Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 6 General
Spiritualism طب روحانی
! معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام وعلیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
ہمارا آج کا لیکچر طب رو حانی سے متعلق ہے یہ وہ لیکچر ہے جو میرے مرحوم والد صاحب کی ڈائری میں درج نوٹس کی مدد سے میں نے تیار کیا ہے اس میں اردو کا فی ہے جس کے لئے معزرت خواہ ہوں میں نے اپنے طور پر پوری کو شش کی ہے آسان الفاظ میں تمام لیکچر کو تحریر کر سکوں پھر بھی اگر کوئی بات سمجھ نہیں آئے تو مجھ سے رابطہ کیا جاسکتا ہے اب ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں ہمارا آج کا موضوع ہے طب روحانی ،لیکن اس سے پہلے کہ ہم طب روحانی پر بات کریں پہلے یہ جان لیں کہ روح کیا ہے یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کی تلاش ازل سے انسان کررہا ہے اور یہ تلاش آج بھی جاری ہے روح کی حقیقت انسان سے پوشیدہ رکھی گئی ہے بڑے بڑے حکیم اور فلسفے کی ماہراس کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں بعض فلاسفر نے اسے خون اور ہوا کی آمیزش سمجھا بعض نے اسے جسم کے اندر قرار دیا اور کسی نے روح کو جسم کا محل قرار دیا
امام غزالی رح نے ان سب کی نفی کی اور فرمایا کہ روح نہ جسم کا محل ہے نہ جسم کے اندر ہے اور نہ باہر بعض نے روح اور جسم مثال یوں دی ہے کہ روح جسم میں اس طرح ہے جسے کوئلے میں آگ بہر حال میں اس تمام بحث کو سمیٹتے ہوئے صرف اس قرآنی آیت پر اکتفا کر تا ہوں ترجمہ اے محمد صہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دیجئے کہ روح امرربی ہے
روح کچھ بھی ہو اس کے وجود اور مظاہر سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا مظاہر احساسات ، خواہشات اور حافظہ وغیرہ کو کہتے ہیں قدیم فلسفیوں نے ان مظاہر کو ایک سادہ وجود نفس شخصی سے منسوب کر کے اس کی قوتوں اور استعدادوں کے مظاہر قراردیا ہے مثال کے طور پر نفس سے کبھی قوت حافظہ کا اظہار ہوتا ہے اور کبھی قوت استدلال کا ، کبھی خواہش کا ہم صرف ایک اور آسان طریقہ اختیار کرینگے وہ یہ کہ نفس انسانی کی دو قوتیں ہیں قوت ادراک جو اشیاء کی حقیقت کو معلوم کرتی ہے قوت تحریک جو اعضاء بدن کو افعال پر ابھارتے ہیں پھر ان دونوں قسموں کی مزید دو دو قسمیں ہیں قوت ادراک کی عقل نظری اور عقل عملی اور قوت تحریک کی قوت غضبی اور قوت شہوی اقسام ہیں
عقل نظری نفس کی وہ قوت ہے جو کائنات سے عملی صورتوں کو قبول کرتی ہے اور قوت 1 کی تہذیب کسی قوت کے اعتدال سے کام کرنے کا نام تہذیب ہے سے حکمت پیدا ہوتی ہے
عقل عملی نفس کی اس قوت کو کہتے ہیں جو غور فکر کے بعد بدن کو کا موں کے لئے 2 حرکت دینے کا موجب بنتی ہے اس قوت کی تہذیب کا نام عدالت ہے
قوت کو غضبی نفس کی اس قوت کو کہتے ہیں جو نا ملائم امورکو غلبہ کے طور پر دور 3 کرتی ہے اس کی تہذیب شجاعت کہلاتی ہے
مندرجہ بالا چاروں فضیلتیں حکمت، عدالت ، شجاعت اور عفت فضائل اربعہ کے نام سے مشہور ہیں اور ان چاروں کا اکتساب نفس کی صحت ہے ان فجائل سے انحراف ہمیں رذائل کی طرف لے جاتاہے جو روحانی امراض کا باعث بنتے ہیں پر ایک قوت میں اعتدال سے انحراف افرط کی طرف ہوگا یا تقریط کی طرف اس لئے ہر فضیلت کے مقابلہ میں دو رذالتیں ہوئیں اور کل رذالتیں آٹھ ہیں 1 سفر 2 ملبہ 3 ظلم 4 انظلام 5 تہور 6 جبن 7 شرہ 8 خمود
سفر عقل نظری یا قوت نظری کا غیر ضروری کاموں میں لگانے یا ضروری کاموں میں حداعتدال سے زیادہ خرچ کرنا ہے
ملبہ عقل نظری یا قوت نظری کا ضروری کا موں میں کم خرچ کرنا یا بالکل خرچ نہ کرنا ہے
ظلم دوسرے کے مال پر زبردستی قبضہ کرنا ہے اور یہ قوت عملی عقل عملی کی افراط ہے
انظلام مظالم کو ظلم پر قادر کرنا ، یہ قوت عملی کی تفریط ہے
تہور ان خطرناک کاموں میں بلاخوف و خطر ہاتھ ڈالنا جنہیں عقل مستحسن نہ سمجھے یہ قوت غضبی کی افراط ہے
جبن ایسے معمولی کاموں سے ڈرنا نہ چاہئے یہ قوت غضبی کی تفریط ہے
شرہ نفس کا اعتدال سے زیادہ شہوت کی مائل ہونا یہ قوت شہوی کی افراط ہے
خمود نفس کا اراتاٌ جا ئرلزت سے باز رہنا یہ قوت شہوی کی تفریط ہے
ان رذائل کو اختیار کرنے سے جو روحانی امرض پیدا ہوتے اگلے لیکچروں میں بیان کرونگا آئندہ لیکچر تک کیلئے اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیا ں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat