Category : Homeopathy

بسم اللہ الحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 10 General information of Homeopathy
!معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
Homeopathy With Sami میں خوش آمدید
ہومیو پیتھی ایک ایسا طریقہ علاج ہے جو ڈھائ سو سالوں سے استعمال ہو رہا ہے جو ”مثل کا علاج بالمثل سے کیجئے” کے صول پر عمل کرتا ہے یعنی بیماری کا علاج ایسے مادے سے کیا جاتا ہے جو صحت مند افراد میں اسی طرح کی علامات پیدا کرتا ہے چونکہ ہومیوپیتھک ادویات بہت قلیل مقدار میں استعمال کرائ جاتی ہیں اس لئے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کوئ مضر اثرات پیدا نہیں کرتیں
ہومیوپیتھک معالج کیا چاہتا ہے؟2
ایک ہومیوپیتھ صرف آپ کی بیماری کے بارے میں نہیں پوچھے گا بلکہ یہ بھی پوچھے گا کہ آپ اپنے اردگرد موجود عوامل سے کس طرح متاثر ہوتے ہیں جیسے کہ درجہ حرارت اور موسم ،کس قسم کی غذا کھانا پسند یا نا پسند کرتے ہیں ،آپ کا مزاج اور احساسات اس کے ساتھ ساتھ آپ کی پورس میڈیکل ہسٹری جوکہ آپ کی بیماری کی پوری تصویر ایک فرد کے طور پر نمایاں کرتی ہے یہ سب آپ کی موجودہ علامات کے ساتھ مل کر درست دوا تجویز کرنے اور دوا کی درست طاقت منتخب کرنے میں مدد گار ہوتے ہیں جب کہ ایلوپیتھک میڈیکل پریکٹس میں مختلف افراد جو ایک جیسی صورتحال یا بیماری میں مبتلا ہوں انہیں ایک ہی دوا دی جاتی ہے
ہر انفرادی شخص ماحول سے مختلف چیزوں کو حاصل کرتا ہے اور مختلف عوامل کے 3 تحت مختلف رد عمل ظاہر کرتا ہے ہومیوپیتھی میں دوا کے انتخاب کے لئے اس بات کو مانا جاتا ہے اور اسی کے تحت دوا استعمال کرائ جاتی ہے کوئ شخص نئے گھر میں،نئے خاندان میں یا کام کی جگہ یا کسی نئے ماحول میں جاتا ہے تو وہاں کے ماحول میں اس کا رد عمل کیا ہوتا ہے اس کے ماضی اور حال کے تجربات اور اس کی عمومی ذہنی کیفیت یہ تمام عوامل مریض کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور اس کے علاج میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں
ہومیوپیتھی کے تحت دماغ اور جسم کے درمیان بہت گہرا رابطہ ہوتا ہے جسمانی بیماریوں کوکو سمجھے بغیر متاثر کن شفاء نہیں دی Constitution مریض کے کردار اور اس کے کے معنی ایک فرد کی صحت مندانہ حالت ہے جس میں constitution جاسکتی ہومیوپیتھی اس کا مزاج اور کسی بھی قسم کے وراثتی رحجان اور اس اے حاصل کردہ خصوصیات ہیں Constitution ہومیوپیتھی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اگر آپ کا صحت مند ہے تو آپ کسی انفیکشن سے زیر نہیں ہونگے مثلاً بیکٹریا اور وائرس سے آپ کی حساسیت کم ہوتو وہ آپ پر اثر انداز نہیں ہوسکتے یہ ہومیوپیتھی اور ایلوپیتھی کے درمیان بنیادی فرق ہے ایلوپیتھس اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فرد انفیکشن ( بیکٹریا اور وائرس ) کی وجہ سے بیمار ہوتا ہے اس لئے ان کے علاج کا مقصد انفیکشن کو ختم کرنا ہوتا ہے اس لئے وہ بہت طاقتور ادویات استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے فرد کی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے اور مریض مزید کمزور ہوجاتا ہے اور بار بار بیمار رہنے لگتا ہے ہومیوپیتھ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ پہلے آپ کا حساس یا کمزور ہو جاتا ہے اور پھر آپ انفیکشن کو قبول کرلیتے ہیں بیکٹریا اور وائرس بیماری کا سبب نہیں ہوتے بلکہ بیماری کا نتیجہ ہوتے ہیں بیکٹریا اور وائرس ہر جگہ موجود ہوتے ہیں وہ اس وقت تک آپ پر اثر انداز نہیں ہوتے جب تک آپ کی قوت مدافعت طاقتور ہوتی ہے
ایلوپیتھی کے بر خلاف، ہومیوپیتھی ایک انفرادی شخص کے ریڈی میڈ سوٹ کے بجائے ٹیلر میڈ سوٹ کی طرح ہے اس لئے ہومیوپیتھک دوا مختلف افراد کو خواہ وہ ایک ہی بیماری مبتلا ہوں ایک جیسی دوا تجویز نہیں کرتی ایک دوا عمومی جسمانی بے قاعدگیوں کے لئے تجویز کی جاسکتی ہے اور دوسری اسی وقت خاص اور حادعلامات کے تحت استعمال کرائ جاسکتی ہے اگر دوسری نشت پر دوا مریض کی حالت کے پیش نظر تبدیل کی جاسکتی ہے
دوا کی پوٹینسی تجویز کرنا دوا تجویز کرنے کی طرح ایک اہم کام ہے تجویز کردہ دوا کی طاقت کا انتخاب کرتے ہوئے مختلف عوامل کو مد نظر رکھا جاتا ہے مریض کی حالت مریض کی قوت،مریض کی عمر اور اس کا ماحول ،نا صرف مناسب دوا کا استعمال اہم ہے بلکہ انفرادی شخص کے حوالے سے دوا کی طاقت کا انتخاب بھی اہم ہے
عموماً درست طور پر منتخب کی ہوئ ہومیوپیتھک دوا لینے کے بعد مریض جسمانی ،ذہنی اور جذباتی غرض ہرطرح سے اپنے آپ کو بہتر محسوس کرتا ہے بعض اوقات ہومیوپیتھک دوا لینے کے بعد مریض کی علامات معمولی سی بڑھ سکتی ہیں یہ اچھی علامت ہے کیونکہ جسم کی قدرتی صحت مندانہ توانائیاں بیماری کو باہر نکالنے کے لئے بیدار ہوجاتی ہیں اور اس کے بعد علامات ختم ہونے لگتی ہیں کیونکہ آپ صحت مند ہوجاتے ہیں
عمومی طور پر لوگوں میں یہ غلط فہمی پائ جاتی ہے کہ ہومیوپیتھی پہلے بیماری کو بڑھاتی ہے اور پھر اس میں افاقہ ہوتا ہے یہ مفروضہ ہے یہ تمام کیسز میں ہمیشہ نہیں ہوتا اگر متخب شدہ دوا مریض کی ضرورت کے مطابق ہو لیکن اگر مریض کی ضرورت سے زائد دفعہ دوا کو دوہرایا جائے تو اکثر علامات بڑھ جاتی ہیں لیکن جیسے ہی دوا کا استعمال روکا جاتا ہے یہ علامات خودبخود ختم ہوجاتی ہیں اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ بیماری بڑھ گئ ہے
ہومیوپیتھک ادویات کیسے لی جائیں ؟یہ جاننا ہر اس شخص کے لئے ضروری ہے جو ہومیوپیتھک علاج کرارہا ہو دوا لینے سے آدھا گھنٹا پہلے یا بعد میں کوئ چیز نہیں رکھیں کیونکہ ہومیوپیتھک ادویات جلد کی اندرونی تہہ میں جذب ہوتی ہے کہ جب ہومہوپیتھک ادویات لی جائیں تو کافی اور پودینہ جیسے تیز مادوں سے مکمل پرہیز کیا جائے کیونکہ یہ منتخب شدہ دوا کے اثر کو زائل کرسکتی ہیں گھر میں استعمال ہونے والے تیز کلیز اور دوسرے کیمیائ مادے حقیقتاً جسم پر زہریلے اثرات مرتب کرتے ہیں
ہومیوپیتھک ادویات کو ہاتھ لگانے سے ان کا اثر ختم ہوجاتا ہے اس لئے دوا کو ہاتھ لگانے سے گریز کرنا چاہیئے بہتر طریقہ یہ کہ گولیوں کو ڈھکن میں ڈال کر براہ راست منہ میں ڈال دیا جائے اگر گولیا گرجائیں یا چھوٹ جائیں تو دوبارہ بوتل میں نہ ڈالیں ورنہ آپ کی دوا اپنا اثر کھودے گی ادویات کو تیز روشنی نیز حرارت یا تبدیل ہونے والے درجہ حرارت اور تیز بو سے دور اور محفوظ رکھنا چاہیئے
اکثر لوگ معلوم کرتے ہیں کہ کیا ہومیوپیتھک ادویات،ایلوپیتھک ادویات کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہیں؟اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ ہومیوپیتھک ادویات دوسری ایلوپیتھک ادویات کے ساتھ جیسے بلڈپریشر کی ادویات،ذیابطیس کی ادویات کے ساتھ باحفاظت استعمال کرائ جاسکتی ہیں آپ کی روز مرہ کی ایلوپیتھک ادویات کچھ وقت تک نہیں روکی جاتیں آپ کا ہومیوپیتھک ڈاکٹر آپ کی دوسری ادویات کو کم کرسکتا ہے جب آپ ہومیوپیتھک دوا کے اثر سے بہتر ہونے لگیں
MD اپنے وقت کے جرمن ایلوپیتھک ڈاکٹرہومیوپیتھی کے بانی ڈاکٹر سیموئیل،کرسچن مین تھے وہ اپنے پیشے سے دل برداشتہ ہوگئے تھے انہوں نے ایلوپیتھک میڈیسن سے اپنا کیریئر چھوڑ کر متبادل علاج کی ریسرچ شروع کی انہوں نے اپنے مریضوں کا علاج مثل کا علاج بالمثل سے کیجئے کے اصول پر شروع کیا انہوں نے اپنے نئے نظام علاج کا نام ہومیوپیتھی رکھا جوکہ ایک لفظ ہے ہومیو کا مطلب ” بالمثل اور پیتھوز” کا مطلب بیماری ہے پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 5 سالہ ڈگری کورس کا اجزاء کیا ہے اس کے علاوہ چارسالہ کورس بھی رائج ہے اس کے امتحانات نیشنل کونسل فارہومیوپیتھی پاکستان لیتی ہے یہ کورس کرنے کے بعد میڈیل پریکٹس کرنے کی اجازت ہوتی ہے
پاکستان کے تین صوبوں میں ہومیوپیتھک ڈائریکٹریٹ قائم ہیں جن میں صوبہ سندھ ،صوبہ خیبر اور پنجاب شامل ہیں کراچی میں ایک ہومیوپیتھک ہسپتال قائم ہے جہاں ڈاکٹرز کو گریڈ 17 دیا جاتا ہے
کیا ہومیوپیتھک ادویات آہستہ آہستہ اثر کرتی ہیں؟ہومیوپیتھی آہستہ اثر کرتی یہ مفروضہ مشہور ہے کہ کیونکر اکثر افراد ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے پاس پرانے امراض کی لمبی ہسٹری لے کر آتے ہیں اس لئے علاج میں وقت لگتا ہے ان بیماریوں میں ہومیوپیتھی ایلوپیتھی کے مقابلے میں بہت بہترین متبادل ہے اور اسی وجہ سے یہ تصور ہوتا ہے کہ ہومیوپیتھی آہستہ اثر کرتی ہے حقیقتاً حاد امراض میں ہومیوپیتھی تیز اور بہتر کام کرتی ہے
ہومیوپیتھک ادویات کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں؟ ہومیوپیتھک ادویات سے اثر پزیری اور13 قوت آگہی پوری دنیا میں ڈھائ سو سالوں کے کامیاب استعمال کے بعد ثابت ہوچکا ہے ایک بہترین اور بعض اوقات مختلف بیماریوں میں متبادل ہوتا ہے ہومیوپیتھی قابل علاج مرض کو شفایاب کرتا ہے اور لاعلاج مریض میں عارضی افاقہ دیتی ہے ہومیوپیتھی ناصرف ایک تھراپی ہے جوکہ ھاد اور مزمن امراض میں متاثر کن سفاء دیتی ہے بلکہ یہ مدافعتی نظام کو متحرک کرتی ہے اور مریض کی بناوٹ،طبعیت اور مزاج کو متوازن کرتی ہے
ہومیوپیتھی میں دی گئ سفید گولیاں‌کس طرح مؤثر ہوسکتی ہیں؟ ہماری اکثر ادویات 14 الکوحل میں تیار کی جاتی ہیں شوگر کی سفید گولیاں جسم میں دوا پہنچانے کا صرف ایک ذریعہ یا ہیں یہ شبہ ان لوگوں میں پایا جاتا ہے جو پہلی مرتبہ ہومیوپیتھک دوا کا استعمال کرتے ہیں مائع حال میں ادویات ہوتی ہیں جوکہ مریض پر اثر انداز ہوتی ہیں
کیا ہومیوپیتھک ادویات کوئ ضررساں اثر پیدا کرتی ہیں ؟نہیں! ہومیوپیتھک ادویات کوئ 15 ضررساں اثر پیدا نہیں رکھتیں کیونکہ وہ قلیل مقدار میں استعمال کرائ جاتی ہیں اور جسم پر کوئ کیمیائ یا مکینیکل اثر نہیں کرتیں دوا کے سائیڈ ایفیکٹ کی اصطلاح جدید فارماسیوٹیکل سے آئ ہے یہ ادویات جسم کے ایک حصے پر اثر انداز ہوتی ہیں جیسے کہ دل اور شریانوں کا نظام،آنت،گردے،وغیرہ حالانکہ یہ عمل کا ابتدائ حصہ ہیں لیکن جسم کے دوسرے حصوں کو بھی متاثر کرتی ہیں اگر یہ دوسرے اثرات غیر ضروری ہوں تو یہ ہے ہومیوپیتھک ادویات کسی ایک مخصوص حصے،عضو کے خلاف استعمال نہیں کی جاتیں ہومیوپیتھک دوا ممکنہ حد تک مریض کی مجموعی علامات سے قریبی مماثلت کی بنیاد پر تجویز کی جاتی ہیں ضرررساں اثرات جیسے ٹشوز کی تباہی ہومیوپیتھی میں نہیں ہے
ہومیوپیتھک ادویات کس طرح بنتی ہیں؟16
ہومیوپیتھک ادویات مختلف قسم کے قدرتی اجزاء سے حاصل کی جاتی ہیں اور حکومت سے تصدیق شدہ لیبارٹریز میں مکمل طور پر قائم رکھتے ہوئے تیار کی جاتی ہیں یہ گولیوں اور مائع شکل میں استعمال کرائ جاسکتی ہیں اور مختلف لیکن بہت ہی میں دستیاب ہوتی ہیں جو پوٹینسی کہلاتی ہے
ہومیوپیتھک ادویات کی میعاد کیا ہے؟اگر درست طریقہ سے ذخیرہ کی جائیں تو 17 ہومیوپیتھک ادویات سالوں معیاد میں خرابی کے بغیر استعمال کی جاسکتی ہیں ذخیرہ کرنے کی رہنمائ ادویات کمرے کے درجہ حرارت پر اچھی ڈھکن بند کرکے ٹھنڈی،خشک جگہ،مٹی سے محفوظ ماحول میں براہ راست سورج کی روشنی سے بچا کر رکھی جائیں
کیا ہومیوپیتھی بچوں اور حاملہ خواتین کے لئے محفوظ ہے؟ جی ہاں ! ہومیو پیتھی بچوں 18 کے لئے مکمل محفوظ ہے اور حاملہ خواتین کو بھی با حفاظت استعمال کرائ جاسکتی ہیں
19 کیا ذیابطیس کے مریض میٹھی گولیاں جو ہومیوپیتھی میں دی جاسکتی ہیں کھاسکتے ہیں؟ہومیوادویات میں بھی استعمال کرائ جاسکتی ہیں (تو اس طرح گولیوں سے بچا جاسکتا ہے)
کیا ہومیو ادویات ایمرجنسی میں استعمال کرائ جاسکتی ہیں اور یہ تیزی سے اثر کرتی 20 ہیں؟ جی ہاں ! ہومیوپیتھی ایمرجنسی اور حاد حالتوں میں مؤثر فائدہ مند ہے درست دوا اور درست پوٹینسی اور درست مقدار ھاد اور مزین امراض میں حیرت انگیز اثر کرتی ہیں
ہومیوپیتھی کے ساتھ دوسری کونسی ایسی چیزیں ہیں جو صحت کو جلد قائم کرتی ہیں ؟ 21 تمام ہومیو ادویات کے ساتھ توازن غذا،یوگا،تناؤ سے پاک ماحول اور جذباتی اور ذہنی حالت جو جسم کے نظام کو متوازن کرتی ہیں
22 وہ کونسے بگاڑ ہیں جن میں ہومیوپیتھی فائدہ مند ہے؟ عموماً یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ہومیو پیتھی صرف مزمن امراض جیسے جوڑوں کا درد،جلدی بیماریاں ،آدھے سر کا درد،حیض کی خرابیاں ،بواسیر،معدہ کی بیماریاں ،الرجی ،کینسر،جگر،دل،گردے،اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا ہی علاج کرتی ہے جبکہ یہ حاد امراض میں بھی بہت مؤثر ہے جیسے ٹانسلز کی سوزش، حلق کی سوزش،وائرس کی وجہ سے ہونے واقلے بخار سے،دست،پیچش،دمہ، برانکاٹس،قبض،چوٹ،بچوں کی بیماریوں وغیرہ کے لئے بہت مؤثر ہے بعض اوقات یہ بیماری کے دورانیہ کو کم کردیتی ہے اور اکثر کیسز میں مروجہ علاج کے مقابلے میں تیزی سے شفاء دیتی ہے اور ضرررساں اثرات بھی پیدا کرتی
23 کیا ایلوپیتھک علاج کے ساتھ ہومیوپیتھک علاج کرایاجاسکتاہے؟ یہ اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ بیماری کیا ہے اور کونسی ہومیوپیتھک دوا استعمال کی جارہی ہے یہ مسئلہ آپکا ہومیوپیتھک معالج ہی اچھی طرح جان سکتا ہے
24 کیا یہ درست ہے کہ ہومیو ادویات صحت مند انسانوں پر آزمائ جاتی ہیں؟ جی ہاں ! یہ حقیقت ہے کہ ہومیوپیتھک ادویات پہلے دونوں جنس کے ہر عمر کے صحت مند انسانوں پر آزمائ جاتی ہیں ان پر اثرات ریکازڈ کئے جاتے ہیں اور علامات اور نشانیوں کا خلاصہ تیار کیا جاتا ہے ان علامات مجموعہ کو استعمال کرتے ہوئے ہومیو معالج مریض کو دینے سے پہلے دوا تجویز کرتے ہیں
25 ہومیو علاج کے لئے لیبارٹری تشخیص کہاں تک مددگار ہوتی ہے؟ یہ صرف یہ جاننے کے لئے استعمال ہوتی ہے کہ کیس ہومیوپیتھک ادویات کو ردعمل دے گا یا نہیں اور یہ طے کرنے کے لئے کہ کہاں تک شفا یابی ممکن ہے جو کہ صرف محنت طلب کیس ریکارڈ کے بعد ہی ممکن ہے یہ کیس میں بہتری جانچنے کے لئے بھی اہم ہے
26 کیا ہومیو ادویات پالتو جانوروں کو بھی استعمال کرواسکتے ہیں؟ ہومیوپیتھک ادویات کا بہت بہترین فائدہ یہ بھی ہے کہ جانوروں کو بھی با آسانی استعمال کروائ جاسکتی ہیں ان کے لئے یہ ضروری نہیں کہ گولیوں کو زبردستی حلق سے اتارا جائے
ہمیشہ کی طرح اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین اللہ حافظ


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF