Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 01
السلام وعلیکم:PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
اکثرہم لوگروحانی علاج روحانیت روحانی علوم وغیرہ کا تذکرہ سنتےہیں یاجو لوگ ان سےوابستہ ہیں وہ ضروراسکےبارےمیں تھوڑا بہت جانتےہیں اور جن لوگوں کااپنی عمومی زندگی میں ان چیزوں سے کوئی واسطہ نہیں پڑتا وہ جاننےکی کوشش بھی نہیں کرتے آج جب کہ ہم PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI کےنام سےایک نئے یوٹیوب چینل کاآغاز کررہےہیں تومیں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ روحانیت کیا ہے؟ پہلےاس پر کچھ بات کرلی جائے.لیکن درحقیقت روحانیت پر گفتگو کرنےسےپہلے روح کیا ہے؟ اس پر بات کی جائے گی. گوکہ اس حوالے سےلاتعداد کتابیں موجودہیں جن کا میں نےمطالعہ کیا لیکن اس موضوع پرجتننا شاندارموادمجھےانڑنیٹ پر پروفیسرعقیل کےبلاگ سے ملاوہ لاجواب ہے پروفیسرعقیل نے جتنےعام فہم اندازمیں نہایت خوبصورتی کےساتھ اس موضوع کوسمیٹا ہےوہ انکا ہی کمال ہےانکابلاگ پڑھ کرانداز ہوتاہےکہ آپ نےروحانیت کا تعارف بیان کرنے کےلئےناصرف وسیع تر مطالعہ کیا بلکہ اللہ کی عطاکردہ غیرمعمولی ذہانت کوبھی بروئےکارلائے.جسکے نتیجےمیں یہ انتہائی شاندارتحریرمنشائےشہودپرآئی.میں جب روحانیت کےتعارف کےحوالےسےلیکچرتیارکررہاتھاتو پروفیسرعقیل کی تحریرنےگویامیرےپاؤں پکڑلئےاورچاہتےہوئےبھی میں ٹس سےمس نہ ہوسکا لٰہذا میں نے اس لیکچرکی تیاری میں پروفیسرعقیل کی تحریرسےبھرپورفائدہ اٹھایا ہےمیری دعاہےکہ اللہ تعالی ان کےقلم کواورطاقت عطا فرمائے،آمین.اب ہم اصل موضوع کی طرف آتےہیں اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب قرآن مجیدمیں لفظ روح دومعنوں میں استعمال ہواہےایک جگہ روح کالفظ حضرت جبرائیل امئین کےلئےاستعمال ہوا ہے.فی الحال ہم اس روح کےبارےمیں کوئی بات نہیں کررہےجس سےمرادحضرت جبرائیل امیئن کےلئےاستعمال ہواہے.فی الحال ہم اس روح کے بارےمیں کوئی بات نہیں کررہےجس سےمرادحضرت جبرائیل ہیں دوسری جگہ روح کےلغوی معٰنی پھونک ، سکون ، راحت اورقرار کےہیں.یہیں سے یہ لفظ روحانیت نکلا ہےیعنی وہ عمل جس سے راحت اور سکون حاصل کیا جائے.قرآن پاک میں سورۃ الحجرکی آیت نمبر 129 اور سورۃ ص آیت نمبر 72 میں پھونک والےمہفوم کاذکران الفاظ میں ہوا ہے. ترجمہ :جب میں اسےدرست کرچکوں اوراس میں اپنی روح(پھونک) پھونک دوں تو تم اس کےسامنے سجدےمیں گرجانا. اس آیت میں اللہ تعالی فرشتوں سے خطاب کرتے ہوئےکہہ رہا ہے کہ میں کھنکھناتی مٹی سےایک بشرپیداکرنےلگا ہوں جب میں اسکی نوک پلک درست کرکےاس میں اپنی پھونک دوں توتم اسی وقت اسکےسامنےسجدہ ریزہوجانا.اب سوچنےکی بات یہ ہےکہ اس روح سےکیامراد ہے اس علماءکریم نے بہت کچھ تحریرکیا ہےاورروح کی ماہیت کو سمجھنےاورطے کرنےکی کوشش کی ہے. کچھ لوگوں نے کہاکہ یہ نوریزدانی ہے ، جس سےانسان اورحیوان میں فرق پیدا ہوتا ہے. کچھ لوگوں نےکہا کہ یہ اللہ کی صفات کا عکس ہے یعنی اللہ تعالی نے اپنی روح پھونک کر حضرت انسان میں اپنی صفات منتقل کی ہیں. کچھ لوگوں نےروح سے مراد صرف زندگی کی انرجی کولیا دوسری طرف کچھ صوفیاءکرام نے یہیں سے اپنے نظریات اخذ کئےکہ روح پھونک کراللہ تعالی انسان میں حلول کر گیا یا انسان اور ایک ہی ہیں اور یہاں سے وحدت الوجود کی بنیادیں تلاش کی گئیں. روح کی اصل حقیقت اللہ تعالی ہی بہتر جا نتے ہیں لیکن چند چیزیں اپنے طور پر مطالعہ قرآن سے حاصل کرسکتےہیں. پہلی بات سیدھی سی ہے کہ روح کے بغیرانسان نا مکمل ہے اسلئےاللہ تعالی نے فرشتوں کو سجدے کاحکم اس وقت دیا جب روح پھونک دی گئی. دوسری بات یہ ہے کہ روح پھونکنے سےقبل اللہ تعالی نےانسان کا جسم کھنکھناتی ہوئی مٹی اور گارے سے بنالیا تھا مٹی مادے کی علامت ہے جبکہ روح کی نسبت اللہ نےاپنی طرف کی ہے یعنی جب میں اپنی روح یا پھونک ، پھونک دوں تو سب آدم کو سجدہ کرنا اس لئے روح سے مراد مادی عناصر اور روح سے مراد غیر مادی عناصر ہیں. اوپر کی تمام گفتگو سے آپکو یہ انداز ہوگیا ہوگا کہ روح کے لغوی معنی پھونک اوراصطلاحی معنی سکون ، راحت اور لطافت کے بنتےہیں یہ روح اللہ کی قربت کی علامت ہے.کیونکہ روح کو اللہ تعالی نےاپنی جانب براہ راست نسبت دی ہے گوکہ ہم نسبت کی نوعیت سے واقف نہیں ہیں لیکن اتنا ضرورجانتےہیں کہ اللہ نے اپنی روح(پھونک) انسان میں پھونکی. اس بات کو سمجھنے کے لئےاگر ہم دم کو لےلیں تو شاید بات کچھ واضح ہوجائے ہمارے یہاں جسطرح بچوں پر یا کسی بیمارپر دم کیا جاتا ہے تو پھونک ماری جاتی ہے یہ دم کرنا دراصل اپنی جانب سے کچھ قرآنی آیات کو پڑھ کرایک خاص روحآنی تاثیرکواس بچے یا بیمار میں منتقل کیا جاتا ہے. خدا کے روح پھونکنے کی حقیقت کو تو اللہ تعالی ہی بہتر جانتے ہیں البتہ ہم دم کرنے کی مثال سے کسی حدتک اس عمل کوسمجھ سکتےہیں اوراس کے مقاصد جان سکتےہیں.اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ اس پھونک یا روح کی ضرورت کیوں پیدا ہوئی. جبکہ انسان کاایک ظاہری اور مادی وجود موجود تھا، اس پھونک یا روح کا جو مطلب سمجھ میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ جسطرح اللہ تعالی نےانسان کاظاہری وجود مادے یعنی مٹی سے تخلیق کیا اسی طرح اپنی پھونک یا روح کےذریعےانسان کاایک باطنی وجود بھی تخلیق کردیا باطنی وجود کا فنکشن مادی وجود کے فنکشن سے مختلف تھا باطنی وجود کا کام غیرمادی امور کو طے کرنا تھا مادی اور روحآنی وجودمیں ایک اور نمایاں فرق یہ ہے مادی وجود مادی دنیا یعنی عالم ناسوت اور غیرمادی وجود یعنی روح غیرمادی دنیا یعنی عالم لاہوت کے لئے مخصوص ہے.یہ بات واضح رہے کہ لاہوت غیرمادی عالم کےلئے بولاجاتا ہےجسمیں فرشتے، عرش ، لوح محفوظ اورامور تکونیی وغیرہ شامل ہیں. اگرہم مادی وجودعالم کےاعضاء کے تعین کرناچاہیں تو باآسانی کرسکتےہیں کیونکہ یہ یاتھ ، پاؤں ، چہرہ ، جسم ، دل، گردے ، پھیپھڑے ، جگراوراعضاء پر مشتمل ہے. جن میں ہرایک کا اپنااپنا کام ہے. اب اگر ہم اپنے باطنی وجود کو دیکھیں تو ایک الگ دنیا انسان کےاندر نظرآتی ہے یہاں جذبات ، احساسات ، خوشی ، غمی ، بےچینی ،سکون اوراس طرح کی دیگر کیفیات ہیں. جنہیں ہم محسوس کرسکتےہیں جن کا اظہار کرسکتےہیں لیکن کسی کودکھا نہیں سکتے یعنی اگر ہم باطنی وجود کےاعضاء کاتعین مادی طور پرہاتھ پاؤں اور چہرےوغیرہ کی طرح کرنا چاہیں تو ناکام ہوجاتےہیں اس لئے باطنی کیفیات کےلئے قرآن پاک جواصطلاح استعمال کرتا ہے وہ بھی ظاہری اعضاء سےمستعارلی ہوئی ہے. جیسے قرآن نے باربارباطنی کیفیات کا مرکزدل ٹیڑھےہوگئے، دلوں کو زنگ لگ گیا، دل اندھےہوتےہیں، دلوں پر مہرلگ جاتی ہے وغیرہ وغیرہ.اور کبھی اس باطنی وجود کےایک مظہر یعنی عقل کو بیان کرنے کے لیے قرآن یہ بیان کرتا ہے جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتےوہ بدترین جانورہیں اسی طرح باطنی وجود کے سننے اور سمجھنےکو سماعت اور بصارت سے تعبیر کرتا ہے غور کریں تو عقل بھی نظر نہیں آتی ہے باطنی وجود کے چند مظاہرکو قرآن پاک ایمان ، یقین ، خشوع ، خضوع وغیرہ سے تعبیرکرتا ہے.اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جسطرح انسان کا ظاہری وجود ہے اسی طرح باطنی وجود بھی ہے باطنی وجود کو صرف محسوس کیا جاتا ہے اسے دیکھایا چھوانہیں جاسکتااس کے باوجود یہ ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے. یہ وہی باطنی وجود ہے جسے اللہ رب العالمین نے اپنی روح کے دریعے یعنی اپنی پھونک کےذریعےانسان میں پیدا کردیا اسطرح سے دیکھا جائےتوانسان دو عناصرکا مجموعہ ہے، ایک مادی عنصریعنی جسمانی وجوداور دوسرا غیرمادی عنصریا روحانی وجود ، مادی وجود کو اللہ نے کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیداکیا اور غیرمادی وجود کو روح سےانسانی نفس دراصل مکمل شخصیت کا نام ہے جواس ظآہری اور باطنی اور غیرمادی وجودوں کا مجموعہ ہے.یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ جسطرح ظاہری وجود کا مذہب سے براہ راست تعلق نہیں ایسے ہی باطنی وجود کا بھی مذہب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں. جس طرح فزکس یا بیالوجی کے قوانین ایک عیسائی ، ہندو ، یہودی ، ملحد سب کے لئے برابرہیں اسی طرح روحانیت یا یفسی علوم کے معاملات بھی ایک بدھ مت ، چین مت یا مسلمان سب کےلئے برابر ہیں. جسطرح ظاہری وجود کواستعمال کرنے کے قوانین مذہب سے ماوراہیں اسی طرح باطنی وجود کے استعمال کرنے کے قوانین بھی یونیورسل ہیں، مذیب ان اصولوں کا درست استعمال سکھاتا ہے.
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ روحآنیت سے کیا مراد ہے یا روحآنیت بذات خودکیا چیزہے؟ اس بات کوسمجھنے کےلئے ہمیں روحانیت کوتین الگ الگ زاویوں یا پہلوؤں سے سمجھناہوگا. روحانیت کا پہلا پہلواپنی ذات کی معرفت ہے، دوسرا پہلو خارج یا خدا کی معرفت ہے اور تیسرا پہلو اس معرفت کے نتائج کو عملی شکل میں ڈھال کر شخصیت کی تعمیرکرنا ہے.ابتدائی دو پہلو علمی اور تیسراپہلوعلمی ہے.پہلا پہلواپنی ذات کا پہچا ننایااپنی ذات کی معرفت حاصل کرنا ہے. یہاں روحانیت اپنے باطنی وجود سے رجوع کرنےکانام ہے. یہ اسے جاننےاسے سمجھنےاسے قابو کرنےاور درست طور پراستعمال کرنےکانام ہے یہاں ایک انسان اپنےجذبات ، احساسات ، شہوات ، رغبات ، رجحانات اپنی شخص کمزوریاں اوراپنی اچھائیاں جاننے کی کوشش کرتا ہےوہ جتنا جانتا چلا جاتا ہے اتنی ہی زیادہ معرفت حاصل کرتا چلا جاتا ہے. روحانیت ایک پہلو تو جیسا کہ میں نے اپنی باطنی شخصیت سے تعلق پیدا کرنااورمراقبہ کرنا ہے. اسکا دوسرا پہلو یا مقصد آفاق یعنی خارج کی معرفت ہے. یہ معرفت مختلف مذاہب میں مختلف اندازمیں پیدا کرنےکی کوشش کی گئی ہےاگرہم اسلام کاجائزہ لیں تو سب سے پہلے اللہ پر ایمان اور یقین کے زریعےاس یعلق کو پیدا کیاگیا ہے. یعنی اللہ کو مانے بنا کوئی اسلام میں داخل ہی نہیں ہوتا اسے کے بعد اللہ اور بندوں کے درمیان ایک دوسرااہم یعلق یعنی فرشتوں پرایمان کے زریعےاس کمیونیکیشن چین کو جوڑا گیا جو اللہ اور بندے کے درمیان منسلک تھی. یعنی ایسا نہیں ہوا کہ انسان براہ راست اللہ سے وحی لے، اکثر پیغمبروں سے اللہ تعالی نے فرشتوں کے ذریعے ہی رابط کیا ہے اللہ اورفرشتے غیب میں ہیں یعنی ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے.اسے ہم عالم بالا کہہ سکتے ہیں اس کے بعد پیغمبروں اورکتابوں پرایمان لانے کو کہا گیا ان پیغمبروں یا کتابوں کا چونکہ مادی وجود ہے اس لئے ہم انہیں عالم زیریںں کہہ سکتے ہیں اور اس عالم کا رابط عالم لاہوت سے ہوتا ہے.
روحانیت کا تیسرا اورآخری پہلو اپنی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے جب انسان نے اپنے باطنی وجود کی معرفت حاصل کرلی اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی مطلوبہ معرفت بھی حاصل کرلی اور اپنی زندگی کا مقصد واضح کرلیا تو اب اس کی ذمہ داری ایک ایسی شخصیت کو تعمیر کرنا ہے تو ان تمام کثافتوں سے پاک ہو جو اسے اپنے رب کی بارگاہ میں نامقبول بنا دے. چنانچہ تعمیرشخصیت کے لئے عبادات اور اخلاقیات کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں علم و عمل ساتھ ساتھ چلتے ہیں. عبادات میں نماز روزہ ، زکوۃ اور حج وغیرہ کے ذریعےانسان اپنی شخصیت کو اللہ کی طرف جوڑتا ہے تو دوسری طرف اخلاقیات کی جانب یعنی مخلوق سےاچھے تعلقات کی جانب توجہ مبذول کرائی جاتی ہے. کیونکہ مخلوق میں شامل نہیں بلکہ باطنی وجود بھی بھرپور طور پر شامل ہے بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ اصل تحریک بھی وہیں سےاٹھتی ہے. تو اگر اب ہم روحانیت کی تعریف کریں تو یوں بنتی ہے کہ روحانیت سے مراداپنی ظاہری اور باطنی شخصیت کو جاننااپنے خالق کی معرفت حاصل کرنا اور اس علم کی بنیاد پر اپنی شخصیت کا تذکیہ کرنا ہے. میرا خیال میں آج کی نشست میں انتا کافی ہے انشاءاللہ اگلے لیکچرمیں اس موضوع کو مکمل کردوں گا. تب تک کے لئےاجازت دیں.اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ آپکو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنےکی توفیق عطا فرمائے. آمین.اللہ حافظ


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat