Category Archives: Uncategorized

Category : Uncategorized

world of Knowledge with sami
General Lecture Number 2

اردو زبان کی اہمیت و افادیت

السلام و علیکم ورلڈ آف نالج میں خوش آمدید

کیا ہماری قو می زبان اردو خیالات کے اظہار کی صلاحیت سے بالکل محروم ایک ناکارہ اور بے زبان ہے ؟ کیا ہماری زبان اس معمولی سی اہلیت کی بھی حامل نہیں ھے کہ وہ سائنس اور دیگر علمی معلومات کو اپنے اندر منتقل کرسکے اور دنیا کو ان علوم سے روشناس کراسکے ؟عہد حاضر کے مطابق اپنی زبان سے متعلق ان انتہائ اہم اور افسوس ناک سوالات کو زیر بحث لانے کے لئے ہمیں ترقی یافتہ اقوام عالم پر ایک نظر ڈالنی ہوگی ہمیں اپنے ان مختصر مگر اہم ترین سوالات کے جوابات کے حصول کے لئے تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کرتی ہوئ دنیا میں چند سالوں کے اندر حیرت انگیز طور پر ترقی کرنے والے ایشیاء کے دو ممالک پر غور کرنا ہمارے لئے یقیناً منفعت بخش ثابت ہوگا ان دو ممالک میں پہلی مثال کے طور پر جاپان سرفہرست ہے جو اپنے نظری اور علمی علوم میں اپنا سکہ اس قدر جماچکا یے کہ اب وہ علمی اعتبار سے اقوام عالم کی صف اول میں شمار ہوتا ہے جاپان کی مادی ترقی سے تمام دنیا باخبر یے جاپان میں ٹیکنالوجی اور ساٰٰٰٰئنس کی ترقی کا اندازہ اس کی صنعتی پیداوار کی خوبی اور فروانی سے لگایا جاسکتا یے دوسری مثال ہمارے ہمسایہ ملک چین کی ہے جی ہاں وہی چین جس کی بد نظمی اور پستی کے مثالیں اشتراکی انقلاب سے قبل زبان زد عام تھیں لیکن آج وہی چین شاہراہ کی ترقی پر اس برق رفتاری سے گامزن ہے کہ دنیا محوحیرت ہے امریکی مایرین بھی اس بات کے معترف ہیں کہ علم کیمیاء میں چین اتنی ترقی کرچکا ہے کہ دوسرے ممالک کے لئے اب اس کا مقابلہ کرنا نا ممکن یے یہ تو تمام دنیا جانتی ہے کہ مرکزائ طبیعات میں چین کس قدر بلنر مقام پر پہنچ چکا ہے چین کا بنایا ہوا ہائیڈروجن بم اپنی ابتدائ صورت کے باوجود کسی تجرباتی یا بے ہنگم عارضی شکل کا نہیں ہے بلکہ اس فن میں اعلیٰ ترین مہارت کا بہترین نمونہ ہے
چین کا بنایا ہوا قازفہ میزائل بھی اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ مستقبل قریب میں چین اگر چاہے تو دور کے علاقوں کو بھی اپنے جوہری اسلحہ کی زد میں لانے کے قابل ہوجائے گا یہی نہیں بلکہ چین سائنسی ترقی کے دوسرے میدانوں میں بھی دنیا سے بہت آگے بڑھ چکا ہے عوامی سطح پر پاکستانی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ چین سے جو سامان آتا ہے وہ نہایت ہی عمدہ اور ارزاں ہوتا ہے جس سے اس کی صنعتی ترقی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ان مثالوں کے اظہار کا مطلب یہ واضح کرنا ہے کہ جاپان یا چین ان دونوں ممالک نے انگریزی یا کسی یورپی زبان کے ذریعے ترقی نہیں کی ہے ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ابتداٰء میں انہوں نے یورپی زبان کے سرمائے سے استفادہ کیا ہو لیکن درس و تدریس کے معاملے ان کا زریعہ تعلیم ہمیشہ سے چین میں چینی اور جاپان میں جاپان رہا ہے اس ترقی کو دیکھ کر ہی اپنے وطن عزیز اور اپنی زبان کے بارے میں یہ سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں کوئ ایسی خصوصیت موجود نہیں ہے کہ وہ اپنی زبان کے ذریعے ترقی کرنے کے قابل ہو سکتا ہے کیا ہماری زبان اردو اتنی ناکارہ اور بے کار زبان ہے کہ وہ خیالات کے اظہار کی صلاحیت سے بھی بالکل عاری ہے کیا ہماری زبان میں سائنس اور دیگر علمی معلومات کو اپنے اندر منتقل کرنے کی ذرا سی بھی اہلیت نہیں ہے؟ کیا سائنس کی ابتداء چین اور جاپان سے ہوئ تھی کہ انہوں نے اپنی زبان میں درس و تدریس کے ذریعے سے اتنی ترقی کرلی؟ نہیں یقیناً ایسا نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ضرور ہوسکتی ہے کہ انہوں نے ابتداء میں علوم و فنون کو ان ہی زبانوں سے اخذ کیا جہاں پہلے سائنسی مواد درج تھا انہوں نے پہلے ان معلومات کو انہی زبانوں کے ذریعے سے اپنے طالب علموں اور عوام تک پہنچایا لیکن اس دوران وہ ان معلومات کو اپنی زبان میں بھی تبدیل کرتے رہے اور پھر وہی طالب علم بتدریج اس قابل ہوگئے کہ ان کی اعلیٰ تحقیقات اور مادی ترقی کی بناء پر اقوام عالم ان کو رشک کی نظر سے دیکھتی ہیں ہمارے یہاں جو حضرات بار بار یہ دہراتے ہیں کہ انگریزی زبان کے بغیر کسی قسم کی ترقی ناممکن ہے ان حضرات سے میرا یہ سوال ہے کہ اس برعظیم کے لوگوں پر ڈیڑھ سو سال سے انگریزی کا تسلط رہا ہے اس طویل عرصہ میں انہوں نے کتنی ترقی کی؟ آخر وہ کون سے عوامل تھے جو ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے ؟یقیناً اس کے سبب کے طور پر ہم یہ عذر پیش نہیں کرسکتے کہ ہمیں سیاسی آزادی سے محروم رکھا گیا اگر سبب یہی ہوتا تو آزادی کے اتنے سالوں میں کم از کم اس کی عشر عشیر ہی ترقی کرلیتے جو چین نے
اتنے کم عرصے میں کرلی ہے

سچائ تو یہ ہے ہم بڑی سخت غلط فہیموں کا شکار ہیں اور ہم خود ایسے غلط مفروضات کو دہراتے دہراتے ان پر یقین کرنے لگے ہیں اور یہاں تک کہ یہ مفروضات ہم میں سے بعض ذی اثر افراد کے لئے عقائد کا جزو بن گئے ہیں حالانکہ یہ تمام مفروضے سراسر غلط ہیں اور اسی اپنے غلط ہونے کی وجہ سے ہمارے لئے سخت ضررساں اور تباہ کن بھی ہیں اگر ہم اسی خیال پر عمل پیرا رہے کہ ملک انگریزی زبان کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا تو ترقی کی باتیں ایک طرف رہیں میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس طرح اپنے وجود اور اپنی انفرادیت کو بھی خطرے میں ڈال دینگے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں انگریزی دان طبقہ بہت ہی کم تعداد میں ہے اور ان ہی کی تعداد ہمیشہ محدود رہے گی ترقی کا سب سے اہم اور اول راز یہی ہے کہ کوئ بھی قوم صرگ اپنے چند افراد کی مساعی سے ترقی نہیں‌ کرتی بلکہ ترقی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ پوری قوم مختلف کاموں مصروف ہوجائے اور کوئ بھی قوم اس صورت میں مفید کاموں میں اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرسکتی ہے جب اسے معلوم ہو کہ اسے اپنی فلاح کے لئے کیا کیا طریقہ کار استعمال کرنا چاہیئے اور ان طریقوں پر عمل کرنے کے لئے کیا کیا ذرائع استعمال کرنے چاہئیں اور جب تک قوم کے ہر فرد کو اپنے کام کی اہیمیت کا احساس نہ ہو اور وہ خود اس ترقی کی راہیں نہ نکال سکے تو اسی قوم کے افراد نہ تو خود ترقی کرسکتے ہیں اور نہ ہی اپنی قوم کو آگے بڑھاسکتے ہیں محض چند لوگوں کے طوطوں کی طرح رٹنے سے ترقی ہونا ناممکن ہے اور یہی تو سبب ہے کہ 71 سال پاکستان کے قیام کو ہوچکے ہیں اس کے باوجود آج بھی ہمارے یہاں صورتحال یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایسے افراد کی قلت ہے جو سائنس اور اس کی مبادیات سے واقف ہوں
یاران تیز گام نے منزل کو جالیا
ہم محونالہ جرس کارواں رہے

میرا دکھ اور میرا مدعا جو میں اپنی قوم کے ذہنوں تک پہنچا نا چاہتا ہوں صرف اتنا یے کہ جتنا لیت و لعل قومی زبان کو اپنے صحیح مقام پر لانے میں کیا جارہاہے اور جس قدر قومی زبان سے لاپرواہی برتی جارہی ہےاور میرے ملک کے طالب علموں اور عام لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کیا جارہا ہے کہ بغیر انگریزی زبان کے ترقی نہیں ہوسکتی اسی حد تک ہمارے ملک پاکستان کی ترقی رکی ہوئ ہے ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ میں آپ سب کی توجہ اس امر کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ اب ہمیں اس احساس کمتری کی لعنت سے نجات پانے کے تریقہ کار کی تلاش کرنی چاہیئے اور قوم کے اس طبقے کو جس کے ہاتھ میں اس معاملے کو آگے بڑھانے کا اختیار ہے اس رائے سے متفق ہونا چاہیئے کہ کوئ قوم کبھی کسی میدان میں ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ وہ دوسروں کے خیالات کی محتاج رہے اب ہمیں یہ بات تسلیم کرلینی چاہیئے کہ جب تک ہم دوسری زبانوں سے خیالات اخذ کرنے پر اکتفا کرتے رہیں گے تو ہم ہمیشہ دوسروں کے خیالات اور دوسروں کی تحقیقات کے محتاج رہیں گے نتیجتاً ہم نقالی اور تقلید سے قدم بھی آگے نہیں بڑھ پائینگے اور ہمارے اپنے دماغوں کے تمام تصورات اور خیالات کے دروازے بند ہوجائینگے اس کی بہ نسبت اپنی زبان استعمال کرنے کا سب سے بڑا کرشمہ یہ ہے کہ انسان کی طبیعت دوسروں کی نقل کرنے کے بجائے اپنی ذاتی تحقیق ،اپنے تجربات اور اپنی ایجادات کی طرف مائل ہو جاتی ہے اور اپنے تئیں کوئ نئ بات پیدا کرنے کے قابل ہوجاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کا اپنے ماحول سے ہم آہنگ ہو کر اس کے اثرات قبول کرنے سے بھی ایجادات اور تخلیقات کا بہت گہرا تعلق ہے یہی نہں بلکہ ضروری ہے کہ انسان کا انداز فکر اجنبی ماحول اور اثرات کی غلامی سے آزاد ہو ہم کبھی بھی یہ ہم آہنگی کسی غیر زبان کی وساطت سے حاصل نہیں کرسکتے اس لئے کہ وہ ایک غیر ماحول کی پیداوار ہیں یہں وجہ ہے کہ نقالی قومیں کبھی بھی ان ترقی یافتہ قوموں کی ہمسری کے قابل نہیں ہوسکتیں جو قومیں اپنی تحقیقات میں آزاد ہوں

تحقیقات کے متعلق ایک اہم بات کی طرف میں آپ کی توجہ اور دلانا چاہتا ہوں تحقیقات کے دو جزو ہوتے ہیں پہلے جزو کا تعلق اساسیات سے ہوتا ہے اور دوسرا وہ جو ان اساسیات اور علمی ضروریات کے انطباق سے کوئ نئ چیز ایجاد کرتا ہے ہماری دنیا میں اس وقت زیادہ تر تحقیقات اس دوسری قسم کی ہو رہی ہیں اب آپ خود سوچئے کہ وہ تمام تحقیقات جو انگلستان ،امریکہ اور روس کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان ممالک میں کی جا رہی ہیں کیا ہم میں سے کوئ بھی یہ بات کہہ سکتا ہے کہ یہ تمام تحقیقات پاکستان کی ضروریات کوبھی من و عن پورا کر سکتی ہیں ہرگز نہیں ،ہماری خام پیداوار،پماری معیشت اور معاشرات ان سے بالکل مختلف ہیں ہمیں ضرورت ہے ایسی ایجادات کی لن کے ذریعے ہم اپنی خام پیداوار سے فائدہ اٹھاسکیں اور جو ہمارے مطابق ہماری مخصوص ضروریات کو پورا کرسکیں اس صورت میں ہمارا ملک حقیقی ترقی کرسکتا ہے ورنہ دوسری صورت میں ہم دنیا کے ہمیشہ مقروض رہیں گے اور ان قرضوں کا بڑا حصہ غیر ملکی ماہرین کی خدمات مستعار لینے میں اور اس قرض کا سود ادا کرنے میں خرچ کرتے رہیں گے دوسرے ممالک ک ماہرین مستعار لینے میں ایک سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ کوئ بھی ملک اپنے کسی بھی شعبے کے ماہرین کو اتنی آسانی سے کسی دوسرے ملک کو مستعار نہیں دیتا اور اگر دیتا بھی ہے تو عام طور پر ایسے ماہرین کو باہر بھیجا جاتا ہے جو اپنے میں کسی شہرت کے مالک نہیں ہوتے ہماری ایک بد قسمتی یہ بھی ہے کہ ہم خود جو اپنے طالب علم تحقیقات کے لئے دوسرے ممالک میں بھیجتے ہیں ان کا کام بھی ہمارے بجائے دوسروں کے کام ہی آتا ہے

میں ان باتوں سے ہرگز یہ ثابت نہیں کرنا چاہتا ہوں کہ انگریزی کو بالکل ہی ترک کر دیا جائے قومی زبانوں کا کوئ بہی خواہ ایسی بات نہیں کرسکتا بلکہ میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ بین الااقوامی تحقیقات اور ایجادات سے رابطہ قائم رکھنے کے لئے ہمیں روسی ،چینی اور جاپانی زبان پر عبور حاصل کرنا چاہیئے اور یہی نہیں بلکہ وہ تمام ممالک جہاں اس وقت تحقیقات کی رفتار تیز ان کی زبانیں بھی جاننی چاہئیں

تحقیقات سے فائدہ اٹھانے کے لئے زبانیں‌ جاننے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ان ممالک کی زبانوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا ہی بنالیں اور اپنی زبان میں پڑھنے ،لکھنے، تحقیقات کرنے حتیٰ کہ اغیار کی زبانوں سے اخذ کردہ مضامین کے علاوہ کچھ اور سوچنے سے بھی پرہیز کر لیا جائے میں سمجھتا ہوں کے ہماری ترقی اسی صورت میں یقینی ہے کہ ہماری فکر کو آزادی حاصل ہو فکر کی آزادی سے مراد یہ ہے کہ ہمارے دماغ سے دوسرے اقوام کے خیالات کی حاکمیت ختم ہوجائے اور یہ حاکمیت اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک ان کی زبانوں کا تسلط ہمارے ذہنوں سے محو نہ ہو جائے ہماری فکر کی مفلوجی کی ایک بڑی وجہ ہی یہی ہے کہ ہم نے انگریزی زبان کو انتہا سے زیادہ اہمیت دی ہے اس بات کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ صرف ایک معمولی سی بات جو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتی کہ تعلیم اور ترقی اپنی زبان کے ذریعے ہی ممکن ہے جبکہ دنیا کی تمام ترقی یافتہ قومیں اسے ایک اساسی حقیقت کے طور پر تسلیم کرتی ہیں دنیا کے موجودہ بین الاقوامی حالات نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ پاکستان دوسروں کا دست نگررہ کر پوری طرح اپنا دفاع بھی پوری طرح نہیں کرسکتا اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں آج سب سے زیادہ اس بات کی بہت اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنا اسلحہ خود تیار کریں اس طرح یہ ثابت ہوچکا ہے کہ پاکستان کو اپنی اقتصادی ترقی کے لئے دوسروں کا محتاج نہیں‌ ہونا چاہئیے یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جن کے لئے پاکستان میں سائنس کو ترقی دینا نہایت ضروری ہے اس لئے کہ بغیر سائنس کے نہ تو دفاع کا سامان تیار ہوسکتا ہے نہ وہ اقتصادی قوت حاصل کی جاسکتی ہے جس کے بغیر آج کل قومیں جنگ آزما نہیں ہو سکتیں جس ترقی کے ہم خواہاں ہیں وہ اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ سائنس کو ملک میں عمومیت حاصل ہو اس لئے کہ قد آور درخت ڈرف گھنے جنگلوں میں ہی پرورش پاتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ عمومیت صرف اپنی زبان کے ذریعے ہی حاصل ہوسکتی ہے ہمارے جذبات اور احساسات میں حرکت پیدا کرنے کے لئے ہماری زبان ہی ہمارے لئے بہترین ثابت ہوسکتی ہے اسی طرح اپنی قوم میں سائنسی تحقیق کے لئے والہانہ شوق پیدا کرنا اپنی زبان کے ذریعے ہی ممکن ہے یاد رکھیں کہ علوم کے غیر زبان میں ہونے کی وجہ سے ان سے غیریت کا احساس قائم رہتا ہے اور ہمارے نظام تعلیم کا سب سے بڑا نقص یہ رہا ہے کہ ہم اپنی تعلیم کو اپنی زندگی سے بالکل علیحدہ سمجھتے رہے اور اپنی تعلیم اپنے ذہنوں اوع اپنی زندگی میں ہم آہنگی پیدا کرنے سے اب تک قاصر ہیں یہ بات ہمارے یہاں اسی وجہ سے پیدا ہوئ ہے کہ غیر زبانوں‌ کے زریعہ ہمارے ذہنوں میں ایسے خیالات اور تصورات پیدا کے گئے اور پھر ان کی بھرپور نشوونما کی گئ جن کا ہماری زندگی سے کوئ تعلق نہیں‌ نتیجتاً ہم دو دنیاؤں میں تقسیم ہوچکے ہیں ایک دنیا ہمارے خیالات اور تصورات کی ہے اور دوسری دنیا حقائق کی ہے اور ہم اس مسئلے کا شکار ہیں ہم ان میں مطابقت پیدا نہیں کرسکتے اب اگر ہم اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے تصورات اور حقائق کی دنیا میں ہم آہنگی پیدا کرنی پڑے گی اور میں پورے وثوق سے یہ گزارش کروں گا کہ یہ صرف اپنی زبان سے ہی ہوسکتا ہے

میں نے ابتداء میں یہ سوال کیا تھا کہ ہماری قومی زبان ” اردو” خیالات کے اظہار کی صلاحیت سے بالکل محروم ایک ناکارہ اور بے کار زبان ہے؟ کیا ہماری زبان اس معمولی سی اہلیت کی بھی حامل نہیں ہے کہ وہ سائنس اور دیگر علمی معلومات کو اپنے اندر منتقل کرسکے اور دنیا کو ان علم سے روشناس کراسکے ؟اس کے جواب میں سب سے پہلے تو میں یہ عرض کرودوں کہ زبانوں کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ جتنے عرصہ تک ہم کسی زبان کو استعمال نہیں کرتے اسی حد تک وہ زبان رجعت پزیر رہتی ہے اور رفتہ رفتہ پسماندہ ہو کر بے کار ہو جاتی ہے ،زبانیں دنیاں میں ہمیشہ اسی طرح ترقی کرتی ہیں کہ ان سے پوری طرح کام لیا جائے اگر ان سے کام نہیں لیا جاتا تو وہ زنگ آلود ہو جاتی ہیں حقیقت یہ ہے کہ فی الوقت ہماری زبان اردو میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ سائنسی تصورات کو بطریق احسن پیش کر سکے اور بہت سارے کامیاب تجربات میری اس بات کی تصدیق بھی کر چکے ہیں کہ اردو میں تعلیم دینا اور تحقیقات کرنا دشوار نہیں ہے

اس معاملے میں اصلاحات کا معاملہ بھی زیر بحث رہتا ہے جو اتنا مشکل نہیں ہے اگر ہمارے علم میں یہ بات ہو کہ مختلف علوم و فنون سے متعلق بکثرت اصلاحات وضع کی جاچکی ہیں اور انہیں بے تکلفی کے ساتھ استعمال کیا جارہاہے تو ہماری یہ بحث بھی بہت آسانی سے ختم ہو سکتی ہے یہ بھی ملحوظ رہے کہ کسی زبان میں اصطلاحات اس وقت تک قبول عام حاصل نہیں کرتیں جب تک کہ اس زبان کو درس و تدریس اور بحث و تمحیث کے لئے استعمال نہیں کیا جائے اس کا ثبوت ہمارا اردو میڈیا بھی ہے یہ بات ہم سب کے سامنے ہے کہ جب سے اردو اخبارات ،ٹیلی وژن اور دیگر سوشل میڈیا پر اردو زبان کو نشر و اشاعت کے وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے ہم نے اظہار خیال اور بیان واقعات کے لئے کتنے نئے اسلوب پیدا کئے ہیں ہم میں سے شاید ہی کوئ یہ کہے کہ اردو میں کوئ خبریں سننے کے بعد یا کوئ پروگرام دیکھنے کے بعد کسی قسم کی کوئ بھی کمی محسوس ہوئ ہو اردو زبان کے بارے میں ہماری یہ بدقسمتی افسوسناک ہے کہ عدم استعمال کے باعث ہماری قومی زبان کے بہت سے مفید الفاظ و متروک ہو کر فراموش ہوتے جارہے ہیں اور اس طرح یا تو ان کے خیالات سے زبان تہی دامن ہوتی چلی جارہی ہے جو ان الفاظ سے ہی ادا ہوسکتے تھے یا غیر ملکی الفاظ ان کی جگہ لے لیتے ہیں اور زبان کی لطافت پر بجلیاں گراکر اسے کثیف بنادیتے ہیں آخر میرا آپ سب سے ایک ہی سوال ہے کیا ہمیں یہ گوارا ہوگا کہ علمی مباحث میں عدم استعمال کے باعث ہماری زباب “اردو” میں صرف یہی صلاحیت باقی رہ جائے کہ اس میں مائیں اپنے بچوں کو لوریاں سنایا کریں اگر ہمیں اپنی زبان کو یہی مقام دینا ہے تو ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنی ثقافت پر فخر کرنا چھوڑدیں اپنے خیالات کی آزادی کو بھول جائیں اور اپنے قومی وجود کو یکسر فراموش کردیں

ہمارا موضوع اختتام پذیر ہوا امید ہے کہ اس لیکچر سے آپ کے دل میں اردو کے لئے محبت ضرور پیدا ہوئ ہوگی اب اجازت چاہتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat