Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 3 (General)
قوت حیات (Vital Force)
!معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
مرض کے بارے میں ڈاکٹر سیموئیل ہنیمن نے یہ تھیوری پیش کی ہے کہ ” مرض قوت حیات کی کمزوری یا خرابی کا نام ہے” اس نطریئے کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ قوت حیات کیا ہے؟ قوت حیات کے بارے میں ڈاکٹر سیموئ ہنیمن کا نظریہ یہ ہے کہ فضا میں مسموم برقی قوت موجود ہے انسان کے جسم میں جب کبھی اس مسموم برقی قوت کے لئے مادہ قبولیت پیدا ہوجاتا ہے تو یہ جسم میں گھر کرنا چاہتی ہے قوت حیات اس کا مقابلہ کرتی ہے اور اگر یہ مسموم برقی قوت پر غالب آجائے تو مرض کی علامات ظاہر نہیں ہونگی اور اگر یہ مغلوب ہوجائے تو برقی مسموم قوت انسانی جسم میں قیام کرکے اعضاء کے فعال اور ساخت میں خرابی پیدا کردیتی ہے اور بیماری کی علامات ظاہر ہوجاتی ہیں دراصل قوت حیات وہ چیز ہے جے عربی میں طبعیت مدبرہ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ صحت بدن کی تدبیر کرتی ہے اور اگر کوئ نقص موجود ہو تو اسے دور کرکے صحت کو بحال کرتی ہے
اب دیکھنا یہ کہ ہومیوپیتھک دوا سے وائٹل فورس کو کیونکر تقویت پہنچتی ہے اور مرض کیسے شفا پاتا ہے اس کے متعلق ہنیمن نے ایک نیا فلسفہ پیش کیا ہے
دوا کے عمل کا فلسفہ
چونکہ ہومیوپیتھک دوا مرض کی علامات کے ہم مثل ہوتی ہے اس لئے یہ وائٹل فورس کا ساتھ دینے کی بجائے مسموم برقی قوت کا ساتھ دے گی اور اس قوت میں اضافہ کرے گی لہٰذا وائٹل فورس اول الذکر کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی طاقت کو اکٹھا کرےگی مگر یہ یادرکھنا چاہیئے کہ دوا کا اثر عارضی ہوتا ہے اس لئے جب دوا کا اثر زائل ہوجاتا ہے تو برقی مسموم قوت اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتی ہے مگر وائٹل فورس جس کی طاقت ہنوز بڑھی ہوئ ہے اس پر غلبہ پالیتی ہے اور اس سے پیدا شدہ نقائص کو دور کرکے بدن میں صحت بحال کرتی ہے چنانچہ ہنیمن کے نزدیک مرض وائٹل فورس کی کمزوری کا نام ہے اور اس کا سبب برقی مسموم قوت ہے ہنیمن کے اس نظریہ پر ماہرین فن نے کئ ایک اعتراضات بھی کئے ہیں مثلاً
اعتراض: لندن کے ایک ڈاکٹر جے گرے گلوور- ایم ڈی کا اعتراض ہے
ہنیمن تھیوریوں سے بہت جلد مغلوب ہوجاتے تھے اور استدلال میں اتنا زیادہ مضبوط نہ تھے بلکہ ان کا تمام دستورالعمل جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں اس خیال پر مبنی تھا کہ مرض کے اسباب نا قابل لمس، غیرمادی ،روحانی اور برقی ہوتے ہیں اور اسباب کے متعلق یہ تعین برباد ہوچکا ہے طب جدید بڑی کامیابی سے یہ بات ثابت کررہی ہےکہ اکثر اور عام امراض کے مادہَ علت کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور اس مادے کا ابھی تک ثبوت نہیں ملا وہاں بھی ایسا قیاس کیا جاسکتا ہے اکثر امراض کا سبب حیوانی جرثومہ یا ذرہ دیکھا گیا ہے
مندرجہ ذیل اعتراض کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ قابل دید جراثیم یا مادے برقی مسموم قوت کے لئے ہتھیار یا مادہَ قبولیت کا کام سر انجام دیتے ہیں اور امراض کا اصل سبب بقول ہنیمن ”صرف یہی مسموم قوت ہے جو بالکل نا قابل لمس غیر مادی روحانی اور برقی ہے”
آئندہ لیکچر تک کے لئے اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat