Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 11
Therapeutics علم العلاج
!معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام وعلیکم
میں خوش آمدید Homeopathy With Sami
میں ہمارے آج کے لیکچر میں مرض کے سبب Homeopathy With Sami کوڈھونڈنے کے حوالے سے گفتگو کی جائے گی علاج کرتے وقت ڈاکٹر کو ابتدائ اصولوں سے واقف ہونا چاہئے مثلاً مریض اگر چل کے آیا ہے تو فوراً اس کی نبض چیک نہ کی جائے نہ بلڈپیشر چیک کیا جائے کیونکہ ایسی حالت میں نبض کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے ڈاکٹر کو اندازہ سے بالکل بھی کام نہیں لینا چاہئے بلکہ بہتر یہ ہے کہ مریض یا اس کے تیمارداروں سے تمام حالات تفصیل سے دریافت کرے علامات کے دریافت کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیئے اور مریض کے بیان کو اس کے اپنے الفاظ میں قلم بند کرنا چاہیئےہنیمن اپنی تصنیف آرگینن میں لکھتے ہیں دفعہ 185: مریض یا اس کے ساتھی جو علامات بیان کریں ان میں سے ہر ایک کو نئ لائین سے شروع کیا جائے تاکہ علامات ترتیب وار تحریر میں آجائیں اس طرح لکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ اگر کسی مریض نے اپنا حال بے ترتیبی سے بیان کیا ہوتو اس کی دوبارہ بیان کرنے پر اس جگہ اضافہ کیا جاسکے دفعہ:186 اور 187 کا لب لباب یہ ہے کہ مریض کی کیفیات لکھنے کے بعد اس کی تصحیح کے لئے ہر علامات دوبارہ دریافت کرے اور اس سے متعلقہ سوال جواب کرے اور ان تمام باتوں کے متعلق یوں سوال کیا جائے کہ جواب دینے والے کو اس میں کسی قسم کا اشارہ نہ ملے مثلاً اگر یہ پوچھا جائے کہ کیا پیاس کم لگتی ہے؟ تو جواب دینے والا ہاں یا ناں میں جواب دے گا اور اصل کیفیت کا پتہ نہیں چلے گا ڈاکٹر کو چاہیئے کہ وہ یوں سوال کرے کہ پیاس کی کیفیت کیا ہے؟یا نیند کی کیفیت کیا ہے؟
آگے چل کر ہنیمن کہتے ہیں کہ ان علامات کے علاوہ ڈاکٹر کو چاہیئے کہ مریض کی دماغی علامات اور جسم کے عضاء کے افعال ست متعلق پوری واقفیت حاصل کرے اور اگر ڈاکٹر یہ تمام حالات لکھ لے تو اس کے بعد تو خود مریض کا معائنہ کرے اور دوران معائنہ مریض کے مزاج کو جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ بعض لوگ جن میں خون کی زیادتی ہوتی ہے ان کی نبض تیز اور چہرہ عموماً سرخ ہوتا ہے اور ان میں Bile صفرہ کی زیادتی ہوتی ہے ان کے چہرے کا رنگ زرد اور ہاضمہ عموماً خراب ہوتا ہے بلغمی مزاج میں نزلہ وغیرہ کی شکایات بھی ہوتی ہیں علاج کرنے سے قبل مرض کے اصلی سبب کو ڈھونڈنا ڈاکٹر کا فرض عین ہے مرض کے اصل سبب کو ڈھونڈنے کے لئے ڈاکٹر مریض سے یہ دریافت کرے کہ کیا اس نے کبھی کسی زہریلی دوا مثلاً پارہ وغیرہ کا ناجائز استعمال تو نہیں کیا یا اسے آتشک یا سوزاک کی شکایت تو نہیں ہوئ تاکہ یہ پتہ چلایا جاسکے کہ ان امراض کا مادہ تو کسی میں دبا ہوا تو نہیں ہے بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ آتشکی یا بواسیر والے والدین سے اولاد کو ورثہ میں ان بیماریوں کا مادہ ملتا ہے جو انسانی جسم میں پوشیدہ رہتا ہے اور عمر کے کسی بھی حصے میں ابھر آتا ہے امراض مزمنہ میں ان میازموں کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے ہنیمن نے ان میازموں کو سورا Psora,سفلس Syphilis,سائیکوسس Sycosis ،
پر بہت زیادہ زور دیا ہے کیونکہ یہ میازم ایسے ہیں جن کا مادہ جسم انسانی میں پوشیدہ رہتا ہے اور کئ ایک امراض کی پیدائش کا سبب بنتا ہے
سورا ایک قسم کی خارش کا نام ہے جس جسم انسانی میں یہ میازم موجود ہوتا ہے وہ اکثر مختلف قسم کے جلدی امراض مثلاً چھوٹے چھوٹ دانے، جلد کا جگہ جگہ سے پھٹ جانا اور کھجلی میں مبتلا رہتا ہے کسی مرض کا دیر تک قیام اس کی علامات میں شامل ہے
سفلس آتشک کو کہتے ہیں اسے باد فرنگ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مرض پہلے پہل یورپ میں کثرت سے نمودار ہوا اس کا عمومی سبب زنا کاری اور حائضہ عورت سے صحبت بتایا جاتا ہے اگر یہ دوسرے کے عضو پر لگ جائے تو اسے بھی یہ مرض آدبوچتا ہے بعض اوقات جسم انسانی پر غلیظ قسم کے ناسور آتشکی مادے کی موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں
سائیکوسس میں عام طور پر چہرے پر پھنسیاں اور آبلے نکلتے ہیں بعض اوقات بالوں کی جڑوں میں پیپ پڑ جاتی ہے اس کا اصل سبب جسم انسانی میں پایاجانے والا سائیکوسس میازم ہے اس مادے کی موجودگی اعصابی کمزوری،جوڑوں کا درد، ناخنوں کی بیماریاں، مسے وغیرہ اور دیگر کئ ایک امراض کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے
آج کے لئے اتنا کافی ہے انشاءاللہ اگلے لیکچر کے لئے اجازت دیجئے اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین اللہ حافظ


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat