Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
(Lecture Number9 (General
!معززناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
کائنات کیوں وجود میں‌آئ،بیماریاں کب اور کیسے پیدا ہوتی ہیں،علاج کب اور کیسے شروع ہوئے؟
یہ تمام استعجاب اور استفسار اتنے ہی قدیم ہیں جتنا کہ انسان اور شعور انسانی یہ وہ سوالات ہیں کہ علم عرفان ،عقل و آگہی اور فلسفہ و سائنس اپنے انتہائ وسائل بروئے کار لانے کے باوجود ان کے جوابات حاصل کرنے میں کسی فیصلہ کن مرحلے پر نہیں پہنچ پائے ہیں اور ان سوالات کے جوابات اب تک ہم قطیعت کے ساتھ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ سائنسی کلیئے بھی اختلافات کی بھینٹ چڑھ کر تبدیل ہوتے رہتے ہیں ہر عہد کے اپنے اپنے مختلف عقائد جنم لیتے ہیں اور پھر وہ روایت کی حیثیت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں انہی روایات سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے کائنات سے ہی ہمارے اسلاف تخلیق کائنات، امراض کے وجود اور ان کے علاج کے بارے میں سوچتے رہے ہیں انہوں نے دقیق نکتوں سے وضاحت کرتے ہوئے اہم نظریات بھی قائم کئے لیکن وہ سب اپنے اپنے زمانے کے ماحول ، ذہنی کیفیات اور مشاہدات کے مطابق ہی پیش کرتے رہے ان کی روایات ، فکر اور نظریات میں ایک دنیا سمٹی ہوئ دکھائ دیتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہمارے اس عہد سے کہیں زیادہ سنجیدہ اور ٹھوس نظریات کے حامل تھے آج ہم تسلیم کریں یا نہیں کریں لیکن اس حقیقت میں ہمارے لئے تازیانہ عبرت ہے کہ ہم آج بھی انہیں قدیم نظریات و عقائد سے متاثر ہوکر اپنی ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں جو بھی اس ڈگر سے ہٹے گرداب ابتلا میں محصور ہوئے فرق صرف اتنا ہے کہ ہم اپنے اذہان کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا کم کردیا ہے اور اپنے مقاصد کے لئے نئے نئے پیمانے ایجاد کر لئے ہیں جن کے اظہار نتائج ہی پر علاج کی سمت کا تعین کرتے ہیں
ماضی میں انسان کی صحت قابل رشک تھی بیماریاں محدود تھیں جن کا دورانیہ بھی مختصر ہوتا تھا حکیم، ڈاکٹر، وید سب متحد، نہ کسی میں کوئ حسد، نہ ایک دوسرے کو رد کرنا، ہر ایک خاص کے ساتھ اپنے کام سے کام رکھتا لیکن اب وقت نے کروٹ لی اور معالج ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں نہ وہ خلوص رہا نہ محبت ، راتوں رات لکھپتی بننے کی ہوس میں ہر طرف موت کے سائے منڈلا رہے ہیں اسر انسانیت سسک رہی ہے زندہ انسان مردوں سے بدتر ہے سسک سسک کر دنیا سے رخصت ہونے کے دن گن رہا ہے یہ مقام عبرت نہیں تو اور کیا ہے ماضی کی اچھائیاں نیکیاں اور خلوص و محبت کو یکسر فراموش کر کے ہم کیا تھے اور کیا ہوتے جارہے ہیں پہلے ہم زندگی کو برتتے تھے اب زندگی ہمیں برتتی ہے اپنی مرضی اور اپنی خواہش سے جیسا اس کا دل چاہتا ہے سلوک کرتی ہے کوی پوچھنے والا نہیں ہے ،بچ گئے تو طبیب کا کمال ، چل بسے تو اللہ کی رضا
سارے طریقہَ علاج سرکش امراض کے سامنے ہتھیار ڈال کے بیٹھے ہیں اور آپس میں باہم دست وگریباں ہیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں ایسے میں ہومیوپیتھس کو چاہیئے کہ وہ آگے بڑھیں اور یہ نہ دیکھیں کہ کون کس کو کیا کہہ رہا ہے اور نہ ہی خود کسی طریقہَ علاج کی ندمت کریں بلکہ صرف اپنی بات کریں اپنے طریقہَ علاج یعنی ہومیوپیتھی پر توجہ دیں انسان کی دماغی اور جسمانی صحت کو قائم کرنے پر توجہ دیں میں حلفیہ یہ بات کہتا ہوں میں کسی طریقہَ علاج کا مخالف نہیں ہوں بیمار انسان کو صحت کی منزل سے ہمکنار کرنے والی ہر جہت اچھی لگتی ہے اور ہر طریقہَ علاج کا ماہر یہی چاہتا ہے کہ اس کے آس پاس آنے والا مریض جلد از جلد تندرست ہوجائے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے 35 سالہ تجربے کی بنیاد پر یہ کتاب تحریر کر رہا ہوں آج جتنے بھی طریقہَ علاج رائج ہیں ان سب کا مقصد صرف ایک ہی ہے یعنی مریض کو صحت سے ہمکنار کرنا اس میں خلوص، محبت اور توجہ بھی اگر شامل ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ضرور شفاء دیتا ہے آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی پسماندہ بستیوں میں غیر سائنٹیفک طریقہَ علاج رائج ہیں‌ لیکن چونکہ وہ صحیح سمت کا تعین نہیں کرتے اس لئے میں نے اس کتاب میں آلٹرنیٹو طریقہَ علاج کا ذکر کرتے ہوئے ہومیوپیتھک طریقہَ علاج پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے آئندہ لیکچر تک کے لئے ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو ہمیشہ خوش رکھے اور خوشیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat