Category : World of Knowledge

General Lecture Number 3
(Introduction Of Radiestheshia)

ریڈس تھیشیا کا تعارف

—!السلام وعلیکم:ورلڈآف نالج میں خوش آمدید

ہماراآج کالیکچرایک نئےعلم سے متعلق ہے جو آپ کے لیے نہایت دل چسبی کا باعث ہوگا اس علم کو ریڈس تھیشیا یا علم پنڈولم بھی کہا جاتا ہے اس علم میں نا صرف برقی لہروں سے تشخیص مرض وتجویزدواکی جاتی ہےبلکہ روحانی علاج میں بھی مدد لی جاتی ہے یہ ایک بہت وسیع علم ہے جس کو ہم بتدریج بیان کریں گے فی الحال آج کے اس لیجچر میں ریڈس تھیشیا کیا ہے اور یہ کس طرح عمل کرتا ہے اس بارے میں گفتگو کریں گے.امید ہے آج کا لیکچر علم کی جستجو رکھنے والے لو گوں کو بے پناہ متاثر کریگا.اپنی گفتگو کاآغاز اللہ رب العزت کی حمدوثناء سےکرتے ہیں جوکائنات اور اس میں موجود ہر شے خالق ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

علم الانسان مالم یعلم
“ہم نے انسان کو وہ علم دیا جو وہ جانتانہ تھا”
کسی بھی علم کو سمجھنے کے لیے دو باتیں اہمیت رکھتی ہیں.

فلاسفی: علم کی تھیوری ہمیں معلوم ہو(Philosophy).1

پریکٹیکل:اور اس علم کی تکمیل یہ ہے کہ ہم علم کے اس شعبےکو مظاہراتی خدوخال(Practical Application) میں دیکھیں مطلب یہ ہوا کہ علم تھیوری اورپریکٹیکل کے مجموعے کا نام ہے.علم کی تھیوری میں ضابطے،قاعدے اور فارمولے وغیرہ ہوتے ہیں اور ان فارمولوں کو جانچنے کے لیے پریکٹیکل کروایا جا تا ہے سقراط نے کیاتھا”خود کو پہچانو”.اس مختصرسے جملے میں اس نےانسان کو اپنی ذہنی کاوشوں سے کا م لینے کا جو درس دیا وہی زندگی کا حقیقی لائحہ عمل ہے قدرت نے انسانی ذہن کو اتنی وسعتیں عطا کی ہیں کہ وہ زندگی اور کا ئنات کے تمام رموزکو جان سکتا ہے بشرطیکہ وہ اپنی ذہنی قوتوں کو بروئے کا رلائے .آج سے تقریباََ ایک صدی پہلے ایج جی ویلزنے اپنی ایک مشہورکتاب چاند پر پہلا آدمی تحریر کی اسے (First Men on the moon) دلچسپ خیالی داستان تصورکیا گیا تھا کیونکہ اس وقت چاند کی تسخیر کسی کے خواب وخیال میں بھی ممکن نہ تھی.ہم سب ایک ایسی مخلوق ہیں جوجذبات،احساسات،ماحول اور حادثات کی پابند ہیں.قدرت کے خزانے لامحدود ہیں جسں طرف نظر اٹھائیں اسرار کا لامتناہی سلسہ انسان کو فکر دیتاہوادکھائی دیتایے

کائنات کیا ہے؟انسان کیا ہے؟روح کیا ہے؟ذہن کیا ہے؟شعوراورلاشعور کیا ہے؟
یہ سب باتیں انسان کوتجسس اورتجربوں کی طرف مائل کرتی ہیں انسان جب خوداپنے اوپر غور کرتا ہے تو قدرت کی صناعی پر عش عش کرنے لگتا ہےتمام جاندار بشمول حیوان ونباتات کی زندگی کی عمارت کا میٹریل پروٹوپلازم ہے تو خلیہ کو اس میں بلاک کی حیثیت حاصل ہے سائنس دانو کےمطابق کائنات کی ہر شے چھوٹے چھوٹے ذرات سے مل کر بنی ہےجسے ایٹم کہتے ہیں تمام جاندار چیزوں کی زندگی کا میٹریل پروٹو پلازم جسے بھی کہا جاتاہے انڈے کی سفیدی کی طرح کا مادہ ہوتا ہے کیمیائی (Original Substance) اعتبار سے پروٹو پلازم میں کاربن،ہائیڈروجن،نائیٹروجن،سلفراور فاسفورس عناصر پائے جاتےہیں اس کےعلاوہ کیلشیم،سوڈیم،پوٹاشیم، میلنیشیم،لوہا،کلورین اورخفیف مقدارمیں فلورین پائے جاتےہیں یہ تمام عناصر یا اجزاء مختلف مرکبات مثلاّّچربی،پروٹین ،نمکیات کی صورت میں ہوتےہیں

(D.Scusslar Biochemic Theory)
Nucleus خلیہ کی بیرونی جھلی کے اندرپروٹوپلازم اور اسکےوسط میں مرکزہ یا ہوتاہے جوخلیہ کے تمام افعال کو کنٹرول کرتا ہے نیوکلیئس کے اندر پایاجاتاہے ،جووراثتی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے (Deoxiribonucleic Acid)

کے مطابق ایک انسانی خلیہ میں تقریباّّ 147 سینٹی میٹر تقریباّّ دو Genetic Science میٹر لمبا کا ٹیپ پایا جاتا ہے انسانی جسم کا خلیہ تقریباّّ 15 ہزار کیمیائی مادے تیارDNA کرتا ہے اور تقریباّّ ایک لاکھ کیمیائی مادے تیاری کرنے کی مکمل معلومات اور صلاحیت رکھتا ہے DNA کے ٹیپ پر یہ تمام معلومات بژی احتیاط سے لکھی ہوئی ہوتی ہیں خلیہ کتنا بژا ہے اسکا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ سوئی کی نوک پو ہزاروں کی تعداد میں خلیات سماسکتے ہیں
کے مطابق جسم انسانی میں خلئے مرتے اور ان جگہ نئے خلئے پیدا Genetic Science ہوتے رہتے اور عرصہ سات سال میں جسم انسانی کے تمام خلیات تبدیل (Replace) ہو چکے ہوتے ہیں یعنی انسان کے اندر زندگی اور موت کا کھل ہمہ وقت جاری رہتا ہےگودست قدرت کی سازی ظاہری نظروں سے مخفی رہتی ہے اسانی جسم تقریباّّ ایک سوٹریلیں خلیات کے مجموعے  سے وجود میں آتا یے( Trillion Cell 100)
.The body is actually a social Order of about Hundred Trillion Cells
“Organised in to different functional structures some of which are called”
جسم کے تمام اعضاء خلیوں سے مل کر بنتے ہیں اگر خلیہ صحیح طور پر تندرست ( cells) حالت میں کام کرتا رہے تو جسم کا نظام خوشی اسلوبی سے چلتا رہتا ہے اگر خلیہ کو مناسب خوراک نہ ملے توتمام نظام متا ثر ہو جا ئے گا اگر تمام خلیات کام کرنا بند کر دیں تو جسم کا پورا نظام ختم ہوجائے گا اورآدمی مرجائے گا اور اگر خلیہ کے فعل میں خرابی واقع ہوجائے تو اس کی وجہ سے انسان بیمار ہوجاتاہے اسلئے غالب نے کہاتھا

زندگی کیاہے عناصر میں ظہور ترتٰیب
موت کیا ہے انہی اجزاء کا پریشان ہونا
کے مل کر کام کرنے سے Tissues کی تعمیر ہوتی یے اور Tissue چونکہ خلیہ سے وجود میں آتے ہیں اور کئی اعضاء کے ملاپ سے جسم کے نظام کی بنیاد (Organs) بنیاد پڑتی ہے آج سے کئی سال پہلے سائنس نے یہ بات معلوم کر لی تھی کہ دنیا کی ہرشے ان سے مل کر بنی ہے اور اس کی 105 سے (Atoms) ننھے منے نظر نہ آنے والے ذرات زائد قسمیں دریافت ہوچکی ہیں ایٹم کے اندر چھوٹے چھوٹے ذرات کا پتہ چلایاگیا،جنہیں پروٹرون اور الیکٹرون کا نام دیا گیا ایٹم کے اندر مثبت برقی چارج کرنے والے ذرات کو جب کہ نیوکلیئس کے پرٹرون (Positivlely charged Electrical Particles) اطراف مدار پر حرکت کرنے والے ذرات منفی برقی چارج کے حامل ہوتے ہیں ان کو الیکٹرون کہا جا تا ہے جبکہ نیوٹرون ذرات نیوٹرل ہوتے ہیں ایک ایٹم جومثبت یامنفی چارج کاحامل ہواسے Lon کہا جاتا ہے
An atom with positive or negative charge is called lon an lon that is positively charged is a cation while a negatively charged is anion
ایٹم کے مرکز نیوکلیئس کے گرد الیکٹرون کی گردش سے برقی مقناطیسی لہروں کا اخراج Lon ہوتا ہے ان لہروں سے بیماریوں کی تشخیص کا کام لیا جاتا ہے چونکہ برقی بارذرات ہوتے ہیں اسلئے کے لئے موصل کا کام دیتے ہیں اعضاء میں برقی لہروں Elecrolytes کی موجودگی سے ان کی صحت اور بیماری کا پتہ چلایا جاتا ہے مثال کے طور پر دل دماغ سے نکلنے والی برقی لہروں کی مدد سے E C G اور E E G کے ذریعے ان اعضاء کی بیماری کی تشخیص کی جاتی ہے
Since icon are charged particles electrolytes can conduct an electric current
Records of electric currents in tissues are valuable indications of the functioning or mal function of tissues and organs The elctrcardio gram
E C G and electroencephalograms E E G and Graphic tracing of electric
. current generated by the heart muscles and the Brain respectively
چونکہ خلیہ سے لہروں کا اخراج ہوتا ہے اور Cell and its functions GUYTON تمام اعضاءکی ساخت خلیوں کی مرہون مفت ہے اس لئے دل و دماغ کی طرح جسم کے تمام اعضاء سے بھی برقی لہروں کا اخراج ہو تا ہے بیسویں صدی کے آغاز میں
ڈاکٹر کیلن برگ نے کئی سام تجربات و مشاہدات کے بعد دریافت کیا کہ Dr Calen Burg دنیا کی ہر شے چاہے وہ جاندار ہو یا بے جان ، کے اجسام سے لہروں کا اخراج ہوتا ہے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں Manifastation of Sidereal Pendulum
ays escape not only form organic or inorganic bodies but a process of loading and charging also took place
کو میڈیکل میں استعمال کی بنیاد فراہم کی Radiations اس طرح کیلن برگ نے لہروں کو امریکہ کے ڈاکٹر البرٹ ابراہم ، جو فراسکو میں Nerves Disease Specialist تھے کہتے ہیں کہ چونکہ ہر مادی جسم سے مسلسل برقی مقناطیسی لہروں کا اخراج ہوتا ہے اس کا اخراج ہوتا رہتا Radiations لئے انسان کے رگ و ریشہ سے برقی مقناطیسی لہروں ہے بیماری کی حالت میں رنگ و ریشہ تبدیلیاں پیدا ہوجانے سے ریڈی ایشن میں بھی فرق آجاتا ہے ڈاکٹر البرٹ ابراہم کا خیال کہ بیماری دراصل ذرات Molecules میں الیکٹرون کی گردش اور نظم و ضنط میں تبدیلی آجانے سے پیدا ہوتی ہے اور جب الیکٹرون کی بے نظمی کو مناسب دوا سے درست کر دیا Disturbance in Electronic Equilbrium جائے تو انسان تندرست ہوجاتاہے اعضاء سے نکلنے والی برقی لہروں Electromagnetic Waves کی مددسے جب مرض کی تشخیص کی جاتی ہے یعنی برقی مقناطیسی لہروں کی مدد سے تشخیص وتجویزدوا کی جائےتو اسےمیڈیکل ریڈس تھیشیاکہا جاتاہے میڈیکل ریڈس تھشیا کا نام فرانس کے ماہر ریڈس تھیسسٹ EBBE Radies-thesist نے اسے تجویز کیا اور اس کے اصول و مبادی پر ایک کتاب Practice-of Medical Radiesthesia لکھی ان کے علاوہ جرمنی کے ڈاکٹر ڈائٹ رچ ڈاکٹر ڈریسٹران ڈاکٹر اور بیک انگلینڈ کے وتھرڈ لیڈی بریکلیٹ ڈاکٹر بروس کوپن فرانس کے باوس Bovis نے متعدد کتابیں لکھیں اور ان میں تشیخیص و علاج کے مختلف Diagnostic Methads کا ذکر کیا
پاکستان کے مایہ ناز ادیب اور ہومیو پیتھی کے مداح جناب ممتاز مفتی صاحب نے ریڑس تھیشیا پر بڑا جاندار اوع خوبصورت تبصرہ فرمایا ہے
فرماتے ہیں ریڈس تھشیا ریڈیونکس اکیسویں صدی کا علم ہے یہ ایک سیدھے سادھے سائنسی اصول پر مبنی ہے کٰٰہ ہر چیز چاہے جاندار ہو یا بے جان ٹھوس ہو یا مائع وائبریٹ کرتی ہے جو بظاہر مادہ میڑیل دکھائ دیتی ہے حقیقت میں وہ وائبریشن ہے صرف ٰیہی نہیں بلکہ ہر چیز میں سے خصوصی لہریں نکلتی ہیں ان کی تعداد منفرد اور مخصوص ہے Rate of Vibration Frequency یہ علم اکیسویں صدی کا علم ہے علاج معالجہ کا یہ طریقہ آنے والی صدی میں رائج ہوگا اور مجھے کامل یقین ہے کہ آنے والے دور میں اس علم میں ایسے ایسے اضافے ہوچکے ہونگے کہ ہر فرد کی جسمانی بیماریوں ہی نہیں بلکہ ذہنی اور روحانی بیماریوں کی تشخیص بھی کرسکیں گے اور یوں بہتر انسان وجود میں آٰئے گا

تجویز دوا کا مرحلہ کس طرح عمل میں آتا ہے
دوا سے نکلنے والی برقی لہریں جب مریض یا اس کے نمونے سے نکلنے والی لہروں سے مطابقت رکھتی ہوں تو پنڈولم گھڑی کی سوئ کی سمت Clock Wise گھومنے لگتا ہے اور اگر دونوں لہریں آپس میں مطابقت نہ رکھتی ہوں تو پنڈولم مخالف سمت Anti Clock Wise گھوم کر اس کا اظہار کرتا ہے ریڈس تھیشیا سے متعلق لیکچر مکمل کرتے ہوئے اس دعا کے ساتھ رخصت چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Leave a Reply

SYED ZAHOOR HASSAN SAMI & ADNAN HASSAN SAMI….SHAJRA SHARIF