Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 1 (General)
! معززناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
(Alternative Theropy) مختلف طریقہ ہائے علاج
Homeopathy With Sami میں خوش آمدید
علاج بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب قرآن مجید دنیا میں سب سے بڑا اور قابل بھروسہ ڈاکٹرہے اس میں ہر خشک و تر چیز کے ساتھ بیماری اور اس کا علاج بھی ہے قرآن پاک صرف پڑھنے اور سمجھنے کی بات ہے جس نے جس قدر زیادہ توجہ اور استغراق کے ساتھ قرآن پاک کو سمجھنے کی کوشش کی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو اس پر اتنا ہی زیادہ کھول دیا سورہَ قمر میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ”ترجمہ اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا تو کوئ ہے کہ سوچے سمجھے ” اب یہ ہم پر منحصرہے کہ ہم قرآن کو سمجھنے کی کس حد تک کوشش کرتے ہیں مختلف طریقہَ علاج کی دوا بے کار ہوجاتی ہیں لیکن مرض الموت نہ ہو تو قرآن کی آیات لازمی شفاء دیتی ہیں میں اس مسئلے میں اپنی کو تاہ علمی کا معترف ہوں لیکن اس علاج میں جو روشنی نظر آتی ہے اس سے یقین ہے کہ لوگوں کو لاعلاج امراض میں بھی قرآنی آیات سے فائدہ ہوتا ہے قرآن پاک کی ایک آیت سے واضح ہے کہ قرآن میں دنیا کی ہر شے کا ذکر موجود ہے گویا مرض کا ذکر بھی ہے اور اس کے علاج کا بھی امراض روحانی ہوں یا جسمانی سب آیات کے ورد سے دور ہوسکتے ہیں قرآن کے احکامات میں کھانے پینے کی اشیاء اور ممنوعہ چیزوں سے پرہیز کیا جائے تو بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے بیماری کی صورت میں متعلقہ واضح آیت کی تلاوت کرنے سے اگر مرض الموت نہیں تو انشاء اللہ شفا ضرور ہوگی ہمارے دوسرے چینل پیرا سائیکلوجی ودھ سامی میں علاج بالقرآن کی مکمل تفصیلات موجود ہیں
چینی طریقہَ علاج
چینی طریقہَ علاج سے زیادہ روایتی کسی دوسرے طریقہَ علاج میں نہیں یہ دوائیں کم و بیش 3 ہزار سال پرانی ہیں ان ادویات کا استعمال چین کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی کیا جاتا ہے ورلڈمیڈیسن نامی کتاب میں دنیا میں رائج تمام طریقہَ علاجوں میں اس طریقہَ علاج کی خاص طور پر تعریف کی گئ ہے
آیورویدک طریقہَ علاج
اس طریقہَ علاج میں انسان کی لمبی زندگی کا علم ہندووَں کے ایک دیوتا اندرا کے حوالے سے ہے ایوروک کے لغوی معنی یہ ہیں کہ وہ علم جس میں زندگی کی بقاء کے لئے مفید اور غیر مفید غذاوَں سے تشخیص و علاج کیا جائے یہ طریقہَ علاج جس کا تعلق جڑی بوٹیوں کے ساتھ ہندوستان میں پانچویں صدی قبل مسیح سے رائج ہے اس طریقہَ علاج کا انحصار خلطوں اور مزاح پر ہوتا ہے تین خلطوں میں دات ، پت اورکف کی کمی یا زیادتی سے امراض سر اٹھاتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی مماثلت طب یونانی ہی سے ہے
طب یونانی یا حکمت
طب یونانی ایک انتہائ قدیم طریقہَ علاج ہے طب کے عظیم محقیقین میں بقراط ، جالینوس اور ارسطو شامل ہیں طب یونانی کو انتہائ عروج عطا کرنے والوں میں جابربن حیان،ابن طبری، ابوالنصر فارابی، بوعلی سینا، وغیرہ کے نام معتبر اور انتہای اہم ہیں طب یونانی کے بنیادی اصولوں میں انسانی جسم میں چار خلطیں ہیں خون ،بلغم، سودا اور صفرا انہی کی کمی یا زیادتی سے بیشتر بیماریاں ظہور پذیر ہوتی ہیں قوت حیات ہی سے جسم حرکت کرتا ہے اور قوت امراض کی مدافعت کرتی ہے ہر دوا کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ قوت حیات کوامداد فراہم کرے مرض کی تشخیص کرنے میں چاروں خلطوں کی علامات کو سامنے رکھا جاتا ہے لیکن ادویات کا استعمال اصول نالضد کے تحت کیا جاتا ہی گویا قوت حیات کی اہمیت تو ہے لیکن عملاً اسے اس کا مقام نہیں دیا گیا اور تمام تر توجہ چاروں خلطوں پر ہی رہی اس پر غور ہی نہیں کیا جاتا کہ یہ چاروں اخلاط غیر منظم کیوں ہوتے ہیں قدیم طریقہَ علاج ہونے کے باوجود ظاہری اسباب مادیت کے گرد ہی گھومتا ہےجو بھی ہو حکمت بہر حال ایک کامیاب علاج تھا اور ہے
طب انگریزی یا ایلوپیتھی
اس طریقہَ علاج کا کوئ قدیم نام نہیں طب یونانی سے تعلق رکھنے والے حکماء تو اب بھی اسے طب یونانی کی ہی جدید شکل کہتے ہیں جدید ایلوپیتھی کی عمر 200 سال سے زیادہ نہیں اس طریقہ علاج میں بھی یونانی علاج کی طرح بالضد کے نضر یئے کو اپنایا گیا ہے ہومیو پیتھک ڈاکٹر سیموئیل ہنیمن ہی نے جو کہ پہلے ایلوپیتھک طریقہ علاج کے ماہر تھے اسے ایلوپیتھی کا نام دیا تاکہ ہومیوپیتھی سے تفریق کی جاسکے بہرحال یہ طریقہعلاج بالضد کے نام سے ساری دنیا میں رائج ہے ایلو پیتھک طریقہ علاج میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال سب سے زیادہ ہے اس طریقہ علاج میں خاصی تعداد میں ادویات موجود ہیں اور مہلک جراثیم ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں لیکن ابھی شاید ریسرج مکمل نہیں اکثروبیشتر دوائیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں ایک فائدہ دیتی ہوئی دوا نقصان دینا شروع کر دیتی ہے اور اسے مارکیٹ سے ہٹا دیا جاتا ہے یہ ضرور ہے کہ آلات اور جدید ترین لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے یہ جسم کے اندرونی نقائص تلاش کر لیتے ہیں
Natureo pathy نیچروپیتھی قدرتی طریقہ علاج
نیچروپیتھی کی تاریخ کوئی بہت زیادہ پرانی بات نہیں ہے صرف سوڈیڑھ سوسال پہلے کی بات ہے اس طریقہ علاج کورائج کرنے والے اور اسے فرغ دینے والے جرمنی کے ہی ایک ڈاکٹر لوئیس کو ہنی تھے جب وہ بیمار ہوئے اور تمام مروجہ طریقہ علاجوں سے فائدہ نہیں پاسکے تو اس نتیجے پو پہنچے کہ ہماری تہذیب و تمدن اور جملہ ادویات انسان کی صحت کے اصل دشمن ہیں لہٰذا ان سے چھٹکارا حاصل کر کے ہمیں فطرت کی طرف لوٹنا چاہیے اس فطری عمل کی حد بندی میں صحت کے اصول کو نیچروپیتھی کانام دیاگیا یعنی فطرت کے عین مطابق اور سادہ غزائیں ،پھل،کھلی دھوپ،اور ورزش ہی اصل صحت کے اصول ہیں جبکہ شراب ،تمباکو،گوشت، مصالحہ جات، کثرت جماع ، زیادہ دماغی محنت اور بے شمار ادویہ کا استعمال وہ غیرفطری اشیاء ہیں جو انسان کو مریض بنا دیتی ہیں فطری غذا کھانے پینے سےاور غیر فطری غذا سے پرہیز بغیردوا کے صحت کی ضمانت دیتے ہیں علاج بالماء کا طریقہ بھی ڈاکٹر لوئیس کوہنی نے ہی بتایاتھا
بائیوکیمک طریقہ علاج
اس طریقہ علاج کے موجد بھی جرمنی کے ایک ڈاکٹر شسلرہیں پہلے وہ ہومیوپیتھک معالج تھے بعد میں اپنے تجربات کے ذریعے انہوں نے ثابت کیا کہ انسان کے جسم میں بارہ نمکیات ہیں جن کے اعتدال میں ہونے سے جسم کا پورا نظام قائم رہتا ہے جب ان میں سے کوئی نمک کم یا زیادہ ہوجائے تو انسانی جسم کے اندر تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں ،وہی امرض کی مختلف شکلیں ہیں جس نمک کی کمی ہواس کی مقدار اگر مریض کو پہنچادی جائے تو مرض دور ہوجائے گا
Homeo Pahthy ہومیوپیتھی علاج
ہومیو پیتھی طریقہ علاج ڈاکٹر سیموئیل ہنیمن کی دریافت ہے ڈاکٹر ہنیمن نے ایلو پیتھک طریقہ علاج چھوڑ کر اپنے تجربات کی روشنی میں ایک نیا نظریہ پیش کیا جسے ہومیوپیتھی کے نام سے متعارف کرایا گیا یہ واحد طریقہ علاج ہے جس میں کوئی ابہام نہیں اس نظریئے کے مطابق انسان کے جسم میں قوت مافعت ہے جو باہر کے جراثیم یا مرض پیدا کرنے کے اسباب کا مقابلہ کرتی ہے قوت حیات ہی کی بدولت جسم میں حرکت ہے اور اعصاب کے ذریعے قوت حیات ہی کی حکمرانی ہے اس لئے قوت حیات کا مضبوط رہنا ضروری ہے آج ہر طریقے علاج والے اس بات پر متفق ہیں کہ جسم انسانی کی اصل حقیقت قوت حیات ہے اور یہی فلسفہ ہومیوپیتھی کی بنیاد ہے آئندہ لیکچر تک کیلئے اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہیے ہیں کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانیاں عطافرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat