Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
(LECTURE NUMBER 03 (Part 02
روحانیت کے بنیادی اصولوں (Fundamental of Spirituality)
السلام وعلیکم : PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
ہمارا گزشتہ لیکچرروحانیت کے بنیادی اصولوں سے متعلق تھا چونکہ پچھلےلیکچرمیں بات نامکمل رہ گئی تھی لٰہذا آج کے لیکچرکا آغاز وہیں سےکرتےہیں جہاں سے پچھلے لیکچرکا اختتام کیاتھا. روحانیت کے بنیادی اصولوں میں میں نے سات پوائنٹ لکھوادیئے تھے اب آٹھویں پوائنٹ سےآج کا لیکچر شروع کرتےہیں.
8- حروف اور منازل قمر :‌ علمائے روحانیت وعملیات نےعربی حروف کو قمرکی اٹھائیس منزلوں پر تقسیم کیا ہےان کی بھی ضرورت ہوگی.تفصیل بیان کررہا ہوں. اس کونوٹ کرلیئجےاگر چارٹ دیکھنا ہو تو بلاگ میں جا کر دیکھ لیں وہاں آپ کو مکمل چارٹ بنا ہوا مل جائےگا.
1 2 3 4 5 6 7 8 9
شرطین بطین ثریا دیران ھقعہ نہفہ ذراعہ نثرہ طرفہ
ا ب ج د ہ و ز ح ط
10 11 12 13 14
حیتہ زہرہ صرفہ عوا سماک
ی ک ل م ن
15 16 17 18 19 20 21 22 23
غفرہ زبانا اکلیل قلب شور نعام بلدہ ذابع بلعہ
س ع ف ص ق ر ش ت ث
24 25 26 27 28
سعود رخبیہ مقدم موخہ رشا
خ ذ ض ظ غ
حروف نوارنی : عربی ابجد میں 14 حروف نوارنی ہیں اور قراں کی 29 سورتوں کی ابتدامیں جو حروف مقطعات ہیں وہ بھی نوارنی ہیں جن لوگوں پران چودہ حروف کےاسرارمنکشف ہوجاتےہیں وہ علم الدنی کے حامل ہوتےہیں.
14 حروف نورانی یہ ہیں . ا،ح ، ر ، س ، ص، ط ، ع ، ق ، ک ، ل ، م ،ن ، ہ ، ی
10 – حروف ظلمانی : عربی حروف تہجی میں حروف ظامانی بھی چودہ ہی ہیں اوران کے بھی بےشماراسرارہیں قرآن پاک میں یہ حروف بھی کثرت سےآئےہیں ان حروف سے بھی علم کی بہت سی شعاعیں پھوٹتی ہیں جنکی تفصیل پھرکبھی بتاؤں گا.
حروف ظلمانی یہ ہیں : ب ، ت ، ث ، ج ، خ ، د ، ذ ،ز ، ش ، ض ، ظ ، ع ، ف ،و.
11- زکوٰۃ حروف تہجی : قواعد عربی کے 28 حروف تہجی علمیات کی دنیا میں مشہور ہیں علماء روحانیات نے ہرحروف کے ساتھ ایک مؤکل منسوب کیا ہے اس لئے عامل کو چاہیئےکہ کسی اسم یا آیت کی زکوٰۃ سے پہلے حروف تہجی کی زکوٰۃ ادا کرے جیسا کہ آپ کے علم میں ہے زکوٰۃ کے گیارہ طریقےہیں لیکن دوزیادہ مشہورہیں یعنی زکوٰۃ اکبر اورزکوٰۃ اصغر. حروف تہجی کی زکوٰۃ اصغر کا طریقہ یہ ہےکہ ایک نشست میں ایک حروف کی زکوٰۃ کےلئے5995 مرتبہ اس زکوٰۃ کوبامؤکل پڑھیں اورزکوٰۃ اکبر کےلئےایک حروف کو اٹھائیس دن تک 5995 مرتبہ پڑھیں. منازل قمری سے منسوب حروف ابھی بتا چکاہوں اب حروف سے منسوب مؤکلات بتارہاہوں ان کو نوٹ کرلیں اگر چارٹ دیکھناچاہیں تو بلاگ میں جا کردیکھ لیں.
ا ب ج د ہ و ز
اسرافیل جبرائیل کلکائیل دردائیل دورائیل رفتمائیل شرفائیل
ح ط ی ک ل م ن
تنکفیل اسمائیل سرکتیائیل حروزائیل طاطائیل رومائیل حولائیل
س ع ف ص ق ر ش
ھمواکیل لومائیل سرحمائیل اھجمائیل عطرائیل امواکیل ہمرائیل
ت ث خ ذ ض ظ غ
عزرائیل میکائیل مہکائیل اھرائیل عطکائیل تورائیل لوفائیل
طریقہ : جس حروف کی زکوٰۃ دینی ہو اس حرف کو اس وقت ادا کریں جب قمراس منزل میں ہو . مثلاً حروف الف کا مؤکل اسرافیل ہے تو زکوٰۃ ے لئے یوں پڑھیں. اجب یااسرافیل سجق یا الف
(12) تعویذ لکھنے کےاصول :
(1) عامل غسل کرکےپاک صاف ہو ، باوضو ہو اور خوشبو لگائے.
(2) تعویذ کا خاکہ اور دیواریں تیارکرے. قولہ ، الحق ، ولہ ، الملک سے اوپر بسم اللہ لکھے پھر چاروں مؤکل جبرائیل ، عزرائیل، میکائیل ، اسرافیل لکھے ، دائیں طرف کٰھٰیعص اوپر المص بائیں طرف حمعسق اور نیچے طس لکھے ، پھر چاروں شمکا ئیل ، شقفیائیل ، لوبیا ئیل ، نقطشائیل لکھے
(3) بیماری یا سحر کے علاج کے لئے علاج تعویذ لکھنا ہوتوخوشی ونرمی سے لکھے.
(4) اگر مرد عورت سے دوستی کا خواہاں ہو تو مردکاناہ پہلے لکھے.
(5) ناپاک مقام پر جاتے وقت تعویذ اتار دینا افضل ہے ورنہ اوپر غلاف ہویا موم جامہ ہو.
(6) جس تعویذ یا عمل میں خدا کا نام نہ ہوسے نہ لکھے نہ پڑھے اگر حدیث نبویٌ سے ثابت ہو تو مضائقہ نہیں.
(7) ہروہ عزیمت پڑھنا جائز ہے جس میں دیوی ، دیوتاؤں یا پری وغیرہ کا نام م نہ ہو.
(8) کسی پر سحر یا سفلی عمل ہرگزنہ کریں.
(9) عمل یا تعویذ کا ہدیہ لینا جائز ہے ، حدیث نبویٌ سے ثآبت ہے.
(10) اگر کسی نے عامل سے کام نہ کروایا ہو یا ہدیہ نہ دیا تو حسب توفیق خیرات کردے.
(11) تعویذ لکھتے وقت کسی سے بات نہ کریں ینہا مقام پر بیٹھیں.
قوائد نقوش :
(11) عمل حب اور تمام سعداعمال میں نقوش کے لئےمربع ، مسدس ، شمن ، عشر یا اثناء عشراستعمال میں لائیں.
(12)عمل بغض اور تمام نحس اعمال میں مثلث ، مخمس ، مسبع ، مستع احد عشراستعمال میں لائیں.
(13) ایمان مجمل : (ترجمہ) میں ایمان لایا اللہ پر جیسا کہ وہ اپنے ناموں اور اپنی صفتوں کے ساتھ ہے اور میں نے اس کے سارے احکام قبول کئےزنان سے اور دل سے یقین ہے.
(14) ایمان مفصل : (ترجمہ) میں ایمان لایا اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر.
(15) شعورانسان کی حالت بیداری میں کام کرتا ہے اس پر زمان ومکان کی پابندیاں مسلط رہتی ہیں جبکہ لاشعور ، حالت خواب میں یا حالت نماز میں (اگر صحیح معنوں میں نمازی ہو تو) کام کرتا ہے اس پر زمان ومکان کی قید نہیں ہوتی ان باتوں کا تذکرہ قرآن حمید میں بارہاکیا گیا ہے صرف سمجھنے والے ذہن کی ضرورت ہے.
(16) قوت خیال : انسان دنیا میں نیک و بد جو بھی کام کرتا ہے وہ قوت خیال کے ذریعے ہی کرتا ہے ثابت ہوا کہ انسان میں قوت خیال کا جو ہرسب سے زیادہ ہے خدائے بزرگ و برترے خیالات کا میدان انسان کے لئے بہت وسیع کردیا ہے تاکہ انسان چشم زدن میں کڑوروں مختلف منازل کی مسافت طے کرکے مقام اصل پرواپس آسکے. لیکن یادرکھئے قوت خیال کی کامیاب کا زینہ قوت ارادی ہے قوت خیال کی طاقت بڑی پرتاثیر اور سریع الاثر ہے.
(17) خواہشات سے انحراف : جو لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے دل میں علم الہی کا ظرف ہونے کی صلاحیت پیدا ہو تو چاہیئے کہ اللہ تعالی کے احکام و افعال کا احترام کرتے ہوئے اپنی خواہشات و لذت کو فنا کردیں. جب یہ کیفیت ہوجائے گی تو قلب مطمئن ہوگا. سینہ فراخ ہوگا چہرہ پرنور ہوگا ، اور اللہ تعالی خود علم سکھائے گا. توحید قلب و دماغ میں راسخ ہوجائےگی. اور قرب الہی نصیب ہوگا.
(18) مشرکانہ عقائد : یہ وہ عقائد ہیں جن میں اللہ تعالی کے ساتھ شرک کیا جاتا ہے اور اللہ کی صفات کسی اور میں ڈھونڈی جاتی ہیں. اللہ تعالی وحدہ لاشریک ہے اس کا علم تمام چیزوں پر محیط ہے. اللہ تعالی فرماتا ہے میں ہر گناہ معاف کروں گا مگر شرک معاف نہیں کروں گا لہٰذا بحیثیت مسلمان ہمیں ہرحال میں شرک سے بچنا چاہیئے اور اللہ تعالی پرایمان کامل ہونا چاہیئے.
(19) مجاہدہ : جب روحانی طالب علم کسی مرشد کامل کا دامن تھامتا ہے تو مرشد سب سے پہلے توبہ کرواتا ہے کیونکہ مجاہدہ کی ابتداء توبہ سے ہوتی ہے، قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے (ترجمہ) “اور جس نے ہماری راہ میں مجاہدہ کیا توہم اس کو اپنی راۃ دکھائیں گے اور بلاشبہ اللہ ان کے ساتھ ہے جو احسان کی راہ چلتےہیں”. ایک اور جگہ ارشاد باری تعالی ہے (ترجمہ) “اےانسان ! تجھے اپنے رب تک پہنچنےمیں کوشش کرنی چاہیئے، پوری طرح جان توڑ کوشش پھرتو اس سے جاملے گا” اسی وعدہ زبانی پر طالبان حق مجاہدہ کرتےہیں اور مراد کو پہنچنتےہیں.
(20) تزکیئہ نفس : توبہ کرنے کے بعد نفس کی اصلاح ضروری ہے جسےعرف عام میں تزکیئہ نفس کہا جاتا ہے. نفس کی بڑی بڑی خرابیاں ، سفا کی ، غرور ، کینہ ، ریاکاری ، شہرت پسندی ، بے وقوفی ، بد تمیزی ، چھچھوراپن وغیرہ سے ہرممکن طرح سے چھٹکاراحاصل کرنا چاہیئے اور نفس کی شرارتوں کا ہمت اور استقامت سےمقابلہ کرنا چاہیئے.
(21) ذکرلسانی : ذکرلسانی سے مراد نماز ، استغفار ، استعانت ، کلمات طیبہ ، آیات قرآنی تسبیح اور تلاوت کلام مجیدہیں ان اذکارکی مداومت ہرکسی پر لازم ہے انہیں کسی حال میں ترک نہ کیاجائے قرآن مجید تو ہمیشہ مسلسل اور ترتیب سے پڑھنا افضل ہے لچھ لوگ چند سورتوں کو مخصوص کرکےروزانہ پڑھتےہیں اور کلام الٰہی کے دوسرےحصوں کو نظرانداز کردیتےہئں اور کوشش کریں کہ قرآن پاک کی تلاوت جب بھی کریں ساتھ میں اسکا ترجمہ بھی پڑھیں. انشاءاللہ مسلسل اس عمل سے قرآن آپ پر کھلنا شروع ہوجائے گا. ایک اور جگہ اللہ تعالی قرآن پاک کو سمجھانے کی دمہ داری اپنے اوپر لیتا ہے بس اخلاص شرط ہے . میرا خیال ہے کہ آج کے اس لیکچرکو یہیں پر ختم کرتے ہیں ، روحانیت کےبنیادی اصول اب بھی مکمل نہیں ہو پائے. انشاءاللہ کوشش کروں گا کہ اگلےلیکچر میں روحانیت کے بنیادی اصول مکمل کردیئے جائیںگے. بہرحال اب اس دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو آسانی عطا فرما ئےاور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطافرمائے ، آمین . اللہ حافظ.


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat