Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
(Lecture Number 1 (General
! معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
عزیز دوستوں :آج ہمارا دوسرا لیکچر ہے لیکن درحقیقت ہومیوپیتھی کے حوالے سے ہمارا آج پہلا لیکچر ہے کیونکہ پہلے لیکچر میں صرف چینل کا تعارف کرایاگیا تھا جبکہ آج سے ہم با قاعدہ ہومیوپیتھی کے علم کا آغاز کر رہے ہیں ہومیوپیتھی ایک ایسا علم ہے جو بڑے بڑے حکماء اور فلسفی کا سرمایہ ہے میری مراد ان اطبائے یونان مثلاً بقراط، ارسطو اور جالینوس وغیرہ سے ہے انہیں حکیم یا بقراط اس لئے کہا جاتاہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حکمت یا فلسفہ کو سب سے پہلے اپنایا حکمت یا فلسفہ سے کیا مراد یے؟
اس بارے میں ایک جملہ مشہور ہے کہ ”موجودات کے حالات کا انسانی طاقت کے مطابق جاننا اور اس پر عمل کرنا” یہی حکمت یا فلسفہ ہے غور طلب بات یہ ہے کہ عمل کو حکمت کے معنوں میں شامل کیا گیاہے حکماء اسلام نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے بہت سے دلائل دیئے ہیں جن میں سے سب سے موزوں یہ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کلام پاک میں فرماتا ہے (ترجمہ):” جسے حکمت دی گئ اسے خیر کثیر عطا ہوئ” خیرکثیر سے مراد چاہے دنیاوی مال و دولت دی جائے یا جنت الفردوس دونوں کے لئے عمل درکار ہے لہٰذا حکمت سے مراد صرف موجودات کا علم نہیں بلکہ عمل بھی لفظ کی وسعت معنی میں داخل ہے
لہٰذا طبائے قدیم نے جہاں دیگر علوم میں کمال و مرتبہ حاصل کیا وہاں طب کی دنیا میں بھی ان کا نام تا قیامت زندہ و جاوید رہے گا بقراط نے علم طب کو اس قدر عروج دیا کہ ابوالطب اور پیتھوس کی ترکیب سے بنا ہے ہومیوس کے معنی بالمثل کے ہیں اور (Homoeos) پیتھوس کے معنی ہیں طریقہ علاج یعنی ہومیوپیتھی سے مراد وہ طریقہ علاج ہے جس میں بالمثل ادویات سے شفا حاصل کی جاتی ہے یعنی جس میں امراض کے بالمثل ادویات استعمال کی جاتی ہیں یعنی مرض کو دور کرنے کیلئے ایسی دوا دی جاتی ہے جس کی علامت تندرست انسان کے اس دوا کے کھانے سے پیدا شدہ علامات مرض کی علامات سے مشابہ ہوں اس نظریہ کو لاطینی زبان کے مشہور جملے سمی لیا سمی لیبس کیورینٹر سے ظاہر کیا جاتا ہے جس کا انگریزی ترجمہ:
ہے اور اردو میں علاج المثل بالمثل کہا جاتا ہے (Let Likes Be Treated By Likes) جوکہ مخفف ہو کر علاج بالمثل رہ گیا ہے علاج با لمثل کا خیال انسان کے دل میں پہلی مرتبہ کب پیدا ہوا اس کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے مگر اتنا پتہ چلتا ہے کہ بقراط نے اس نظریہ کا کچھ یوں کیا تھا کہ کھانسی کا علاج اس دوا سے ہوسکتا ہے جو کہ کھانسی پیدا کرتی ہے یہ الگ بات ہے کہ اس امام طب نے اس طریقہ علاج کو یا اس نظریہ کو عملی جامہ پہنا کر رواج نہ دیا مگر اس کے باوجود اس قانون قدرت کا بانی بقراط ہی کو ماننا پڑتا (Samuel ہےعلاج بالمثل یعنی ہومیوپیتھی کو رائج کرنے والے ایک جرمن ڈاکٹرسیموئیل ہنیمن Hahnemman) تھے
ان کی سوانح حیات انشاء رحمتہ اللہ اگلے لیکچر میں بتاوَ نگا تب تک کے لئے اجازت دیجئے اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat