Category : Homeopathy

Honeopathy With Sam
Lecture Number 4 General
Pathology تشخیص الامراض
! معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء طالبات السلام وعلیکم
میں خوش آمدید Homeopathy with Sami
ہمارا آج کا موضوع تشخیص الامراض ہےتشخیص الامراض میں امراض کی نوعیت اور اسباب پر بحث کی جاتی ہے پیتھا لوجی لفظی معنٰی مرض پر بحث کرنا ہے اسلئے علاج الامراض کے علم کو بھی پیتھالوجی میں شامل کیا جاسکتا ہے مگر عام طور پر اس سے مراد تشخیص الامراض یعٰنی مرض کا اچھی طرح سے پہچاننا لیا جا تا ہے ایک ڈاکٹر کے لئے جو کہ امراض سے نبردآزماہواس علم پر عبور ہونا لازم ہے مرض کیا ہے اس کی پہچان کیونکر ہوسکتی ہے ہومیوپیتھک نظریہ کے مطابق مرض کی پہچان علامات ہوتی ہے کیونکہ بغیر کسی علامت کے مرض کا وجود تقریباّّ نا ممکن ہے علامت کی بڑی بڑی تین اقسام ہیں
1 فاعلی علامات Subjective Symptoms
2 مفعولی علامات Objective Symptoms
3 دماغی علامات Mental Symptoms
فاعلی علامات:
فاعلی علامات وہ علامات ہے جن کا حساس مریض کو بخوبی ہوتامثلاّّ ناسوروغیرہ ناسور وغیرہ میں طبیب کو مرض کی تشخیص کرنے میں کوئی وقت پیش نہیں آتی خواہ مریض کے حواس ہوں یا بے ہوشی ہو مگر در ووغیرہ سے متعلق علامات کا علم اسی وقت ہوسکتا ہے جب مریض کے حواس بحال ہوں
مفعولی علامات:
یہ وہ علامات ہوتی ہیں جن کو طبیب معائنے کے ذریعے دیکھ سکتا ہے اس میں جسم کی حرارت،نبض،تنفس،جسم میں پیدا ہونے والے خراب مادے،جراثیم اور تمام نتائج شامل ہیں جو لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے دریافت کئے جاسکتے ہیں
دماغی علامات:
یہ وہ علامات ہیں جن کا تعلق صرف دماغی کیفیات سے ہوتاہے مسلاّّ غصہ، خوشی،غم،مایوسی،خوف،حیرت وغیرہ
یہ علامات فاعلی علامات کی ہی ایک قسم کہی جاتی ہے اور ادویہ کیلئے ان ولامات کا مطالعہ نہایت ضروری سمجھا جاتاہے ان تینوں قسم کی علامات کو تشخیص امراض کے لیکچروں میں ہر ایک مرض کے بارے میں علیحدہ علیحدہ بیان کیا جائے گا فلسفہ کی اکثر کتابوں میں روحانی امراض انکے اسباب اور ان کے علاج پر بحثیں کی گئی ہیں دور قدیم کے اطباء کا تویہ دستور رہا ہے کہ وہ طب جسمانی کے ساتھ ساتھ طب روحانی میں بھی خاصی مہارت حاصل کرتے تھے بلکہ فن تشخیص میں ان کے کمال کا سبب یہی فلسفہ ہے جسے آج کا طبیب یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتا ہے کہ طب کے ساتھ فلسفہ کی آمیزش کسی طور پر مناسب نہیں ہے یہ ایک قدیم رسم ہے جس کی آج کے دور میں پیروی کرنا جرم عظیم ہے میرے خیال میں وہ یہ نہیں سوچتا کہ میڈیکل سائنس کا نظری حصہ ہمیشہ فلسلے کامر ہون منت رہا ہے چنانچہ ہمیں اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ علم اخلاق سے واقف ہونا ایک طبیب کے لئے کس حد تک مفید ہے کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح بالکل واضح ہے کہ دورجدید کے اطباء اس سےلاعلمی اختیار کرنے کے باعث کس قدر پیچھےہیں
میرے اس لیکچر سے یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ جن ہومیوپیتھک ادویات کے خواص کو تندرست اشخاص پر آزمایا گیا ہے کہ وہ فلاں قسم کی دماغی علامات پیدا کرتی ہیں کیا وہ ایسی دماغی علامات کو دورنہیں کریں کی دماغی علامات کو ہم اس وقت روحانی امراض کہیں گے جب یہ امراض کسی مریض میں مستقل طور پر پائے جانے لگیں اور اگران کا وجودعارضی ہو مثلاّّ کسی فاسد غذا کے استعمال یاکسی جسمانی مرض کے سبب خوف وپریشانی طاری ہوتو اس فاسد اثر کے زائل ہونے یا اس جسمانی مرض سے صحت پانے پر یہ علامات خودبخود دور ہوجائیں گی میری مرادان امراض سے ہے جنہیں میں آگے چل کر طب روحآنی کے عنوان کے تحت بیان کروں گا آئندہ لیکچر تک کیلئے اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمیں


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat