Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 02
السلام وعلیکم:PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
گزشتہ لیکچرمیں ہم نےروحانیت کی مکمل تعریف بیان کی تھی ہماری آج کی گفتگو گزشتہ لیکچرکا تسلسل ہے یہ سمجھ لینے کےبعد کہ روحآنیت سےمراداپنی ظاہری اور باطنی شخصیت کو جاننااپنےخالق کی معرفت حاصل کرنا اور اس علم کی بنیادپراپنی شخصیت کا تذکیہ کرنا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روحانیت کو حاصل کرنے کے لئے تصوف کی راہ اختیار کرنا ضروری ہے.اس سوال کا جواب دینے سے پہلےمیں ضروری سمجھتا ہوں کہ پچھلےلیکچرمیں بیان کئے گئے تینوں پہلوؤں کاایک بار پھرجائزہ لیں. روحانیت کواختیار کرنے کےلئے جیسا کہ میں بتایاکہ تین اہم پہلو ہیں. ایک پہلواپنی ذات کی معرفت اوراس کا کنڑول حاصل کرنےکاعمل ہے. اس باطنی وجود سے رابط کا تعلق ایک تیکنیکی معاملہ ہے اوراس میں کسی مذہب کی مددبھی لی جا سکتا ہےاس رابطہ کا پہلاطریقہ غوروفکر ہے.اس میں تمام نفسیاتی علوم آجاتےہیں. یہ طریقہ عام لوگ استعمال کرتےہیں لیکن یہ محدود طریقہ ہے. اس کا دوسراطریقہ وحی سے مدد لینا ہے کہ وحی نےکسطرح انسان کے داخلی وجودکوبیان کیا ہے. یہ بہت مستند ذریعہ ہے. اس کاایک اور طریقہ وجدان اور نفسیاتی علوم کے ذریعےاپنی شخصیت کو جاننا ہے مراقبہ کے ذریعےایک انسان عمومی نہیں بلکہ ضصوصی باتیں بھی جان سکتا ہے کہ اس کی باطنی شخصیت اصل میں ہے کیا لیکن اس طریقےکی محدویت یہ ہےکہ ہرانسان کےوجدان کی پروازمختلف ہوتی ہے دوسرایہ کہ اس طریقہ کار میں زیادہ ترباتیں خواب اور تمثیل کی صورت میں ہوتی ہیں جنہیں سمجھنے کےلئےکسی نہ کسی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے. روحانیت کا دوسرا پہلواللہ اور بندے کے روحانی تعلق کو بیان کرتا ہے. یہ پہلو ہر صورت میں مذہب کا محتاج ہے. ہرمذہب اللہ کی کوئی نہ کوئی معرفت بیان کرتا ہے. اس معرفت کے صحیح ہونےمیں دو چیزیں اہم ہیں. ایک تووہ مذہب جو یہ تعلیمات بیان کررہا ہےاگر مذہب کی تعلیمات مستند نہیں تو حاصل ہونےوالی معلومات بھی ناقص ہوگی اگر کسی نے یہ تعلیمات غلط سمجھیں تو معرفت کا حصول بھی غلط ہی ہوگا. روحانیت کا تیسراپہلو ذاتی معرفت اورخدائی معرفت سے حاصل ہو نےوالے علم کوحاصل کرنااوراسےعمل کی صورت میں ڈھالنا ہے.چونکہ اس عمل کا اظہارہماری شخصیت ہی سے ہوتا ہےاسلئےاسے تعمیرشخصیت کہا جاتاہے.یعنی ایک ایسی شخصیت جوظاہروباطن کو جانتی ہو. خداکی معرفت رکھتی ہواوراسکے مطابق درست عمل کرکےاپنی شخصیت کو خداکےمطلوبہ سانچےمیں ڈھال لتیی ہو. تعمیرشخصیت کے بعض پہلو چونکہ مادی دنیا سے تعلق رکھتےہیں اسلئے ان پہلوؤں کے لئےمذہب اوروحی کا سہارالے.اب ہم دوبارہ اپنے سوال کی طرف آتےہیں کہ روحانیت کے حصول کےلئے تصوف اختیار کرنا ضروری ہےکہ نہیں؟ پہلی بات تویہ ہےکہ تصوف صرف اسلام کا خاصہ نہیں بلکہ یہ دیگر مذاہب میں بھی موجودرہاہے.تصوف روحانیت کے حصول کےلئےایک مکمل پیکج دیتا ہےاورروحانیت کےان تینوں پہلوؤں کوایڈریس کرتاہےجن کاہم نےاوپرذکرکیا.البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کی تمام تعلیمات درست ہوں اس کا پہلا کام انسان کی معرفت کا حصول ہے. یہ انسان کےباطن کے بارےمیں مکمل علم فراہم کرتا ہے. کہ وہ کن کن احساسات ، رغبات ، شہوات ، میلانات وغیرہ کا مرقع ہے. یہاں تصوف وہی کام کرتا ہے جو کسی حد تک علم نفسیات کرتا ہے. تصوف میں ایک استاد جسے مرشد کہتے ہیں وہ انسان کو سب سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی تعلیم دیتا ہے. اس کا دوسراپہلو یہ ہے کہ یہ اللہ کی معرفت کی کچھ تھیوریزدیتا ہے یہاں تصوف مذہب کو بائی پاس کرکے اپنی تھیولوجی پیش کرتا ہے عام طور پر تصوف اللہ اور کائنات کی جو توجیہات پیش کرتا ہے ان میں تین سرفہرست ہیں. ایک نظریئہ وحیدۃ الوجود ، دوسرا وحیدۃ الشہود اور تیسرا حلول کا نطریہ ہے وحیدۃ الوجود کا کلمہ لاموجودالااللہ، یعنی اللہ کے سوا کوئی موجود نہیں، وحیدۃ الوجود کا مقصد فنانی اللہ ہے. وحیدۃالشہود میں کائنات کی تشریح اللہ کے سائے کے طور پر کی جاتی ہے. جب کہ نظریئہ حلول میں اللہ انساتوں کی شکل میں زمین پر اوتاریا کسی اور صورت میں آجاتا ہے. یہ تینوں نظریات خلاف عقل بھی ہیں اور اسلام کی تعلیمات کے خلاف بھی ہیں. نیز مذہب کی وضاحت کے بعد ان تشریحات کی کوتی ضرورت محسوس نہیں ہوتیل مذیب واضح طور پر اللہ اور بندےکا تعارف بیان کرتا ہے. اوراس کا مقصد واضح کردیتا ہے. تصوف کا تیسرا کام مندرجہ بالا نظریات کی روشنی میں تعمیر شخصیت کرناہے. اس کےلئے مراقبے، چلے، ضربیں ، نفسی کشی، وظائف ، عملیات ، تصورشیخ اور رہبا ینت وغیرہ کی مشقیں کروائی جاتی ہیں. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تصوف کے تعمیر شخصیت کے پیکج میں جو مشویں کرائی جاتی ہیں وہ جائز ہیں یانا جائز. اسمیں کچھ مشقیں تواپنی اصل صورت ہی میں اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں. تو ان کےجواز کا کوئی امکان ہی نہیں جیسے رہبانیت وغیرہ. اس کے علاوہ باقی مشقوں کو اگر دین کا حصہ نہ سمجھا جائے اوران میں کوئی اخلاقی یا شرعی قباحت نہیں ہوتو ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے.
اب اگروحئی الٰہی یعنی قرآن مجید سےرجوع کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آیا کیا قرآن روحانیت کا کوئی تصوردیتا ہےاگردیتاہے توکیا؟ جناب ! قرآن کا تواصل موضوع ہی تذکیئہ نفس ہے یعنی ایسی شخصیت پیدا کرنا جو جنت کی حقدارہوسکے. قرآن کا مرکزی خیال انسان ہی نہیں بلکہ انسان کی فلاح بھی ہے. یہ فلاح دنیا اورآخرت دونوں کےلئےہے.چنانچہ اگرہم روحانیت کے تینوں پہلوؤں کودیکھیں توقرآن حیرت انگیزطورپرتینوں پہلوؤں کوکور کرتاہےاورایک واضح پلان پیش کرتاہے.سب سے پہلا پہلواپنےنفس کو جانناہے یعنی انسان کوجاننا، قرآن آدم وابلیس، ابراہیم ونمرود، لوط اورقوم لوط ، موسٰی اور فرعون، یوسف اور برادران یوسف ، طالوت وجالوت ، محمدصلیاللہ علیہ وسلم اورابولہب ، یہودومومنین اورصحابہ اورکفارکیس اسٹڈی کےذریعے جگہ جگہ یہ بتاتا ہےکہ اچھےاوربرےانسان کی کیا کیا خصوصیات ہوتی ہیں. کونسی خصلتیں اللہ تعالی کو پسندہیں اور کون لوگ اسے ناپسند ہیں. کسطرح تعصب حق کو ماننےسے روکتا ہے، کیسے حسدعداوت پر مجبور کرتاہے کسطرح مذہبی پیشوائیت مادی مفادات کا تحفظ کرتی ہے. دوسری جانت حق پرستوں کی کیس اسٹڈی بیان کی گئی ہے کہ کسطرح لوگ اپنی شخصیت کی کمزوریوں پر قابو پاکر قربانیاں دیتےاوردنیا وآخرت میں سرخروہوتےہیں. قرآن روحانیت کا دوسرا پہلو بھی بہت شانداراندازمیں ڈسکس کرتا ہے اور اللہ اوربندے کے درمیان تعلق کو عملی اور فلسفیانہ سطح پرواضح کرتا ہے. وہ بتاتاہےکہ اللہ تنہا ہے اکیلا ہے ناوہ کسی کا باپ ہے نہ بیٹا، وہ بادشاہ ہےوہ رحمٰن اوررحیم ہے وہ رب ہے علم وحکمت کا مالک ہے وہ پیدا کرتا ہے اور وہی مارتا ہے. وہی طاقت کا منبع ہے. اللہ کی صفات کی صورت میں وہ خوبصورت تعارف قرآن میں پیش کردیتا ہے کہ اس کے بعد صرف اس کو سمجھا تو جاسکتا ہے کوئی اضافہ نہیں کیا جا سکتا. قرآن روحآنیت کا تیسرا پہلو یعنی تعمیر شخصیت بھی موضوع بحث بناتا ہے چنانچہ عبادات کی شکل میں نماز ، روزہ ، حج، زکوۃ پیش کرتا ہے معاشرت کے لئے نکاح کو پسند کرتا ہے اور اس کی بنیاد پردجود میں آنے والوں رشتوں کو تقدس عطا کرتا ہے معیشت کی بنیادظلم وعدو سے پاک کرنے کی ہدایت کرتا ہے. اخلاقیات میں اصل الاصول خیرخواہی کو قراردیتا ہے خلاصہ یہ ہے کہ قرآن روحانیت کے تینوں پہلوؤں پر جامع لیکن اصولی ہدایات دیتا ہے جسکی روشنی میں کوئی بھی فرداپنے لئے لائحئہ عمل طے کرسکتا ہے.
بس ثابت ہوا کہ قرآن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ قرآن کا مطالعہ ترجمے کے ساتھ کرنے کی عادت اپنالی جائے، مسلسل قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے قرآن خود بندے پر کھلنا شروع ہوجاتا ہے اور بندہ قرآن کی روشنی میں نا صرف اپنی معرفت حاصل کرتا ہے بلکہ اللہ کی معرفت بھی حاصل ہوجاتی ہے. ترجمہ قرآن پڑھنے سے بندے کو پیغام ربانی سمجھ میں آنے لگتا ہے اور قرآن کی روشنی میں وہ اپنی شخصیت کو بہتر سے بہتر اندازمیں تعمیر کرتا ہے اور اپنے مقصد کے حصول میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے. الحمداللہ ہمارا آج کا یہ موضوع مکمل ہوا انشاءاللہ پھرملیں گے اب اجازت چاہتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے امین.


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat