World of Knowledge With Sami

World of Knowledge With Sami

Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture number 13
Therapeutics علم العلاج
!معزز ناظرین و سامعین اور عزیز طلباء و طالبات السلام و علیکم
میں خوش آمدید Homeopathy with sami
ہمارے آج کے لیکچر میں علم العلاج کے حوالے سے جو بھی گفتگو کی جائے گی اس سے قبل میں یہ چند پوائنٹ بتارہاہوں جوکہ ہر ہومیوپیتھ کو یاد رکھنا چاہیئیں
نمبر1 ایکونائٹ: پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ ایکونائٹ ٹائیفائیڈ بخار میں کبھی نہیں دیں ہاں اگر بخار کی علامات میں ایکونائٹ کی علامات موجود ہوں یا واضح ہوں تو دے سکتے ہیں مثلاً حلق کے ورم کی وجہ سے اگر بخار ہوگیاہوتو ایکونائٹ دے سکتے ہیں دوسرے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ایکونائٹ کو برایونیا کے ساتھ یکے بعد دیگرے استعمال نہیں کرنا چاہیئے
نمبر 2 ایپس میلیفیکا: ایپس میلیفیکا کا اثر دیر سے ہوتا ہے بعض اوقات تو تین چار روز کے بعد یہ دوا اپنا اثر دکھاتی ہے دوا کے موافق ہونے کی یہ نشانی ہے کہ پیشاب زیادہ آنے لگتا ہے دوسرے یہ دوا حاملہ خواتین کو ہرگز نہیں دینی چاہئے خصوصاً حمل قرار پانے کے تیسرے ماہ یا اس سے قبل اس دوا کا استعمال اسقاط حمل کا باعث ہوسکتا ہے
نمبر 3 ہیپر سلفر: ہیپر سلفر کو کبھی بھی بیماری کے آغاز میں نہ دیں بلکہ اس وقت استعمال کرائیں جب مرض کو لاحق ہوئے کچھ وقت گزر کیا ہو
نمبر 4 کالی کارب: یہ دوا دل کے امراض کے آغاز میں کبھی نہیں دیں
نمبر 5 نکس وامیکا: اس دوا کوبواسیر میں اس وقت تک استعمال نہ کرائیں جب تک دیگر علامات بھی نمایاں‌طور پر ظاہر ہوں
نمبر 6 لائیکوپولیم: کسی مزمن مرض کا علاج اس دوا سے شروع نہ کریں Impotency میں اس دوا کو خاص شہرت حاصل ہے مگر یہ بات یاد رکھیئے کہ شوقیہ کھانے سے یہ دوا تندرست آدمی کوکردیتی ہے Impotent
نمبر 7 سلفر: ایکونائٹ کے بے جا استعمال کے بعد سلفر سے اس کا اثر دور کیا جاسکتا ہے کسی مرض کا علاج شروع کرنے سے پہلے تکلیف کا مقام تکلیف کی قسم اور مرض کے گھٹنے بڑھنے کے اسباب اور اوقات کا اچھی طرح سے جائزہ لینا چاہئے تاکہ تشخیص دوا میں غلطی نہ ہو
اس بات کا دھیان رکھیں کہ دوا کی تلاش کے لئے تکلیف کے مقام کا جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ ایک مرض میں مختلف مقامات کی تکالیف مختلف دواوَں کا تقاضا کرتی ہیں مثلاً سر کے درد میں مندرجہ ذیل دوائیں درد کے مقام کے لحاظ سے فائدہ مند ہیں
سر کے دائیں طرف کا درد: بیلا ڈونا،سیپیا، کلکیر یا کارب وغیرہ
سر کے بائیں طرف کا درد: کالوسنتھ، ایکونائٹ، سلفر
اگر درد ناک کی جڑ کے اوپر ہو: ایکونائٹ، اگنیشیا، پلاٹینیم
اگر درد ابروؤں کے اوپر ہو :بیلاڈونا، نکس وامیکا
اگر درد کنپٹی میں ہو:بیلاڈونا، کیموملا، اگنیشیا، نکس وامیکا
اگر درد سر کے پیچھے ہو:سلفر، پلساٹیلا،سیپیا
اگر درد سر کی چھت میں ہو: کائنا، سلفر، کلکیریا
اسی طرح پھیپھڑوں کے درد میں مقام کے لحاظ سے دوا کی تشخیض کی جائے گی مثلاً
اگر بایئں پھیپھڑے کی اوپر کی جانب درد ہو: تھریڈین ،ٹیوبر کیولینم
اگر بائیں پھیپھڑے کے نیچے کی جانب درد ہو:فاسفورس، نیٹرم سلف
اگر دائیں پھیپھڑے کے اوپر کی جانب درد ہو:چیلیڈونیم ، مرکیورس، کالی کارب وغیرہ
درد کی قسم سے مرلد درد کی نوعیت ہے مثلاً جلن، ٹھنڈک، اور تشنج وغیرہ ، جلن میں ایلپس میلیفیکا،سلفر،فاسفورس،آرسینک اور بیلاڈونا تشنج یا اینٹھن کے لئے کیوپرم، کالوسنتھ اور میگنیشیا فانوس وغیرہ فائدہ مند دوائیں ہیں
اگر کوئ عضو سن ہوجائے تو اس کے لئے لائیکوپوڈیم، ایکونائٹ،رسٹاکس، پلاٹینا اور سیکیل استعمال کرائیں
سر میں درد اگر پلے ہوئے پھوڑے کی طرح ہورہا ہوتو پلساٹیلا اور سیپیا، اگر ایسا معلوم ہوکہ سر کو شکنجہ میں دبادیا کیا ہے تو پلساٹیلا، سلفر، وریٹرم، ایلسیم اگر سر کھوکھلا معلوم ہو اور سخت درد بھی ہوتو بیلاڈونا، ایکونائٹ اور اگر کیل کی طرح چھبن معلوم ہوتو اگنیشیا کائنا اور کالوسنتھ وغیرہ زیادہ مفید ہیں
کسی بھی قسم کی تکلیف میں صبح کے وقت زیادتی ،برایونیا،نیٹرم میور، سلفر، نکس وامیکا
صبح سے دوپہر تک زیادتی،نیٹرم میور، پاڈوفائیلم،سلفر
دوپہر کے وقت زیادتی:لائیکوپوڈیم،بیلاڈونا،ایلپس میلیفیکا ، الیومنا، رسٹاکس
شام کے وقت زیادتی: ایمونیم کارب، انیٹم کروڈ،لائیکوپوڈیم
آدھی رات کے بعد زیادتی :آرسنک، ڈروسرا، کالی کارب، فاسفورس، نکس وامیکا
اگر مرض میں زیادتی کا سبب غصہ ہوتو اس صورت میں اگنیشیا پلسا ٹیلا
اگر تنہائ کی وجہ سے مرض‌میں زیادتی ہورہی ہے: آرسنک ،ڈروسرا، فاسفورس
حرکت سے زیادتی ہورہی ہے تو:نکس وامیکا، آرسنک، برایونیا
جھکنے سے یا لیٹنے سے اگر تکلیف میں اضافہ ہورہاہو بیلا ڈونا،برایونیا، نیٹرم میور، فاسفورس
اگر بات کرنے سے مرض میں اضافہ ہورہا ہے: انا کارڈیم، براہونیا،کلکیریاکارب،کائنا،سلفر
کھانا کھانے سے مرض‌میں اضافہ:الوز،برایونیا،کلکیر یا کارب، کائنا، سلفر
اگر کسی مرض میں تر موسم کے باعث زیادتی ہو تو:ڈلکمارا، روڈڈنیڑرن ،رسٹاکس،نیڑم سلف
خشک موسم میں تکلیف میں اضافہ ہوتو: نکس وامیکا،ہیپر سلفر، کاسٹیکم
ٹھنڈی ہو کے باعث مرض میں زیادتی ہو تو: سلیشیا، ہیپر سلفر، نکس وامیکا
گرم ہوا میں اگر مرض میں اضافہ ہوتو : برایونیا،پلساٹلا،انیٹم کروڈ
روشنی کی وجہ سے اگر مرض میں زیادتی محسوس ہوتو اس صورت میں:ایکونائٹ ،اگنیشیا،پلساٹلا، نکس وامیکا
اس کے علاوہ ا اگر گانا سننے سے مرض میں زیادتی ہوتو : کافیا
ایک خاص بات اور یاد یادرکھئیے کہ مرض کی زیادتی کے اسباب کے علاوہ مرض کی پیدائش کے اسباب کو بھی خاص طور پر دھیان میں رکھنا چاہئے اس کے ساتھ ہی آج کا لیکچر اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتے ہیں کہ اللہ تعا لٰی آپ کو ہمیشہ خوش رکھے اور ہمیشہ خوشیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین خداحافظ


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF

WhatsApp chat