Category : Homeopathy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Homeopathy With Sami
Lecture Number 7 General
روحانی یا نفسیا تی امراض اور ان کا علاج
فلسفہ اخلاق کی کتابوں میں قوت نظری اور قوت عملی کے امراض علیحدہ علیحدہ نہیں بتائے گئے بلکہ دونوں قوتوں کے امراض مشترکہ طور پر بتائے گئے ہیں ان امراض کو قوت ناطقہ اور قوت تمیز کے امراض کہاجاتاہے بعض حکماء نے قوائے انسانی چارکے بجائے تین بتائے ہیں اول،قوت تمیز،دوئم،قوت غضبی اور سوئم قوت شہوی اسلئے تمام امراض تینوں قویٰ سے منسوب کئے جاتے ہیں گوکہ نفسیاتی امراض تو بہت ہیں مگر میں یہاں چند بڑے امراض کاذکر کروںگا
قوت تمیز کی امراض
حیرت : اس میں انسان کسی چیز کے بارے میں صحیح اور غلط کا فیصلہ نہیں کرپاتا اس کی وجہ قوت تمیز کا ضروری امور میں حد سے زیادہ لگائے رکھناہے اس کے علاج کے لئے مریض کو اس بات کا احساس کرانا چاہیے کہ دو متضاد چیزوں کا یکجا ہونا محال ہے اسلئے مسئلے کے استدلال پر نظر ڈال کر صحیح اور غلط میں تمیز کرے اور فیصلہ کرنے کے بعد ہر قسم کے شک و شہبے سے دور رہے
جہل بسیط : یہ مرض قوت تمیز کو ضروری کاموں میں خرچ کرنے یابالکل نہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے اس میں علم کا فقدان ہوتا ہے مگر مریض اپنے آپ کو عالم تصور نہیں کرتا جہل بسیط کا مریض جاہل کہلاتا ہے زمانہ تعلیم میں یہ مرض اتنا برانہیں مگر ہمیشہ کیلئے نہایت مضر ہوتا ہے جاہل کو عالموں،فاصلوں کی مجلسوں میں جانا چاہیئے اور اپنے متعلق سوچنا چاہیے اگر میں بھی عالم ہوتا تو کیا ہی اچھا ہوتا
جہل مرکب : یہ قوت تمیز کی خرابی سے پیدا ہوتا ہے مثلا مریض اپنی قوت تمیز کو ایسے علم کے حصول کیلئے استعمال کرتا ہے جوحقیقت سے کوسوں دور ہوجسے شعبدہ بازی وغیرہ جہل مرکب نہایت خطرناک مرض ہے اس کی علامت یہ ہیں مریض لاعلم ہونے کے باوجود اپنے آپ کوعالم سمجھتا ہے اس کے مریض کو احمق کہتے ہیں کیونکہ مریض کو اپنے مرض کا احساس نہیں ہوتا اسلئے وہ اس علاج کی کوشش بھی نہیں کرتا
قوت غضبی کے امراض : یہ بڑا خطرناک مرض ہے اس کا اثر جسم کے اعضاء پر نمایاں طور پر ہوتا ہے چنانچہ غضب کے وقت چہرہ اور آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں اس کا سبب قوت غضبی کی افراط ہے مریض کی خواہش ہوتی ہے کہ مغضوب پر غلبہ حاصل کرے
اس تحریک کا باعث مندرجہ ذیل اسباب ہوتے ہیں
عجب خودبینی، افتخار فخر کرنا، مراء ولجاج لڑائی جھگڑا کرنا ، مزاح مذاق کرنا، تکبر ، عزر بیوفائی یا خیانت ، ضیم نقصان کرنا ، مناسفت نفیس چیزوں کی طرف زیادہ رغبت کرنا
عجب : اگر غضب کا باعث ہو تو مریض کو اپنے عیوب پور نظر ڈالنی چاہیے عجب اپنے متعلق ایسے کمال کا اعتقاد رکھنے کو کہیں گے جو حقیقت میں موجود نہ ہوں
افتخار : افتخار کے اسباب ہیں مال جمال نسب اور کسب مریض کو یہ بات سمجھی چاہیے کہ مال اور جمال ہمیشہ رہنے والی چیزیں نہیں ہیں نسب کی بابت یہ سوچنا چاہیے کہ جب تک وہ خود اپنی ذات میں کوئی خوبی پیدا نہیں کرے گا تو اس صورت میں خاندانی فضیلت ہمیشہ بے سود ثابت ہوگی اور اگر کسب جاہ جلال اور مرتبہ کے سبب اگر اپنے آپ پر فخر پے تو یہ بھی کوئی ہمیشہ رہنے والی چیزیں نہیں ہیں کیونکہ عزت صرف مرتبہ کی وجہ سے ہے اسلئے جب یہ مرتبہ نہیں ہواتو پھر عزت بھی نہیں رہے گی لٰہذا فخر کا مستحق اپنے آپ کو نہیں بلکہ صرف اپنے مرتبے کو سمجھنا چاہئے اس طرح افتخار کے ان اسباب کو دور کرنے سے پہلے افتخار اور پھر غضب کا خودبخود علاج ہوجائے گا
مراء ولجاج : لڑائی جھگڑا اگر غضب کا سبب لڑائی جھگڑا ہے تو ان خرابیوں سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہیے جو فساد پیدا کریں
مزاح : اعتدال میں محمود ہے اس کی افراط تمسخر کہلاتی ہے اعتدال زیادہ تمسخر کر نے سے انسان دوسروں کی نظروں میں ذلیل ہوجاتا ہے اور پھر تفریط سے چڑچڑ اہٹ پیدا ہو تی ہے نتیجناٌ انسان ہر وقت مغموم رہتا ہے اور یہ صورتحال انسان میں بیماریوں کا باعچ بنتی ہے اس لئے انسان کو مزاح میں اعتدال برتناچاہئے
تکبر : دوسروں کے سامنے اپنے کمال کا دعویٰ کرنا اگرچہ خود اس کا اعتقاد نہ ہو تکبر کے زمرے میں آتا ہے حضرت علیْ فرماتے ہیں کہ انسان کو تکبر کس طرح زیبا ہوسکتا ہے کہ اول کثیف نطفہ ہوتا ہے اور آخر میں بدبودار مردہ اور درمیان میں بدبودار نجاست کو اٹھائے پھرتا ہے لٰہذ تکبر کر نے والے کے حصے میں ذلت ہی آتی ہے اس لئے اس عمل سے بچنا چاہئے
عذر: بے وفائی یا خیانت ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ بے وفائی اور خیانت کے نتائج ندامت اور خجالت کی صورت میں لازمی ملتے ہیں نتیجتاٌ انسان کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ جاتی ہے
ضیم : نقصان کرنا کسی کو بھی اس کے معمولی سے جرم پر بڑی بڑی سزائیں دینے کی شریعت میں کی جگہ جگہ مذمت کی گئ ہے کیونکہ انتقام برابر کا ہونا چاہئے لٰہذا معاف کر دینا ہی زیادہ بہتر ہے
مناسفت : نفیس چیزوں کی طرف زیادہ راغب ہونا نفیس چیزوں کے کھوجانے سے جورنج ہوتا ہے وہ ان کے حصول کی ضوشی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اس لئے ان سے پرہیز ہی کرنا چاہیے
غضب کے ان اسباب کے علاوہ اس کے لواحق کو مد نظر رکھتے ہوئے حتی الوسعٰ اس سے اجتناب کرنا چاہئے غضب کے لواحق ندامت ، دوستوں کا دشمن بن جانادشمنوں کا خوش ہونا وغیرہ وغیرہ ہیں
قوت غضبی کا دوسرا مرض بزدلی ہے یہ تفریط سے پیدا ہوتا ہے نیز بے جاراحت ،ناجائز طمع اور ظالم کو ظلم پر قدرت دینے سے یہ مرض لاحق ہوجاتا ہے اس کا بہتر علاج ہے کہ مریض غضب کو اختیار کرے بزدلی کے علاج کیلئے غضب کو اختیار کرنا مزموم نہیں ہے
خوف : یہ بزدلی کی کیفیت سے پیدا ہوتا ہے انسان اپنی زندگی میں کبھی کچھ ایسے جام کر بیٹھتا ہے جن کا نتیجہ برا ہوتا ہے ،اس کا علاج یہ ہےکہ اپنی بداعمالی سے توبہ کرے اور جو فعل سرز د ہوگیا ہے اس کے برے نتیجہ کا خیال چھوڑ دے کیونکہ جو نتیجہ ظاہر ہونا ہے اس کے خیال سے ٹلنے کا نہیں ،اگر اس کا ہونا یقینی نہیں تو بے جا خوف سے اپنے ہی جسم اور جان کوروگ لگائے گا
قوت شہوی کے امراض : افراط شہوت،یہ مرض قوت شہوی کے استعمال کے باعث ہوتا افراط شہوت دو طرح سے ہوتی ہے کھانے ہینے کی چیزوں میں ، شہوت رانی میں علاج اگر مریض کو طرح طر‌ح کی غذائوں کے کھانے کا ہر وقت شوق رہتا ہے تو اسے بیماری کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے مریض پر شہوت کا غلبہ ہے تو اسے نکاح کرنا چاہئے مگر شادی میں بھی شہوت کو اعتدال میں رہ کر ہی خرچ کرنا چاہئے ورنہ جسم کی کمزوری اور عقل کا فساد پیدا ہونا لازمی ہوتا ہے
بطالت : اس کی علامت ترک شہوت اور جائز لذات سے بھاگنا ہے شہوت کے اعتدال سے کم یا بالکل خرچ نہ کرنے سے یہ مرض لاحق ہوتا ہے جائز خواہشات پیدا کرنی چاہئے
حسد : حسد کا مرض قوت شہوت کی کیفیت کے بگڑے سے پیدا ہے اس میں مریض دوسروں کے زوال کا طالب ہوتا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ اہل مرتبت کو دیکھ کر جلنا نہیں چاہئے بلکہ ان کے مرتبے کے زوال کی خواہش کے بغیر ہی ان تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے
حزن : قوت شہوی کے بے موقع اور بے جا استعمال سے یہ مرض لاحق ہوتا ہے نیز مال و جان کی بے حد محب بھی اس مرض کا باعث بنتی ہے اس کا علاج یہ کہ شہوت کا جائز استعمال کرے اور دل ودماغ سے مال و جان کی زیادہ محب کو ختم کر دے
عشق : شہوت کے امراض کی ایک قسم عشق کو بھی کہا جاتا ہے عشق یہ ہے کہ مطلوب کی طلب میں اپنی تمام تر قوت کو مصروف کا ررکھا جائے عشق کی دو اقسام ہیں عشق الٰہی ، عشق نفسانی
عشق بہیمی : بہیم چوپائے کو کہتے ہیں اس عشق میں شہوت رانی کا دخل ہوتا ہے نفس کثافت کی طرف راغب رہتا ہے مریض کا جسم گھل کر لاغر ہوجا تا ہے عقل میں فتور پیدا ہوتا ہے اس کے علاج کے طور پر مریض کے خیالات کو اس سمت سے پھیر کر دقیق امور میں مشغول کرنا چاہئے
عشق نفسانی : عشق کی یہ قسم محمور مانی گئی اگر کوئی شخص حسن سے ایسا لطف حاصل کرے جسے سبزہ یا آب رواں وغیرہ کےدیکھنے سے ہو تو یہ عشق نفسانی کہلائے گا اس سے روح کو لطافت حاصل ہوتی ہے عشق نفسانی میں نفس حرکات و سکنات و کلمات گفتار طرف مائل ہوتا ہے چند ایک روحانی مرض مختصر طور پر بیان کر دیئے گئے ہیں مریض کا علاج کرتے وقت طبیب کو ان کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہوان کا علاج روحانی طریقے سے ہی کرے روحانی امراض یا دماغی علامات کا اثر ہمارے بدن کے نظام پر بھی پڑتا ہے اور خوف و ہر اس یا دماغی فعلیت کے وقت خون کا دورہ سر کی طرف تیز ہوجاتا ہے علاوہ ازیں سائنس نے یہ بھی چابت کر دیا ہے کہ جذبات اور احساسات کا اثر معدہ پر بہت زیادہ پڑتا ہے تحقیقات بتاتی ہیں کہ جس وقت شرم وحیا سے انسان کے چہرے پر سرخی آتی ہے تو معدہ کا رنگ بھی سرخ ہوجاتا ہے فکرو تشویش کے سبب معدہ کا فعل بہت تیز ہوجاتاہے اس سے زخم معدہ اور ہاضمہ کی بہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیں غم واند وہ کی حالت میں معدے کی رطوبت کی پیدائش میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور غذا اچھی طرح ہضم ہو کر جزو بدن نہیں بنتی جبکہ غصہ اور تشویش کے باعث یہ رطوبت معدہ بہت زیادہ پیدا ہو جاتی ہے جو ترش ہونے کے باعث معدہ کی جھلی پر خراش پیدا کرتی ہے ہمارے آج کے اس تمام لیکچر کا حآصل یہ بتانا ہے کہ ایک اچھے طبیب کو جسمانی امراض کے ساتھ ساتھ روحانی امراض کے علاج کا بھی ماہر ہونا چاہیے آئندہ لیکچر تک کیلئے اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF