیں جو قدرتی ہیں یعنی ان طریقوں میں دواؤں کا استعمال نہیں کروایا جاتا.جن میں نیچرل پیھتی، یعنی قدرتی غذاؤں کے ذریعے علاج، ہولرتھراپی یعنی سورج کی کرنوں کے ذریعے علاج، ہائیڈ رو تھراپی یعنی پانی سے علاج، ایروہائیڈرو پیھتی یعنی پانی اور ہوا اسے علاج، ایموتھراپی یعنی ریت کے ذریعے علاج، ایمپلوتھراپی یعنی انگور کے ذریعے علاج، انمیوپیتھی یعنی علاج بذریعہ سائنس، بالینوتھراپی یعنی غسل کے ذریعے علاج، الیکڑومساج اور مالش کےذریعے علاج، امیکٹک یعنی مجربات کے ذریعے علاج، فائن سن لائٹ منٹ تعنی الڑاوائیلٹ کرنوں سےعلاج فراکیگو تھراپی سردی پہنچا کرعلاج، گیلٹکو پوسیا یعنی دودھ کے ذریعےعلاج، میگنٹیوتھراپی یعنی مقناطیسی قوت کےذریعے علاج، نیسٹوتھراپی یعنی فاقہ کرواکرعلاج،پیلوپیھتی یعنی گارے کیچڑسےعلاج، تھرموتھراپی علاج بذریعہ حرارت اور کروموپیتھی یعنی علاج بذریعہ رنگ، ان کے علاوہ بھی کئی اور قدرتیطریقہ ہاے علاج وسیع پینمانے پر رائج ہیں. کروموپیتھی یعنی رنگوں کےذریعے علاج کا طریقہ حصول صحت کےلئے زمانہ قدیم سے ہی رائج ہے اور یہ مشہور ہے کہ اہل ہند اس طریقہ علاج کے موجد ہیں لیکن جیسا کہ میں نےابھی بتایا ہے کہ اس علاج کوجدید دنیا میں متعارف کروانےکاسہراامریکہ کےڈاکڑبیٹ کےسرہے اس کےعلاوہ میکسیکو کے ڈاکڑ ٹیمپوپنواس نےبھی آج سے تقریباً ساٹھ سال قبل اس طریقہ علاج پر سائنٹیفک کام کیاتھا اس کے بعد ہندوستان کےڈاکڑایم جی کالے نے بھی اس میں تھوڑی سی ترمیم کرکے اس پر کام کیا تھا اسکے علاوہ پاکستان میں ڈاکڑ فرقان سرمد نے اس طریقہ علاج کو جدید خطوط پراستوار کروانے میں نمایاں کردارادا کیا.انکے علاوہ جرمنی اور یورپ کے دیگر کئی ممالک میں بھی اس طریقہ علاج پر کافی تحقیقات ہوئی ہیں. اس فقیر نے بھی طریقہ علاج پرکافی کام کیا ہے جسے انشاءاللہ آئندہ کے لیکچروں میں پیش کرونگا. اس نادر روزگار طریقہ علاج سے تقریباَ ہر قسم کے امراض کا علاج نہایت کامیابی سے کیا جاسکتا ہے.اسکے علاوہ یہ علاج اتنا سہل اور سستا ہے کہ ہر کوئی بغیر کچھ خرچ کئے اس طریقہ علاج کو اپنی صحت کی بقاء کےلئےاپناسکتا ہے. بلاشبہ اللہ تعالٰی کا ہم پر یہ احسان ہے اس نے ہمیں سورج جیسی شے عطا کی ہے تاکہ ہم زندگئ کو ہرطرح سے مفید بناسیکں سورج کی کرنیں بلاشبہ بہت سے خطرناک جراثیم کو جلا کرراکھ کردیتی ہیں اور ہماری صحت بحآل ہوجاتی ہے.سائنسدانوں کا یہ مقولہ حقیقت سے قریب ترہے جس مقام پر سورج کی روشنی نہیں جاتی وہاں ڈاکڑ جاتاہے.سورج سے قدرت نے ہم کو بے شمار فوائد پہنچائے ہیں جن کا شمار کرنا بھی مشکل ہے اور بہت سی چیزیں ہم انسانوں نے اپنی محنت سے خود ہی تیار کرلی ییں.مثلاً دھوپ کی گھڑی،شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنا وغیرہوغیرہ.
لیکن ڈاکڑ بیٹ کا کارنامہ سب سے انوکھا ہے جو انہوں نے انسانی صحت کے فائدے کےلئےانجام دیا ہے.
آپ کو یہ بات بتادوں کہ انسانی جسم پانچ عناصر کا بنا ہوا ہے ان عناصر میں سے ہر ایک کا رنگ مختلف ہے اس ہم یہ کہہ سکتے ییں انسان ان پانچ رنگوں کا بنا ہوا ہے اور یہی دراصل اس طریقہ کار کا اصول ہے.جب یہ رنگ انسانی جسم میں اعتدال میں ہوتے ہیں تو انسان تندرست رہہتا ہے بصورت دیگر مختلف امراض و عوارضات کا شکار ہوجاتا ہے.میرا خیال ہےکہ آج کے اس لیکچر میں اتنا کافی ہے باقی گفتگو
انشاءاللہ لیکچر میں کریں گے اس دعا کے ساتھ اجازت دیجئے کہ اللہ آپکو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے.آمین،اللہ


بسم اللہ الرحمٰن الحیم
Lecture Number 1
Introduction of Our Youtube Channels
1.World of Knowledge With Sami
2. Homeopathy With Sami
3. Astrology With Sami
4. Parapsychology With Sami

معززناظرین و سامعین اورعزیزطلباءوطالبات السلام وعلیکم!
یوں تو آپ نے مختلف موضوعات پرمختلف چینل دیکھے ہونگے مگرآج ہم آپ کوچارچینل متعارف کرارہےہیں گوکہ چاروں چینل الگ
الگ موضوع پرعلم کی ایک آباد ہے لہذامیں نے پہلے چینل کا نام ہی World of Knowledge with Sami رکھا ہے.
چاروں چینلزکے نام یہ ہیں.

Channel no 1. World of Knowledge With Sami
Channel no 2. Homeopathy With Sami
Channel no 3. Astrology With Sami
Channel no 4. Parapsychology With Sami

ان چینلز کے لنک ڈسکرپشین میں موجودہیں میرا خیال ہے کہ ان چاروں چینلز کے بارے میں مختصراً کچھ تعارف کرادیاجاے.توسب سے پہلےہم چینل نمبر1 کی طرف آتے ہیں جسکا نام ہے.

1. World of Knowledge With Sami

جیسا کہ نام سےہی ظاہرہے”علم کی دنیا”- اس چینل میں مختلف موضوعات پر میرےاخباری کالم،مختلف رسالوں میں درج مختلف
موضوعات سے متعلق تحریریں،حالات حاضرہ اورآلٹرنیٹوتھراپی پردیئےگئے لیکچرآپ کوملیں گےخصوصاً کروموپیتھی کے لیکچرزآپ کو
یقیناًبہت پسندآئینگے -مجھےامید ہے کہ یہ چینل اوراس پ خصوصاً صحت سے متعلق مواد بےحد پسندآئے گا-اپنی پسندیدگی کااظہار سبسکرائب کرکے ضرور کیجئےگا آپ کےکمنٹس کی روشنی میں مجھے آگے
-بڑھنےمیں مدد ملےگی-اب دوسرے چینل کی طرف آتےہیں جسکانام ہے..

2. Homeopathy With Sami

اس چینل میں آپ کو ناصرف علاج معالجےکی خدمات فراہم کی جائیں گی بلکہ ھومیوپیتھک طریقہ علاج کوعام فہم اندازمیں سکھایاجائےگا-جس سےناصرف ہومیوپیتھک طلباءفائدہ اٹھائیں گے بلکہ عام افراد جوکہ میں آپ کو میں یعنی ڈاکڑ سامی مختلف ہومیوپیتھی کو جاننا یاسمجھنا چاہتےہیں ان کو بھی مدد ملے گی- Homeopathy With Sami میں آپ کویعنی ڈاکڑسامی مختلف لیکچروں کی شکل میں ناصرف ہومیوپیتھک کی قدیمی تاریخ سے لے کر جدید نظریات بتاؤنگا بلکہ اپنے30سالہ تجربات ہومیوپیتھک طلباءوطالبات کےساتھ شیئربھی کرونگا تا کہ وہ عملی میدان میں خوداعتمادی کے ساتھ اپنا سفرشروع کرسیکں اس چینل میں ہومیوپیتھی کی مکمل معلومات کے ساتھ ساتھ نئے ڈاکڑزکوکلینک کھولنےکےاورکلینک کو کامیابی سے چلانےکے مکمل طریقے سے آگاہی دی جایئگی.
اب آتےہیں تیسرے چینل کی طرف جس کا نام ہے.

3. Astrology With Sami

جیساکہ نام سے ہی ظاہرہے کہ یہ چینل Astrology یعنی علم نجوم سے متعلق ہے میں 1984ءسےعلم نجوم سےوابستہ ہوں اتنے طویل عرصے کے بعد بھی اپنے آپ کوAstrology کا ایک طا لبعلم ہی سمجھتا ہوں ان 34 سالوں میں علم نجوم سے متعلق لیکچروں میں آپ کو وہ تمام بنیادی باتیں سکھادوں جو کہ ایک بہترین آسڑولوجسٹ میں لازمی ہونی چا ہیئے ہیں آپ کی دل چسپی رہی توانشاءاللہ مجھے بھی آپ پیچھےنہیں پائینگے میں آپ کو وہ تمام باتیں بتاؤنگا جوکہ عموماًلوگ چھپاتے ہیں علم نجوم میں اتنا بہترین مواد اوراتنے سہل انداز میں کبھی کسی نےنہیں دیا.اب آتےہیں چوتھے اور آخری چینل پیراسائیکولوجی کی طرف.

4. Parapsychology With Sami

اب کچھ ذکر ہوجائےچوتھے چینل یعنی Parapsychology کا-
پیراسائیکولوجی کا مطلب ہے”مابعدالنفسیات”- اس میں وہ سارےعلوم آجاتے ہیں جن کا تعلق روحاینت سے ہےمثلاً.ماورائی علوم،روحانی علوم،علم الساعت،علاج بالقرآن،نقوش وتعویزات،جادو،جناتی اثرات،نظرلگنا،وغیرہ وغیرہ اس چینل کےذریعےہم ناصرف بیماریوں کا روحانی علاج بتائیں گے بلکہ آپ کے دیگر معاشی،معاشرتی اور گھریلومسائل کا روحانی حل بھی پیش کرنیگےاسکے علاوہ شائقین روحانیت کے لئے روحانی علوم سکھانےکاعمل بھی جاری رکھیں گے.تمام روحانی علوم جدید سائنس کی روشنی میں آپ کو سکھائےجائیںگےتاکہ جولوگ خدمت خلق کا جذبہ دل میں رکھتےہیں وہ ان علوم کو سیکھ کرخلق خدا کوفیض پہنچاسکیں روحانی علوم کےوہ مبادیات جوکہ کبھی کسی نے کسی کو نہیں بتائے انشاءاللہ وہ سب میں آپ کو بتاؤنگا.
آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے اب آپ سے اجازت چاہتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ آپکو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنےکی توفیق عطا فرمائے. آمین.اللہ حافظ.


SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat