Category : Parapsychology

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI
LECTURE NUMBER 06
Breathing Science(علم النفس)
السلام وعلیکم : PARAPSYCHOLOGY WITH SAMI میں خوش آمدید
عزیزطلباء وطالبات ہم جب بھی کسی روحانی علم کےحاصل کرنےکےلئےکسی استاد کے پاس جاتےہیں تواستادسےپہلےاپنےشاگرد کو سانس کی اہمیت کے بارےمیں بتاتےہیں کہ سانس کی مشقیں روحانی علوم کے حصول کےلئے کیوں ضروری ہوتی ہیں.
ماورائی علوم سیھکنے کےلئے مضبوط اعصاب اور طاقتوردماغ کی ضرورت ہوتی ہے. اعصاب میں لچک پیدا کرنے ، دماغ کومتحرک رکھنےاورقوت کارکردگی بڑھانےکےلئےسانس کی مشقیں بےحد مفید اور کارآمدہیں.ماورائی علوم کا طالب علم جب سانس کی مشقوں پرکنڑول حاصل کرلیتا ہے تودماغ کےاندرریشوں اور خلیوں کی حرکات اور عمل میں اضافہ ہوجاتا ہےانرمیں سانس روکنےسےدماغ کےخلیات چارج ہوتےہیں جوانسان کی خفیہ صلاحیتوں کوبیدارہونے ، ابھرنے اور پھلنےپھولنے کے بہترین مواقع فراہم کرتےہیں. ماہرین روحانیت نے سانس کی مشقوں کے قاعدےاورطریقےبنائےہیں. اگران طریقوں پرعمل کیاجائےتو بہت سارےروحانی اورجسمانی فوائد حاصل ہوتےہیں.
یہ بات واضح ہےکہ زندگی کا دارومدارسانس کےاوپرہےانسانی زندگی میں وہم ، خیال ، تصورادراک اوراحساس سب اس وقت تک موجود ہیں جب تک سانس کا سلسلہ جاری ہے. سانس کے ذریعہ ہی آدمی کے اندر صحت بخش لہریں داخل ہورہی ہیں اورجسم میں جذب ہورہی ہیں سانس کی مخصوص مشقیں دراصل دوران خون کو تیزکرتی ہیں ، دماغی صلاحیتوں کواجاگرکرتی ہیں اور برانگیختہ جذبات کو ٹھنڈا کرتی ہیں اور کسی عمدہ مصفی خون دواکی طرح خون کوصاف کرتی ہیں. سانس کی مشقوں سےآدمی تقریباًاپنی ہربیماری کا علاج کرسکتاہے. مثلاً نسیان کامرض ، پیٹ کے جملہ امراض ، معدے اور آنتوں میں السر، قبض ، نزلہ ، زکام ، سردرد ، مرگی اوردوسرےقسم کےدماغی دورے ، بینائی کی کمزوری وغیرہ وغیرہ. سانس کی مشقوں کوعلاج قاعدوں کے مطابق اگر پابندی وقت کےساتھ انجام دیاجائے تو سینہ ، گلےاور ناک وغیرہ کےامراض بھی ازخود ختم ہوجاتےہیں. یہ بھی دیکھا گیا ہےکہ ساٹھ سترسال کے بوڑھے لوگ جہنوں نے سانس کی کسی منتخب مشق کواپنا معمول بنالیا ہے وہ نوجوانوں کی طرح ہشاش بشاش اور تروتازہ زندگی گزارتےہیں. آخری وقت میں انکی کھال جھریوں سے محفوظ رہتی ہے. ثپرمردگی اورافسردگی ان کے قریب نہیں پھٹکتی. جوحضرات روحانی استاد کی نگرانی میں سانس کی مشق پابندی وقت کےساتھ کرتے ہیں ان کے اندر انتقال خیال یا ٹیلی پیتھی کی ایسی قوت پیدا ہوجاتی ہے کہ پھتراوراینٹ کی دیواریں باریک کاغذ کی طرح نظرآتی ہیں.دورپرے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں. شخص سامنے آتا ہے اسکی سوچ اوراس کے خیالات ذہین کی اسکرین پر منتقل ہوجاتےہیں.
سانس کی مشقوں کے دوران بڑے عجیب تجربات ہوتےہیں جو شخص صورت سے پرہیزگار نظرآتا ہے اسکے خیالات کی کثافت سے دماغ متعفن ہوجاتاہے اور جوشخص شکل وصورت کےاعتبار سےزاہداورمتقی نہیں ہوتا ہےاس کے خیالات کی روسبک ، ہلکی اور معطر محسوس ہوتی ہے. لیکن ان تمام کیفیات کے حصول کے کئے ضروری ہے کہ ان مشقوں کوکسی استاد کی نگرانی میں کیاجائےاور مستقل اور باقاعدگی بہتر نتائج کے حصول کے لئے لازمی ہے.
جنگل میں پہاڑکی چوٹیوں پر دھونی رمائےجوگی بیٹھےرہتےہیں. سخت گرم کوکے تھپیڑےان کا بال بیکا نہیں کرسکتے، سردی ، گرمی ، چاند ، سورج کےسائےتلےزندگی گزارتےجاتےہیں. ننگابدن ، بھبھوت میں آلودہ موسم کی سختی برداشت کرتا ہے ، سردی میں پانی جم کر برف بن جاتا ہےایسے وقت میں یہ لوگ کوئی جائے پناہ تلاش نہیں کرتے اور مزے سے دھونی رمائے بیٹھےرہتےہیں.
علم سرزمانہ قدیم سے جوگیوں اور سادھوؤں میں مقبول ہے ان کے پاس کوئی شخص سوال پوچھنے جائے توفوراً سردیکھ کرجواب دیتے ہیں لوگ سمجھتےہیں عامل ہیں. ہمزادقابوکررکھاہےیاکسی مہمان دیوی کاپجاری ہے جو ہربات درست بتادیتاہے.مگراصل بات یہ ہے کہ یہ عامل سروں کے ماہرہوتےہیں اوران کوسروں کےعلم پرعبورحاصل ہوتا ہے. ناک کےسیدھے نتھنےکوسورج سر سےمنسوب کیا جاتا ہےاوربائیں کوچندرسرکہاجاتاہے.ناک کےسامنے ہتھیلی رکھیں تومحسوس ہوگا کہ ایک نتھنا بندہےاوردوسراجاری. یہ باری باری تبدیل ہوتےہیں. ہرگھنٹےبعد سر بدلتا ہے.طلوع آفتاب کے وقت سورج سرڈھائی گھڑی چلتاہے.جدھرکانتھنا جاری ہواسےچلتا سر کہتےہیں.
سیدھےاورالٹےنتھنےسےسانس جاری ہواسے سکھمناسر کہتےہیں.جس وقت یہ سرجاری ہودنیا کا کوئی کام نہیں کرناچاہیئے. یہ عبادت کا وقت ہے. عبادت کرتےوقت بعض دفعہ بڑالطف آتا ہے. مقامات کھلتےہیں اورو رحجابات کے پردےدور ہوجاتےہیں. دوزانوں بیٹھ کرذکرکیا جائےاورودونوں نتھنے برابرہوں توعمل جلدی اثرکرتاہےقلب جاری ہوجاتاہے.رگ وپےمیں ذکرسرایت کرتا ہے اور عامل ہی اس کا لطف جان سکتا ہے “صلی اللہ علیک یا محمدٌ” سانس کے ساتھ پڑھا جائے اور مداومت کی جائے تو عمل کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے یہ خدا کا خاص فضل ہے.
سورج سرمیں سفر کرنا نیک شگون ہے کسی بڑےافسر سے کا ہواور وہ نہ کرتا ہوتو آپ سورج سرمیں اس سے ملاقات کریں. آپ طبیب ہیں تواس سرمیں بیمارکودوادیں خاص اثرکرےگی. کسی بلند جگہ چڑھیں تو سورج سرمیں تاکہ کوئی نقصان نہ ہو. کوئی بھی علم حاصل کرنا چاہیں. کیمیاء ہویا سیمیاء ہوتو آپ اس سرمیں مطالعہ کریں فائدہ ہوگا. دشمن سے مقابلہ ہوتو سورج سرمیں دوبدوہوں.
چندرسریعنی بایاں سرچلتے وقت دھیان رکھیں. کھیتی باڑی کریں.باغ لگائیں ، پودے لگائیں ، مکان کی بنیاد کھودتے وقت چندرسرجاری ہوتومکان ہرآفت سےمامون رہتا ہے. کوئی جانورخریدیں تووہ بھی مفید ثابت ہوگا. شادی بیاہ کرنا ، رشتہ طے کرنا اسی سرمیں اچھےہوتےہیں. دکان صبح سویرےاسی سرمیں کھولی جائے تو بکری زیادہ ہوتی ہےتجارت کاارادہ ہواورچندرسرمیں شروع ہوتوکاروبارمیں چارچاند لگ جاتےہیں.دشمنوں کامنہ کالاہوتاہے.زیور ، روپیہ اسی گھڑی میں محفوظ کریں تو چوروں سے محفوظ رہتا ہے. زیورنیا بنوائیں اور چندر سر ہوتوزیورپہننےوالا ہمیشہ خوش رہےگااورسونےمیں اضافہ ہوتاچلاجائےگا.
علماء روحانیت کا کہنا ہےکہ بیماری سے بچنا اور طویل عمرپانا چاہتےہو، ہرزہرسے محفوظ رہنا چاہتےہوتو کھانا جب بھی کھاؤ تو سورج سرمیں اورپانی پیوتو چندسرمیں. دن کے وقت چندرسرجاری رکھا جائے تو ایسا شخص لمبی اور تندرست زندگی پاتا ہے.
ان سروں میں عجیت وغریب اثرات پہناں ہیں. اپنی مرضی سے اولاد پیدا کرسکتےہیں . جسم کے روگ دور کرسکتےہیں بڑےبڑے پہلوان سے مقابلہ کیا جائے تو سر کی وجہ سے غالب آسکتےہیں. سردی اور گرمی سے پیدا ہونےوالی بیماریوں کا علاج ہوسکتا ہے. سردی کی بیماری ہوتو سورج سرجاری رکھا جائے. چندروزکی مداومت سے مرض ختم ہوجاتا ہے. گرمی کی بیماری چندرسرسے ٹھیک ہوجاتی ہے. اسی طرح کچھ لوگ ٹھنڈی گرم چیزوں سےالرجک ہوتےہیں. اپنی بیماری کا پتہ کرکے گرم چیزوں کا استعمال چندسرمیں کیا جائےاور سرد چیزیں سورج سرمیں کھائی جائیں تو کبھی نقصان نہیں ہوتا.
سر کی تبدیلی کئی طریقےسے ہوتی ہےاگرسورج سر چلانا چاہیں تو بائیں کروٹ لیٹ جائیں، سر جاری ہوجائےگا، چندسرکےلئےسیدھی کروٹ لیٹیں یا نتھنےمیں روئی لگالیں.اس سے بھی سر بدل جاتا ہے اور آپ حسب میشاء کام لےسکتےہیں.
سروں کاایک بھیداورہے جوسرپانچ گھڑی ہےاس میں پانچ تتودورہ کرتےہیں ایک تتو ایک گھڑی رہتا ہے کوئی آکرسوال کرے اور کچھ پوچھنا چاہےتودیکھیں کون سے تتواورسرکادورہ ہےاور پھر جواب دیں جع صحیح ثآبت ہوگا.
پانچ تتوہیں اوران کے پانچ رنگ سامنے رہتےہیں عامل اسی طرح جواب دیتے ہیں ناک پرہاتھ رکھا سر معلوم کیا…… تتوکادورہ دیکھا……. اور بتادیا . وایو، اگنی ، جل ، آکاش ان کے نام ہیں. پہلے دیکھا کون سا سر جاری ہے ناک سے کتنے انگل کے فاصلے پرآتا ہے ایک انگل کے فاصلہ پرہوتو اگنی تتو ہے آٹھ انگل پروایو ، بارہ انگل پر تھوی اور سولہ انگل پرجل تتو ہوتا ہے. آکاش کا رنگ روشن ، وایو کا رنگ سبز ، گنی کا سرخ ، جل کا سفید ، تھوی کا سبز رنگ ہے جو باری باری دورہ کرتےہیں.
سر تین طرح کے ہوتےہیں……. بائیں نتھنے سے سانس آئے تو ایڑا کہتےہیں ، دایاں نتھنا جاری ہوتو نگلا کہتےہیں . دونوں نتھنے جاری ہو تو سکھمنا بولتےہیں.
صبح اٹھ کردیکھیں کونسا سر چلتا ہے، جدھر کا سر چلے یتن باراللہ کا نام ایک سانس میں پڑھ کے اس طرف کے ہاتھ کی ہتھیلی کا بوسہ لے، تمام دن امن وامان سے گزرےگا.
کہیں کام سے جانا ہوتو دیکھئے کونسا سر جاری ہےاگر کسی دوسرے شہر جانا ہواور کامیابی کی نیت ہوتو سورج سر میں گھرسے قدم باہر نکالے فتح ہوگی. سکھمنا سر میں کسی کے پاس کام سے نہ جائیں کام نہیں ہوگا. افسران بالا توجہ نہیں دیں گے،. تھوڑا سا تو قف کرے اور جب تک سکھمنا سرجاری رہے پاک صاف ہو کر عبادت میں مصروف رہے اور دوسرا سر جاری ہونےکےگھر سے نکلے.
کسی جگہ ضروری جاناہو، وقت مقرر ہوتو دیکھئے چند سرہے یا سورج سر. جس طرف کا سروہی قدم اٹھائے اور سات قدم چلے مقصد میں کامیابی ہوگی. جو اس علم کے عامل ہیں وہی اسکی حقیقت سے آگاہ ہیں.
کوئی دوااثرنہ کرتی ہواور دن بدن حالت خراب ہو. الٹا سانس چلتے وقت دواکھلایئں، مریض کی گرتی حالت سنبھل جائے گی. کام کرنےسے تھکن ہو ، کوئی غم واندوہ ہو غشی ہو ، دل ڈوبنے لگے تو فوراً قمری سانس جاری کرلیں. انجکشن کی طرح فوری فائدہ ہوگا، دل ٹھہر جائےگا اور قوت حیات دوبارہ آتی معلوم ہوگی.
جہاز ، زیل ، کشتی میں سوار ہوتے وقت سیدھا نتھنا جاری کرلیں سارا سفر بخریت گزرے گا خون خراب ہوگیا ہو ، پھوڑے پھنسیاں نکلتی ہوں یا مہاسے ہوں ، سورج نکلتے وقت اونچی جگہ کھلی ہوا میں کھڑے ہوجایئں زبان کی نوک اوپروالے دانتوں کی جڑ میں دبالیں ، تتھنوں سے ہوا اندر کی طرف پوری طاقت سے کھینچیں، پھر آہستگی سے باہر نکال دیں.روزانہ صبح پندرہ منٹ اسطرح کریں شام کو سورج غروب ہوتے وقت یہ مشق دہرائیں، چند روزمیں خون صآف ہوجائے گا اور پھوڑے پھنسیاں ٹھیک ہوجائیں گے. چہرےپرداغ دھبے جھائیاں ختم ہوجائیں گی. امید ہےکہ علم النفس کی یہ معلومات آپ کو پسندآئی ہونگی انشاءاللہ زندگی رہی تو اس موضوع پر مذید بات کریں گے تب تک کے لئےاس دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو آسانی عطا فرما ئےاور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطافرمائے ، آمین . اللہ حافظ.


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat